۲۰۲۴ بتول مارچظاہرکی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی - اسماصدیقہ

ظاہرکی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی – اسماصدیقہ

آج ویک اینڈ تھا۔ وہ آفس سے گھر لوٹا تو گھر میں بڑی رونق تھی۔ دونوں بڑی بہنیں اپنے بچوں سمیت آئی امی کے ساتھ کچن میں مصروف تھیں، ان کے بچے گھر میں دوڑتے پھررہے تھے۔ نوشاد ان سب سے مل کر خوش ہوگیا ۔ادھر ہفتہ بھر بعد اس کے بڑے بھائی نعمان شارجہ سے پورے دوسال بعد آنے والے تھے ،کچھ ان کے استقبال کی تیاریاں تھیں ۔اور امی جو بڑے بیٹے کی دوری میں مرجھاسی گئی تھیں آج تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔ ابو بھی بڑے ہشاش بشاش تھے۔اگرچہ دونوں کے ہی نعمان سے انٹرنیٹ پہ رابطے تھے ،ویڈیو کالز ہؤا کرتیں مگر انھیں یہ سب کھوکھلا لگتا تھا، بالکل دھوکہ سا۔
’’ بس امی اب ان دو میں سے ایک کو ڈن کرہی دینا چاہیے‘‘ سدرہ باجی نے موبائل میں تصویریں اور پروفائل دیکھتے ہوئے اطلاع دی گویا۔
’’ ہاں بھئی دیکھ لیا بہت، اب بسم اللہ کردینی چاہیے ،نعمان کے جانے سے پہلے نکاح ہوجائے دوماہ کے اندر ہی اور ان شاء اللہ سال بھر کے اندر بہو گھر آجائے‘‘ امی نے بیتابی سے فیصلہ سنادیا۔
’’مگر ابھی تو دو میں سے ایک کا چناؤ باقی ہےنا ‘‘ یسریٰ باجی نے کچن میں جاتے ہوئے کہا’’بھئی میں اور سدرہ تواس اسٹائلش سی کیوٹ لڑکی کے حق میں ہیں جو بی ایس سی آنرز کرچکی ہےاور لیب میں جاب کرتی ہے…. بہت سوٹ کرے گی بھائی کے ساتھ‘‘دونوں بہنیں ایک طرف تھیں۔
’’ نوشاد بیٹا تم دیکھ لو، پیاری سی تو دونوں ہیں مگر مجھے یہ دوسری والی زیادہ اچھی لگ رہی ہے۔ ایم اے کیا ہے،مونٹی سوری میں پڑھاتی ہے، ککنگ اور گھرداری سجاوٹ وغیرہ کے کورسز بھی کررکھے ہیں…. معصوم اور سادہ بچی لگ رہی ہے‘‘ امی نےنوشاد کی حمایت چاہی۔
’’ مگر امی یہ اتنی سٹائلش اورکیوٹ سی لڑکی میں کیا کمی ہے آخر‘‘ اب کے سدرہ نے اپنی بات کے حق میں امی کو راضی کرنا چاہا۔
’’سٹائلش اور اداؤں والا ہونا ہی کمی ہے بس…. میں اس گھر کی بہو لانا چاہتی ہوں کوئی اداکارہ نہیں کہ دماغ ساتویں آسمان پہ رہے ،کسی کو خاطر ہی میں نہ لائے‘‘ ۔
’’ ارے امی اتنی خفا نہ ہوں دیکھیے اسے کون سا یہاں رہنا ہوگا جلد ہی وہ نعمان بھائی کے ساتھ شارجہ چلی جائے گی‘‘ یسریٰ امی کے کندھے سے لگ کر منانے والے انداز سے بولی۔
اب امی نے پروفائل اور تصویریں نوشاد کے سامنے کیں۔
’’ مگرامی دیکھیں فیصلہ تو بھائی کو کرنا ہے…. بس ہفتے بھر کی بات ہے نا!‘‘ ویسے نوشاد ماں کی بات سے متفق تھا۔
’’نہیں اب یہ کام تمھارے ذمے ہے۔ نعمان کے آنے سے پہلے ہی یہ سب اسے سینڈ کردو۔ مجھے یقین ہے میرا بچہ مجھ سے اتفاق کرے گا بہت دور اندیش ہے ماشاء اللہ‘‘ امی کی رائے نوشاد کو بھی مناسب لگ رہی تھی’’بس آپ سب خیر کی دعا کریں‘‘ اس نے بہنوں کو بھی اتفاق پہ لانا چاہا۔
اتنے میں امی اور بہنوں نے میز پہ چائے اور لوازمات سجادیے۔امنگوں بھرے ماحول میں اس گھر کی بڑی بہو کے انتخاب کا فیصلہ ہونا تھا اور نعمان بھائی کی پردیس سے آنے کی مسرت الگ سب کے چہروں سے پھوٹی پڑرہی تھی۔
آفس میں یہ اس کا تیسرا سال تھا۔ یہاں وہ اپنے کام سے کام رکھتا تھا ۔تفریح،میل ملاپ فارغ اوقات میں سرسری سا بس۔ کچھ منیجر صاحب نے بھی ایسا ہی ماحول بنایا ہؤاتھا ۔پھر تیزی سے بھاگتے دور میں ہندسے گنے جانا ،پلس، مائنس ،ملٹی پلائی کرنا ،فائلز نکلوانا ،جانچ پڑتال،یہ سب کچھ اور دیکھنے کی مہلت ہی کب دیتے ہیں۔
سال بھر سے ایک نیا لڑکا اپائنٹ ہؤا تھا۔ بہت محتاط، اس سے جونئیر دونوں کی چائے پہ خیرخیریت تک بات رہتی، موسم کے احوال سے اثرات تک بھی کہہ سن لیا جاتا مگر ہفتہ بھر سے نوشاد نے نوٹ کیا کہ راحیل کچھ ٹھیک نہیں ہے، الجھا الجھا سا۔ ایک آدھ دفعہ پوچھنے پہ اس نے موسم کے اثرات کو دوش دے کر بات ختم کردی مگر نوشاد نے نوٹ کیا یہ موسم کچھ اندر کا ہے، خاص طور پہ کسی فارغ وقت میں اداسی بھرے نغمےلگا کر خاموش بیٹھے رہنا۔
’’ چلو راحیل آج لنچ میری طرف سے۔ باہر چلتے ہیں‘‘ ۔
’’نہیں سر، میں کینٹین میں …. ‘‘ اس نے جھجکتے ہوئے انکار کی کوشش کی ۔
’’ نہیں آج میرے ساتھ…. کیا مسئلہ ہے چلو اٹھو‘‘ اس کے اصرار پہ وہ چل ہی پڑا۔
’’ تمھیں ہؤا کیا ہے ڈاکٹر کو دکھایا ؟ ‘‘
’’ ہاں بس نزلہ زکام تھا میں نے میڈیسن لے لی ہے ‘‘ وہ کرسی پہ بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’ ارے میری جان ! مسئلہ کچھ اور دکھتا ہے ۔ گھر میں سب ٹھیک ہے نا ؟‘‘نوشاد ٹٹولتے ہوئے بولا۔
’’جی شکر ہے سر‘‘ راحیل کھل کے ہی نہیں دے رہا تھا۔’’ ارے بھائی صاف صاف بتاؤ پیسے کا مسئلہ ہے تو بتاؤ میں کچھ کرتاہوں…. یا کیا ہے کہہ ڈالو بے دھڑک، اتنے کھوئے کھوئے کیوں ہو؟ جیسے کچھ نقصان ہوگیا ہو‘‘ نوشاد آج کھوج میں لگ گیا مگر بڑے خلوص سے ۔
’’ وہ سر اصل میں …. ‘‘
’’ دیکھو راحیل! یہ سر کی گردان مت کرو ۔ہم کولیگ ہیں ،بھائی سمجھ کر شئیر کرو مجھ سے، شاید میں تمھارے کام آسکوں‘‘ نوشاد معاشی مسئلے کے خدشے میں تھا۔ اس نے کندھے تھتھپائے ،ویٹر کو کھانے کاآرڈر دیا تم مجھ پہ ٹرسٹ کرسکتے ہو ینگر برَدر‘‘نوشاد نے کاندھے پہ ہاتھ رکھ کر پیار سے کہا۔
’’میں پہلے جس کمپنی میں کام کرتا تھا وہ خسارے میں چلی گئی۔ کئی افراد سواسال پہلے نکالے گئے جن میں ایک میں بھی تھا‘‘۔
نوشاد کو لگا اس کا اندازہ درست تھا، معاشی مسئلہ…. ’’ہاں مگر اب اس سے چھوٹی سہی جاب تو ہے ،شکر کرو اس پہ اور لگن اور محنت سے کام کرو تو آگے بہت چانسز ہیں ترقی کے…. بس یہی بات ہے؟ ‘‘وہ دھن میں پوچھے گیا۔
’’ وہ …. وہ مجھے چھوڑ کےچلی گئی ہے…. میرے خواب اس کے ساتھ تھے‘‘راحیل کہہ اٹھا ۔وہ رودینے کو تھا۔
’’اچھا تو اس لیے مجنوں بنے ہوئے ہو تم…. مگر تھی کون وہ؟‘‘
’’ میری پہلی محبت!‘‘اس نے ایک آہ بھری جو خالص غیر فلمی تھی اور جو بات کہی وہ بےشک فلمی سی تھی مگر اس کا حال واقعی خراب لگ رہا تھا۔
’’ کیا تمھاری منگنی ہوچکی تھی اس سے؟‘‘نوشاد نے پوچھا۔
’’نہیں وہ یونی ورسٹی میں میرے ساتھ تھی ۔وہیں ہماری ملاقا تیں ہوئیں۔ وہ مجھ میں سنجیدہ تھی، پھر وعدے ہوئے زندگی بھر ساتھ کے…. اور اب وہ چلی گئی چھوڑ کر….‘‘ راحیل کھل گیا تھا۔
’’اچھا ہوادوست تم نے شئیر کرلیا ۔مگر ایسا کیوں؟ اسے اچانک کیا شکایت ہوئی تم سے؟‘‘
’’نوشاد بھائی میں اس سے ہوٹلوں اور پارکوں میں نہیں ملا…. میں نے اس کو احترام کے ساتھ اپنانا چاہا تھا۔ جاب کا مسئلہ ہوگیا، میں نے کچھ انتظار کرنے کو کہا کہ میں نے مسقط میں ایک جوب کے لیے اپلائی کیا ہے،جانے کا ہوجائے تو گھر والوں کو بھیجوں گا مگر اس جوب پر کوئی اور کوالیفائی کرگیا…. اور اس نے انکار کردیا‘‘ اس نے حال دل کہہ ہی ڈالا۔
’’چلواچھا ہؤا چلی گئی …. یہ کیسی محبت ہوتی جو اچھا روزگار نہ ہونے کی وجہ سے ختم ہو گئی۔ پھر تمھارے درمیان نکاح کیا منگنی کارشتہ بھی نہیں تھا کہ دل دے بیٹھو۔ اتنے غیر محتاط تونہیں ہوتم…. حقیقت پسند بنو ، یہ سب فلمی باتیں ہیں‘‘ نوشاد نے راحیل کو حوصلہ دینےکی کوشش کی۔
’’مشکل ہے نوشاد بھائی۔ بھروسے کاخون ہوگیا میرے ،کیا بتاؤں‘‘ وہ رودینے کوتھا۔
’’کوئی ایسا مشکل نہیں میرے دوست۔ فرض کرو تم سے شادی ہوجاتی تب وہ جوب چھوڑ کر چھوٹی جوب کرتے اور بیوی چھوڑ جاتی تو واقعی بےوفائی سہنا آسان نہ ہوتا۔ اچھا ہے پانی کا بلبلہ شروع میں ہی ہواہوگیا۔ دس پھرتی ہیں ایسی پیسے کی پجارنیں‘‘نوشاد نے کھانا شروع کرتے ہوئے کہا’’ لو بسم اللہ کرو اور یادرکھو حقیقت بڑی تلخ ہوتی ہے مگر اسے تسلیم کرنے میں ہی خیر ہے۔ اور یہ ایسا کوئی تلخ تجربہ بھی نہیں کہ روگی بن کر ہرکام سے جاؤ ۔بس اس پہ ڈالو مٹی اور ڈٹ کر کھانا کھاؤ اور جان بناؤ ’’نوشاد نے راحیل کو ہرطرح سے نارمل کرنا چاہا‘‘۔
’’مگر دل نہیں مانتا نا ں…. ‘‘ اس نے پھر ایک آہ بھری۔
’’یار کیا فلمیں بہت دیکھتے ہو؟ یہ دل تمھارا بس خدا کی دی ہوئی نعمت ہے،اسے یادکرو۔اللہ تمہارے لیے بہترین بندوبست کرے گا انشاء اللہ…. اس وقت تک اس دل کواپنے پیاروں میں، میرے جیسے دوست میں، اس جاب میں لگاؤ اور بس‘‘نوشاد سمجھاتا رہا۔
’’اوریہ جو بات جیون ساتھی کے چناؤ کی ہے نا ،تو ماں باپ اور بندے کی رضا مندی والی شادی بہترین رہتی ہے۔ اس عمرمیں تو ہر جھلمل سونا لگتا ہے اسی لیے کھرے کھوٹے کی پہچان بزرگ کرتے ہیں بچوں کو اعتماد میں لے کر بس ‘‘۔
نوشاد کھانےکے دوران تسلیاں دیتا رہا، راحیل کی آنکھیں کھلتی رہیں ’’شکریہ نوشاد بھائی۔ مجھے شئیر کرنے کابہت فائدہ ہؤا۔ واقعی دوست وہ جو مصیبت میں کام آئے ‘‘ وہ کافی بہتر ہونے لگا تھا۔
’’بس اب مضبوط بنو، محتاط رہو دوست، ایسی ڈاکو رانیاں تو چاروں طرف ہیں ،دل کا چین لوٹ کرپیسے اور ظاہر پہ مرنے والی…. یہ وفا کیا جانیں! شکر کرو کہ بلا ٹل گئی خود ہی‘‘ نوشاد اس کا ذہن اس دلربا سے ہٹاتا رہاجو دھوکہ دے کر اسے بے سکون کر گئی تھی۔
’’ یہ دیکھیں نوشاد بھائی ہے تو آفت نا…. ڈیلیٹ کرنے سے پہلے چہرہ تو کرلیں پھر مل کر فاتحہ پڑھتے ہیں‘‘۔
اس کی تسلی سے راحیل کا ایٹی ٹیوٹ بدل رہا تھا، کوئی بوجھ اترنے لگا تھا۔ اس نے موبائل نوشاد کے آگے کردیا ۔
نوشاد کا سر جیسے گھومنے لگا’’ ار…. ر رے…. ک ک کیا نام ہے اس کا ویسے…. ‘‘ وہ گھبرا کر بولا۔
’’نازیہ …. مگر کیا آپ جانتے ہیں اسے‘‘ راحیل برجستہ بولا۔
’’ارے نہیں یار…. ویسے ہی لگاجیسے کبھی کہیں دیکھا ہو …. ‘‘ نوشاد سنبھلتے ہوئے بولا’’ تو تمھارے مسقط جانے کا انتظام نہ ہونے پہ وہ موقع پرست کسی اور پردیسی کے پرکاٹنے کے لیے چلی تھی…. واقعی شکر ہے بچ گئے‘‘ نوشاد سنبھلتے ہوئے بولا۔
تو یہ تھی امی کی کامن سینس…. اب وہ ڈاکو رانی اس کے گھر میں آنے کو تھی، اس کے پیارے بھائی کے لیے پسند ہونے والی دومیں سے ایک لڑکی!
گلیمر کی جھوٹی قلعی کا اتر جانا کتنی بڑی نعمت ہے ،وہ سوچ رہا تھا۔
’’تم نے اچھا کیا مجھے سب کچھ بتاکر…. اس کی شکل بھی دکھادی …. میرا مطلب ہے دلربا دھوکے باز کی شناخت ہوجانی چاہیے نا‘‘ نوشادکہتے ہوئے ہنسا مگر اصل میں وہ راحیل کے ساتھ جیسےخود کو بھی سنبھال رہاتھا۔راحیل اسے نوشاد کی پرخلوص دوستی اور دلاسے کا احسان سمجھ رہا تھا، اور نوشاد بہت بڑی بلا ٹل جانے پہ خدا کا شکر گزار ہونے کے ساتھ دل ہی دل میں راحیل کا ممنون تھا۔ کولیگ کے دکھ کو شئیر کرنے کا اجر تو پروردگار نے اسے چھپر پھاڑ کر دے دیا تھا۔ اسے اب اپنے بھائی کو فوراً تصویر سینڈ کرنی تھی،لیکن صرف ایک…. وہ جسے اس کی امی نے ترجیح دی تھی!
٭٭٭