ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ہمارا جسم اور اللہ کی نعمتیں- بتول جون ۲۰۲۱

پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

جب کوئی انسان پیدا ہوتا ہے تو فطرت کی جانب سے اس کے دماغ میں ہزاروں لاکھوں ’’سافٹ ویئر‘‘ ڈال دیے جاتے ہیں جو اس کی عمر کے ساتھ ساتھ دنیا میں پیش آنے والی ضرورتوں کے مطابق اجاگر سے اجاگر تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ابتداً اسے یہ شعور دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی غذا کیسے اور کہاں سے حاصل کرے گا اور اپنی راحتوں اور مشکلات کا اظہار کیسے کرے گا۔
کوئی بھی بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے منہ میں دانت نہیں ہوتے۔ اگر بچے کو دانت پیدائشی طور پر عطا کر دیے جاتے تو ماؤں کا براہِ راست انھیں دودھ پلانا کسی طور ممکن ہی نہ ہو پاتا۔
عمر کے ساتھ ساتھ شعور بھی پختگی اختیار کرتا جاتا ہے اور دانت بھی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں لیکن دودھ پلانے کا عمل ابھی باقی رہتا ہے۔ اس دوران ماؤں کو یقیناً دقت اٹھانا پڑتی ہے لیکن ایک جانب بچہ ہلکی پھلکی ڈانٹ کا مطلب سمجھنے لگتا ہے تو دوسری جانب اسے کسی کو اذیت یا راحت پہنچانے کی بھی پہچان ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ماؤں کی پریشانی نہایت عارضی ثابت ہوتی ہے اور بچہ اپنے دانتوں کے ساتھ بھی ماؤں کے لیے باعث ایذا نہیں ہوتا۔
ابتداً یا بچپن میں نکلنے والے دانتوں کو ’’دودھ‘‘کے دانت بھی کہا جاتا ہے جو چھ سات سال کی عمر کے بعد ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں اور ٹھیک اسی مقام سے ایک نیا دانت نکلنا شروع ہو جاتا ہے جہاں سے دودھ کا دانت ٹوٹتا ہے۔ ذرا غور کریں کہ دودھ کے دانت ہی قبر تک کے ساتھی ہوتے تو کیا ہوتا۔ ان کے نکلنے اور پھر ٹوٹ کر دوبارہ پختہ دانت نکلنے میں کیا حکمت ہے۔ جب کسی نو زائیدا بچے کے دانت نکلنا شروع ہوتے ہیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ جلد ہی اس کی غذا کی ضروریات بدلنے والی ہیں اور اس کا معدہ اور آنتیں آہستہ آہستہ اس قابل ہوتی جا رہی ہیں کہ یہ ٹھوس غذا کی جانب جا سکتا ہے چنانچہ مائیں اس کا اہتمام شروع کر دیتی ہیں۔ تین چار سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے بچہ قریب قریب ہر ٹھوس غذا کھانے لگتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ بچہ بڑوں کی طرح اپنے دانتوں کی صفائی نہیں رکھ پاتا اور کچھ بچے چینی اور چاکلیٹ کے حد سے زیادہ شوقین ہوتے ہیں اس لیے چھ سات برس تک عموماً سارے بچوں کے دانت نہایت غلیظ یا بد صورت ہو جاتے ہیں۔ اگر دودھ کے دانت ہی عمر بھر کے ساتھی ہوتے تو ممکن ہے لوگوں کے دانت کم عمری میں ہی گل سڑ کر ان کو پوپلا کر دیتے۔ اس لیے قدرت نے یہ اہتمام رکھا ہے کہ اس کے دودھ کے دانت ختم کر کے نئے دانت عطا کیے جائیں اور اس عمر میں عطا کیے جائیں جس عمر میں ان کو صاف رکھنے کا شعور آ چکا ہو۔
بچے کے دانت آہستہ آہستہ ابھر کر اپنی خاص اٹھان تک آکر رک جاتے ہیں ،مزید بڑے نہیں ہوتے۔ ذرا تصور کریں کہ اگر ان کے بڑھنے کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا تو کیا صورت حال ہوتی!
انسان جب ضعیفی کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ دانت جیسی نعمت کو ایک ایک کرکے دوبارہ واپس لینا شروع کر دیتا ہے۔ کیا دانتوں کی واپسی میں اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت پوشیدہ نہیں؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم انسان کو دوبارہ اس کی پچھلی زندگی، یعنی بچوں جیسی کمزوری کی عمر کی جانب لوٹا دیتے ہیں۔ جب انسان دوبارہ ضعیفی کی جانب لوٹتا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کا معدہ اور آنتیں لکڑ ہضم پتھر ہضم جیسی رہ جائیں۔ دانت اگر بڑھاپے میں بھی جوانی کی طرح مضبوط، تیز اور جبڑے شیروں جیسے ہوں گے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان بوٹیاں اور نہایت ثقیل غذا کھانے سے ہاتھ روک سکے۔ ضعیفی میں جوانی کے زمانے جیسا چٹور پن اس کے

معدے اور آنتوں کے لیے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے اس کا اندازہ کرنا کوئی بہت دشوار طلب کام نہیں۔ یہی وہ حکمت ہے جو بڑی عمر میں عطا کیے گئے دانتوں کی بڑھاپے میں واپسی کا سبب ہے۔
پیدائش پر انسان کتنا نرم و گداز ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی سر کی ہڈی سے لے کر جسم کی ساری ہڈیاں نہایت گداز اور لچکدار ہوتی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا اس کی پیدائش کسی اور کی موت کا سبب نہ بن جایا کرتی؟
انسان کی پیدائش کے فوراً بعد اس کا جسم بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کا یہ بڑھنا دو طرح کا ہوتا ہے؛ ایک لمبائی کی جانب اور ایک چوڑائی کی جانب۔ لمبائی کی ایک حد چھولینے کے بعد یہ نظام قدرت کی جانب سے حذف کر دیا جاتا ہے لیکن مو ٹاپے یا چوڑائی کا نظام ایک حد کے اندرجاری رہتا ہے۔ یہ نظام اس لیے تا حیات رہتا ہے کہ کافی حد تک یہ اختیاری ہے جبکہ لمبا کیے جانے کا نظام بالکل بھی اختیاری نہیں۔ غور کریں کہ اگر قد بڑھتے رہنے کا سلسلہ عمر کی آخری سانس تک جاری رہتا تو کیا صورت حال ہوتی۔ کیا انسان بادلوں سے باتیں نہیں کر رہا ہوتا اور کیا وہ میلوں لمبے چوڑے اور بلند و بالا مکانات بنانے پر مجبور نہیں ہو جاتا؟
جس زمین میں ہم سب رہتے ہیں یہاں مکمل خاموشی نہیں ہے۔ اگر اللہ فضا میں گھلا ہؤا ہر شور ختم کردے اور زمین پر مکمل سکوت طاری ہو جائے تو ہمارے کان ہمارے اپنے جسم میں دوڑنے والے خون، دل کی دھڑکنوں اور سکڑتے پھیلتے عضلات کی آوازیں سن سن کر پاگل ہو جائیں۔ شدید سردیوں کے زمانے میں جب ہم کمرے کے پنکھے، دروازے، کھڑکیاں بند کرکے لیٹے ہوتے ہیں تو دیوار پر لگی اس گھڑی کی ٹک ٹک بھی صاف سن لیتے ہیںجو بیٹری کے سیلوں سے چل رہی ہوتی ہے، جبکہ یہ خاموشی بھی مکمل خاموشی نہیں ہوتی۔ امریکا کے کسی شہر میں ایک ایسا کمرہ تیار کیا گیا ہے جو مکمل پُر سکوت ہے اور عالم یہ ہے کہ انسان اس میں اپنے جسم میں دوڑنے والے خون سے لے کر وہ تمام کچھ سن سکتا ہے جس کا ذکر اوپر کی سطور میں کیا گیا ہے اور اس کمرے میں جو بھی جاتا ہے وہ چند لمحوں سے زیادہ گزار نہیں پاتا۔
سیلوں سے چلنے والی بچوں کی نہایت چھوٹی سی گاڑی میں لگی بہت جھوٹی موٹر کو جب آن کیا جاتا ہے تو اس میں سے نکلنے والی آواز ہمارے کان صاف سن رہے ہوتے ہیں۔ جب ایک نہایت چھوٹی سے موٹر کی حرکت بنا آواز ناممکن ہے تو کائنات میں حرکت کرنے والے چاند، سورج، ستارے، کہکشائیں اور جس زمین پر ہم رہتے ہیں،کیا کوئی آواز نکالے بغیر خلاؤں میں گردش کر رہے ہوں گے؟ کیا ہمیں اندازہ ہے کہ یہ میلوں قطر رکھنے والے اجسام، ٹھنڈے سیارے اور دہکتے ہوئے ستارے، کائنات میں کتنا شور قیامت برپا کیے ہوئے ہوں گے؟ لیکن اللہ نے یہ شور ہمارے کانوں کے لیے نہیں بنایا۔ اللہ نے ان کو ایسی صوتی لہریں دی ہیں جن کو ہمارے کان کسی صورت نہیں سن سکتے۔ ان صوتی لہروں کو ہم “الٹرا ساؤنڈ” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ آواز مشینوں کی مدد سے تو محسوس کی جا سکتی ہے لیکن اللہ کے عطا کردہ کانوں سے نہیں سن سکتے۔
دن بھر کے تھکا دینے والے کاموں سے جب ہمارا بدن مضمحل ہو جاتا ہے، اعضا مزید کسی کام کے قابل نہیں رہتے، جسم و روح کا رشتہ تک جدا ہوتا ہؤا محسوس ہونے لگتا ہے، ہاتھوں سے کتابیں، ہتھیار اور اوزار گرنے لگتے ہیں یہاں تک کہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں تک مفلوج ہو کر رہ جاتی ہیں تو اللہ ہمیں موت جیسی گہری نیند سلا دیتا ہے۔ یہ نیند ہمارے بدن کے ایک ایک ریشے کو ترو تازہ کر دیتی ہے، سونے کے دوران تھکا ہارا بدن دوبارہ محنت مشقت کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی عمل ہے جیسے ہمارے موبائل فون یا کسی بھی بیٹری کا دوبارہ چارج ہو جانا۔
ہم سیکڑوں اقسام کی مشینری استعمال کرتے ہیں۔ اکثر میں ایک ہوا صاف کرنے ولافلٹرلگا ہؤا ہوتا ہے جس کی مدد سے ریت یا دیگر آلودگی

مشینری میں جانے سے رک جایا کرتی ہے۔ جیسے مشینری کو آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی ہمیں بھی آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہمارے اندر ہوا صاف کرنے کے لیے کوئی ایئر فلٹر نصب نہیں ہوتا۔ دن بھر فضا میں گھلی ہوئی آلودگی اور گرد و غبار ہمارے پھیپھڑوں میں لازماً جاتا ہوگا۔ کیا اپنی عمر کے آخری لمحوں تک ہم اپنے پھیپھڑوں میں منوں گرد و غبار کا بوجھ محسوس کرتے ہیں جبکہ اللہ نے کسی قسم کا کوئی فلٹر بھی نصب نہیں کیا ہؤا۔ بنا کسی بیماری، تمام عمر ہمارے پھیپھڑے گرد و غبار سے سو فیصد محفوظ رہتے ہیں۔
ایک کھلا ہؤا برتن، جیسے گلاس، کوئی بوتل یا انجکشن کی شیشی یونہی رکھ دی جائے تو چند ہی دنوں میں اس میں ڈھیروں مٹی جمع ہو جاتی ہے۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ ہمارے کان اپنی عمر کے آخری لمحے تک کھلے ہی رہتے ہیں۔ ساٹھ ستر برسوں میں کان مٹی سے بالکل پٹ جانے چاہئیں تھے لیکن ایسا کبھی کسی نے بھی نہیں دیکھا ہوگا۔ اللہ نے ان کو مسلسل صاف رکھنے کا اپنا ہی نظام بنایا ہؤا ہے۔
موٹر گاڑیوں کے ونڈ اسکرین چند ہی گھنٹوں میں گرد و غبار سے اٹ جایا کرتے ہیں۔ ان کو بار بار صاف کرنا پڑتا ہے ورنہ سامنے کے مناظر اتنے دھندلے ہو جائیں کہ راستہ سجھائی دینا ممکنات میں نہ رہے۔ ان کو مسلسل صاف کرنے کے لیے یا تو ہاتھوں کی مدد درکار ہوتی ہے یا گاڑیوں میں لگے وائیپر کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔ غور کریں کہ جن آنکھوں سے ہم دیکھتے ہیں اس پر بھی گرد و غبار اسی طرح اثرانداز ہوتا رہتاہو گا جیسے گاڑیوں کے ونڈ اسکرین پر ہوتا ہے۔ اللہ نے ان کو مسلسل صاف و شفاف رکھنے کے لیے قدرتی وائیپر لگائے ہوئے ہیں۔ یہ ہماری آنکھوں کا بار بار جھپکتے رہنے کا عمل گاڑیوں میں لگے وائیپروں سے کئی ہزار گنا بہتر انداز میںکام کرتا ہے اور ہماری آنکھوں کو مسلسل صاف کرکے انھیں دور دور تک دیکھنے کے قابل بناتا رہتا ہے۔
ہمارے جسم کے ایک ایک ریشے میں اللہ نے نظر نہ آنے والی آگ بھڑکائی ہوئی ہے۔ ہم میں سے کوئی ایک فرد بھی یقین کے ساتھ یہ نہیں بتا سکتا کہ مسلسل جلنے والی آگ کا اصل مرکز کہاںہے۔ پھر اللہ نے بدن میں ایسے ایسے تھرموسٹیٹ لگائے ہوئے ہیں جو اس کے درجہ حرارت کو بڑی خوبی کے ساتھ قابو کیے ہوئے ہیں اور اس کو ایک مقررہ حد سے آگے بڑھنے نہیں دیتے۔ اگر بڑھ جائے تو انسان کو یہ عقل بھی عطا کی ہے کہ اسے معمول پر کس طرح لایا جا سکتا ہے۔ بظاہر انسان کو کتنا عجیب لگے گا کہ اس کے جسم کے ایک ایک ریشے میں آگ لگی ہوئی ہے لیکن وہ بتا بھی نہیں سکتا کہ آگ لگی ہوئی ہے تو آخر لگی ہوئی کہاں ہے مگر یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو جھٹلایا بھی نہیں جا سکتا۔ کسی انسان کے سانس لینے کے عمل کو اگر بند کر دیا جائے تو وہ کیوں ہلاک ہو جاتا ہے، محض اس لیے کہ آکسیجن بند ہونے کی وجہ سے جلنے کا عمل بند ہو جاتا ہے۔ اکثر یہ خبر سننے میںآتی ہے کہ کمروں میں قدرتی گیس بھر جانے کے سبب لوگ دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے۔ گویا قدرتی گیس یعنی ہوا تو کمرے میں موجود تھی لیکن اس ہوا میں آکسیجن نہیں تھی اس لیے لوگ ہلاک ہو گئے۔ جلتی ہوئی موم بتی پر اگر گلاس ڈھک دیا جائے تو وہ بھی اسی لیے بجھ جاتی ہے کہ اسے آکسیجن ملنا بند ہوجاتی ہے۔ گویا جسم کے ریشے ریشے میں بھڑکی ہوئی آگ کا انکار کیا ہی نہیں جا سکتا لہٰذا اللہ نے اسے مقررہ مدت تک جلائے رکھنے کے لیے سانس لینے کے عمل کو اتنا خود کار بنایا ہے کہ انسان اسے بنا ارادہ بھی جاری رکھتا ہے۔
ہمارے جسم پر، خواہ خواتین ہوں یا مرد، ہاتھوں کے پوروں، کلائیوں، پوری ٹانگوں، پیٹ، سینے اور گردن پر بیشمار بال ہوتے ہیں لیکن یہ اللہ کی قدرت ہے کہ وہ ایک خاص لمبائی تک پہنچ کر بظاہر رک جاتے ہیں۔ غور کیا جائے تو ان کا مسلسل بڑھتے رہنا عمر کی آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔ اس بات کو جانچنے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اگر ان کو ڈائی کیا جائے تو دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ جڑ کی جانب سے دوبارہ اپنا قدرتی رنگ ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ گویا ان کا بدن سے مسلسل باہر آنا زندگی بھر جاری رہتا ہے لیکن اپنے آخری سرے کی جانب سے یہ

سب ہوا میں تحلیل ہوتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی لمبائی میں کبھی کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ فرض کریں کہ ان کی گروتھ بھی جاری رہتی اور ان کی لمبائی میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا رہتا تو جنگلی جانوروں اور انسانوں میں کیا فرق رہ جاتا یا انسان کہاں کہاں سے ان کی صفائی جاری رکھنے میں کامیاب ہو پاتا۔
ہم اب تک نہ جانے ایسی کتنی اشیا ایجاد کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جس میں نہایت حساس ’’سینسر‘‘لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ کسی خاص عمارت کے دروازے محض اس لیے وا ہوجاتے ہیں کہ ہم ان سے خاص فاصلے کے قریب پہنچ چکے ہوتے ہیں، ہماری موٹر کار فوراً شور مچانا شروع کردیتی ہے جب اس کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کرتا ہے، ڈرون اور جنگی جہازوں کے میزائل ہماری دی ہوئی ہدایت کے مطابق ہدف کو نشانہ بناتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ گویا ہم ہر کام کے لیے ایک الگ سینسر استعمال کرتے ہیں۔ اللہ کی قدرت دیکھیے کہ اس نے ہمارے روئیں روئیں میں ان گنت سینسر لگا رکھے ہیں۔ جسم کے کسی بھی حصے میں ایک چیونٹی بھی رینگے تو نہ صرف ہمیں اس کے رینگنے کی اطلاع مل جاتی ہے بلکہ رینگنے کے درست مقام تک کا علم فوراً ہو جاتا ہے۔ جسم میں نصب اللہ کے سینسر ہمیں اس کے بے ضرر اور ضرر رساں ہونے کی بھی خبر کر دیتے ہیں۔ اس احساس کے ساتھ ہی اللہ کا دیا ہؤا خود کار دفاعی نظام بھی حرکت میں آجاتا ہے۔ اگر جسم کے ساتھ مس ہونے یا رینگنے والی شے زیادہ خطرناک نہ ہو تو نظام بہت پر سکون انداز میں اس تک آپ کے ہاتھ پیروں کو پہنچا تا ہے لیکن اگر اللہ کا سینسر آگاہ کرے کہ بدن کے ساتھ مس ہونے والی جو شے بھی ہے وہ نہایت ضرر رساں ہے تو دفاعی نظام اتنی پھرتی سے حرکت میں آتا ہے جس کو ارادتاً حرکت دینا کسی طور بھی ممکن نہیں۔
اللہ نے ہمارے بدن میں ایک ایسا سینسر بھی رکھا ہے جس کو دنیا کا کوئی انسان چاہے بھی تو ایجاد نہیں کر سکتا۔ اس سینسر کا نام ہے چھٹی حس۔ اللہ نے ہمیں جتنے بھی حواس دیے ہیں اس سینسر کا ان سے کوئی تعلق نہیں لیکن یہ اس کی قدرت کا ایک ایسا شاہکار ہے جو ہمیں ایسے خطرے کا احساس بھی دلادیتا ہے جس کو نہ تو کوئی انسانی آلہ بتا سکتا ہے اور نہ ہی وہ جس کو ہم حواس خمسہ کے نام سے یاد رکھتے ہیں۔
اسی طرح کی نہ جانے کتنی ایسی عطا کردہ نعمتیں اللہ نے ہمارے جسم کے ساتھ وابستہ و پیوستہ کر رکھی ہیں کہ اگر ہم ان سب پر غور کرنے بیٹھ جائیں تو بے اختیار یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ’’پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے‘‘۔
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x