صبح امی سے پیٹ کے درد کا بہانہ لگایا ۔ آنکھیں نہیں کھل رہی تھیں۔ اب وہ ہر دوسرے دن جانے کا منع کر دیتا ۔ کچھ دن ابو دیکھتے رہے پھر سختی کی حتیٰ کہ نوبت پٹائی پر آگئی ۔ ماں ہمیشہ ڈھال بن کر سامنے آ جاتی تو اکثر حفظ کروانے نہ کروانے ،روٹین کے بدلنے پر دونوں میاں بیوی کی بحث ہونے لگتی۔نند نے دبے لفظوں میں سمجھایا کہ حافظ بنانے کے لیے صرف مسجد بھیج دینا کافی نہیں ہوتا ،اپنے گھر کے ماحول کو بھی اس کے لیے آسان بناؤ ۔سب جلدی سوئیں اور سویرے بچے کے ساتھ اٹھیں، ہمیں دیکھو ہماری روٹین میں بچے کو مسجد اور گھر دونوں میں ایک ہی جیسا ماحول ملتا ہے ۔ لیکن انہیں یہ سمجھ نہ آرہی تھی کہ حافظ بنانے کے لیے صرف مدرسے بھیج کر جان نہیں چھوٹ جاتی بلکہ مدرسے سے زیادہ گھر میں بچے کواس عظیم کام کے لیے تقویت پہنچانی ہوتی ہے۔
رفتہ رفتہ حال یہ ہو گیا کہ وہ نہ صرف گھر والوں سے بدظن ہؤا بلکہ اپنے آپ کو مظلوم سمجھنے لگا ۔ حتیٰ کہ ہر رشتہ اسے خود غرض اور منافق لگنے لگا ۔ آج وہ گیارہ سال کا ہونے کے باوجود وہیں کا وہیں کھڑا تھا ۔ اس نے دو سال میں صرف چار سپارے حفظ کیے تھے ۔ ہر نیا آنے والا قاری اپنے تلفظ سے پڑھانے کے لیے ایک دفعہ پھر بچوں کو واپس الف سےشروع کر دیتا ۔ بچوں کے ہاتھوں سے ریت کی طرح وقت پھسلتا جا رہا تھا ۔ اور دو سال گزر گئے ۔ اسے صرف چار سپارے حفظ ہو ئے تھے ۔
عصر کی چھٹی کے بعد زاہد کو مدرسےکے باہر کھڑا پایا تو بڑی گرم جوشی سے ملا۔ وہ زبیر کے ساتھ اسکول میں پڑھنے والے دوستوں میں سے ایک تھا ۔ زاہد ، زوہیب اور زبیر یہ بہترین دوست تھے ۔ اکثر اس سے ملنے مدرسے کے باہر آتے رہتے تھے ۔
’’اور سناؤ، زوہیب اور دوسرے لڑکوں کا کیا حال ہے ‘‘زبیر نے اپنی ٹوپی تہہ کرتے ہوئے جیب میں رکھ لی ۔
’’سب تمہاری شرارتوں کو بہت یاد کرتے ہیں ۔ اب ہم آٹھویں میں آ جائیں گے ۔ اس سال بورڈ کے پیپرز ہوں گے تو خوب محنت کرنی پڑ رہی ہے ….اور تو سنا کتنے سپارے ہو گئے ‘‘زبیر کی آنکھوں میں دکھ کا سایہ دیکھ کر زاہدبولا ’’کیا پھر قاری صاحب بدل گئے ؟‘‘
وہ اب بھی چپ رہا تو زاہد نے سمجھداری سے بات بدل دی ۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اسکول چھوڑنے کے بعد زبیر اکثر کہتا تھا کہ چار سال میں حفظ کے بعد ہم انشاءاللہ میٹرک کا امتحان ایک ساتھ دیں گے ۔ یہ جدائی تو صرف چار سال کی ہے ۔ سب دوست مجھے یاد کرنے کے بجائے، یقیناًمیرا مذاق اڑاتے ہوں گے۔ غم کی شدید لہر اس کے اندر دوڑ گئی ۔ مدرسے کے قواعد و ضوابط اور تشدد کو برداشت کرنا اس کے لیے مشکل ہو گیا ۔ اور یوں ، وہ بہت دن سے آنے والی بغاوتی سوچوں کو عملی جامہ پہنانے کے بارے میں سوچنے لگا۔اسی سوچ بچار کا نتیجہ تھا کہ وہ بھاگ کر لاہور راوی کے کنارے آگیا تھا۔
٭
راوی کےپل کی ریلنگ پر کھڑے ابھی وہ آزادی کی سرشاری ہی میں تھا کہ پیچھے رکنے والی سائیکل سے ہاتھ بڑھا اور اس کا کالرکھینچ لیا گیا۔ اس نےپلٹ کر جیسے ہی سائیکل پہ بیٹھے شخص کو دیکھا تو حیرانی کے ساتھ دردناک مایوسی نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا ۔ قاری صاحب نے اس کے کالر کو مزید جھٹکا دے کر سائیکل کے پیچھے بنے اسٹینڈ پر بیٹھنے کو کہا ۔ وہ چپ چاپ سائیکل پر سوار ہو گیا ۔ قاری صاحب کا بھاری بھرکم وجود اپنے ساتھ بارہ سال کے گول مٹول لڑکے کو بھی کھینچ رہا تھا ۔ تیز تیز چرچرانے والے پہیے ، بے سری پیڈل کی آواز کے ساتھ ہینڈل کو تھامے قاری صاحب ہانپ رہے تھے۔ان کی رفتار جیسے ہی کچھ ہلکی پڑی تو زبیر ایک فیصلے پر پہنچ چکا تھا ۔ کچھ دور جانے کے بعد بالآخر قاری صاحب نے سائیکل روک دی ۔ پسینے سے شرابور اپنے چہرے کو ،اپنے کندھے پہ پڑے چیک دار رومال سے صاف کیا ۔ اور گہرے گہرے سانس لینے لگے ۔ زبیر تو جیسے موقع کی تاک میں تھا ۔ اس کی سرکش طبیعت نے بھاگنے میں لمحے کی تاخیر نہیں کی ۔ اب صورتحال کچھ یوں بنی، کہ زبیر آگے آگے….اور مولانا صاحب پیچھے پیچھے…. سائیکل اور پیدل کے فرق سے یکسر بے نیاز وہ سر پٹ دوڑ رہا تھا ۔ کچھ دیر بعد بھاگتے ہوئے پیچھے کی صورتحال پر نظر ڈالی تو مولانا صاحب سائیکل روک کر سانس بحال کر رہے تھے ۔
وہ بھی رک گیا ۔ اسے اچانک اپنے ابو یاد آگئے ۔بہرحال جو قاری صاحب جتنے موٹے تو نہ تھے لیکن گردے کی تکلیف کے ساتھ سائیکل چلاتے ہوئے ، جب وہ گھر پہنچتے تو اسی طرح ہانپ رہے ہوتے تھے۔ اسے اپنی حساس طبیعت کی بدولت قاری صاحب کی حالت پر رحم آگیا ۔ وہ کچھ فاصلے پر رکا تو قاری صاحب گھورنے لگے ۔ غصہ بھری آنکھوں نے، تھکن بھری نظروں کا مفہوم جان لیا اور قاری صاحب نے ایک دفعہ پھر کندھے پر لٹکے رومال سے اپنا منہ پونچھا اور سائیکل آگے بڑھاتے ہوئے ،اس کے قریب روک دی ۔ اب کی دفعہ انہوں نے اسے آگے بیٹھنے کو کہا اور اس کے بیٹھتے ہی سائیکل چلا دی۔
رواں دواں ٹریفک کے درمیان فٹ پاتھ پر ،اکا دکا چلتے ہوئے لوگوں نے انہیں تعجب سے دیکھا ضرور لیکن مزید دلچسپی لیے بغیر وہ ان کے سامنے سے گزر جاتے۔ مدرسہ کے اندر تک سائیکل روکنے کے ساتھ ہی کچھ بچے لپک کر قاری صاحب کے پاس آئے ۔ دونوں دروازے بند کرو ، انہوں نے سختی سے زبیر کو اپنی جانب کھینچتے ہوئے کہا ۔ لڑکوں نے دوڑ کر حکم کی تعمیل کی ۔ ہر آنے والے نئے دن میں دو سے تین بچے تو بھاگتے ہی تھے ۔ لیکن جب پکڑ میں آ جاتے تو ان سے ہمدردی رکھنے والوں کو ان کی درگت بننے پر افسوس ہوتا ۔ جبکہ انہی میں سے کچھ لڑکے جو پکڑے جانے والوں کے لیے بغض رکھتے ، وہ دل ہی دل میں خوش ہوتے ۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ کل اس کی جگہ ہم بھی ہو سکتے ہیں ۔
زبیر کے ہمدردوں میں سے کسی نے قاری صاحب کی پائپ چھپا دی ۔ وہ الگ بات کہ یہ ہمدردی الٹ ثابت ہوئی ۔ پائپ سے جسم شل ہو جاتا تھا اور تکلیف بعد میں ہوتی تھی۔ویسے بھی اس کا جسم پائپ کھانے کا تو عادی ہو چکا تھا ۔ اس کے برعکس جب پائپ نہ ملنے پر قاری صاحب نے ٹیلی فون کے تار کو ڈبل کر کے اس کے ذریعے اپنا عناد و غصہ نکالا، تو ہر وار پر نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی چیخ بلند ہو جاتی۔ جسے سن کرقاری صاحب کے دل میں اطمینان کی لہریں دوڑتیں،کیونکہ اس سے پہلے ہر دفعہ وہ چاہتے تھےکہ یہ دوسرے لڑکوں کی طرح روئے چلائے ، پر زبیر ہر دفعہ خاموشی سے مار کھاتا رہتا اور اف تک نہ کرتا ۔ جب کہ آج ان کی یہ خواہش بھی پوری ہو چکی تھی۔
کوڑے کی طرح پڑنے والی ضرب کے نشانات کمر ، پنڈلیوں اور پچھلی رانوں پر اس حد تک نمایاں ہوئے کہ ابھرنے والی لکیروں میں پر کہیں کہیں سے خون بھی رسنے لگا ۔ تکلیف اس قدر تھی کہ مار کھانے کے باوجود وہ زمین پر الٹا لیٹا ہی رہا ۔ اس میں ہلنے تک کی سکت نہ تھی۔ کچھ لڑکے جنہوں نے پٹتے ہوئے اس کے ہاتھ پاؤں پکڑے تھے دل میں پشیمان اور آزردہ تھے ۔ خوف و ہراس کا ماحول تو اس چار دیواری میں معمول کی بات تھی ۔ آج تو ہر ایک لڑکے پر حزن و ملال کی کیفیت طاری تھی ۔ سب کو آنے والے دنوں میں زبیر کی بجائے اپنا وجود ، بے یار و مددگار پڑا ہوا دکھائی دے رہا تھا ۔ گھر میں اطلاع کروا دی گئی تھی کہ آج زبیر کو سبق یاد نہیں تو قاری صاحب نے کہا ہے کہ وہ رات اب وہیں رکے گا ۔ پٹنے والے لڑکے کے گھر سے اس کا کھانا مانگ کر لانا بھی لڑکوں کے لیے ایک تفریح کا ہی موقع ہوتا تھا ۔
دکھتے جسم کی اذیت نے اسے عجیب ہی لا چار کر دیا تھا ۔ تکلیف میں مبتلا ہوکرکھاناکھانے سے ایک دفعہ کے انکار پر ہی مسجد میں قیام پذیر لڑکے اس کے لیے لائے گئےکھانے پر ٹوٹ پڑے ۔ ایک لڑکا منہ میں بڑا سا نوالا ڈالتے ہوئے بولا، یار زبیر تیری امی کھانا بہت مزے کا بناتی ہیں ۔ دوست کی بے حسی نے اس کا درد مزید بڑھا دیا تھا ۔ اس نے ہجوم کے ہوتے ہوئے بھی خود کو بے حد تنہا محسوس کیا ۔ پوری رات وہ دوسرے لڑکوں کے درمیان پڑا کر ہتا رہا ۔ صبح اٹھا تو بخار سے پھنک رہا تھا۔
اگلے دن فجر کے بعد دو لڑکے اسے دونوں طرف سے پکڑ کر گھر چھوڑ گئے۔ ماں اور بہن دیر تک اس کےزخم دیکھ کر روتی رہیں ۔زخموں پر مرہم لگایا۔ بخار کی دوا کھلائی گئی۔ مگر افسوس اس کے دماغ میں بغاوت کی چنگاری اب ایسا شعلہ بن چکی تھی کہ ہر دفعہ کی مار کے بعد وہ مزید بھڑکنے لگتااور خود سے کیے گئے عہد کو دہراتا رہتا کہ اس کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف بھاگنا ہے۔ وہ باغی سوچ کے زیر اثر تھا۔ اسے اپنے فائدے یا نقصان سے اب کوئی غرض نہیں تھی۔ شاید وہ اپنے آپ کو اذیت کے راستے پر اکسا کر دوسروں کو سزا دینا چاہتا تھا۔ وہ ہر طرف سے خود کو بے بس پاتا۔ لیکن اپنی ہٹ دھرمی سے قاری صاحب، اپنے گھر والوں اور اپنے تئیں شاید اس بے حس معاشرے کو بھی زچ کرنا چاہتا تھا۔ بھاگ کر پکڑے جانے یا واپس آنے پر ، ہر دفعہ کی طرح اسے نئے نئے لفظوں کے ہیر پھیر کے ذریعے سمجھایا جاتا۔ لیکن ہمیشہ کی طرح ہر قسم کا نصیحتی مواد ، سیدھی چٹان پر بہت سا پانی گرنے کی طرح بہنے کے جیسا ، اس کے کانوں پر سے دماغ میں جانے سے پہلے ہی پھسل جاتا۔
اپنی گلی میں داخل ہونے پر وہ ہمیشہ دور سے ہی جائزے کے بعد اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ، کہ اس کے مدرسے نہ پہنچنے کی اطلاع گھر تک پہنچی ہے یا سب انجان ہیں ۔ تجربات نے اسے ہر طرح کے حالات کو جانچنے کی پہچان سکھا دی تھی ۔ اگر قاری صاحب نے اسے بلانے کے لیے لڑکے بھیجے ہوتے تو اس کے اپنے اندر کی بے چینی گویا گلی میں ہونے والی ہلچل کا روپ دھار لیتی ۔ گلی کے کونے پر موجود کمبخت چھیما سبزی والا اسے تاڑ رہا ہوتا ۔ امی بڑی سی کالی چادر اوڑھے اندر باہر ہوتی نظر آتیں۔ ایسے میں کبھی وہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے گھر جانے پر مجبور ہوتا ، تو داخل ہوتے ہی سوالات کی بوچھاڑ ہو جاتی۔ امی لڑکوں کے آنے اور قاری صاحب کی مار سے ڈراتی ہوئی خود بھی ہولتی رہتیں۔ کتنی دفعہ زبردستی اسے چھوڑنے خود ساتھ جاتیں اور باقاعدہ التجائیں کرتے ہوئے ، نہ ہونے والے واقعات کے بہانے گھڑ تیں کہ کسی طرح اسے مار نہ پڑے ۔ قاری صاحب امی کو خوب تسلیاں دینے کے بعد کہتے بی بی بار بار آکر شرمندہ مت کیا کرو ، ہم اس کے فائدے کے لیے ہی سختی کرتے ہیں ۔ بعض اوقات وہ ان کے انداز سے بھانپ جاتیں کہ ان کے جانے کے بعد بھی وہ ماریں گے تو پورے راستے روتی ہوئی واپس آتیں۔ جبکہ قاری صاحب بھی اپنے نام کے ایک ہی تھے ۔ حقیقتاً ان کے جانے کے بعد پہلا پائپ اسی لیے پڑتا کہ وہ ساتھ کیوں آئی تھیں۔
٭
بہت دن سے آنے والی بغاوتی سوچوں کو اس نے ایسا عملی جامہ پہنایا کہ کچھ دن بعد ہی وہ بھگوڑے کے نام سے مشہور ہو گیا۔گھر سے مسجد اور مسجد سے گھر، دو طرفہ مار سے بچنے کے لیے وہ دونوں جگہ سے بھاگنے لگا….اور پھر بھاگتا ہی رہا۔
اس بار وہ بھاگ کرنور جہاں کے مقبرے میں آگیا تھا۔ داخل ہوتے ہی اس نے جوگنگ کے لیے بنے ٹریک پر بھاگتے ہوئے اکا دکا لوگوں پر نظر ڈالی ،تو خیال آیا، ان کے دوڑنے اور میرے بھاگنے میں کتنا فرق ہے!
عادتاً ہاتھ سر تک گیا، تو کسی خیال کے تحت اس نے فوراًٹوپی اتار کر تہہ کرتے ہوئے جیب میں ڈال لی۔ پچھلی دفعہ اسی ٹوپی کی وجہ سے لوگ اسے شک کی نظر سے دیکھتے رہے تھے۔جبکہ ایک بزرگ نے تو پوچھ بھی لیا،کہ بیٹا مدرسے جانے کے بجائے یہاں کیوں آگئے ہو….اور جواب سنے بغیر ہی وعظ و نصیحت کرتے رہے۔
پچھلی سوچ کو جھٹک کر وہ خاموشی سے دوسری طرف چل دیا۔مختلف انجانی جگہوں پربھاگ کر جانے سے اس کی شخصیت میں بزدلی کی جگہ دیدہ دلیری پیدا ہو گئی تھی۔آج معاملہ برعکس تھا۔بہت اعتماد کے ساتھ، وہ دوسروں کو دیکھ کر خود بھی ہلکی پھلکی ورزش کرتا رہااور غیر محسوس طریقے سے تھوڑی دیر بعد ہی چلتا ہؤا اپنے ٹھکانے تک پہنچ گیا۔
صبح ہلکی ہلکی گونجتی ہوئی آوازوں اور جھگڑے جیسی گفتگو سے اس کی آنکھ کھلی تو ہاتھ میں بندھی گھڑی پر نظر ڈالتے ہی وہ تیزی سے اٹھ کھڑا ہؤا۔ جبکہ یوں اچانک نور جہاں کی قبر کے پیچھے سے بارہ سالہ وجود کو نمودار ہوتے دیکھ کر وہاں کچھ لوگوں نے تعجب سے اس کی طرف دیکھا۔ زبیر بے ساختہ مسکرایا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔دن بھر آوارہ گردی کرنے کے بعد وہ تھکا ہارا پھر وہیں مقبرے پر لوٹ آیا تھا۔
٭
اس کے گال پر کسی نے ہاتھ پھیرا تو اس نے کروٹ بدل لی ۔
کچھ دیر بعد شعور نے بیداری کی منزل طے کی تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔ ناگوار بدبو کا بھپکا اور ارد گرد کا ماحول ، اس کے وجود کو حراساں کرنے کے لیے کافی تھا ۔ کرنٹ کھا کر ، جھٹکا کھانے کی طرح وہ فوراًاٹھ بیٹھا ۔ چھٹی حس نے خطرے کا الارم بجایا تو وہ تیزی سے نور جہاں کی قبر پھلانگ کر باہر کی طرف بھاگا ۔ نشے میں دھت چرسیوں میں سے جن دو کے حواس کچھ باقی تھے ، وہ تیزی سے اس کی طرف لپکے۔ زندگی میں نہ جانے کب تک اس کے نصیب میں دوڑنا لکھا تھا!
وہ بغیر پیچھے مڑے تیزی سے بھاگتا رہا۔مزار نور جہاں سے باہر کی طرف بنی راہداریوں میں سے گزرتا ہؤا ،وہ کھلے حصے میں آگیا ، لیکن چاروں طرف ہو کا عالم تھا ۔ جنگل نما باغ کے درمیان بناحوض ، اس کے گلے کی طرح خشک تھا ۔ درختوں کی آڑ میں وہ ایک پل ٹھہر گیا ۔ سر پٹ دوڑتے ہوئے، وہ جانے کہاں نکل آیا تھا ۔ نور جہاں کا مقبرہ کوئی چھوٹی جگہ نہیں تھی ۔ چند لمحے سانس بحال کرنے کے بعد اس نے اللہ سے مدد مانگی اور صحیح سمت کا تعین کرتے ہوئے ایک دفعہ پھر بھاگنے لگا ۔ اس کا دل خوف کی لپیٹ میں تھا ۔ اس کا رواں رواں آیت الکرسی کا ورد کرنے لگا ۔ تعاقب کرنے والوں کے بھاگتے قدموں کی آواز میں سستی محسوس کر کے بھی اس نے اپنی رفتار کو متاثر نہیں ہونے دیا ۔ حتیٰ کہ کچھ دیر بعد وہ بے شک مقبرے سے باہر تھا لیکن اس کا خوف اب بھی کم نہیں ہؤا تھا ۔ کیونکہ روز کے آنے جانے سے وہ اتنا جان گیا تھا کہ مقبرے کے اطراف میں بھی سناٹے کا راج ہوتا ہے ۔
مین سڑک پر پہنچ کر اسے کہیں کہیں چلتا ہؤا ٹریفک ، ایک طرف کھڑی چارے کی ٹرالیاں اور بھینسوں کے لیے پٹھے لے جاتے ہوئے مزدور نظر آئے ۔ یعنی زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی ۔ پر اگر وہ یہاں تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوتا ، درختوں کے جھنڈ میں ہی تعاقب کرنے والے اسے جکڑ لیتے ، یا وہ بھاگتے بھاگتے گر جاتا اور دھر لیا جاتا….خوفناک سوچیں اس کے دماغ کو ناگ کی طرح ڈس رہی تھیں۔
جس ٹرالی کے پاس وہ بے ساختہ نفسیاتی طور پر سہارا لینے کے لیے ٹھہر گیا تھا وہ شاید اس کا ڈرائیور تھا جو کافی دیر سے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ اور خوفزدہ چہرے کو تاڑ رہا تھا ۔
’’پتر خیر تو ہے ؟‘‘
سوچوں کے بھنور میں پھنسے ، زبیر نے اپنے انتہائی قریب آواز سنی تو بے ساختہ اچھل پڑا اور دو قدم پیچھے ہٹ گیا ۔ ڈرائیور کے اندیشے کی تصدیق ہو چکی تو اس نے کہا۔
’’ پتر میں بھی بچپن میں مدرسے سے اسی طرح بھاگ جایا کرتا تھا‘‘ ۔
زبیر نے بے ساختہ اپنے سر پر ہاتھ پھیرا….ٹوپی تو وہ کہیں بہت دور گرا آیا تھا ۔ اس کی اس حرکت کا ڈرائیور نے خوب مزہ لیا اور اونچا سا قہقہہ لگا کر بولا۔ ’’پترجی تیری پہچان ٹوپی نہیں ہے۔ تیرے چہرے پر معصومیت ، آنکھوں میں معاشرے سے نفرت….تجھے گھر والوں سے بھی گلا ہوگا …. اور شاید اپنی قسمت پر دل میں خدا سے شکوہ بھی ہوگا‘‘ وہ زبیر کے کندھے پر ہاتھ پھیلائے بہت دور یقینا ًاپنے آپ سے مخاطب تھا۔
ٹرک ڈرائیور نے جہاں دیدہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور شفقت سے ہاتھ پکڑ کر اینٹوں کے تھلے کے قریب ہی بنی ہوئی چھوٹی سی چائے کی دکان پر لے آیا ۔ زبیر بھی اپنے آپ کو نارمل کرنے کے لیے اسٹول گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔ چائے کے ساتھ ڈرائیور نے کیک رس بھی منگوائے اور سامنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
’’ جب تک یہ مزدور میری ٹرالی میں اینٹیں بھرتے ہیں میرے ساتھ کچہری کر لے‘‘۔
زبیر کے ناسمجھ میں آنے والے انداز پر مسکراتے ہوئے بولا ’’بیٹا! ہم سندھی لوگ بیٹھ کر بات چیت کرنے کو کچہری کرنا کہتے ہیں‘‘ ۔
’’ اچھا‘‘ زبیر نے قدرے حیرانی سے اچھا پہ زور دے کر مسکراتے ہوئے کہا ۔ اس کا اعتماد بحال ہو چکا تھااور وہ وقتی طور پر اپنے ساتھ نہ ہونے والے واقعے کے ہو جانے کے خوف سے نکل گیا ۔
’’کچھ اپنے بارے میں بتاؤ۔۔۔اگر چاہو تو ۔۔۔ تمہیں مجھ سے کوئی خطرہ نہیں ‘‘ ڈرائیور نے چائے کاگھونٹ لیتے ہوئےکہا ۔
زبیر خاموشی سے چائے کے اندر کیک رس ڈبو ڈبو کر کھاتا رہا ۔ اس کی اپنی ہی دنیا تھی ، جس کی زبان نہ تھی ۔ وہ حد درجہ ذہین تھا اور مشاہداتی حس بھی رکھتا تھا ۔ وہ جان چکا تھا کہ ڈرائیور کا بچپن بھی اس کی طرح مدرسے سے بھاگتے ہوئے گزرا ہوگا ۔ جس میں نہ کھیل کود ہوگا نہ ذہنی جسمانی سکون، ڈانٹ پھٹکار اور مار کھا کر ایک عمر میں اس نے قرآن مکمل کیا ہوگا جو یقیناًوہ اب تک بھول چکا ہوگا ۔ اور اب اپنے تجربے کی روشنی میں ، اپنی نصیحتوں کی پٹاری کھولے گا ۔ جسے گھول کر پینے کے بجائے ، اسے کیک رس پر ہی دھیان دینا چاہیے ۔
’’او بیٹا کہاں گم ہو گیا ہے تو ؟ اگر تو سوچ رہا ہے کہ میں تجھے کوئی نصیحت کروں گا تو تو غلطی پر ہے‘‘ ۔
اپنی سوچ پڑھ لیے جانے پر وہ کچھ شرمندہ سا ہو گیا ۔ اور ہکلاتے ہوئے بولا ’’نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں‘‘ ۔
’’’ بیٹا یہ تیرا قصور نہیں ہے کہ تیری سوچیں باغی ہیں ۔ ارد گرد والوں اور معاشرے کی روایتوں کا قصور ہے ۔ دین کو تھوڑی قیمت پر بیچا جا رہا ہے ۔ ہر مولوی کی اپنی سیاست ہے۔ تو نہیں سمجھے گا …. کیا عمر ہے تیری؟ ‘‘
’’چودہ سال ‘‘وہ پھنسی پھنسی آواز میں بولا’’ اب میں چلوں؟‘‘ اس نے بےساختہ کہا۔ حالانکہ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ یہاں پر کچھ وقت اور گزار لے ۔
’’ مرضی ہے بیٹا پر ابھی ٹرالی تو آدھی ہوئی ہے ۔ بھر جانے تک بیٹھتا تو مجھے اچھا لگتا ۔ ویسے بھی تو نے شام تک مارا مارا پھرنا ہے ‘‘۔
پھر اس کو اٹھتے نہ دیکھ کر ہنستے ہوئے بولا’’ ایک دفعہ ہمارے قاری صاحب نے مجھے بال کی طرح دیوار میں دے مارا تھا‘‘ ۔
زبیر بھی ہنسنے لگا ۔ عمر کے فرق کے باوجود، ڈرائیور اتنی بے تکلفی سے اسے اپنے بارے میں بتانے لگا کہ پہلی دفعہ زبیر کا جی چاہا کہ وہ بھی ڈرائیور کے سامنے اپنے باغی خیالات کا اظہار کرے تاکہ ا سے اپنے بہت سے سوالوں کے جواب ملیں ۔ لیکن وہ اپنی سوچوں کو زبان پر لاتے ہوئے ، لفظوں کے بوجھ کو لاد لینے سے ڈرتا تھا ۔
اس کو ایک دفعہ پھر چپ دیکھ کر ڈرائیور ہنستے ہوئے بولا’’ او….بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے ، پر اتنا نہیں کہ دوسرا بندہ ہی بے زار ہو جائے‘‘۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا ’’اچھا تو آپ نے مکمل حفظ کر لیا ہے؟ ‘‘
’’ہاں ظاہر ہے وہ تو کر لیا تھا….او….اصل کام حفظ کرنا نہیں ہے….کلام کی حفاظت کرنا ہے ۔ وہ میں نہیں کر سکا ، اور کرتا بھی کیسے! پر….کر بھی سکتا تھا‘‘ وہ ایک دم سے دکھی ہو گیا ’’ بس یار…. پھر بھی میرا ابا بڑا خوش تھا….کہ پورا گاؤں مجھے حافظ شہباز پکارتا ہے ۔
اب میں سوچتا ہوں ابے کا بھی کوئی قصور نہیں تھا ۔ ہم تیرہ بہن بھائی تھے ۔ گھر میں کھانے کو ایک وقت روٹی ملتی تھی ۔
چوہدری صاحب نے مسجد کے ساتھ جیسے ہی مدرسے کی بنیاد رکھی ، تو میرے ابا نے سب بھائیوں کو مدرسے میں ڈلوا دیا ۔ سات بھائی ہیں ہم ، میں اس وقت بہت چھوٹا تھا ۔ لیکن سب سے چھوٹا بھائی بھی جیسے ہی پانچ سال کا ہؤا اسے بھی بھجوا دیا ۔ میری اماں اور وہ بہت روتے رہے…. جس دن سکھر جانا تھا ، اماں ہمارے پیچھے چھپ کر نہر تک آ گئی تھی ۔ ابا نے دیکھا تو چلاتے ہوئے گھر جانے کا کہا….وہ روتی ہوئی واپس چلی گئی ۔
یار یہ منظر ایسا تصور میں جم گیا ہے کہ جب یاد آتا ہے تو نظروں کے سامنےبس وہی چلتا رہتاہے ۔آہ اس دن سے لکن میٹی کا کھیل جاری ہو گیا‘‘ ۔
زبیر دم سادھے سن رہا تھا ۔ وہ اچانک یہ کہتے ہوئے ہنسا۔
’’ اوئے کبھی سوچ کر مزہ بھی بہت آتا ہے ۔ قاری صاحب بڑے لڑکوں کو چھوٹے بچوں کا سبق سنواتے تھے ۔ ایک دن لڑکا بولا تختی نمبر دو سناؤ ۔میں کچھ نہ بولا تو اس نے ایک جھانپڑ لگا دیا ۔میں رونے لگا تو میرا بڑا بھائی آگیا، اس نے اس لڑکے کو خوب پیٹا پھر مجھ سے سبق نہ سنانے کے بارے میں پوچھا ۔میں نے کہا ہر تختی پر اماں کی تصویر نظرآتی ہے توآنکھوں میں پانی آ جاتا ہے ،لفظ نظر نہیں آتے، تختی سمجھ نہیں آتی تو پیچھے کیا پڑھوں…. میں پھوٹ پھوٹ کر رونےلگا، اور بھائی سے کہا میں بھوکا رہ لوں گا مجھے ماں کے پاس جانا ہے۔ میں ہر روز اپنے بھائی سے یہی کہتا تو ایک دن غصے میں بولا، مر گئے ہمارے ماں باپ ….سمجھ گیا؟ تو اب تو بچہ نہیں ہے ….اور روٹی کے بدلے رٹو طوطا بن جا پھر اڑ جانا اپنی ماں کے پاس!
’’میں تو نہیں اڑا پر وہ اڑنے لگا اور اڑتے اڑتے جانے کہاں چلا گیا۔لے پتر میری ٹرالی بھر گئی ۔میں تو چلا‘‘۔
وہ ٹھنڈی سانس بھرتا ہؤا اٹھ کھڑا ہؤا۔ پھر واپس مڑتے ہوئے بولا ۔
’’میں ہر روز صبح سات بجے اس تھلے پر آتا ہوں ،تجھے وقت گزاری کے لیے آنا ہو تو آ جایا کرنا‘‘۔
وہ ٹرالی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ پھر جاتے جاتے بولا’’ تجھے کہیں اترنا ہے تو بیٹھ جا میں تجھے اتار دوں‘‘۔
زبیر کے منع کرنے پر بھی اس نے دروازہ کھول دیا تو وہ بھی سوار ہو گیا۔ (جاری ہے)
٭٭٭