ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

کوڈو – بتول جون ۲۰۲۳

میں دھوپ میں بیٹھی بال خشک کر رہی تھی جب بھیا اسے لے کر آئے۔ اس کے ہاتھ، منہ، ٹانگیں اس بری طرح سے پھٹ رہی تھیں کہ دیکھ کر وحشت ہونے لگی۔
’’لو عذرا اسے کچھ کھانے کو دو، کل سے بھوکا ہے، باہر آوارہ گردی کر رہا تھا‘‘۔ بھیا نے اسے میری طرف دھکیلتے ہوئے کہا۔
’’مگر یہ ہے کون بھیا؟‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا۔
’’جانے کون ہے۔ نوکری چاہتا ہے۔ کہتا ہے میرا کوئی نہیں‘‘۔
لڑکے نے سر اوپر اٹھایا اور سیڑھیوں کی طرف دیکھنے لگا۔ میں بھی غیر شعوری طور پر ادھر دیکھنے لگی مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ بھیا کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
’’یہ تیری طرف دیکھ رہا ہے پگلی، کم بخت بھینگا ہے۔ مگر دیکھو اس کی آنکھوں سے کس بلا کی ذہانت ٹپک رہی ہے‘‘۔
میں بھی ہنس دی، وہ غالباً میری ہی طرف دیکھ رہا تھا۔ مگر اس کی آنکھیں 120o ڈگری کا زاویہ بنا رہی تھیں۔
’’امی کو بازار سے سودا منگوانے کی سہولت ہو جائے گی‘‘۔ بھیا بولے۔ اور اس طرح یہ گیارہ سالہ بھینگا لڑکا ہمارے ہاں ملازم ہو گیا۔ میں نے اسے ویسلین دی کہ اپنے سارے جسم کو مل کر دھوپ میں بیٹھے۔ شام کے قریب اسے نہلا کر چھوٹے بھائی کے کپڑے پہنا دیے تو اس کی شکل انسانوں جیسی نکل آئی۔
ہم سب نے مل کر متفقہ طور پر اس کا نام ’’کوڈو‘‘ رکھ دیا۔ رات بستر اور چارپائی دے کر اسے سٹور کے ساتھ والے چھوٹے کمرے میں سونے کے لیے کہہ دیا۔
’’ڈرو گے تو نہیں؟‘‘ بھیا نے پوچھا۔
’’نہیں صاحب مجھے تو کسی سے بھی ڈر نہیں لگتا‘‘۔ اس نے اطمینان سے جواب دیا۔
صبح نماز کے وقت جب میں اٹھی تو ایسے ہی کوڈو کو دیکھنے چلی گئی۔ بجلی جلائی تو دیکھا کہ چارپائی خالی پڑی ہے۔ نہ اس پر بستر ہے نہ کوڈو۔ ذرا آگے بڑھی تو دیکھا کہ بستر چارپائی کے نیچے بچھا ہؤا اور کوڈو اس میں دبکا بے فکر سو رہا ہے۔ اس کی بھینگی آنکھ ابھی تک کھلی تھی۔ میں بجلی بجھا کر واپس آگئی۔
ابھی نماز سے فارغ ہوئی تھی کہ دیکھتی کیا ہوں کوڈو صاحب دونوں ہاتھ بغلوں میں دیے چلے آرہے ہیں۔
’’باجی جھاڑو کہاں ہے میں کمرے صاف کرلوں‘‘۔
دم بخود ہی رہ گئی میں۔ بیسویں صدی اور ایسا نوکر۔ اس کا تو اتنی صبح اٹھ جانا ہی مجھے مرعوب کرنے کے لیے کافی تھا چہ جائیکہ وہ کمرے صاف کرنے کے لیے جھاڑو بھی مانگ لے۔
’’اس وقت تو بہت اندھیرا ہے کوڈو، پھر سب گھر والے بھی تو سو رہے ہیں۔ ان سب کو جاگ لینے دو‘‘۔ میں نے اسے تعجب سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اچھا جی…… میں پھر تھوڑی دیر کے لیے باہر سیر کر آئوں‘‘۔
یہ ایک نیا جملہ تھا۔ میں تو بھونچکی سی رہ گئی۔ دس گیارہ سال کا ٹھنگنا سا لڑکا سردیوں کے موسم میں منہ اندھیرے سیر کرنے کا کہہ رہا ہے، اور ایک میرا چھوٹا بھائی اونٹ کا اونٹ، ذرا سورج چھپا تو پھر ادھر کی دنیا ادھر ہوجائے مگر کیا مجال جو وہ اکیلا صحن میں سے کوئی چیز ہی اٹھا لائے۔
’’جائو!‘‘ میں نے دھیمے سے کہا اور دیر تک اس دروازے کو دیکھتی رہی جس میں سے گزر کر وہ چھلاوے کی طرح باہر تاریکی میں گم ہوگیا۔
کوئی آدھ گھنٹہ بعد وہ گھر لوٹا اور جھاڑو لے کر کمروں میں گھس

گیا۔ سورج نکلنے سے پہلے پہلے اس نے گھر کی اس شدت سے صفائی کردی کہ کمروں میں کوئی چیز نظر ہی نہ آرہی تھی۔ پھر اس نے چائے پی اور امی سے پیسے لے کر سودا لینے چلا گیا۔ پیچھے جو گھر میں قیامت بپا ہوئی تو الامان و الحفیظ۔ ایک ایک کمرے میں سے چیخنے چلانے کی آوازیں آرہی تھیں۔ کسی کی کتاب گم تھی تو کسی کا قلم، کسی کی سلیٹ نہیں مل رہی تھی تو کسی کا پورا بستہ ہی غائب تھا۔ کوئی اپنے اس دوپٹے کے لیے رو رہا تھا جسے اس نے رات ہی چنٹ ڈال کر رکھا تھا تو کسی کا استری شدہ یونیفارم کھونٹی سے ندارد تھا۔
میں نے امی کے ڈر سے سب کو بمشکل چپ کرایا، پھر ان کے ساتھ ان کی چیزیںڈھونڈنے لگی جنھیں نہ ملنا تھا نہ ملیں۔ جانے انھیں زمین نگل گئی تھی یا آسمان کھا گیا تھا۔ جس کمرے میں بھی جاتے وہ کچھ بہت زیادہ کھلا، صاف اور خالی خالی نظر آتا۔ میں دل میں خوش تھی کہ اتنی مدت ہوگئی ہے گھر کو صاف کرواتے مگر آج تک ایسی صفائی کبھی نہ ہوئی۔ کیسا عمدہ ملازم ہے۔
سب بچوں کے اسکول کا وقت ہوگیا مگر کھوئی ہوئی ایک چیز بھی نہ مل سکی۔ اتنے میں باہر کا دروازہ کھلا۔ کوڈو سودا لے کر آرہا تھا۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں ڈھیروں سبزی تھی۔ شاید کسی کی دکان لوٹ کر لے آیا تھا۔
’’اے کتنے کی سبزی خرید لایا ہے‘‘۔ امی نے حیران ہوکر پوچھا۔
’’جی بیگم صاحبہ جتنے کی آپ نے کہی تھی‘‘۔
’’کم بخت جتنے پیسے میں نے دیے تھے۔ ان میں تو اس سے آدھی سبزی بھی نہ آتی‘‘۔
’’آپ اس سے آدھے پیسے دے کر دیکھ لیجئے، سبزی اس سے بھی زیادہ لے آئوں گا‘‘۔ اس نے فاتحانہ انداز میں میری طرف دیکھا مگر اس کی آنکھیں جو 120o ڈگری کا زاویہ بنا رہی تھیں، ٹھیک سلمیٰ کی طرف تھیں جو چنٹوں والا ڈوپٹہ نہ ملنے پر منہ بسورے کھڑی تھی۔
میں نے ہنس کر کوڈو سے پوچھا۔ ’’تم نے کہیں سلمیٰ کا دوپٹہ تو نہیں دیکھا؟‘‘
’’جی سفید!‘‘
’’ہاں ہاں سفید‘‘۔
’’وہ تو میں لکڑیوں والے گودام میں رکھ آیا ہوں‘‘۔
’’ہیں گودام میں!… ارے وہاں کون سی جگہ تھی؟‘‘
’’جی آپ کا گودام بہت بڑا ہے نا! میں نے اس کا ایک کونہ صاف ستھرا کرکے وہاں چارپائی بچھائی اور سب فالتو کپڑے اس پر رکھ آیا ہوں‘‘۔
’’فالتو کا بچہ‘‘ سلمیٰ چیخ اٹھی۔ ’’اگر میرا دوپٹہ ذرا بھی گنداہؤا تو تیری خیر نہیں‘‘۔
’’جی نہیں۔ میں نے ان پر ایک چادر بھی ڈال دی ہے‘‘۔ اس نے بڑے اطمینان سے کہا۔
’’میرے پین کا پتہ ہے؟‘‘ کوکو نے تقریباً رو کر پوچھا۔
’’جی وہ پین پنسلیں کتابیں وغیرہ میں نے لکڑیوں والے گودام کے ایک خالی صندوق میں بند کردی ہیں۔
میں کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ بچے تقریباً سب ہی رو رہے تھے۔ اسکول کا وقت گزر چکا تھا۔
اب جو لکڑیوں کے گودام میں جاکر دیکھا تو کونے میں ایک چارپائی پر چھوٹی سی سفید پہاڑی نظر آئی۔ چادر ہٹائی…… خدا کی پناہ۔ بھیا کا گرم سوٹ، ابا کی اچکن، امی کی گرم چادر، غرض گھر کا جو کپڑا بھی الماری یا صندوق سے باہر تھا، سب گھتم گتھا چارپائی پر نظر آیا۔ میں نے غصے سے اس کی طرف دیکھا تو وہ اپنے اس کارنامے پر فخر سے گردن اکڑائے یوں دیکھ رہا تھا جیسے معرکہ پانی پت سر کرکے آیا ہے اور دشمنوں کی لاشوں کا ڈھیر سامنے پڑا ہے۔
باوجود غصے کے مجھے تو ہنسی آگئی مگر امی نے اسے بیس ہزار صلواتیں سنائیں۔
کتابوں والا صندوق کھولا تو وہ منہ منہ تک بھرا تھا۔ شاید ابا اور بھیا کے میز کی کتابیں اور فائلیں بھی اس میں رکھ دی تھیں۔

وہ سارا دن چیزوں کو ٹھیک کرنے اور دوبارہ ٹھکانے پر لگانے میں گزر گیا۔ کوئی بچہ سکول نہ جاسکا۔
سبزی وہ اتنی گندی لایا تھا کہ اسے صاف کرتے کرتے ایک بج گیا۔ دوپہر کا کھانا تین بجے کے قریب ملا۔ امی سارا دن مجھے اور بھیا کو جھڑکیاں دیتی رہیں اور کوڈو کو فوراً نکال دینے پر اصرار کیا۔
’’امی کچھ دنوں میں سمجھ جائے گا۔ آج کل نوکر ملتے کہاں ہیں‘‘۔ بھیا نے امی کو سمجھایا۔
کوڈو اپنی انہیں حرکات کے ساتھ ہمارے ہاں رہ رہا تھا۔ امی اس سے ناک ناک تنگ تھیں۔ وہ تو صرف زبان سے ہی اسے برا بھلا کہتی تھیں مگر سلمیٰ نے مارپیٹ بھی شروع کردی۔
ایک دن سلمیٰ نے جو اسے پیٹا تو اس نے کھانا چھوڑ دیا۔ کوئی ہمارے ہاں رہے اور کھانا نہ کھائے، یہ امی کی برداشت سے باہر تھا۔ انہوں نے کوڈو کو صاف کہہ دیا کہ یا تو کھانا کھائو ورنہ ہمارے گھر سے چلے جائو۔ مگر کوڈو نے دونوں تجویزیں ماننے سے انکار کردیا۔ یہاں تک کہ امی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں اور بھیا کو ڈانٹنے لگیں۔
’’یہ مجھے کیا آرام دے گا، اور میرے لیے آزمائش کھڑی کردی ہے۔ اب میں سفید بالوں سے اس کے پیچھے پیچھے کھانا لے کر پھروں گی‘‘۔
کوڈو گھر میں اگر کسی سے ڈرتا تھا تو وہ امی تھیں۔ انہیں روتا دیکھ کر سہم گیا اور خاموشی سے کھانا کھا لیا۔ اس دن کے بعد امی نے سلمیٰ کو بھی منع کردیا اور خود بھی اس سے ذرا کم ہی بات کرتیں، ہاں جب وہ گھر سے باہر ہوتا تو برا بھلا کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لیتیں۔
دس پندرہ دن بعد اس نے بھیا کے سامنے پڑھائی کے شوق کا اظہار کیا۔ بھیا نے فوراً اسے گھر کے قریب ایک اسکول میں داخل کرادیا۔ امی نے خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ زیادہ نہیں تو چار پانچ گھنٹے ہی اس بلا سے پیچھا چھوٹے گا۔ مگر سکول داخل ہوتے ہی اس کی بھوک چمک اٹھی۔ جب کوئی پریڈ خالی ہوتا وہ کھانا کھانے گھر آجاتا اور ساتھ ہی اصرار کرتا کہ بازار سے کچھ منگوانا ہے تو میں لا دوں۔
کوڈو جب سے اسکول جانے لگا تھا امی کا سلائی کا کام بڑھ گیا تھا۔ ہر وقت ان کے ہاتھ میں سوئی دھاگا ہوتا اور کوڈو کے پھٹے ہوئے کپڑوں کی مرمت ہو رہی ہوتی۔ کئی دفعہ امی نے پوچھا کہ سچ بتائو وہاں پڑھنے جاتے ہو یا کشتی کرنے!
میرے اور بھیا کے سوا سب گھر والے ہی اس سے نالاں تھے، مگر وہ کسی طرح گھر چھوڑنے پر رضامند نہ تھا۔
ایک دن وہ میرے پاس آکر بڑے رازدارانہ لہجے میں کہنے لگا: ’’روز سکول سے دیر ہوجاتی ہے۔ بڑے جرمانے اکٹھے ہوگئے ہیں‘‘۔ میں نے وجہ پوچھی تو نہایت سادگی سے بولا:
’’صبح بڑی بیگم صاحبہ ایک پراٹھا دیتی ہیں اور ایک پھلکا۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ کسے پہلے کھائوں۔ پھلکا کھانے لگتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اگر بھوک کم ہوئی تو پراٹھا رہ جائے گا۔ پراٹھا کھانے لگتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اگر پراٹھے سے بھوک نہ مٹی تو بعد میں پھلکا کھانے کو جی نہیں چاہے گا۔ اسی کشمکش میں بہت سا وقت گزر جاتا ہے۔ اور اسکول سے دیر ہو جاتی ہے‘‘۔
میں نے ہنس کر کہا کہ ’’امی ناشتہ میں سب کے لیے ایک ایک پراٹھا پکاتی ہیں، تمہارے لیے ایک پھلکا فالتو اس لیے پکتا ہے کہ کہیں تمہیں زیادہ بھوک نہ ہو…… خیر میں امی سے کہہ دوں گی‘‘۔
وہ مطمٔن ہوکر اٹھا اور جاتی دفعہ میز کا میز پوش ٹیڑھا کرگیا۔ دراصل وہ سیدھا میز پوش اسے ٹیڑھا نظر آرہا تھا۔ چنانچہ وہ اپنی نظر کے مطابق اسے سیدھا کرگیا۔
کوڈو کو ہمارے ہاں آئے صرف ایک ماہ ہؤا تھا۔ اس دوران میں گھر کا کام گھٹنے کی بجائے اور بڑھ گیا تھا۔ کوڈو کے چلے جانے کا بظاہر کوئی امکان نہیں تھا۔ امی اس طرف سے بالکل مایوس تھیں۔ وہ اکثر کہتیں کہ جانے کتنی لمبی عمر ہے اور اس میں کوڈو کا ساتھ مجھے بھوت پریت کے سایوں سے زیادہ وحشت ناک معلوم ہوتا ہے۔
اس کے آنے سے اول تو گھر میں کوئی چیز نظر ہی نہ آتی (کیونکہ صفائی وہی کرتا تھا)؛ اور جو چند چیزیں نظر آتیں وہ سب ٹیڑھی ہوتیں۔

کئی دفعہ ایسا ہؤا کہ مہمانوں کے آنے سے پہلے کمرے کی سب چیزوں کو سیدھا کرکے بچھایا۔ کوڈو چائے وغیرہ لے کر آیا اور مہمانوں کے سامنے ہی کمرے کی تمام چیزوں کو ٹیڑھا کرگیا۔
ایک دن صبح سویرے جو اٹھے تو کوڈو کہیں نظر نہ آیا۔ بچے اسکول بھی چلے گئے۔
’’تم نے تو اسے کسی کام کو نہیں بھیجا؟‘‘ امی نے بھیا سے پوچھا۔ بھیا نے انکار کیا۔ پھر اچانک کچھ سوچ کر بولے:
’’آج اندھیرے منہ وہ گرم کپڑوں والی الماری کی تلاشی لے رہا تھا۔ میں نے پوچھا کیا کر رہے ہو تو کہنے لگا بوٹ پالش کرنے والا برش ڈھونڈ رہا ہوں۔ میں نے ڈانٹا کہ جوتوں والا برش گرم کپڑوں والی الماری میں کیسے ہوسکتا ہے۔ تو وہ کمرے سے چلا گیا‘‘۔
امی نے بھیا کو اسکول بھیجا کہ دیکھو کہیں کسی بچے سے جھگڑ کر بھوکا سکول نہ چلا گیا ہو۔بھیا سکول سے واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک لمبا سا کاغذ تھا اور چہرے پر عجیب قسم کی مسکراہٹ۔
’’ارے بھئی جو جو گھر پر موجود ہے ادھر آجائے‘‘۔
امی اور میں ہی گھر پر تھے۔ ہم دونوں آگئیں۔
’’کوڈو بھاگ گیا‘‘۔ انھوںں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’بھاگ گیا!‘‘ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آرہا تھا۔
’’لڑکے مذاق تو نہیں کررہا‘‘۔ امی نے کہا۔
’’نہیں امی…… یہ دیکھئے شیروسبزی فروش کا قرضہ۔ کوڈو بازار سے سب چیزیں ادھار لاتا تھا۔ میں شیرو کی دوکان کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اس نے مجھے پکارا۔
’’دیکھئے بابوجی ہم غریب لوگ ہیں۔ ساتھ ساتھ روپیہ ملتا جائے تو مال خریدا جاتا ہے‘‘۔
میں تو اس کی بات ہی نہ سمجھ سکا اور اس نے میرے ہاتھ میں پانچ سو کا بل تھما دیا۔ اور کہنے لگا کہ:
’’آج صبح سویرے یہ کہہ کر چلا گیا ہے کہ گھر والوں سے حساب لے لینا۔ میں اپنے بھائی کے ہاں جا رہا ہوں‘‘۔
میرا خیال تھا کہ امی اتنا بڑا بل دیکھ کر کوڈو کو ہزار گالیاں دیں گی۔
’’تو چلا گیا وہ…… اب آئے گا تو نہیں‘‘۔ انھوں نے بھیا سے پوچھا۔
’’میرا تو نہیں خیال کہ اب آئے‘‘۔ بھیا بولے۔
امی نے دونوں ہاتھ اٹھا کر خدا کا شکر ادا کیا۔ ’’اچھا میں دو نفل شکرانے کے پڑھ آئوں‘‘۔ یہ کہہ کر وہ وضو کرنے لگیں۔
بھیا کچھ سوچ کر اپنے کمرے میں گئے۔ واپس آئے تو ان کا چہرہ بڑا پریشان تھا۔
’’وہ تو میرا بھی صفایا کرگیا۔ برش ڈھونڈنے کے بہانے کوٹ کی جیب میں سے سب نقدی نکال کر لے گیا‘‘۔
میں دم بخود رہ گئی۔ غصے سے میرا اور بھیا کا برا حال تھا۔ ہم جی بھر کر کوڈو کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ امی نفل پڑھ کر آئیں اور ہمارے غصے کی وجہ پوچھی ۔ بھیا نے اپنے نقصان کا بتایا تو ان کا چہرہ اور پرسکون ہوگیا۔
’’اب تو غالباً کبھی بھی نہ آئے گا‘‘۔ انھوں نے پرامید لہجے میں کہا اور شکرانے کے دو نفل اور پڑھنے لگیں۔
٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x