ڈاکٹر صائمہ اسماان کی گود سے ان کی اوٹ تک - ...

ان کی گود سے ان کی اوٹ تک – صائمہ اسما

زہرہ خالہ سے میں پہلی بار کب ملی ہوں گی کچھ یاد نہیں!
البتہ یہ اچھی طرح یاد ہے کہ لڑکپن میں آکر بانو قدسیہ کا ناول راجہ گدھ پڑھاجس میں کہانی کا مرکزی کردار اپنی ماں کاتذکرہ کرتا ہے تو یوں کہ اپنے بچپن والے گھر کے آنگن کی جزئیات کے ساتھ منظر کشی کرتا ہے۔اس آنگن میں ہرطرف سرگرمی جاری ہےجو ماں کے دم سے ہے خواہ ماں اس میں ہو یا نہیں۔ اس کا جملہ شاید یوں ہے’’ماں کہیں نظر نہ آتی تھی مگر ماں ہر جگہ تھی‘‘۔یہ آنگن ان سب مختلف سرگرمیوں سے بھرپور تھا جوحویلی میں ایک روایتی گاؤں کی زندگی کا احاطہ کرتی ہیں۔
میں نے پڑھنے کے بعد غور کیا کہ پڑھتے ہوئے میرے تخیل میں اس آنگن کا جو نقشہ بن رہا تھا وہ بہت حد تک اس صحن سے ماخوذ تھا جو میں نے لاشعوری کی عمر سے دیکھ رکھا تھا۔۔۔۲،اے سلطان احمد روڈ اچھرہ کا گھر!اینٹوں کے اس صحن میں ہر وقت آمدورفت، چہل پہل،رونق اور سرگرمی رہتی۔ایک طرف پورا سکول لگا ہوتا، چھوٹی بچیاں اور بچے سبق یاد کررہےہوتے، کسی جانب مہمان داری ہورہی ہوتی، کہیں سوئی سلائی، کہیں کھیل کود۔۔۔ شاید ایک کونے میں چولھا بھی تھا ،اور کسی طرف فصل اور چارے کا ڈھیر بھی،اب ٹھیک سے یاد نہیں۔اس منظر کے اندر گوناگوں آوازوں کی جھیل میں کہیں زہرہ خالہ کی منفردآواز کے دائرے بھی پھیل رہے ہوتے۔۔۔کسی کو پکارتے ہوئے، ہدایات دیتے ہوئے،کبھی ہنستے ہوئے کبھی فہمائشی۔۔۔
ان کی آواز بہت خاص تھی۔ آواز وں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ صوتی تاثر میں کئی عناصرکام کرتے ہیں۔ان میں بھی آواز کی بلندی (پِچ) اور گہرائی (بیس) دو اہم عناصر ہیں جو آواز کو نمایاں اور بھرپور بناتے ہیں۔ان کی آواز میں اللہ نے یہ دونوں عناصر خوب ڈالے تھے جس کی وجہ سے مجمع میں تقریرہویا مجلس میں ہمکلامی، ان کی آواز سننا سماعت پر خوش گوار ہوتا۔ پھر حسبِ موقع وہ اپنے لہجے میں شیرینی گھول لیتیں (اکثر) اور کبھی کڑک ملالیتیں (کم کم) تو مطلوبہ تاثر دوچند ہوجاتا۔ ان کی یہ منفرد آواز میرےنو سٹلجیا کا حصہ تھی۔
بڑے ہوکر سالہا سال بعد جب وہ آنگن دوبارہ دیکھا تو وہ خاصا بدل چکا تھا۔ اب وہ اتنا بڑا نہ رہا تھا۔۔۔مزید تعمیر سے اور خود میرے بڑے ہوجانے سے۔ سکول الگ عمارت میں منتقل ہوچکا تھا اور اس آنگن میں کھیلنے والے بچے بھی بڑے ہو چکے تھے۔گھر کا نمایاں حصہ اب بھی برآمدے کے آگےوہی دوکمرے تھےجبکہ صحن سے ملحق تیسرا کمرہ ایک وسیع لائبریری اپنے اندر سموئے ہوئے تھاجس کو میں لالچی نظروں سے دیکھا کرتی۔ ایک نظر ڈالنے پر اس میں بہت سی نادرو کمیاب کتب نظر آتیں۔
خالہ جان ایک امپاورڈ خاتون تھیں۔ بچپن سے ان کو اپنی آرمی گرین ٹویوٹا جیپ میں بلاتکان گھومتے دیکھا،پہلے شفیع پھر عنایت اللہ ان کے مددگار کے طور پہ ساتھ ہوتے اور وہ ان سے اولاد والا ہی سلوک رکھتیں۔جیپ لڑکوں کی خاص فیسی نیشن ہوتی ہے۔ بچپن میں بھائیوں کو خالہ جان کی جیپ سے امپریس ہوتے پایا اور پھر اپنے بیٹوں کو جب وہ چھوٹےتھے، حیرت سے دیکھ کر بتاتے کہ امی جیپ آئی ہے۔ اسی جیپ کی بدولت وہ ہر جگہ پہنچتیں، سیلابوں کی دلدلی زمینوں میں بھی جیپ فراٹے بھرتی چلی جاتی اور کچی بستیوں کے کھڈوں میں جہاں سڑک کا نام و نشان بھی نہ ہوتا، ہماری زہرہ خالہ کوپہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہوتی۔ایک دھندلا سا نقشہ یاد ہے، شہر سے دور کسی بستی کا زیر تعمیر مکان جس کی بنیادوں پر صرف آدھی پونی دیواریں اٹھی ہوئیں،چھت ندارد،فرش کچا ، اس میں خالہ جان زبیدہ واصل ، زہرہ خالہ اور امی کے ساتھ اسی جیپ میں جانااور اردگرد کی دیہاتی خواتین کو بلا کر انہیں درسِ قرآن دینا،راشن بانٹنا۔خالہ جان زبیدہ واصل کے منہ سے ساندہ کلاں،بابو صابو(جووہ اپنے اہلِ زبان لہجے میں ادا کرتی تھیں) اور خالہ زہرہ سے جیا موسیٰ، جیا بگا، دلو خورد کے علاقوں کے نام کثرت سے سنے ہیں۔ یہ لاہور کے مضافاتی گاؤں ہیں جہاں کی آبادی میں سالہاسال ان خواتین نے ویلفیئر اور دعوتِ دین کا کام کیا ہے۔
بتول کی ذمہ داری ملنے کے بعدان سے تعلق نےایک نیا موڑلیا۔خوابناک ،دھندلے، لاشعوری،دل سے قریب مگر فاصلے کے تعلق نے حقیقت کی زمین پرقدم رکھا،معاملات کی دنیا میں آیاجس کی حرکیات بالکل فرق ہیں۔ امکان ہوتا ہے کہ وہ دھندلا خاکہ حقیقت کی دھوپ پڑتے ہی بخارات بن کر اڑ جائے۔ یا پھرنئے خاکے میں بھی قوسِ قزح کے رنگ بھر دے،ایسا ہوتو نئے تعلق کو لاشعور کی وہ دھندلی بنیاد کہیں زیادہ مضبوط کردیتی ہے۔ بتول کی ذمہ داری اٹھانے پر مجھے آمادہ کرنے میں مینا خالہ کا متانت اور سنجیدگی بھرا لہجہ،امی کی گھوریاں اور زہرہ خالہ کی اپنی گود میں چھپانے والی جپھیاں، بوسے اور دعائیں شامل ہیں۔ یوں رعب کے ساتھ ساتھ stick اور carrotکے امتزاج کی یہ حکمت عملی کامیاب رہی اور میں ان کے قابو آگئی۔
مینا خالہ کی علالت کی وجہ سے ادارہ بتول کے زیادہ معاملات زہرہ خالہ ہی دیکھا کرتیں،پھر وہ صدر بھی منتخب ہوگئیں۔تمام عرصہ میرے آگے وہ قلعے کی فصیل کی طرح ڈٹی ہوئی تھیں۔ وہ نہ ہوتیں تو میں کبھی اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرسکتی۔ بہت سے معاملات کی آنچ تو انہوں نے مجھ تک آنے ہی نہ دی، خود ہی نبٹ لیتیں، مجھے اپنی اوٹ میں لے لیتیں، غلطیاں کرکے خود سیکھنے کا موقع دیا۔ایک تو کام کی نوعیت ایسی تھی جس میں بہت سپیس چاہیے ہوتی ہے،پھرمیرا اپنا ایک مزاج تھااور کام کرنے کا انداز،جو شاید لگے بندھے معروف انداز سے ہٹ کر ہے،کئی بارلوگوں کو اسے قبول کرنے میں دقت ہوتی۔پھر بلاوجہ کے اندیشے بھی پال لیے جاتے، کچھ ذاتیات کے مسئلے بھی شامل کرلیے جاتے۔مجھ سے براہ راست کہنے کی اخلاقی جرأت نہ ہوتی توکئی بار کہنے والے ان تک پہنچ جاتے ۔انسانی فطرت میں موجود ازلی حسد کی کارفرمائی بھی کہیں صاف نظر آرہی ہوتی۔ وہ بھی انسان تھیں، ایسے میں جب سامنا ہوتا توان کی آنکھوں میں محبت کی لو بدستور جلتی رہتی ، ہونٹوں پر مسکراہٹ رہتی مگر لہجے میں ایک چپ سی ہوتی، جیسےبار بار کوئی تکلیف دہ خیال جھٹکنا چاہتی ہوں۔میں سمجھ جاتی کہ ان کے کانوں میں کوئی بات ڈالی گئی ہے۔میں نےدوغلے پن سے بھری اس دنیا میں ،منافقت سے پاک اور پرخلوص لوگوں کو بھی دیکھا ہے جن کے لیے تعلق کے ضمن میں غلط فہمی کو دور کرنا، دل کو صاف کرنابہت اہم ہوتا ہے۔اگر دل میں پھانس چبھی رہ جائے تو وہ بے اطمینان رہتے ہیں جب تک تسلی نہ ہوجائے۔ یا خود درگزر کر دیں یا دوسرے سے وضاحت مانگ لیں،دوسرے کو غلط فہمی ہوئی ہے تو بے نیازی دکھانے کی بجائے خود بڑھ کرپوچھ لیں، وضاحت کردیں۔ یہ انسان کی اپنی اخلاقی اقدار پہ منحصر ہے،اس کے اپنےضمیر کی بیداری کی سطح ہے،حساسیت ہے۔مثلاًاپنی کسی چھوٹی حرکت پر اگر انسان سب سے پہلے اپنی نظروں میں نہیں گرتا تو پھر اس سے یہ احساس بھی چھین لیا جاتا ہے کہ وہ کس کس کی نظروں میں گر گیا ہے ،پھرآگے بے حسی، بے ضمیری کا راستہ آسان ہوجاتا ہے۔
تو میں نے محسوس کیا کہ عام چلن کے برعکس ان کے لیے تعلق میں سچائی کا معاملہ بہت اہم ہے۔یہی بات میں نے مرحومہ صبیحہ شاہد میں دیکھی تھی۔وہ نظر ملنے سے ہی محسوس کرلیتی تھیں کہ دل صاف ہے یا نہیں اور پھر پہلی فرصت میں معاملہ صاف کرلیتیں۔اندر باہر کے فرق کے اس دور میں آپ کے اردگرد کوئی ایسا شخص ہو تواس کا دم غنیمت ہے۔ایک دنیا ہے جو زہرہ خالہ سے معلمہ قرآن ہونے کی بنا پہ عقیدت رکھتی ہے،جبکہ میں قرآن کی باعمل معلمہ ہونے کی بنا پر ان کی قدردانی کرتی ہوں، ورنہ قرآن سے وابستہ طبقے میں ایسوں کی کمی نہیں جو شایدقرآن کو اپنے لیے وبال ہی بنا رہے ہوں گے۔
سننے میں ان کا درس بوجھل اور عالمانہ نہیں ہوتا تھا، اخلاق ومعاملات کوعام فہم مثالوں کے ذریعے بات چیت کے انداز میں بلکہ قدرے شگفتہ پیرائے میں سمجھاتیں،مگر ساتھ ہی دین کے مشکل تصورات کو عام فہم بنا کرپیش کرتیں ، جہاں دین کے بنیادی فلسفے کی بات آتی وہاں ایک دم سے ایسی بات کہہ جاتیں کہ گھنٹوں غور کے قابل ہوتی۔مجھے یاد ہے ایک بار ایمان اور ظن و گمان کا فرق سمجھاتے ہوئے انہوں نے ایک جملہ بولا کہ انسان کو اللہ نے عقل دی ہے کہ اپنے معاملات چلائے اور اس سے خوب کام لے، مگر وحی کا درجہ عقل سے اوپر ہے،جہاں عقل کام نہیں کرسکتی وہاں ایمان ہے۔یہ بات اتنی اچھی طرح سمجھ میں آئی کہ میں نے اپنا پہلا افسانہ لکھا تو اس میں کردار کی زبانی اس نکتے کو درج کیا۔بعد میں فلسفہ بھی پڑھا اور ریسرچ بھی،آج تک عقل اور ایمان کی درجہ بندی کا یہ آسان سا انداز،کائنات اور انسانی زندگی کے راز سمجھنے میں میری رہنمائی کرتا ہے۔
یہ احساس ان کے حلقہِ محباں میں ہر شخص کوتھا کہ شاید وہ اسے ہی سب سے بڑھ کے عزیز رکھتی ہیں، اس لیے اگر مجھے بھی تھا تو کوئی حیرت نہیں۔لیکن میرے بارے میں اکثر یہ جملہ مجھے بھی کہا اور دوسروں کو بھی کہ یہ میری طرح دبنگ ہے، جس بات کو درست سمجھتی ہے ڈرے بغیر کہتی اور کرتی ہے۔میں ان کے منہ سے یہ مماثلت سن کرسرشار ہوجاتی۔شاید اس لیے مجھے یہ خوش فہمی زیادہ رہی کہ وہ مجھ سے خاص تعلق رکھتی ہیں۔مجھے کیسے بھول سکتا ہے کہ گود کے بچے کو چھوڑ کرمجھے حج پہ جانا تھا، بہت تیاری کرنی تھی اور اوپر سے ان دنوں ملازمہ غائب تھی۔ امی ہر بات ان سے کہتی تھیں، یہ پریشانی بھی ذکر میں لے آئیں۔ انہوں نے اپنی ایک پرانی وفادار ملازمہ کو آمادہ کیا کہ وہ حج پہ جانے تک ایک مہینے کے لیے میرا کام لے لے۔وہ بزرگ خاتون ہر روز دور سے آتی اور دن بھر میرے پاس رہ کر کئی کام سمیٹ جاتی۔
بتول کے ابتدائی دنوں میں ایک بےحد علمی نوعیت کا طویل مضمون کتاب سے فوٹو کاپی کروا کے انہوں نے بتول کے لیے بھجوایا۔ میں گو مگو کا شکار تھی کہ یہ انتہائی دقیق مضمون ہے مگر زہرہ خالہ کوانکار کیسے کروں،سوکمپوزنگ کے لیے بھیج دیا۔ کمپوز ہوکر آیا تو میں ایک پھر کشمکش میں تھی۔ امی سے کہا خالہ جان کو میری رائے بتا دیں کہ یہ مضمون بے حد معیاری سہی مگر بتول میں دینے کے لیے خاص مفید نہیں ہے۔امی نے انہیں میری رائے بتائی تو فوراً خوش دلی سےکہنے لگیں ،بے شک نہ دوکوئی بات نہیں،بلکہ اس کی کمپوزنگ پر جو خرچ آیا ہے وہ میں ادا کردوں گی۔بتول کے معاملے میں میری رائے پر یہی اعتماد انہیں ہمیشہ رہا،یہ ان کی بڑائی اور میری خوش قسمتی ہے۔ایک بارمیٹنگ میں کسی شخصیت پہ نمبر نکالنے کا معاملہ زیربحث تھا۔اصول کے طور پہ کہنے لگیں، شخصیت کا قدوقامت دیکھا کرو نمبر کا فیصلہ کرنے کے لیے۔۔۔ کہیں یہ ہو کہ میرے جیسی چلی جائے اور تم نمبر نکالنے بیٹھ جاؤ۔ ساتھ اپنی مخصوص ہنسی ہنستی رہیں۔میں نے دل میں کہا،خالہ جان آپ کے جانے پہ تو نمبر نکلے ہی نکلے،اگر میں جیتی ہوئی۔
ان کے گھر جانے پر،یا گھر بیٹھے ان کی طرف سے ملنے والے سرپرائز تحفے ہوتے ،کبھی سوٹ ،کبھی دوپٹہ، کبھی بیڈ سیٹ، کبھی شال۔بے حد خوشی ہوتی اور حیرت بھی کہ مجھے کس حساب میں تحفہ مل جاتا ہے۔مگر ان کے حساب کہاں تھے!وہ تو بس کھلے ہاتھ سے دینے میں یقین رکھتی تھیں۔ کوئی ڈیڑھ سال پہلے ادارے کی میٹنگ ہم نے ان کے گھر ان کے کمرے میں رکھی،ان کے تخت پوش کے پاس کرسیاں بچھائیں۔ایسے لگا گئے زمانے پھر لوٹ آئے ہیں۔ آن لائن شرکا کو سکرین موڑ کر دکھایا کہ خالہ جان ہمارے پاس بیٹھی ہیں۔اس کے بعد جلد ہی وہ وہاں سے شفٹ ہوگئیں، پھر ایک دن آخری ملاقات کا پیغام آگیا۔ راشد بھائی کامیسیج گردش کررہا تھا کہ ان سے مل جائیں،گویا؎
تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ
کوئی اب جاں بلب ہے مل جاؤ
لوٹ کر اب نہ آ سکیں شاید
یہ مسافت عجب ہے مل جاؤ
کون اب اور انتظار کرے
اتنی مہلت ہی کب ہے مل جاؤ
مگر مجھے لگا یہ میسیج میرے ہی لیے ہے،اگر یہ موقع مِس کردیا تو ہمیشہ پچھتاؤں گی؎
آکے مل جا کسی بھی نسبت سے
تیرے مجھ سے بہت سے ناطے ہیں
جنوری کی سہ پہر تھی۔وہ اپنے بیٹے کے پُر آسائش گھر میں آرام دہ بستر پر لیٹی ہوئی اوپری سی لگ رہی تھیں۔میں نے سرہانے بیٹھ کر ان کا نرم گرم ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔کسی نے کہا صائمہ آئی ہے، پہچانا؟تومسکرائیں،اثبات میں سر ہلایا اور نظر بھر کر دیکھا۔ اور خواتین بھی موجود تھیں، باتیں ہونے لگیں۔ کسی نے توجہ دلائی ،صائمہ، تمہاری طرف دیکھ رہی ہیں۔میں نے پھر دیکھا تو واقعی وہ چہرہ اوپر کو موڑ کر مجھے ایسے دیکھ رہی تھیں جیسے یقین کررہی ہوں کہ میں ہی ہوں۔ کسی نے پوچھا ثریا آپا نہیں آئیں؟ اب کے ان کی آواز آئی۔
’’وہ بھی آجائے گی۔۔۔ کسی دن!‘‘
یہ آخری بار تھی کہ میں نے ان کی آواز سنی۔ ہمیشہ توانائی سے بھری وہ آواز اب نحیف تھی۔اٹھتے ہوئے ان سے دعا کرنے کو کہا۔ مل کر آگئی مگر اب جیسےدھڑکا سا لگ گیا تھا کہ کوئی خبر نہ آجائے۔ ان کے انتقال کے بعد سے سوچ رہی ہوں، دنیا کتنی جلدی خالی ہورہی ہے،خیر سے۔۔۔جینوئن لوگوں سے۔۔۔سچے اور پُرخلوص انسانوں سے!
٭ ٭ ٭