ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

کرایہ دار – بتول اکتوبر۲۰۲۲

طیبہ یاسمین مرحومہ بتول کی مستقل کالم نگارتھیں ۔ ان کے شگفتہ طرز تحریر کا ایک نمائندہ کالم اس بارقندِ مکرر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے ۔

کرایہ دار کون ہوتا ہے ؟
اس کی تفصیل اور تشریح تو بیان کرنے کی میرے خیال میں کوئی ضرورت نہیں ۔ کیونکہ یہ ہر ملک کی آبادی کے اہم مکین ہوتے ہیں ۔ ان میں بچے ، بوڑھے ، مرد اور عورت سبھی شامل ہوتے ہیں۔ البتہ اس طبقہ کی مظلومیت ، بے کسی اور بے وقعتی سے کوئی کوئی ہی واقف ہے ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ معاشرہ کے دوسرے درجہ کے شہری ہوتے ہیں ۔ ان کا محلہ میں کوئی مستقل سماجی مقام نہیں ہوتا اور ان سے سماجی لین دین ، میل ملاقات اور راہ و رسم بڑی عارضی سی ہوتی ہے ۔ محلہ کے تصفیہ طلب معاملات میں ان کی رائے کو بڑی کمزور حیثیت حاصل ہوتی ہے کہ وہ تو خانہ بدوشوں کی طرح آج یہاں ، کل وہاں ہوتے ہیں بھلا ان کی رائے لے کر کیا کرنا ؟
کرایہ دار بے چارہ کبھی یہاں اور کبھی وہاں ۔ ہزاروں لاکھوں کے حساب سے روپے ادا کر چکتا ہے گھر اس کا اپنا ایک تنکا بھی نہیں ہوتا ۔ اوپر سے مالک مکان کی آمد اور تنقید کا ہر لحظہ دھڑکا ، کہ اس کی آمد کبھی خیریت سے نہیں ہوتی ۔ وہ آمد یا تو کرایہ بڑھانے کے لیے یا پھر مکان خالی کرانے کے لیے ہوتی ہے ۔ خیر خیریت پوچھنے کے لیے مالک مکان کبھی تشریف نہیں لاتا ۔ اسی لیے بے چارہ کرایہ دار اس کی آمد پر ’’ جل تو جلال تو ‘‘ کا ورد کرتا اور جتنی دعائیں مصیبتیں ٹالنے کی یاد ہوں بڑی رقت اوردرد انگیزی سے ورد کر کے پھونکتا اور ان کی تاثیر کا منتظر ہوتا ہے اور اسی پر بس نہیں ہوتا جب مکان خالی کیا جاتا ہے تو بے شمار قسم کے اعتراضات جن میں گھر کو پرانا کرنے کا الزام بھی شامل ہوتا ہے ۔جیسے انسان کے بوڑھا ہونے کو قابل مذمت قرار دیا جائے اور وقت کے نا قابل تسخیر اثرات کی قوت کو قبول نہ کیا جائے ۔
کرایہ دار کو عجیب و غریب مخلوق سمجھا جاتا ہے ۔ جیسے وہ عام انسانی مخلوق نہ ہوں نہ ہی اس معاشرہ کی تہذیب کا حصہ ہوں ، بلکہ انسانوں ہی کا ایک عجیب و غریب گروہ ۔ ایک مالک مکان کے بچہ نے کرایہ دار کے بچہ کا نام پوچھا اس نے اپنا گھریلو نام (نک نیم) ٹیپو بتایا ۔ سن کر وہ کہنے لگا ’’ان کرایہ داروں کے بچوں کے نام بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے ٹیبو ، پیپووغیرہ‘‘۔
کیسی مالک مکان کے ساتھ والے گھر میں کوئی کرایہ دار آیا ۔ اس سے پوچھا کون لوگ ہیں اور کیسے ہیں ؟ جواب ملا ’’ ہیں بس کرایہ دار جیسے ‘‘۔ گویا کرایہ دار کوئی خاص قسم کی چال ڈھال اور رہن سہن رکھتے ہیں اور تو اور بعض برتن دھونے والی ماسیاں اور صفائی والی جمعہ دار نیاں بھی اپنا رویہ مالک مکان اور کرایہ دار مالکن سے مختلف رکھتی ہیں ۔ ایک برتن دھونے والی ماسی نے ایک کرایہ دار کے برتن یہ کہہ کر دھونے سے انکار کر دیا کہ ان کا کیا پتہ آج یہاں اور کل وہاں ۔ میں کل کو کہاں پھر نیا گھر ڈھونڈتی پھروںگی !اور حد تو یہ ہے کہ میں ایسی تین بہنوں کو جانتی ہوں جنہوں نے بوڑھا ہونے کو گوارا کرلیا مگر کرایہ دار کے ساتھ شادی نہیں کی۔
کرایہ دار کی بے وقعتی اور گھٹیا سمجھے جانے کا حال کچھ اس واقعہ سے بھی ہوتا ہے کہ ایک بہو کا اپنی ساس کے ساتھ جھگڑا ہو گیا ۔ بہو نے ساس کو ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔ ساس کہنے لگیں ۔
’’ہونہہ! ماں باپ تو کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں اور یہ بڑھ بڑھ کر باتیں بنا رہی ہے ‘‘۔
ایک مالک مکان کے جس نے اوپر کا حصہ کرایہ پر دے رکھا تھا ، والد بزرگوار انتقال فرما گئے ۔ کسی نے پوچھا ’’ کہ آپ کے والد صاحب کو کیا ہؤا تھا ؟‘‘ جل کر کہنے لگیں ’’ ہونا کیا تھا ؟ جب سے یہ نئے کرایہ دار آئے ہیں میرے ابا جی کا انتقال ہو گیا ہے ۔‘‘ یعنی کرایہ دار اب زندگی و موت پر بھی حاوی ہونے لگے ہیں۔
ایک کرایہ دار کو زندگی کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد اپنا گھر نصیب ہؤا ان کے اہل محلہ جب کسی سے تعارف کراتے تو یہ کہتے ’’ پہلے یہ فلاں جگہ کرایہ پر رہتے تھے اب انہوں نے اپنا گھر بنا یا ہے ‘‘۔ مجھے اس پر اہل جنت کا وہ طبقہ یاد آگیا جو اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر جب جنت میں آجائیں گے تو جنتی ان کو جہنم والے کہہ کر پکاریں گے ۔
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x