ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

کشتِ ویراں – بتول فروری ۲۰۲۳

میں نے جلدی سے حاضری صفحہ پر دستخط کیے اور رجسٹر ملازم کے حوالے کرتے ہوئے کافی دیر سے بجنے والے موبائل پر توجہ کی۔ موبائل پر فاریہ کا نام چمک رہا تھا۔
’’اوہ آج فاریہ کا سیکنڈ ائیر کا رزلٹ آنے والا تھا۔ یا اللّٰہ خیر کرنا ۔ اس کومایوس نہ کرنا۔ اس نے اور میں نے یہاں تک پہنچنے کے لیے بہت سہا ہے‘‘۔میرے دل سے بے اختیار دعا نکلی۔
یہ اس بچی کی کہانی تھی جو آج سے سات سال پہلے میرے سکول ششم کلاس میں داخلہ لینے آئی تھی ۔داخلے کے وقت کافی بحث مباحثہ ہوا،کلاس ٹیچر اس کے داخلہ ٹیسٹ کے نتیجے پر بالکل مطمئن نہ تھی کہ اسکو لکھنا نہیں آتا ، ریاضی کی جمع تفریق نہیں آتی، انگلش کی درخواست نہیں آتی، حتیٰ کہ اردو کی جوڑ توڑ بھی ٹھیک سے نہیں کر سکتی۔
میں نے بطور سربراہ ادارہ کچھ تو اپنی روایتی نرمی اور کچھ والدین کی پریشان صورت دیکھ کر اس بچی کو داخلہ دے دیا ۔خصوصاً میرا دل اس وقت اور بھی نرم پڑ گیا جب مجھے بچی کی والدہ نے اپنے غریب ہونے اور باپ کی محنت مزدوری کر کے بچوں کو پالنے والی کہانی سنائی اور یہ بھی بتایا کہ اگر اسے آپ نے داخلہ نہ دیا تو بچی کو گھر ہی بٹھانا پڑے گا کیونکہ باقی ہائی سکول ان کے قصبے سے کافی دور ہیں۔ ان سکولوںکا خرچہ وہ لوگ پورا نہیں کر سکیں گے۔ میں نے سوچا کوئی بچی غربت اور داخلہ ٹیسٹ میں ناکامی کی وجہ سے گھر بیٹھ جائے اور اس کی تعلیم کا سلسلہ ختم ہو جائے یہ کچھ مناسب نہیں۔ اور کلاس ٹیچر کو تاکید کی کہ خصوصی توجہ سے بچی ٹھیک ہو جائے گی۔
اس نے بد دلی سے میری بات سنی اور منہ بسورے چلی گئی کہ ہیڈ کےآگے بولنا بھی دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر پالنے والی بات تھی ۔
اب میں نے تو داخلہ دے دیا مگر ایک دن بھی اس بچی کے حوالے سے سکون کا نہ گزرتا ،آئے روز شکایتوں کی ایک لمبی لسٹ سننے کو ملتی جس میں چھٹیاں کرنا ،ہوم ورک کر کے نہ لانا، سبق نہ سنانا،کلاس میں دورانِ تعلیم ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالنا،اگر دو لفظ کبھی سنائے بھی تو لکھنے کا تصور بھی نہیں، بدتمیز الگ سے ہے،ایسی شکایتیں شامل ہوتیں۔ ششم تا نہم اسے اگلے گریڈ میں کرنے کے لیے میرے پاس ہمیشہ دو جواز ہوتے تھے جن کے آگے کلاس ٹیچر چپ ہو رہتیں ۔ایک تو یہ کہ میں غریب والدین کا دکھ نہیں دیکھ سکتی جو اس بچی کے لیے اسٹیشنری، فیس اور کرایوں کا بندوبست کرنے کے لیے مزدوری کرتے ہیں اور جب انہیں یہ پتہ چلے کہ بچی فیل ہے تو وہ اسے مزید تعلیم سے روک دیں گے۔ اور دوسرا جواز یہ کہ میں فطرتاً کسی بھی بچے کو نالائق نہیں سمجھتی تھی اور میرا یہ ذاتی خیال تھا کہ یہ محض بچوں کی غیر سنجیدگی اور لاابالی پن ہوتا ہے،اگر بچوں کے اندر پڑھنے کا عزم پیدا ہو جائے تو وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں۔
لیکن نہم کا رزلٹ آنے پر میرا یہ اندازہ اس بچی نے غلط ثابت کر دیا اور وہ پانچ مضامین میں فیل ہو گئی جس پرمجھے بھی اپنے اسٹاف کی ڈھکی چھپی تنقید سننی پڑی کہ ہم نے تو داخلے کے وقت ہی کہا تھا کہ بچی کچھ کر ہی نہیں سکتی، آج وہ بورڈ کے امتحان میں فیل ہو گئی ہے۔ فاریہ کے ساتھ پندرہ اور بھی بچیاں تھیں جو مختلف مضامین میں فیل ہو گئیں اور سکول کا رزلٹ بھی ان کی وجہ سے متاثر ہؤا۔ میں نے طالبات کو بلوا کر انہیں اگلی حکمت عملی سمجھائی اور بتایا کہ پانچ مضامین والے بچے دوبارہ نہم میں بیٹھیں اور دوبارہ امتحان دیں جبکہ دو یا تین مضامین والے بچے دہم میں اس شرط پر بیٹھیں گے کہ اگر وہ فیل شدہ مضامین کی تیاری بھی ساتھ ساتھ کریں اور اگلے سال ان میں بھی پاس ہونے کی کوشش کریں ۔

تمام طالبات اس نکتے کو سمجھ گئیں اور پانچ مضامین میں فیل ہونے والی تمام طالبات دوبارہ نہم میں داخل ہونے پر متفق ہو گئیں اور ا ن کے والدین بھی سوائے فاریہ کے ۔ وہ بضد تھی کہ وہ دہم میں ہی بیٹھے گی جبکہ اس کے والدین اور اساتذہ اس کو دہم میں بٹھانے پر رضامند نہیں تھے۔ پہلی بار مجھے احساس ہؤا کہ بچی نہ صرف یہ کہ نالائق ہے بلکہ انتہائی بدتمیز بھی۔ اس نے مجھے میرے منہ پر ہی صاف صاف بول دیا کہ وہ کسی صورت نہم میں دوبارہ نہیں بیٹھے گی اور اگر اسے مجبور کیا گیا تو وہ کسی اور سکول جا کر داخلہ لے لے گی۔
اب کےمیں نے بھی واضح کر دیا کہ وہ بےشک کہیں اور داخلہ لے مگر اس سکول میں وہ نہم میں ہی بیٹھے گی۔ پھر اگلے دن مجھے فاریہ کی کلاس ٹیچر نے بتایا کہ اس نے سکول چھوڑنے کا پیغام بھیجا ہے اور گھر میں کافی ہنگامہ کیا ہے ،اپنے والد کو مجبور کر رہی ہے کہ اسے دوسرے سکول میں داخل کروائیں۔ میں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ہمارے سکول کی بچی کو سکول نہیں چھوڑنا چاہیے، اسے دہم میں ہی بٹھا لیتے ہیں، اور اسے دہم میں بیٹھنے کا پیغام بھیج دیا ۔
مگر وہ سکول واپس نہیں آئی ۔کچھ دن کے بعد اس کی والدہ آئیں اور سرٹیفیکیٹ مانگا اور روتے ہوئے بتایا کہ فاریہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ خودکشی کر لے گی ۔ اس دھمکی پر میں نے خاموشی سے سرٹیفیکیٹ دے دیا کہ آج کے دور کے بچے اور ان کے جذباتی فیصلے بہت خطرناک ہوتے ہیں۔اور ہم ٹھہرے سرکاری ملازم سارا الزام ہمیں کو سہنا پڑے گا۔
ایک ہفتہ گزر گیا ،میں اس بات کو بھول گئی کہ ملازم نے آکر بتایا کہ فاریہ اور اس کی والدہ آئی ہیں۔انہیں آفس میں بلوایا تو پتہ چلا کہ فاریہ کو دوسرے سکول کی پرنسپل نے داخلہ نہیں دیا تھا اور وہ دوبارہ اسی سکول واپس آگئی ہے۔ میں نےاسے غصے کی اک نگاہ سے دیکھا اور کہا کہ اب واپسی کی گنجائش نہیں لہٰذا وہ چلی جائے۔مگر اس نے معافی مانگی اور رونا شروع کر دیا ،نہم میں بیٹھنے پر تیار بھی ہو گئی اور پڑھنے کا وعدہ کیا۔میں نے اس کو دوبارہ بٹھانے پر رضامند نہیں تھی مگر ایک بار پھر غریب والدین کی خاطر اسے بٹھا لیا ۔لیکن اس بار میں نے اپنا ایک پیریڈ کلاس نہم میں بھی لگا لیا۔
دورانِ تعلیم مجھے اندازہ ہؤا کہ ناکام بچوں کو اسباق یاد نہیں ہوتے ، تحریری امتحان میں تو کچھ بھی لکھ نہیں پاتے اور اسباق کی سمجھ کا معیار بھی کچھ کم ہی ہے۔ اس دوران میری خصوصی توجہ فاریہ کی طرف بھی تھی۔ جب بھی اسے سبق کے لیے کھڑا کیا جاتا وہ دونوں ہاتھ سینے پر لپیٹے کھڑی ہو جاتی اور کچھ لکھنے کو کہا جاتا تو اس کے صفحے پر لکھا ہؤا ایسے دکھائی دیتا جیسے کچھ مچھر مار کے رکھے ہوں۔ دوسرے بچوں کا بھی کم وبیش یہی حال تھا ، میں نے اسٹاف سے مل کر تفصیلی بات کی اور انہیں مشورہ دیا کہ ان بچوں کے لیے ہمیں حکمتِ عملی تبدیل کرنا پڑے گی۔ پہلا کام میں نے یہ کیا کہ بچوں کے اسباق میں کمی کی اور اساتذہ کو بتایا کہ آپ کے لیے فرداً فرداً ایک پیریڈ ہوتا ہے لیکن بچوں کے لیے وہ دس پیریڈ ہیں جس کی وجہ سے ان پر بوجھ بن جاتا ہے تو کیوں نہ اسباق کم کر کے دیکھا جائے ۔ جب یہ حکمتِ عملی اپنائی گئی تو بچوں نے مثبت ردعمل دینا شروع کیا۔ اس کے بعد میں نے دوسرا کام یہ کیا کہ بچوں کی لکھائی کی مہارتیں درست کروانے کا فیصلہ کیا جس پر اساتذہ نے کچھ جز بز کی کہ اب نصاب مکمل کروائیں یا لکھنا سکھائیں، لکھائی درست کروانا ویسے بھی پرائمری اساتذہ کا کام تھا۔ میں نے سمجھایا کہ اگر ان بچوں کو پہلے کسی نے لکھنا نہیں سکھایا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب اس کمی کو ایسے ہی رہنے دیا جائے اور یہ ذرا بھی مشکل نہیں ۔ طے یہ ہؤا کہ ہر پیریڈ کے آغاز میں لکھائی کے دس منٹ رکھے جائیں گے جس میں تختہ سفید پر ہجے لکھ کر دیے جائیں گے اور بچے اپنی کاپیوں پر مشق کریں گے۔
شروع میں تو سب کو کچھ جھجھک سی محسوس ہوئی کہ یہ کیا بچوں کی طرح اب الف ب سیکھیں اور سکھائیں مگر بعد میں یہ سلسلہ اتنا دلچسپ ہو گیا کہ بچوں نے بہت شوق سے اس کو سیکھا اور جب ان کے لکھنے کا مسئلہ حل ہوا تو انہوں نے پڑھنا بھی شروع کر دیا ،اب ان کے تحریری امتحانات بھی اچھے ہو گئے۔ بچوں نے کلاس میں سوالات کے جوابات بھی دینے شروع کر دیے ،پہلے پہل تو وہ الٹے سیدھے جوابات دیتے جیسے میں نے ایک بار طبیعات کی کلاس میں پوچھا کہ سب سے اچھی مشین کونسی ہوتی

ہے تو سب سے پہلے فاریہ نے ہاتھ بلند کیا اور کہا کہ کپڑے دھونے والی مشین ،اس پر مجھے ہنسی آ گئی اور مجھے ہنستا دیکھ کر ساری کلاس ہنسنے لگی ۔پھر اسے سمجھایا کہ وہ مشین جو کم انرجی لے کر زیادہ کام کرے سب سے اچھی ہوتی ہے۔ ایک دن پوچھا کہ دھات اور لکڑی کو چھونے سے دھات ٹھنڈی محسوس ہوتی ہے جبکہ لکڑی نہیں وجہ بتائیں، تو کہنے لگی کہ وہ سردی میں رکھی ہوتی ہیں اس لیے ۔ اس پر جماعت ایک بار پھر زعفران زار بن گئی ۔
یوں جواب دیتے دیتے وہ سب طالبات اب صحیح جواب دینے لگیں اور کافی حد تک اپنی کمیوں پر قابو پانے لگیں ۔ اور میرے ساتھ اپنے احساسات بھی شئیر کرنے لگیں ، حالاتِ حاضرہ پر بات بھی ہوتی اور اپنی اپنی آرا کا اظہار بھی، جنرل نالج میں اضافہ بھی ہوتا۔ کتنا اچھا لگتا ہے ایک استاد کو جب وہ اس بچے کو بولتا سنے جو کبھی ایک لفظ منہ سے نہ نکالتا تھا ۔
پھر امتحانات ہوئے اور نتیجہ بھی آیا جو بہت اچھا رہا ۔سب بچے اچھے نمبر لے کر پاس ہوئے اور فاریہ بھی ۔ اس نتیجے نے اس کے اعتماد میں اضافہ کیا اور دہم میں بھی ہر کام وہ بہت اچھے سے کرنے لگی۔ اساتذہ اور میں خود حیران تھے ۔ اس نے سکول کی ادب سوسائٹی میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا ، وہ بہت اچھی نعت پڑھتی تھی اس کی آواز بہت پیاری تھی ، اس کی اس صلاحیت کو جب پذیرائی ملی تو اور بھی پر اعتماد ہو گئی۔ پھر اس نے جماعت دہم کا امتحان بھی اچھے نمبرلے کر پاس کر لیا۔ میرے پاس اپنا نتیجہ لینے آئی تو کہنے لگی کہ میرے دل میں پڑھنے کا اصل جذبہ اس دن پیدا ہؤا تھا جس دن آپ نے مجھے معاف کر کے دوبارہ داخل کر لیا۔ میں نے اس دن سوچا کچھ بھی ہو پاس ہو کر اپنی میم کو خوش کروں گی۔ میرے مشورے پر اس نے ہوم اکنامکس لینے کا فیصلہ کیا اور بہت سی دعاؤں کیساتھ وہ اور دیگر بچے سکول سے رخصت ہو کر کالج چلے گئے۔
وہ کبھی کبھار کال کرتی تھی اور اپنی پڑھائی کے بارے بتاتی تھی ۔ کچھ دن پہلے اس نے مجھ سے دعا کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ اسے اگر 85فیصدنمبر مل جائیں تو وہ ہوم اکنامکس کالج میں وظیفے کی بنیاد پر داخل ہو سکتی ہے ،اگر نہ لے سکی تو مزید تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا والد کی آمدنی اتنی نہیں ہے ۔ میں نے بہت تسلی دی اور کہا کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی ، تم نے دوا کی ہے تو دعا بھی لگے گی ۔
اور آج اس کا رزلٹ تھا ۔ موبائل پر فاریہ کا نام چمک رہا تھا اور میں دھڑکتے دل سے کال اٹھا رہی تھی ۔
’’السلام علیکم میم …. آپ کیسی ہیں ؟ ‘‘ فاریہ نے کہا تھا۔
’’میں ٹھیک…. ‘‘جواباً میں اتنا ہی کہہ سکی اور فاریہ کے لہجے کے اتار چڑھاؤ سے خوشی یا مایوسی کشید کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
’’میم….میں نے لے لیے ہیں نمبر…. آپ کی دعاؤں کے ساتھ….میں وہ دن نہیں بھول سکتی جب آپ نے…. اور آپ نے فلاں دن فلاں بات…. ‘‘
فاریہ بولتی جا رہی تھی اور میں ایک انجانی خوشی سے لبریز تھی ۔ میری روح سرشار تھی ۔مجھے خود دراصل اقبال ؔکے اس شعر کا مفہوم آج اس کے نتیجے کے دن سمجھ آیا کہ:
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x