ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ہم کو دیو پریس رے – مارچ ۲۰۲۱

نبیلہ کوفتوں کا سالن دم پر لگا کر دوسرے چولہے پر پسندوں کی کلیا کی طرف متوجہ ہوئی جواکلوتے لاڈلے وجاہت کی فرمائش تھی ۔ کوفتے گھر بھر کی پسند سہی مگر اسے قطعاً ناپسند تھے۔ابھی ساتھ میں مٹر پلاؤ بھی بنانا تھا۔ چاول دھو بھگو کے رکھےہی تھے کہ موبائل بیپ بجی۔اسکرین پر ’’باجی کالنگ‘‘ جگمگا رہا تھا۔
’’ارے باجی کیسی ہیں ؟ پورا ہفتہ ہو گیا آپ سے بات کیے‘‘ سلام دعا کے بعد وہ خوش ہو کر پوچھنے لگی۔
’’ہاں نبیلہ مت پوچھومیں کتنی مصروف ہو گئی ہوں ،میری تو کوئی بیٹی بھی نہیں کہ ہاتھ بٹا دے۔ ماسیوں کے نخرے سہتے جیسا تیسا کام چلانا پڑتا ہے۔ تم ہی اتا پتا لے لیتی نا‘‘۔
’’ارے باجی قبر کا حال تو مردہ ہی جانتا ہے۔ بچیوں کو بھی اچھے سے اچھا پڑھانا ضروری ہے ۔اب تو کیا پتا آگے ان کی قسمت کیا ہو! عنیزہ بی ایڈ کے ٹف دور سے گزر رہی ہے۔ علیزہ سیکنڈ ایر میں ہے، کوچنگ چھوڑنے جانا بھی مجھ ہی کو پڑتا ہے ۔شکر ہے کہ واپسی میں تو وجاہت لے آتا ہے، اسے تو اب بی کام کیے سال ہوگیا اورجاب کا پتہ نہیں…. میں سارا دن کیسے مصروف رہتی ہوں اللہ ہی جانتا ہے۔ آپ سنائیے بہو کب تک لا رہی ہیں؟‘‘
وہ ایک ہی سانس میں بولے گئی۔
’’ ارے عمیر کی ڈھنگ کی جاب ہو تو لاؤں نا ۔ابھی عارضی بنیادوں پہ کام چل رہا ہے۔ چھوٹے دونوں بھی پڑھائی میں مصروف رہتےہیں ۔کبھی کوئی آتا ہے کبھی کوئی، ٹائم بھی سب کے الگ ہیں‘‘۔
باجی کی پریشانی کم نہ تھی مگر سب روٹین کے قصے ، ٹائٹ شیڈول کی باتیں ۔
’’ارے ہاں نبیلہ میں تم کو بتا رہی تھی کہ وہ تمہاری کمیٹی جو اگلے ماہ اٹھنی تھی چھ ماہ آگے چلی گئی ہے تم کہیں سے کوئی انتظام کر لو کسی طرح‘‘۔
باجی نے ایک دھماکہ کیا گویا۔
’’کک…. کیا کہہ رہی ہیں باجی آپ…. ارے دو ماہ بعد تو بھائی جان کے بیٹے کی شادی ہے، دس خرچے ہوتے ہیں ایسے وقتوں میں‘‘ ۔ وہ جیسے غیر متوقع اطلاع پہ دہل کے رہ گئی۔
’’بھئی چند ماہ کی تو بات ہے قرض لے لو کہیں سے وہاب سے کہو…. ویسے دل کی بات بتاؤں ہمارے تینوں بھائیوں نے اتنے اچھے مکان پر قبضہ کیا ہوا ہے اماں ابا کے بعد…. ذکر تک نہیں کرتے۔ میں نے ایک بار یاد دلایا تو ٹال گئے کہ ہماری چھت ہے ابھی ہم کہاں جائیں گے دے دیں گے تمہارا حصہ، کیسی بہن ہو حصے کی پڑی ہے ہمارا خیال نہیں ….. اور پھر چھ ماہ تک آنا جانا بند رہا ،تینوں ایک ہو گئے ہیں‘‘۔ وہ نئے در کھول رہی تھیں۔
’’جی باجی ویسے بھی بھائی جان کے دونوں بیٹے باہر ہیں ۔مگر باجی ابھی مناسب وقت نہیں ہے…. شادی کا گھر ہے اور ہم پر ماں باپ کا در بند ہوا تو کہاں جائیں گے‘‘۔
نبیلہ متفق ہو کر بھی جیسے سہم گئی تھی۔ویسے ہی پریشانیاں کیاکم رہتی ہیں، اوپر سےیہ کیا غضب ہوگیا۔فون رکھ کر وہ چاولوں کی طرف دیکھنے لگی۔ آج کھانا یقیناً سب کو پسند آئے گا، کھانے کے بعد وہاب سے بات کروں گی کہ وہ کچھ کریں، یہی سوچتی وہ میز لگا رہی تھی۔
اللہ بخشے اماں کہتی تھی کہ دل کا راستہ معدے سے ہو کر جاتا ہے مگر اب لدگئے زمانے…. چٹخاروں کی دوڑ میں بیوی کے ہاتھ کے ذائقے اور محنت کی کیا قدر…. مگر کوشش کرنے میں کیا حرج ہے! وہ جیسے خود کو سمجھا رہی تھی۔کمیٹی وقت پر نہ ملنے کی خبر سے دماغ سناٹے میں آگیا تھا۔اس نے سوچا تھا کہ پیسے ملتے ہی کوئی ذکر کی محفل کروائے گی، تھوڑا بہت ریفریشمنٹ پہ خرچ ہوگا ،کچھ اللہ کی راہ میں صدقہ نکالے گی ،پھر شادی کے تحائف بچوں کی تیاری، اپنی تیاری،آنا جانا، سب نمٹ جائے گا مگر اب تو سارا پروگرام فیل ہو گیا تھا۔
وہاب کے آنے کے بعد جب سب کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے بہت اچھے موڈ میں علیزہ کی فیس کے علاوہ کمیٹی وقت پر نہ ملنے کی اطلاع دیتے ہوئے قرض کے انتظام کا کہا۔ وہ اسمارٹ فون میں جتے ہوئے تھے ۔نبیلہ کو لگتا تھا ہرایرے غیرے کی فکر ہے، دنیا بھر میں کیا چل رہا ہےاس کی فکر ہے، مگر صاحب خانہ کو اہلِ خانہ میں کیا چل رہا ہے ، اس سے بیزاری سی ہے۔
’’بھئی علیزہ کی فیس تو کل تک دے دوں گا گھر میں روز کے جھنجھٹ ہیں کبھی کچھ ٹوٹ جاتا ہے کبھی مرمت کا کام کبھی کچھ…. ایک تو وجاہت کو بی کام کے بعد کورس کیے بھی دو ماہ ہوگئے مگر ابھی تک جاب کا کچھ نہ ہو سکا…. پھر اور گل کھلاتے ہوئے صاحبزادے نے بائیک کا بھی ایکسیڈنٹ کروالالیا۔اب نئی بائیک کا فرمائشی پروگرام الگ ہے ۔ میں تو بے بس آدمی ہوں بس میں سفر کر لیتا ہوں‘‘۔ وہاب نے نبیلہ کو ایسے شرم دلائی جیسے سب اس کا کیا دھرا ہو۔
’’تو سردار ہیں جناب گھر کے، کہاں کے بے بس ہیں، بس میں سفر کرتے ہیں…. میں تو گھر میں الجھ کر سفر کررہی ہوں…. انگریزی والا!‘‘
اس نے غلط تو نہیں کہا تھا اپنی خواہشات تو مار بیٹھی تھی۔
’’ ارے تم کیا جانو گھر بیٹھی عورت‘‘ وہاب نے تنگ آکر موبائل ایک طرف رکھا۔
’’مطلب عورت گھر نہ بیٹھے تو کیا خدانخواستہ راستوں میں بیٹھے، حد کرتے ہیں آپ بھی…. بہرحال آپ قرضے کے لیے کچھ کریں چھ ماہ کی تو بات ہے، دو ماہ بعد تو بھائی جان کے گھر شادی ہے جانتے ہیں نا! ابھی کمیٹی نہیں ملنے کی‘‘ اس نے اصرار کیا۔
’’ابھی تو کوئی امکان نہیں تم ایسا کرو اپنا سونے کا چھوٹا سیٹ سیل کر دو جو بری کا ہے…. شادی بھی نمٹ جائے گی تمہارے بھتیجے کی اور صاحبزادے کی موٹر بائیک بھی آجائے گی‘‘ وہاب نے سر کا سارا بوجھ اسی پر ڈالتے ہوئے مشورہ دیا۔
’’ہرگز نہیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ وجاہت مجھ کو بہت عزیز ہے مگر آپ جانتے ہیں کہ پہلے ہی ایک سیٹ اس کو لیپ ٹاپ دلانے اور کورسز کرانے پر اٹھا چکی ہوں ۔جہیز میں لائی دو چوڑیاں گھر کی مرمت کرانے اور گیزر لگوانے پہ خرچ ہوگئیں۔ آپ کو میری محنت اور قربانی کیوں نظر نہیں آتی؟ آخر یہ دونوں سیٹ بچیوں کے لیے رکھے ہیں ان کی حق تلفی نہیں کروں گی۔ عنیزہ بی ایڈ کرلے تو اللہ کہیں سے اسباب کرہی دے گا ۔آج کل زیور بنوانا آسان نہیں اس کے لیے کیا کریں گےسوچیں…. آپ بیٹے ہی کے باپ نہیں بیٹیوں کے بھی ہیں‘‘ اس کی آنکھیں چھلک رہی تھیں۔سوچ رہی تھی یہ گھر بیٹھی عورت کو لوگ اتنا حقیر کیوں گردانتے ہیں؟
’’وہ …. تمہارے بھائی اماں ابا کے مکان پہ جمے بیٹھے ہیں…. نہ حصہ دیتے ہیں نہ مکان بیچ کر تقسیم کرتے ہیں۔ پتہ نہیں کیسے بھائی ہیں!‘‘
وہاب کیا کہہ رہے تھے اور کس اجنبیت کے ساتھ…. نبیلہ سناٹے میں آگئی تھی۔وجاہت اور فہد باہر واک کے لیے نکلے ہوئے تھے۔ دونوں بیٹیاں البتہ اداس ہو گئیں۔
’’ ابو آپ خواہ مخواہ امی کو اداس کر دیتے ہیں۔ ان سب باتوں میں امی کا کیا قصور بھلا…. اور ماموں جان سے شادی کے موقعے پہ تو یہ بات کہہ کر امی کو اور ناکامی ہوگی نا ‘‘ عنیزہ کہنے لگی۔
’’گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو آخر اپنا ہے‘‘وہاب مسکرائے۔
’’ واقعی شکر ہے‘‘ علیزہ ماں کے لیے پانی لاتے ہوئے بولی ۔
گھر اپنا تھا ۔چھوٹا سا فلیٹ سہی، وہاب کے والدین نے تینوں بیٹوں کو زندگی میں ہی مکان بیچ کر حصہ دیا تھا اور تینوں گھر میں عزت سے رہتے رہے ،بیٹی کوئی نہیں تھی ۔
’’مگر اس میں وہاب کا کیا کمال…. ہر گھر کے حالات مختلف ہوتے ہیں‘‘نبیلہ نے اس واضح چوٹ کو محسوس کیا۔
’’ارے چھوڑو نبیلہ تم بھی…. ‘‘وہاب نے اپنا موڈ بدلتے ہوئے کہا۔
مگر وہ روہانسی ہو رہی تھی۔
’’چھوڑوں میں…. فضول خرچی نہیں کرتی، ہوٹلنگ کی عادت بچوں کو ڈالی نہیں، ہمیشہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے ہیں مگر اتنا بتا دیں کہ آخر آپ کیا چاہتے ہیں ؟قریبی رشتوں میں شادی بیاہ کی تیاری ضروری ہے نا ورنہ ہمارے بچوں کے سر پر ہاتھ کون رکھے گا ان کے موقعے آنے پہ‘‘ وہ جیسے آج پھٹ پڑی تھی۔
’’سن لیں آپ یہ حصے والی بات نہ کریں…. میں یہ بات اٹھاؤں گی تو میرا میکہ اور ان کا ننھیال ختم ہو کر رہ جائے گا اور مجھ کو یہ منظور نہیں‘‘۔
یہ حقیقت تھی۔ ڈیڑھ دو ماہ میں ایک بار کھانا، عید تہوار پہ دعوت ، ساتھ ہی چھٹیوں میں پکنک کے پروگرام میکے کا ایسا بھرم تھے کہ ٹھنڈی چھاؤں کی اک تسلی ہو جاتی تھی۔ وہ دونوں بہنیں یہ مان نہیں کھونا چاہتی تھیں۔
’’آپ کا مرتبہ بڑا ہے آپ ہی کو کچھ کرنا ہے‘‘ اس نے کہا کیونکہ بھائیوں کو وہ جانتی تھی۔
کہیں سے شادی کا گیت بجنے کی آواز آئی ۔
بھئیوں کو دیو محلے دو محلے ہم کو دیو پردیس رے…. کاہے کو بیاہی بدیس رے
ہم تورے بابل کھونٹے کی گیاں۔
انگنا کی چڑیاں…. لکھی بابل مورے
نبیلہ نے دوپٹے کے پلّو سےآنسو پونچھے اور بڑبڑائی۔
’’ابا تو چلے گئے…. لکھی بابل مورے…. مگر یہ ماں جائے بھائی آخر کیوں نہیں سمجھتے…. بہن کے ذہن میں اٹھنے والے فطری سوال…. ایک خاندان والی، ایک گرہستن کے دہکتے سوال!‘‘

٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
میمونہ حمزہ
میمونہ حمزہ
2 years ago

متوسط طبقے کے مسائل پر مبنی کہانی۔ وراثت میں بیٹیوں اور بہنوں کی محرومی انہیں کس طرح مصائب کی زد میں رکھتی ہے۔ خود غرض معاشرے میں ایک عورت میکہ بچانے کے لئے کیا درد سہتی ہے۔

1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x