سویٹر ۔ ام ایمان

کوئی تبصرہ نہیں

خیمے کے اندر کوئی نہیں تھا….یہ خالی تھا ۔
یہ بھی عجیب خیمہ تھا ،ارد گرد کے تمام خیموں سے بالکل مختلف۔ یہاں کے باسی روز کے حساب سے بدلتے رہتے تھے ۔کبھی بہت سارے ہو جاتے کبھی بہت کم اور کبھی کبھی خیمہ بالکل خالی ہو جاتا تھا جیسا کہ ابھی تھا۔
خزیمہ نے خیمے کا پردہ اٹھا کر جھانکا تو حیران ہو گیا۔ صبح کی نماز تک تو خالی تھا ….یہ کیسے اور کب آئی؟
او ہو…. میں بھی غلط بات کہتا ہوں ۔یہ خود سے کیسے آ سکتی ہے! اسے تو کوئی لایا ہی ہوگا…. لیکن لانے والا کہاں ہے؟ اس کے ساتھ کوئی کیوں نہیں؟ خزیمہ نے حیرانی سے سوچا پھر خیمے کے باہر آ کر بھی ادھر ادھر دیکھا ،کوئی نہ تھا۔ وہ پھراندر چلا گیا۔
یہ ایک معصوم بچی تھی جس کی گلابی چادر خون آلود تھی۔ اس نے چادر ہٹائی ،معصوم بچی کی عمر چند ماہ سے زیادہ نہ ہوگی۔ ہلکے سے رنگ کاکرو شیےکا سویٹر پہنے جس کے اوپر چند حروف کاڑھے گئے تھے….عفام! اس نے زیر لب دہرائے۔
عفام…. !
بچی پرسکون سے چہرے کے ساتھ ایسے نظر آرہی تھی جیسے گہری نیند میں ہو۔ خزیمہ نے آہستہ سے اس کے گالوں کو چھوا ….سرد ،لیکن نرمی کا احساس لیے….خزیمہ نے دوبارہ ہاتھ پھیرا، اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں اور پھر ساکت…. اس نے گہرا سانس لیا جیسے اپنے رکے ہوئے دل کو چلانا چاہ رہاہو۔ پھر سب پرسکون ہو گیا۔
چند منٹ بیٹھ کر وہ ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا پھر وہاں سے اٹھ کر باہر آگیا۔ کہاں ہیں اس کے ماں باپ بہن بھائی عزیز رشتہ دار…. کوئی تو ہوگا! اس نے باہر نکل کر چاروں طرف گھوم پھر کر دیکھا ،کوئی نہ تھا۔
اگر زندہ ہیں تو کہاں ہیں ؟اگر گزر گئے تو اس کے ساتھ کیوں نہیں؟ اس نے سر جھٹکا جیسے سارے سوالوں کو ذہن سے نکال پھینکے گا۔ اسے تو اپنی شہزادیاں یاد آرہی تھیں ،مناف اور عفاف….جن کو اس نے خود دفنایا تھا اپنے ہاتھوں سے۔
اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔
نہ جانے کتنے لوگ مٹی کے سپرد کر چکا ہوں یاد بھی نہیں! میرے سپرد کیا یہی کام رہ گیا ہے بس….اب نہیں، مجھے میدان عمل کے لیے نکلنا ہوگا۔میری ٹانگ اب ٹھیک ہے میں چل سکتا ہوں، ہاتھ کام کر رہے ہیں…. اس نے اپنے ہاتھوں کو ہلایا اوپر نیچے دائیں بائیں…. پیروں کو دیکھا، نقلی پاؤں میں پھنسے بوٹ کو محسوس کرنے کی کوششں کی۔
خزیمہ کیا ہؤا ؟محمد نے اسے پکارا۔
یہ دیکھو محمد میں اب ٹھیک ہوں ،چل پھر سکتا ہوں…. میرے ہاتھ بھی کام کر رہے ہیں…. اس نے اپنے ہاتھ محمد کے سامنے کیے اور انگلیاں ہلا کر دکھائیں۔ محمد نے دلچسپی سے اس کو دیکھا اور اس کے ہاتھوں کو ہاتھ میں لیا۔
اچھا !!!
ہاں ۔اب میں میدان کا رخ کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے دور دور تک پھیلے کھنڈرات پر نظر ڈالی۔
اچھا ٹھیک ہے…. تمہارا جذبہ کمال ہے، لیکن میں تمہاری پیروی نہیں کر سکتا۔محمد نے اداسی سے اپنے دوسرے ہاتھ کو دیکھا جہاں ہاتھ ہی نہیں تھا۔
خزیمہ اس کے درد کو محسوس کر کے اداس ہؤا۔پھر اس کی توجہ ہٹانے کو بولا۔
ارے میں تم کو بتانا ہی بھول گیا ۔یہ تو دیکھو کیسا معاملہ ہے ….پتہ نہیں کون اس ننھی کلی کو یہاں رکھ گیا ۔یعنی حیرت ہے تنہا معصوم بچی ….کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں نہ زندہ نہ مردہ ….
چھوڑو خزیمہ اب یہ حیرت کی باتیں نہیں رہیں…. آؤ اپنا کام کریں۔محمد نے خیمے کی دیوار کے ساتھ رکھے بیلچے کو اٹھایا۔
ہاں ٹھیک ہے۔ میں سوچ رہا تھا معصوم کلی کا ہاتھ سے بنا کروشیے کا سویٹر ہم اتار لیں ۔اس پر اس کا نام بھی لکھا ہے ،شاید کسی ماں کا دل اس کو دیکھ کر ٹھنڈا ہو۔
وہ ایک لمحے کو رکا ،گہری سانس لی اور بولا ۔
اور کسی ننھی کلی کا جسم گرم ہو!
٭٭٭

 

 

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp