توہین رسالت یا محب رسالت ؟ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ کس جانب ہیں ۔ فیصل جوش

کوئی تبصرہ نہیں

میرے ماں باپ نے مجھے بچپن سے یہی سکھایا ہے کہ نہ کسی کے ساتھ ناحق کرو کہ کل پچھتاوے کے ساتھ شرمندگی اٹھانی پڑے اور نہ اپنے ساتھ ناحق ہونے دو جو تمہارے دل و دماغ کو اذیت میں رکھنے کے ساتھ تمہارا سکون برباد کرکے تمہیں چین کی نیند سونے نہ دے۔
17 اکتوبر 2024 شام چھے یا سوا چھے بجے بعد نماز مغرب میں بیگم کے ساتھ سٹی ٹاور اینڈ شاپنگ مال نزد موسمیات چوک گلستان جوہر پر موجود اپنے اسٹور ZAIN & BENI پہنچا۔ ہم گاڑی سے اتر ہی رہے تھے تو ہمیں شور شرابے کے ساتھ ایک زوردار تھپڑ مارنے کی آواز سنائی دی۔ میں نے بیگم سے کہا کہ کسی نے بڑی زور کا جڑا ہے اور پلٹ کر آواز کی سمت دیکھا تو سٹی ٹاور سے متصل جامع مسجد علی المرتضیٰ کے باہر لوگوں کا جم غفیر تھا۔ اس مسجد میں مال میں موجود برانڈز Dinner’s, SAYA, Orient, Chicoo, Peter Brown , Al Jaheed Super Mart کا اسٹاف، سٹی ٹاور اپارٹمنٹ کے رہائشی، غریب جوار کی دوکانوں، اور مختلف سوسائٹیز کے رہائشی اور راہگیر نماز ادا کرنے آتے ہیں۔ کون کس کے ساتھ گتھم گتھا تھا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اسی اثناء مجمع میں سے اللہ اکبر کی آواز سنائی دی۔ بیگم گاڑی کا دروازہ بند کرکے اسٹور کی جانب بڑھ گئیں اور میں معاملہ بھاپنے کے لیے جیسے ہی آگے بڑھا تو مجھے سٹی ٹاور مال کا مینٹیننس سپروائزر امان، ہلکے جامنی رنگ کے شلوار قمیض پہننے شخص کو مسجد کے دروازے کے سامنے اور فٹ پاتھ سے مرکزی سڑک کے جانب دھکیلتا ہؤا لے جارہا تھا۔ میں بھی ایک کٹ سے سڑک پر آگیا۔ امان کو اپنی جانب آتے دیکھا اور چلتے چلتے اس سے معاملہ پوچھا تو کہنے لگا کہ یار ! فیصل بھائی پاگل شخص ہے رسول اللہ کو برا بھلا کہہ رہا ہے اور مسجد کے مولوی اسے مارنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جیسے ہی میں نے یہ بات سنی میں تیزی کے ساتھ بھیڑ کو چیرتا ہوا مسجد کے مولویوں اور اس شخص کے عین درمیان آ کھڑا ہؤا۔ مولوی کہہ رہے تھے کہ ابھی ہم زِندہ ہیں اپنے رسول کی گستاخی کا بدلا لیں گے جبکہ وہ شخص یہ کہہ رہا تھا میں صبح سے بھوکا ہوں، کینسر کا مریض ہوں مجھے تم لوگ مار رہے ہو۔ جب میں نے یہ سنا تو مولویوں کو زور سے دھکیلتے ہوئے پیچھے کیا اور اس شخص کا ہاتھ پکڑ لیا۔
مرحوم سلمان تاثیر کا واقعہ میرے ذہن میں تھا اور ساتھ مجھے اپنے پر پورا بھروسہ تھا کہ اس مجمع کو سنبھالنا کیسے ہے اور اگر یہ مولوی مجھ پر حملہ کرتے ہیں تو ایک اچھا فائٹر ہونے کے ناطے اور خطرناک داؤ پیچ کے ذریعہ اپنے بچاؤ کے لیے (بھلے میری عمر Mid Forty ہے) انہیں برے طریقے سے گھائل کرسکتا ہوں مگر ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کیونکہ مسجد کے منتظمین بھی میری بہت عزت کرتے ہیں مگر بھیڑ میں موجود کسی مولوی کو میں نہیں جانتا تھا لہٰذا میں اپنے آپ پر کنٹرول رکھ کر پورے ماحول کے بگڑتی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے تیزی کے ساتھ اپنا دماغ چلا رہا تھا۔ یہ ضرور سوچ لیا تھا کہ اب کسی کو غازی نہیں بننے دوں گا اور اس شخص کو باحفاظت رکھنا بھی ضروری ہے۔ مولوی ہم زبان ہو کر گلا پھاڑ کر کہہ رہے تھے کہ اس شخص نے رسول اللہ کو گالیاں دی ہیں ہم اسے جان سے مار دیں گے۔ میرے حساب سے تو اُن کا یہ طرز عمل لوگوں کو بھڑکانے کے لیے سودمند بھی تھا۔ گلستان جوہر اور اسکیم ۳۳ میں مختلف قومیت کے لوگ رہتے ہیں لہٰذا وہ اس مجمع میں بھی شامل تھے۔ میں نے مولویوں کے ٹولے میں سے ایک مولوی کو اس کے گریبان کی جانب سینے پر دھکا دیا اور اور غُصہ دیکھاتے ہوئے انگلی کے اشارے سے چلا کر کہا’’ میں اس سے بات کر رہا ہوں۔ اپنا منھ ٹھوڑی دیر بند رکھ۔ رسول میرا بھی ہے اور میں بھی ابھی مرا نہیں ہوں‘‘۔ سمجھا !
پھر اس بندے کی جانب دیکھا، بلڈ پریشر بڑھا ہؤا جبکہ حالت غیر لگ رہی تھی جس وجہ سے وہ مجھے اپنے ہوش میں نہیں لگ رہا تھا۔ اس شخص کے کندھے پر ہاتھ ڈال کر اپنی جانب کھینچا اور ہوٹل کی طرف لے جانے لگا تاکہ مجمع سے تھوڑا دور ہوسکوں اور ساتھ ساتھ زور سے اس شخص سے کہتا رہا کہ تم کینسر کے مریض ہو، تم صبح سے بھوکے ہو، تم پریشان نہ ہو ہم سب تمہارے بھائی ہیں (میرا یہ حربہ مجمع کو اطلاع دےکر انہیں مزید اشتعال انگیزی سے دور رکھنے کی ایک کوشش تھی)۔چائے کے ہوٹل والا میری بہت عزت کرتا ہے۔ اس نے فوری اپنے لڑکوں کو کہا کہ فیصل بھائی کے لیے کرسی لگاؤ۔ میں نے اس شخص سے کہا تمہارے طبیعت ٹھیک نہیں، تم پہلے کرسی پر بیٹھ جاؤ، چلاؤ نہیں، آرام سے بات کرتے ہیں۔ اور بھیڑ پر بھی نظر دوڑاتے ہوئے بولتا رہا کہ بیچارا ! بیمار ہے، بھوکا ہے، ناجانے کس پریشانی میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے اپنے حواس پر قابو نہ رکھ سکا۔
چونکہ میں بھی کاروبار کر رہا ہوں اور پچھلے ڈھائی سال سے مارکیٹ میں بیٹھا ہوں اس لیے مال اور اردگرد کے سب دکاندار مجھے بہت اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔ میرے اس طرز عمل سے اُن کی ڈھارس بندھی اور وہ بھی میرے ہمنوا بن گئے۔ ورنہ سب پہلے گھبرا ہی رہے تھے اور توہین رسالت کے حوالے سے جو ملک میں ہوتا آرہا ہے اس سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ مگر میں کہوں گا شاباش ہے کراچی کے عوام پر کہہ انہوں نے اس شخص کے کیے کو برا تو کہا مگر اس کی دماغی حالت کو سمجھتے ہوئے کوئی انتہائی قدم اٹھانے سے گریز کیا جبکہ اسے جان سے مار دینے کے تو بالکل ہی حق میں نہ تھے۔ جب میں نے اس شخص کو کرسی پر بیٹھایا تو مجمع میں موجود کچھ لوگوں نے مولویوں کو مزید پیچھے دھکیلا اور اُن پر چڑھائی کرتے ہوئے وہاں انہیں سے چلتا کیا۔
میں نے ہوٹل کے بیرے بچے سے پانی کا جگ اور گلاس لانے کو کہا اور فٹ پاتھ پر چپلی کباب والے سے اس شخص کے لیے کباب اور روٹی کے لیے بولا۔ اس شخص کو پانی پلایا اور اس کا سر دھولایا تاکہ بلڈ پریشر نارمل ہو۔ مزید مجمع کو اپنے اپنے کام پر جانے کا کہا ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی لوگ جانے لگے۔ اوپر سے چائے کے ہوٹل کے مالک نے بھی میرے ساتھ دیتے ہوئے آوازیں لگانا شروع کردیں کہ چلو بھئی رش ختم کرو اور یہاں سے جاؤ۔ اس مجمع میں سے ایک دو لوگ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بھائی یہ گالیاں دے رہا تھا۔ میں نے کہا کہ میں تو اسی رسول کا ماننے والا ہوں جسے آپ ماننے ہو۔ اگر یہاں رسول موجود ہوتے تو کیا وہ اُسے جان سے مار دیتے یا اُسے پيار سے بیٹھا کر اُس کی پریشانی سنتے ؟ میری بات سن کر وہ بالکل خاموش ہوگئے میں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں بھی تو اُمتی ہوں جس چیز کا میرے رسول نے حکم دیا ہے میں بھی وہی کام کر رہا ہوں۔ وہ بیچارا مریض ہے، پریشان ہے۔ بجائے میں اس کی بات سنے بنا اُسے جان سے مار دوں۔ پھر تو لعنت ہے مجھ جیسے اُمتی پر۔
مجمع چھٹ گیاچھے سات صاف ستھرے اور سمجھدار لوگ میرے ساتھ کھڑے رہے۔ میں نے اپنے ساتھ سب کی چائے کا آرڈر دیا۔ اتنے دير میں اس بندے کے لیے کھانا بھی آگیا اور وہ کھانا کھانے میں مشغول ہوگیا۔ ہم سب چائے پی کر باتیں کرنے لگے۔ جب وہ شخص کھانا کھا کر فروغ ہؤا تو میں نے پوچھا کہ چائے پیو گے تو اس نےمنع کردیا اور ہاتھ اٹھا کر مجھے دعائیں دینے لگا۔ اب میں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ کیا ہوا تھا ؟ اس نے مجھے بتایا کہ میں بلڈ کینسر کی پہلی اسٹیج کا مریض ہوں۔ میرے چھوٹے چھوٹے دو بچے ہیں۔ میں ابھی اسپتال رہ کر آیا ہوں، میری دوائیاں مہنگی ہیں، نوکری بھی ختم ہوگئی۔ اس نے اپنی تھالی میں موجود رپورٹس اور دوائیاں دکھائیں۔ کہنے لگا ایک دو لوگوں نے مجھے بلایا تھا اس لیے میں صبح سے مارا مارا پھر رہا ہوں اور میرے پاس کھانے تک کے پیسے نہیں۔ موسمیات چوک پر مجھے کسی نے کام دینے کے حوالے سے بلایا تو مجھے سیلانی والے نظر آئے۔ میں بھوکا تھا تو میں نے اُن سے کھانا مانگا مگر انہوں نے مجھے نہیں دیا اور کہا کہ کھانا ختم ہوگیا ہے جبکہ وہ خود بیٹھے کھا رہے تھے۔ مجھے وہاں سے بھگا دیا۔ میری طبیعت خراب ہونے لگی تو میں مسجد آگیا اور وضو خانے میں بیٹھ کر ہاتھ منھ دھونے لگا۔ جیسے نل کے نیچے اپنا سر ڈالا ایک مولوی نے پیچھے سے میرے قمیض کا کالر پکڑ کر کھینچا اور مجھے حقارت سے کہا سالے تو یہاں نہا رہا ہے۔ میرا سر نلکے پر زور سے لگا بس پھر مجھے یاد نہیں کہ کیا ہؤا۔ آپ نے مجھے کھانے کا پوچھا، کھانا کھلایا یہ یاد ہے …. میں نے پوچھا تمہیں کسی نے مارا ؟ تو بڑے وثوق کے ساتھ کہنے لگا کہ نہیں تو ! مجھے تو کسی نے نہیں مارا …. میں نے پھر پوچھا کہ تمہارے جسم میں کہیں درد محسوس ہورہا ہے ؟ تو کہنے لگا کہ سر، کمر اور پیٹ میں درد ہورہاہے۔ میں سمجھ گیا تھا کہ اُسے بیچ کا حصہ یاد نہیں۔ پھر میں نے اُسے بتایا کہ اس نے کیا حرکتیں کی ہیں۔ وہ بہت شرمندہ ہؤا، اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ میں نے کہا چلو ! اب ہم سب کے سامنے توبہ کرو تو اس نے معافی مانگی اور توبہ کی۔ میں نے مزید اضافی کھانا اس کے لیے پیک کروایا اور کچھ پیسے اس کی جیب میں ڈال دیے۔ کچھ لوگوں نے مجھے الگ سے بلا کر اُسے پیسے دینے کا کہا تو میں نے کہا کہ آپ اپنے ہاتھوں سے اس کی مدد کریں تو بہتر ہوگا۔ ایک بندے نے اُسے نوکری لگوانے کا کہا تو اس نے اپنا رابطہ نمبر دے دیا۔ بہرحال وہ مجھے کہیں سے بھی مانگنے والا نہیں لگ رہا تھا بس مجبور اور لاچار لگ رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اب کہاں جاؤ گے ؟ تو کہنے لگا میں اپنے گھر جاؤں گا اور اس کے بعد میں نے اپنی نظروں کے سامنے اُسے رخصت کیا اور جاتا ہؤا دیکھنے لگا۔
میں اندرون سندھ کے رہائشیوں کا بھی تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ جو ڈاکٹر شاہنواز کے جنازے کے لیے نکلے اور جنہوں نے ناصرف امن پسند شہری ہونےکا ثبوت دیا بلکہ شدت و انتہا پسندی کے تابوت میں بھی کیل ٹھونکی۔ اگر ہم سب انفرادی طور پر اپنے دماغ کو حاضر رکھ کر اور اپنے اچھے طرز عمل سے معاملات خوش اسلوبی سے نمٹانے کی کوشش کریں تو ہمارا معاشرہ مزید افراتفری اور انتشار کا شکار ہونے سے بچ جائے۔
ہوٹل پر موجود لوگ مجھ سے ملے اور میرے اس طرز عمل کی تعریف کرنے لگے کہ آپ نے بہت اچھا کام کیا مگر وہاں موجود لوگوں نے مولویوں کی حرکتوں پر مولویوں کو بہت برا بھلا کہا۔ میں نے اُن سب کو یہی کہا کہ بس مجھے جو بہتر لگا، جو میری تعلیم نے مجھے سکھایا وہ میں نے کرنے کی کوشش کی اور آپ سب کے بدولت اور ساتھ نے کامیابی دلوائی۔ ہمیں اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ ہم نے اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے کسی کی جان کو بچایا ہے، خود پر بھی قابو رکھا، مجبور لاچار کو کھانا کھلایا اور اس کی مدد کی۔ میں آپ سب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ نے کراچی والا ہونے کا ثبوت دیا …. یہ کراچی ہے میری جان !
نوٹ؛ اس واقعہ سے متعلق کچھ تصاویر کمنٹ میں شیئر کیں۔ میری یہ تصویر پیٹر براؤن کے مینیجر نے کھینچی تھی۔
٭٭٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp