بزرگ شجر ِسایہ دار – ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

کوئی تبصرہ نہیں

زندگی اپنا آپ دہراتی رہتی ہے ۔ جیسے صبح و شام ، بہار خزاں ، دن رات کا آنا جانا ایک معمول کے ساتھ ہمیشہ سے چل رہا ہے اور ابد تک اس کی گردش چلتی رہے گی ۔بچپن ،جوانی اور بڑھاپا بھی اسی گردش کا نام ہے ۔ بس انسانوں کی شکلیں اور نام بدل جاتے ہیں ۔ آج جو پوتا ہے وہ کبھی دادا بن جائے گا اور جو آج دادا ہے وہ کبھی کسی کا پوتا تھا۔
موجودہ دور میں یہ بات درست ہے کہ باہمی تعلقات میں بہت سے عوامل نے قربت میں پہلے جیسی مٹھاس نہیں رہنے دی ۔ بزرگ تو بعد کی بات ہے اس وقت اولاد اور والدین ، بہن بھائیوں میں بھی والہانہ وابستگی کا فقدان ہے ۔ اس کی وجہ گھر کے ہر فرد کی الگ الگ مصروفیات اوقات کار اور ان میں ترجیحات کے فرق کی وجہ سے مل بیٹھنے کے مواقع کا نہ ہونا ہے ۔ہر گھر میں سارے افراد کسی ایک کام میں مشترک ترجیح متعین کر لیں تو سب کو ایک مشترکہ مصروفیت مل سکتی ہے۔وہ مشترکہ مصروفیت کیا ہو سکتی ہے ہر گھرانے کا الگ انتخاب ہو سکتا ہے۔
کسی بھی گھر میں اگر بزرگ موجود ہوں تو ان کی دیکھ بھال کا مل جل کر فریضہ سرانجام دینا ایک خوب صورت عمل ہے ۔ یہاں ہم ان بزرگوں کی بات کر رہے ہیں جو گھر میں ریٹائر زندگی گزار رہے ہیں اور جسمانی طور پہ کمزور ، اور سب گھر والوں کی بے پناہ مصروفیت کے نتیجے میں تنہائی کا شکار ہیں ۔
سب سے پہلے تو اولاد اپنے والدین کو زندگی کی پہلی ترجیح سمجھے ۔ اپنے روزگار کی مصروفیت کے بعد شام کو والدین کی زیارت کرنے میں بے زاری کا احساس نہ دلائے بلکہ قرآنی تربیت کے مطابق نرمی و لطافت کا نمونہ بن کر دکھائے اور قول نبوی کے مطابق حج مبرور جیسے اجر عظیم کی نعمت سے سرفراز ہونے کی خوشی دل میں محسوس کرے ۔ اگر واقعی یہ خوشی دل کے اندر ہوگی تو باتوں اور حرکات و سکنات سے بھی خود بخود ظاہر ہوگی ۔
بوڑھے لوگوں کے فطری انداز فکر سے واقف ہونا چاہیے تاکہ ان کےرویے کے جواب میں انسان کی تنگیِ نفس غالب نہ آنے پائے ۔عموماً بوڑھے والدین کو یہ احساس غالب رہتا ہے کہ وہ اب دوسروں کے لیے مفید نہیں رہے اور وہ اپنے بچوں کے لیے باعث زحمت ہو گئے ہیں ۔ اہل خانہ اگر اپنے نوکروں پہ یا بچوں پہ چیخ پکار کرتے ہیں تو ان کو عموماً یہ خیال آنے لگتا ہے کہ شاید ہماری کسی خطا کی طرف اشارہ ہے۔بڑھاپا اور بیماری انسان کو بے حد حساس بنا دیتی ہے ۔ جس طرح بچے حساس ہوتے ہیں بوڑھے لوگ بھی کچھ ایسی ہی کیفیات سے گزر رہے ہوتے ہیں ۔ ان کوبوجھ سمجھنا اور اشارے کنایے سے بے زاری کا احساس دلانا بدبختی کی علامت ہے ۔
بیٹے، اپنے والدین کو گھر کے نوکروں یا اپنے بیوی بچوں کے حوالے کرکے بری الذمہ نہیں ہوسکتے ۔ جس طرح اولاد ہمیشہ والدین کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے اسی طرح بوڑھے والدین ہمیشہ اپنی جوان اولاد کی ذمہ داری رہتے ہیں اور والدین کی آنکھیں اپنی اولاد کو دیکھ کر ہی ٹھنڈی ہوتی ہیں اور اپنے بچوں کی قربت سے ان کو توانائی ملتی ہے ۔دیکھا گیا ہے کہ بزرگوں اور جوانوں میں رابطے کا فقدان رہتا ہے۔زندگی میں بے شمار سہولتیں آنے کے باوجود وقت کی کمی کا رونا موجودہ دور کا معمول بن گیا ہے ۔ رابطوں کے وسائل کی آسانی کے باوجود گھر کے بزرگ تنہائی کا شکار رہتے ہیں ۔جبکہ مسئلہ مصروفیات زیادہ ہونانہیں ہے دراصل ترجیحات کے تعین کا فہم نہیں پایا جاتا ۔ اکثر موبائل کو ذرا سا دیکھنے کا خیال بھول بھلیّوں میں میں گم کر دیتا ہے ۔ قریب بیٹھے بزرگ سامنے بھی بیٹھے ہوں تو دور ہی ہوتے ہیں ۔
پاکستان کے تقریباً ہر گھرانے سے کم ازکم ایک بچہ تو ضرور پاکستان سے باہر رہتا ہے ۔ کئی گھرانوں کے تو سبھی بچے ملک میں نہیں رہتے ۔ اولاد ،والدین سے دور ہو یا نزدیک رابطہ ،تعلق اور احساس قربت ان کا حق اور اولاد کا فرض ہے خصوصاً وہ والدین جن کی زندگی میں کوئی اور مصروفیت نہیں ہے ۔البتہ جو بڑھاپے میں معاشرتی، جسمانی اور مالی طور پہ صحت مند بھر پور زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ان کے بچے قریب ہوں یا دور ان کے لیے کوئی خاص مسائل نہیں ہوتے ۔
زندگی کے بہت سے رخ بدل گئے ہیں عقلمندی کا تقاضا ہے کہ جوان اولاد اور والدین میں افہام و تفہیم ہو۔معاشی مسائل میں الجھی جوان اولاد چاہت کے باوجود اپنے والدین کو وقت نہیں دے پاتی اس لیے والدین اور اولاد کے باہمی تعلق کی ڈور میں گرہیں بڑھانے والے معاملات سے گریز لازمی ہے۔
والدین کو یہ احساس نہ ہونے دیا جائے کہ ان کی اب اہمیت نہیں رہی ۔ بیٹے بیٹیاں اپنے والدین کے ساتھ جتنا وقت بھی گزاریں اس میں میٹھے جذبات کا اظہار کھل کر کیا جائے ۔ اپنے مسائل، مصروفیات کے متعلق ذکر کرکے ان سے رائے لی جائے جس طرح بچے اپنے والدین کے قرب سے ان کی باتوں سے حوصلہ پاتے ہیں بعینہ بزرگ اپنے بچوں کے قرب اور ان کی طرف سے حوصلہ افزائی سے زندگی کو محسوس کرتے ہیں ۔ ان کو احساس دلایا جائے کہ انہوں نےاپنی طرف سے آپ کی بہترین تربیت کی ہے اورآپ کےجو بھی اچھے اعمال ہیں وہ ان کے لیے صدقہ جاریہ ہیں۔
جن کے ساتھ والدین رہتے ہیں وہ اپنی اولاد کو یہ باور کروائیں کہ ان کے گھر میں کتنی عظیم ہستیاں رہتی ہیں ۔ سب بچوں کو گھر میں موجود بزرگوں کے ساتھ وقت گزارنے کا ٹائم ٹیبل بنا کر دیں ۔ ہر بچہ روزانہ دن میں بزرگوں کے پاس بیٹھے ان سے ہلکی پھلکی بات چیت کرے چاہے چند منٹ ہی کیوں نہ ہو۔یہ کام اپنی اولاد کو اسی طرح سکھانا ہوگا جیسے کہ اسکول کی پڑھائی میں ہوم ورک کرنا لازمی ہوتا ہے ۔
جس طرح چھوٹے بچے والدین کے سامنے کسی ناگوار بات پہ یا توجہ حاصل کرنے کے لیے احتجاجا ًکھانے پینے میں بے رغبتی دکھاتے ہیں بڑھاپے میں والدین بھی اسی طرح کی معصومانہ ادائیں دکھاتے ہیں ۔ اسلامی معاشرت میں اولاد اس بات کی پابند بنائی گئی ہے کہ وہ ماں باپ کی نفسیاتی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی دلداری کرے اور کسی بھی ادا پہ’’اُف‘‘ تک نہ کہے ۔ دوا لینے اور پرہیز سے انکار ،شکایتوں کے انبار، یہ سب محض کسی کا قرب دیر تک حاصل کرنے کی ادائیں ہیں۔
گزری زندگی کے واقعات کا بار بار دہرانا یاد داشت کی کمی بھی وجہ ہو سکتی ہے لیکن دراصل وہ سننا چاہتے ہیں کہ ہم نے زندگی میں اچھا بھی کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ سننے والا انہیں تسلی اور حوصلہ دے کہ جو حقوق و فرائض میں ان سے کمی رہ گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیں گے ،ان کو اپنے دل کی خلش، پہ سکون آور مرہم کی ضرورت ہوتی ہے ۔
ان کی خاموشی ، دنیا سے عدم دلچسپی کا مظہر ہوتی ہے۔اپنے ہم عمر احباب کی دنیا سے رخصتی پہ ان کی اداسی انہیں دنیا سے بے رغبت کر دیتی ہے ۔اور ان پہ موت کا احساس طاری رہتا ہے۔زندگی کے ساتھی کا چلے جانا،ہم عمروں دوستوں بہن بھائیوں کا فوت ہوتے جانا انہیں مسلسل غم کے حصار میں رکھتا ہے ۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جس ادارے سے جوانی میں منسلک تھے ان کا عدم توجہی برتنا انہیں مایوسی کے اندھے کنوئیں میں دھکیل دیتا ہے ۔ اسی طرح کمرے کو تبدیل کرکے پہلے سے کمتر جگہ دے دینا،مہمانوں کے سامنے لانے سے گریز کرنا ،حرکات و سکنات اور ذہنی یا جسمانی کمزوری پہ ہنسنا انہیں زندہ درگور کر دیتا ہے۔
ادارے اور خاندان کے افراد کی ذمہ داری کیا ہو؟
کسی بھی دینی یا اصلاحی تحریک کو اپنے ان کارکنان کی دلجوئی کے لیے کوئی مستقل لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ اپنی جوانی میں جنہوں نے تحریک کے لیے تن من دھن لگایا بڑھاپے میں وہ میدان عمل سے دور ہو گئے ہیں لیکن باہم رابطے نہ ہونے سے انہیں ناقدری کا احساس نہیں ہونا چاہیے، ان سے ملاقاتوں کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ انہیں احساسِ تنہائی نہ ہو ، ذہنی ہم آہنگی رکھنے والے احباب سے ملنا ان کے دل کو توانائی عطا کرتا ہے ۔
گھر کے افراد کی کیا ذمہ داری ہے؟پسندیدہ لوگوں سے ملاقات کروائیں،بچوں کے ساتھ وقت گزارنے دیں،کتاب پڑھ کر سنائیں پسندیدہ مصنف یا شاعری،ہلکا پھکا مزاح انہیں شاد رکھے گا۔ان کی نیکی کے کاموں کو یاد کروائیں ۔حوصلہ افزائی کریں ،عبادات کو سراہیں ۔جو مشقتیں اولاد کے لیے اٹھائی ہیں ان کا شکریہ ادا کریں۔ان کے نیک کاموں کی تکمیل کرکے ان کے لیے صدقہ جاریہ بن جانے کا ان کی زندگی میں ہی مظاہرہ کریں ۔جن سے ان کی خفگی ہے ان کے بارے میں اچھی رائے بنوائیں ان سے ملاقات کروائیں ۔بزرگوں کو جن سے شکایات ہوں ابتدا میں ان کے دکھ کا احساس کریں ، تالیف قلب کے لیے ان کو باور کروائیں کہ ان کا موقف درست تھا اور پھر جن سے ان کا دل دکھا ہؤا ہے ان کے بارے میں کوئی اچھی بات کوئی اچھے تاثرات یاد کروائیں ۔ بزرگوں کی بات فوراً رد کرکے کہ’’ آپ غلطی پہ ہیں‘‘ ان کے دل کو تکلیف نہ پہنچائیں ۔
ہمارے معاشرے میں’’اولڈ ہوم‘‘ کا تصور مغربی تہذیب کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اس قدر ناقابل قبول ہے کہ اس کے بارے میں اظہار خیال بھی محال ہے مگر حالات و واقعات، بدلتی معاشرتی مصروفیات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس امر پہ غور کیا جاسکتا ہے کہ کوئی ایسا مرکز ہو جس میں اسلامی تعلیمات کے تحت اعلیٰ معیار کی طرز پہ بزرگوں کی عمر، ذہنی ، نفسیاتی ،جسمانی ذوق وشوق اور مصروفیات کے مطابق شب وروز کی سرگرمیاں ترتیب دی گئ ہوں۔ انفرادی و اجتماعی ملاقاتیں ہوں ، تعلیمی اداروں کے طالب علموں کو سرگرمی کے طور پہ ایسے مرکز میں مختلف مواقع پہ بھیجا جائے، رضاکارانہ طور پہ بزرگوں کی خدمت پہ مامور کیا جائے ، لائبریری موجود ہو ، خاص مواقع کے سیمینار ہوں ، صلاحیتوں کے انعامی مقابلے ہوں ۔ تفریحی پروگرام ترتیب دیے جائیں ۔ علاج معالجہ ،وقت پہ دوا دینے کے لیے کارکن موجود ہوں، غرض ایسا مکمل پروگرام ترتیب دیا جائے جس کے مطابق ایک خوب صورت ماحول میں ان بزرگوں کی عزت نفس مجروح کیے بغیر خوشگوار زندگی دی جا سکتی ہو، ان مایوس بزرگوں کو جنہیں اپنی اولاد کے بیرون ملک ہونے یا گھر کے سارے افراد کی اپنی اپنی ذمہ داریوں نے تنہا کر رکھا ہے ۔
غرض معاشرے کا یہ اہم اور بابرکت طبقہ خوشیوں سے دور محرومیوں کا شکار کیوں رکھا جائے ؟بزرگ ساری قوم کے لیے شجر سایہ دار ہوتے ہیں ان کی خدمت اور قدر کرنا فرض ہے ۔ زمانے کے انداز بدل جائیں تو فرائض کی ادائیگی کے نئے زاویے بھی قابل قبول ہو جاتے ہیں۔
٭٭٭

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp