ذکرِ الٰہی ۔ فریدہ خالد

کوئی تبصرہ نہیں

ذکرکے معنی ہیں ’یاد کرنا‘اورذکرِ الٰہی سے مراد ’اللہ کو یاد کرنا‘ ہے۔ ذکر کا لفظ یوں تو قرآن میں کئی مقامات پر آیا ہے لیکن ذکر الٰہی کے معنوں میں 58 مقامات پر آیا ہے ۔اس سے ذکر کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اکثر ذکر سے مراد زبان سے اللہ کی حمد و ثنا کے کلمات ادا کرنے، اس کی تسبیح ، تہلیل و تکبیر کے کلمات اداکرنا ہی لیا جاتا ہے جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے اور اس کا اجر بے پناہ ہے۔
سورہ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے فرما یا ’’ولذکر اللہ اکبر‘‘ اور اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے(آیت 45) ۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کا ذکر کرنے کا حکم دیا ہےفرمایا، فَاذْکُرُوۡنِی ۡۤ اَذْکُرْکُمْ
’’تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا‘‘( البقرہ: 152)۔
اللہ کا ذکر انسان کےلیے دنیا اور آخرت کی کامیابی پانے کا نسخہ ہے ۔فرمایا،وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۔
’’اور بکثرت اللہ کو یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو‘‘ (الانفال:45)۔
اگرچہ زبان سے اللہ کا ذکر بھی فائدہ مند ہے لیکن اس کا اصل فائدہ اور اجر اس وقت ملتا ہے جب بندہ اپنے دل کی حضوری اور شعور سے اس عمل میں مصروف ہو۔ کیونکہ غافل دل کی پکار کواللہ رد کر دیتا ہے ۔ لہٰذا جب بھی اللہ کو یاد کیا جائے تو دل بھی اس میں شامل ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے اعمالِ صالحہ کیے جائیں کہ اللہ ان سے راضی ہو۔ اللہ کے رسول خود بھی کثرت سے اللہ کا ذکرکرتے اور اپنے صحابہ کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔
ذکر کی اقسام: علماء نے ذکرِ الٰہی کی تین اقسام بیان فرمائی ہیں؛ ذکر با للسان ، ذکر با لقلب اور ذکر بالعمل۔
ذکر با للسان
انسان اپنی زبان سے اللہ کا ذکر کرے اور اس کی کئی شکلیں ہو سکتی ہیں ۔ مثلاً زبان اللہ کی حمد و ثنا، اس کی تسبیح، تکبیر و تہلیل سے تر رہے۔جیسا کہ عبد اللہ بن بُسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرمؐ ؐکے پاس ایک آدمی آیااور کہا،’’اے اللہ کے رسول ؐ اسلام کے واجبات و فرائض تو ہم پر بہت زیادہ ہیں لہٰذا آپ ہمیں کوئی ایسی جامع عبادت بتائیں جس پر ہم ڈٹ جائیں۔ تو آپ ؐ نے فرمایا، تمہاری زبان ہمیشہ ذکر ِ الٰہی سے تر رہے‘‘( مسند احمد )۔
اللہ کا ذکر تنہائی میں اور مجالس میں کرنا، اس سے دعائیں مانگنا، اسے اس کے خوبصورت ناموں سے پکارنا جیسا کہ سورہ الاعراف میں ارشادہے’’پس اللہ ہی کےلیے ہیں خوبصورت نام پس پکارو اسے ان کے ساتھ‘‘( 180:6)۔بندہ جب اللہ کو اس کی خوبصورت صفات اور اسماء حسنیٰ سے پکارتا ہے تو یہ دعاؤں کی قبولیت کا سبب ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اللہ نے ہمیں وہ اوقات بھی بتا دیے جن میں اسے کثرت سے پکارنا چاہیے۔ فرمایا،’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا ذکرکثرت سے کرواور صبح شام اس کی تسبیح کرتے رہو‘‘(الاحزاب:41-40) ۔
اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ اللہ کا ذکر اس کے بتائے ہوئے طریقے اور سنتِ رسول کے مطابق کرنا چاہیے۔کیونکہ اس کا حکم بھی اللہ نے خود ہی دیا ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے،’’ پس اللہ کا ذکر کرو جیسے اس نے تمہیں سکھایا‘‘(البقرہ:239) ۔حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب بندہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے تو رب بھی اس کا ذکر کرتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول کریم ؐنے فرمایا ، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ،’’میں اپنے بندے کے گمان کے نزدیک ہوتا ہوں جو وہ مجھ سے رکھے اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ، اگر بندہ مجھے اپنے دل میں (تنہائی )یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اکیلا ہی یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے مجمع میں یاد کرتا ہے تو میں ا سے بہتر مجمع میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ بالشت بھر میرے قریب ہوتا ہے تو میں گز بھر اس سے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ گز بھر میرے قریب ہوتا ہے تو میں دونوں ہاتھو ں کے پھیلاؤ کے برابر اس سے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف جاتا ہوں‘‘( بخاری )۔
سبحان اللہ! ہمیں چاہیے کہ اللہ کا ذکر ہر وقت کریں۔ اٹھتےبیٹھتے، سوتے جاگتے، چلتے پھرتے، کبھی تنہائی میں کبھی لوگوں میں ہر جگہ اس کا ذکر ہو۔
ذکر با لقلب
اس سے مراد ہے کہ انسان کے دل میں اللہ کی عظمت و معرفت ہو، اس کی خشیت کے ساتھ ساتھ اس کی محبت بھی پورے شعور کے ساتھ موجود ہو تب ہی انسان ایک طرف اللہ کی رحمت کا طلبگار ہو گا تو دوسری طرف اللہ کے خوف سے نافرمانی اور گناہ کے کاموں کو چھوڑ دے گا۔ اگرچہ زبان سے اللہ کو کثرت سے یاد کرنا اہم ہے لیکن دل میں اس کی یاد ہونا بھی ضروری ہے بلکہ ذکر ِ قلبی کو ہی حقیقی ذکر کہا گیا ہے۔ جیسے کہ امام نووی فرماتے ہیں کہ’’ ذکر سے مراد حضورِ قلبی ہے….زبان سے جو ذکر کرتا ہو اس کے معنوں میں غور و فکر کرے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرے اس لیے کہ ذکر کے الفاظ میں تدبر کرنا اسی طرح مطلوب ہے جس طرح کہ قرآن کے الفاظ میں تدبر کرنا مطلوب ہے کیونکہ دونوں میں اصل مقصود معنی ہے‘‘ (الا ذکارللنووی۔ صفحہ 34)۔ آپ ؐنے ،اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کی مثال جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا‘ زندہ اور مردہ جیسی بتائی ہے (متفق علیہ) ۔
ذکر بالعمل
زبان اور دل میں ہی اللہ کی یاد کا ہونا کافی نہی بلکہ انسان کو اپنے عمل سے بھی ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ جو کچھ اس کے دل میں ہے وہی اس کی زبان پر ہے اور وہی اس کے عمل میں ہے۔ ذکر بالعمل سے مراد ہے کہ انسان اپنے اعضاء کو اللہ کی نافر مانی کے کاموں سے بچائے اور انہیں اللہ کی اطاعت کے کاموں میں استعمال کرے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے، اسی کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کی جائے اور غیر اللہ کو اپنی زندگیوں سے نکال دیا جائے۔
ذکر کو اپنی زندگیوں میں شامل کرنے کی چند مثالیں
1۔ نماز: ذکر الٰہی کی بہترین مثال ہے کیونکہ اس میں تینوں اقسام کے ذکر جمع ہو جاتے ہیں ۔ یہ فرض عبادات میں سب سے اہم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بہت تاکید کی ہے ۔ قرآن مجید میں بار بار ہماری توجہ نماز کی ادائیگی کی طرف دلائی گئی ہے۔ انسان دل سے اللہ کی اطاعت کی نیت کر کےحالتِ نماز میں آتا ہے ، زبان سے اللہ کے پسندیدہ کلمات ادا کرتا ہے اور اپنے پورے جسم کو خشوع و خضوع کے ساتھ اس کے سامنے جھکادیتا ہے چاہے پھر وہ قیام ہو، رکوع ہو یا سجدہ کرنا ہو۔ سجدے میں جہاں انسان اپنے رب کی پاکی بیان کرتے ہوئے اس کے انتہائی اعلیٰ اور بلند مرتبے کا اعتراف کرتا ہے وہیں خود کو انتہائی عاجزی کی حالت میں ڈال کر، اپنے سرکو زمین پر رکھ کر اپنی کم مائیگی کا، اپنی کمتر حیثیت کا اعتراف کرتا ہے اور یہ بندے اور اس کے رب کے قریب ہونے کا ذریعہ بنتا ہے جیسا کہ سورہ العلق کی آخری آیت میں فرمایا،وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب۔
’’اور سجدہ کر اور قریب ہو جا‘‘۔نماز کی ادائیگی وقت پر کرنی چاہیے کہ یہ اللہ کا حکم ہے فرمایا،’’مومنوں پر نماز وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی گئی ہے‘‘(النساء:103)۔ اسی طرح طہارت کا اہتمام کرنا، نماز میں خشوع و خضوع ہو، دل کی حاضری ہو ، رکوع و سجود سکون و اطمینان سےادا کیے جائیں۔ آپ ؐ نے فرمایا ، بد ترین چوری نماز کی ہے۔ لوگوں نے پوچھا ،یا رسول اللہ ؐ نماز میں کوئی کیسے چوری کرتا ہے؟ فرمایا ، رکوع اور سجدے ادھورے ادھورے کر کے۔ فرض نمازوں کےعلاوہ نوافل کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔ آپ ؐ نے فرمایا،’’ جو شخص فرض نمازوں کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھتا ہے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے‘‘(مسلم) ان سے مراد وہ سنتیں ہیں جو فرض نمازوں کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔
2۔ تلاوتِ قرآن ِ کریم: ذکر کی افضل مثال ہے ۔ قرآن کی کثرت سے تلاوت کرنا دراصل اللہ کو یاد کرنا ہی ہے۔ تلاوت کو ذوق و شوق سے اور درست تجوید و ترتیل سے کرنا چاہیے۔آپ ؐ کا فرمان ہے، اپنی آواز اور اپنے لہجے سے قرآن کو آراستہ کرو(ابو داؤد)۔نبی ؐ ایک ایک حرف اور آیت کو واضح کر کے الگ الگ پڑھا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا،’’ قرآن پڑھنے والے کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ جس طرح خوش الحانی کے ساتھ تم دنیا میں قرآن پڑھتے تھے اسی طرح قرآن پڑھو اور بلند درجے چڑھتے جاؤ تمہارا ٹھکانا تمہاری تلاوت کی آخری آیت کے قریب ہے‘‘(ترمذی) ۔
قرآن کی تلاوت کے علاوہ اس کے نزول کے کچھ اور مقاصد بھی ہیں ۔جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے،’’ کتاب جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی برکت والی ہے تاکہ وہ اس میں غور و فکر کریں اور عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں ‘‘(ص 29:38)۔ علما ءکے مطابق قرآن کے پانچ مقاصد ہیں: اسے غور سے سنا جائے(الاعراف:204) ، اس کی تلاوت کی جائے (البقرہ:121)، اسے حفظ کیا جائے (العنکبوت:49)، اس پر تدبر کیا جائے(ص:29) اور اس پر عمل کیا جائے(الزمر:18)۔ یہ یادِ الٰہی کا ایک انتہائی جامع انداز ہے جس میں زبان، دل اور انسان کے تمام اعضاء اپنے رب کی یاد میں مصروف رہتے ہیں۔
3۔ دعاکرنا: ذکر کی ایک خوبصورت مثال اللہ سے دعا کرنا ہےکیونکہ دعا بندے اور اس کے آقا کے درمیان ایک انتہائی ذاتی اور خوشگوار تعلق ہے جہاں بندہ اپنی بندگی کا اقرار کرتے ہوئے اپنے آقا کو پکارتا ہے اور یہ اللہ ہی کا حق ہے کہ صرف اسے ہی پکارا جائے۔اس لیے قرآن مجید میں بارہا مقام پر صرف ایک اللہ کو پکانے کا ہی حکم ملتا ہے اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرنا چاہیے ۔ فرمانِ الٰہی ہے، ’’ پس اللہ کو پکارو اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے‘‘ (المومن:14)۔ اللہ ہر ایک کی سنتا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے،’’اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو( آپ کہہ دیں کہ) میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں‘‘۔اس لیے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ میری بات مان لیں اور مجھ پر ایمان رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پا جائیں(البقرہ:186)۔آپ ؐ نے فرمایا ،’’ اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ کوئی چیز معزز نہیں‘‘ (مسند احمد)۔
ایک اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ’’ ہر رات جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور کہتے ہیں میں بادشاہ ہوں ! کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اسے قبول کر لوں کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں۔ طلوعِ فجر تک اسی طرح ہوتا ہے‘‘(مسلم) ۔حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دعا وہ واحد چیز یہ جو انسان کی تقدیر بدل سکتی ہےآپ ؐکا فرمان ہے،’’ دعا کے سوا تقدیر کو کوئی چیز نہیں بدل سکتی اور نیکی کے سوا عمر میں کوئی چیز اضافہ نہیں کر سکتی‘‘ (ترمذی)۔
اللہ تعالیٰ نے خود بھی انسان کو شوق دلایا ہے کہ اس سے دعا کی جائے اسے پکارا جائے ، اسے یاد کیا جائے بلکہ اس سے دعا نہ کرنے کو ناپسند کیا ہے ۔ فرمانِ الہٰی ہے،’’ اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوںگے‘‘ ( غافر:60)۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دعا کرنا دراصل عبادت ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیےکہ اللہ سے خوب خوب دعائیں کریں اور اسے یاد کرتے رہیں۔ اسی میں ہمارا فائدہ ہے۔
4۔مختلف اذکار: دعا کے علاوہ بھی کئی مسنون اذکار کا معلوم ہوتا ہے۔ جن کی احادیث میں بڑی فضیلت بتائی گئی ہے جیسے کہ ہر نماز کے بعد کے اذکار، صبح شام کے اذکار،حفاظت کی دعائیں اور رات سونے سے پہلے کے اذکار ۔ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ان کی عادت ڈالیں۔ اس کے علاوہ کچھ اذکار کو کثرت سے کرنے کی تاکید احادیث میں ملتی ہے۔ جن میں سے چند ایک کا ذکر کرتے ہیں۔
نبی ؐپر کثرت سے درود بھیجنا:آپ ؐ پر درود بھیجنے کی اس قدر فضیلت ہے کہ علماء نے اس پر کتابیں لکھی ہیں ۔ حضرت انس سے مروی ہیں کہ رحمت عالم ؐ نے فرمایا جو آدمی مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا، اس کے دس گناہوں کو معاف کرے گا اور اس کے دس درجے بلند کرے گا (سنن نسائی)۔درود شریف کا پڑھنا دعاؤں کی قبولیت کا ، رنج و غم کو دور کرنے اور گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے۔ اللہ نے خود اس کی تاکیدفرمائی ہے ، ’’بےشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجو‘‘ (الاحزاب: 56)۔ خاص طور پر جمعے کے دن درود کی کثرت کرنی چاہیے کیونکہ یہ آپ ؐ پر پیش کیا جاتا ہے۔
استغفار کی کثرت: ذکر کی ایک اہم مثال اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور توبہ استغفار کرنا ہے کیونکہ یہ بندے کی دنیا و آخرت دونوں کے لیے ضروری ہے۔ استغفار کی برکات بےشمار ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے،’’ اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا….(ہود:3) ۔ایک اور جگہ فرمایا، ’’اپنے رب سے معافی مانگ، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والاہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا، تمہیں مال و اولاد سے نوازے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کرے گا‘‘( نوح : 12-10)۔
احادیث میں بھی کثرتِ استغفار کی ترغیب ملتی ہے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی ؐ نے فرمایا ، ’’ جو شخص پابندی سے استغفار کرتا ہے اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، ہر غم سے اسے نجات عطا کرتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی عطا کرتا ہےجہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا‘‘(ابو داؤد)۔ فرمایا رسول اللہ ؐ نے،’’ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ ، مجھے دیکھو میں دن میں سو سو بار اللہ سے مغفرت کی دعا کرتا ہوں‘‘ (مسلم)۔ ایک اور جگہ فرمایا،’’ اللہ بندے کی توبہ سانس اکھڑنے سے پہلے تک قبول کرتا ہے‘‘(ترمذی)۔
تسبیحات کی فضیلت: تسبیح کا حکم اللہ نے خود دیا ہے فرمایا،’’اے ایمان والو اللہ کو بہت یاد کرو۔ اور اس کی صبح و شام پاکی بیان کرو‘‘ (الاحزاب: 42-41)۔احادیث میں تسبیح کرنے کی بڑی فضیلت بتائی گئی ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا ،’’اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کلمات چار ہیں، سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ و اللہ اکبر۔ ایک اور جگہ انہی کلمات کو افضل ترین کہا گیا ہےفرمایا ‘‘( یہ کلمات) کہنا میرے نزدیک ہر اس چیز سے محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے(مسلم)۔
اسی طرح فرمایا،’’دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے،ہیں ، لیکن میزان میں بھاری ہیں اور رحمٰن کوپیارے ہیں سبحان الله وبحمدہٖ، سبحان الله العظيم ( بخاری) ۔ سبحان الله وبحمدہ کے بارے میں فرمایا‘‘ جو شخص دن میں سو بار کہے تو اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں(بخاری)۔
آخر میں یہ کہ اگر انسان ذکرِ الٰہی کا خوگر ہو جائے اور اس کو مسلسل اپنا معمول بنا لے تو یقیناً اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی زندگی میں غیر معمولی خیر وبرکات کو شامل فرما دیتے ہیں اور روز ِ قیامت اس کے درجات بلند فرمائیں گے اللہ ہم سب کو بھی ان لوگوں میں شامل فرمائے جو کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والے ہیں ۔آمین۔
٭٭٭

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp