حبیب الرحمٰنۭشہادت حضرت سيد علی خامنہ ای فروری، 28- 2026 -حبیب الرحمن

ۭشہادت حضرت سيد علی خامنہ ای فروری، 28- 2026 -حبیب الرحمن

کون کہتا ہے مارڈالا گیا

مرتے وہ ہیں جو مال و دولت پر
جاہ پر عزتوں پہ شہرت پر
خوش ہوں طاقت پہ اپنی کثرت پر

وہ تو اک شیر دل سپاہی تھا
منزلِ حق کا ایک راہی تھا
اپنی سچائی کی گواہی تھا

جس نے تھاما تھا دامنِ حیدر
اس کے دل میں بھلا ہو کس کا ڈر
اس کو کیا خوفِ کثرتِ لشکر

جس نے دامن خدا کا تھاما ہو
جس نے توحیدیت کو مانا ہو
جس نے قرآں کا راز جانا ہو

وہ جو اللہ سے خوف کھاتے ہیں
پیر کب ان کے ڈگمگاتے ہیں
ان سے کفار کپکپاتے ہیں

جو بھی حق پر ہوں کب وہ ڈرتے ہیں
منزلیں سر پہ سر وہ کرتے ہیں
کیا کبھی ایسے لوگ مرتے ہیں

حق کا پروانہ جاں نثار گیا
خود کو اللہ کے دیں پہ وار گیا
جان کیسے کہوں کہ ہار گیا

جو شہادت کا رتبہ پاتے ہیں
اَبَدی زندگی وہ پاتے ہیں
گھر خدا کے وہ پیتے کھاتے ہیں

یہ الگ ہم یہ جان پائیں نہیں
حکمتیں ذہن میں سمائیں نہیں
یا سمجھ میں ہمارے آئیں نہیں

مرنے پر آہ تک نہیں بھرتے
جو خدا کے سوا نہیں ڈرتے
مر بھی جائیں تو وہ نہیں مرتے

پھر وہ سید وہ خامنہ ای علی
وہ چھیاسی برس کا مردِ جری
اک شہید وہ بھی خاندانِ نبی

کیسے کہ دوں کہ مار ڈالا گیا