مکالمہ ۔ ام ایمان
اتنی دورسے آواز آ رہی تھی لیکن بھلا ہو موبائل کا کہ بالکل صاف ایسی جیسے برابر میں بیٹھ کر بات کی جاتی ہے۔ لہجے کے سارے انداز سمجھ میں آ رہے تھے ۔ سعدیہ شیشے کی بڑی سی کھڑکی کے سامنے بیٹھی تھی اورسات سمندر پار اپنی خالہ زاد بہن ثمینہ سے بات کر رہی تھی ۔ وہ دونوں ہم عمر تھیں اور بچپن ہی سے بڑی دوستی تھی ۔
نام بھی ایک جیسا ہی لگتا تھا کوئی ایک کو آواز دیتا تودونوں دوڑی جاتیں۔ ساتھ ساتھ بڑی ہوئیں ۔گھر دور تھے لیکن اسکول ایک تھا جہاں وہ ایک ہی کلاس میں تھیں۔
ساری باتیں وہاںدل بھر کرکرتیں ۔ میٹرک کے بعد ایک ہی کالج میں داخلہ ہؤا۔ بی اے کیا اور بیاہ ہو گیا چند ماہ کے فرق سے لیکن پھر جودوری آئی توبڑھتی ہی چلی گئی۔
سعدیہ شادی ہوکر ملیر جابسیں اور ثمینہ کی سسرال لاہور تھی ۔پھر کوئی بات جوہوتی توفون پر ہوتی وہ بھی کبھی کبھی کہ اس زمانے میں فون پر ایک شہرسے دوسرے شہر بات کرنا فون کے بل کو پانچ گنا کرنا ہوتاتھا۔
خاندان میں شادیاں ہوتیں توملاقات ہو جاتی لیکن و ہ بھی کبھی کبھی کہ ایک شہر سے دوسرےشہر آنا آسان نہیں۔
پھرسعدیہ کے میاں…

