حبیب الرحمٰن

کون کہتا ہے مارڈالا گیا مرتے وہ ہیں جو مال و دولت پر جاہ پر عزتوں پہ شہرت پر خوش ہوں طاقت پہ اپنی کثرت پر وہ تو اک شیر دل سپاہی تھا منزلِ حق کا ایک راہی تھا اپنی سچائی کی گواہی تھا جس نے تھاما تھا دامنِ حیدر اس کے دل میں بھلا […]

نہ ہم نے کھلتے گلاب دیکھے نظر نہ شکلِ ببول آئی عجیب منزل تھی جس کی راہوں میں گرد دیکھی نہ دھول آئی لکھے تھے قسمت میں اس کی شاید نشاط کے صرف چند جھولے وگرنہ خواہش درختِ جاں کی تمام شاخوں پہ جھول آئی جو چند اچھے سمے مقدر سے میری جھولی میں آ […]

ہم چلو دودھ کے جلے ہوئے ہیں آپ کیوں چھاچھ سے ڈرے ہوئے ہیں جاگتی ہی نہیں ہے شرم و حیا لوگ چکنے گھڑے بنے ہوئے ہیں چین سے وہ نہ جی سکیں گے کبھی تیری باتوں کے جو ڈسے ہوئے ہیں آپ سے ہم ہی شکوہ سنج نہیں آپ بھی تو بہت بھرے ہوئے […]

سر کی یہ آگ پیروں تک آنی ہے اور بس اتنی سی شمع تیری کہانی ہے اور بس پھر دیکھیے وہ جوش وہ جذبہ عوام کا جھوٹی امید ان کو دلانی ہے اور بس نفرت کی وہ مچے گی قیامت ہر ایک سے ایک ایک کی ہزار لگانی ہے اور بس ہاں آج تک اسی […]

وہ جو ماں کے تلخ سے تند سے مجھے چھٹ پنے میں رلا گئے وہی لہجے ڈانٹ کے پِیٹ کے مری زندگی کو بنا گئے مرے سب گناہ مٹا گئے، ترا آسمان ہلا گئے مرے نالے تیری جناب میں عجب ایک حشر اٹھا گئے نہ وہ چہرہ اب ہے گلاب سا نہ رہا ہوں مثلِ […]

کسی کو نرم بنا ئے کسی کو سخت کرے سلوک آگ ہر اک شے کے حسبِ بخت کرے جو کذب و جھوٹ کا تکیہ سفیرِ رخت کرے وہ سچ پہ کیسے بھلا اپنی مہر ثبت کرے یہ کس کے لمس کی تاثیر تھی کہ سوکھا ہؤا اکھاڑ دینے پر آہ و بکا درخت کرے امیر […]

اے کاش جرمِ معاصی پہ اتنا رولوں میں جو داغ دامنِ دل پر لگے ہیں دھولوں میں تمام عمر ہی گزری اسی کشاکش میں وہ پہلے پہل کرےگاکہ پہلے بولوں میں کسی کے دل کو کوئی ٹھیس کیسے پہنچے گی ہر ایک بات جو کہنے سے پہلے تولوں میں اک اور رنگ کی دنیا ہو […]