اے فلسطین مت پکار ہمیں ۔ حبیب الرحمان
ہر طرف خون بہہ رہا ہے مگر
ہر کوئی ظلم سہہ رہا ہے مگر
مانتے ہیں کہ ظلم و جور و ستم
ہے بہت سخت ناگوار ہمیں
اے فلسطین مت پکار ہمیں
ہیں ہر اک سمت نوجواں لاشیں
بچوں بوڑھوں کی ناتواں لاشیں
روز و شب خوں ہمیں رلاتی ہے
یہ کراہیں یہ ہاہا کار ہمیں
اے فلسطین مت پکار ہمیں
ہم تو ناز و ادا کے پالے ہیں
ہم تو موسیٰؑ کی قوم والے ہیں
ہم تو بس اُس کے نام لیوا ہیں
مت رلا ہائے زار زار ہمیں
اے فلسطین مت پکار ہمیں
کوئی دکھ بھی نہ دل سہے پھر بھی
ایک انگلی نہ بھی کٹے پھر بھی
آرزو ہے خدا سے یہ اپنی
شہدا میں کرے شمار ہمیں
اے فلسطین مت پکار ہمیں

