غزل زمانے سے بغاوت کیوں کریں ہم ملیں، چھپ چھپ کے لیکن کیوں ملیں ہم یہ کب لازم ہے سب، سب کو خبر ہو دلوں کی آنکھوں آنکھوں میں کہیں ہم تمہیں بھی شعلہ سا کر دیں تو کیسا محبت میں اکیلے کیوں جلیں ہم جو ڈسنا ہو ڈسیں گے سامنے سے کسی کی آستیں […]
نعت جہانِ رنگ و نظر میں چاہے نہ پوری ہو اپنی کوئی خواہش مگر یہ اک آرزو کہ جس کو بنا لیا حرزِ جاں محمدؐ میں تکتے تکتے تمہارے در کو کچھ ایسے سوؤں کہ پھر نہ جاگوں نصیب ہو جائے چشم تر کو کبھی جو وہ آستاں، محمدؐ چراغِ دل بجھ گیا ہے شاہا […]
غزل جو رہا کرتے تھے راہیں تری تکتے وہی سب عمر بھر چین سے جی لینے کو ترسے وہی سب مجھ پہ ہنستے تھے جو پاگل مجھے کہہ کر کہو کیوں دیکھے ہیں سر اسی چوکھٹ پہ پٹختے وہی سب جان و دل آپ پہ قربان یہ دعویٰ تھا مگر آئے لاشے پہ مری گاتے […]
ہجر سے جاں بہ لب ہیں دیوانے آہ کرتے ہی کب ہیں دیوانے بے گناہی بھی جرم گنتے ہیں اِس کچہری میں سب ہیں دیوانے زندگی کیا جواز رکھتی ہے ہم تو بس بے سبب ہیں دیوانے پتھروں سے جواب آتا ہے کیا پکاریں کہ جب ہیں دیوانے منہ پہ رکھتے ہیں من کی باتیں […]
کہتے ہیں کہ انسانی دماغ کا موازنہ اگر کمپیوٹر کے ساتھ کیا جائے تو صورت حال کچھ یوں ہوگی کہ ایک انسانی دماغ میں زندگی کے ہر لمحے کو محفوظ رکھنے کی جتنی صلاحیت ہوتی ہے اگر اتنی ہی صلاحتیوں والا کوئی کمپیوٹر ایجاد کر لیا جائے تو اس کی ’’ہارڈ ڈسک‘‘ دنیا کی سب […]
جو یونہی روٹھ گئے ہوں انھیں منائیں کیا نہ چاہتے ہوں اگر دل سے مسکرائیں کیا ہمارے دل میں تمہارے سوا نہیں پہ یہ دل جو دیکھنا ہی گوارہ نہیں دکھائیں کیا اگر ہے بات میں سچائی لکنتیں کیسی یہ اوپرا لب و لہجہ یہ آئیں بائیں کیا قبول ہیں سبھی اچھی بری صفات ہمیں […]
غزل ہنس کے طوفاں کو ٹالتے رہیے رنگ ہر سو اُچھالتے رہیے اپنے دل کے حسین جذبوں کو لفظ و معنی میں ڈھالتے رہیے زیست کے بیکراں سمندر سے سچ کے موتی نکالتے رہیے پھیل جائے نہ تیرگی ہر سو زخمِ دل کو اُجالتے رہیے درد و غم کے اُمڈتے طوفان کو دل کے دریا […]
میں ڈھاکہ میں رہنے والی نہایت معمولی شکل و صورت کی ایک غریب لڑکی تھی۔ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد۔ والد نسلی فسادات کی نظر ہو چکے تھے۔ والد صاحب بے شک محنت مزدوری ہی کیا کرتے تھے لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے ہوتے ہم ماں بیٹی نہ صرف دو وقت […]
سچ ہی کہتے ہیں کہ جب تک کسی بھی قسم کی آزمائش خود پر نہ پڑے اس وقت تک اس کی شدت یا خوفناکیت کا اندازہ ہونا ممکن نہیں۔ ایسا ہی کچھ میرے ساتھ ہؤا۔ یہ بھی نہیں کہ کوویڈ 19 کی تباہ کاریوں سے میں بالکل ہی بے خبر تھا یا معاشرے میں گھومنے […]
پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے جب کوئی انسان پیدا ہوتا ہے تو فطرت کی جانب سے اس کے دماغ میں ہزاروں لاکھوں ’’سافٹ ویئر‘‘ ڈال دیے جاتے ہیں جو اس کی عمر کے ساتھ ساتھ دنیا میں پیش آنے والی ضرورتوں کے مطابق اجاگر سے اجاگر تر ہوتے چلے […]
دل سے ہر شک نکالیے صاحب اب نہ شجرے کھنگالیے صاحب چاند کا دل دھڑک رہا ہوگا اپنا آنچل سنبھالیے صاحب اک ذرا سی زبان نے کتنے دوست دشمن بنا لیے صاحب تم بھی اپنی کمر کو کس رکھو ہم نے لنگر اٹھالیے صاحب کتنے کلیوں سے پھول چہروں کے وقت نے، رنگ کھالیے صاحب […]