ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ولی – بتول جنوری ۲۰۲۳

مسعود کی زندگی میں چند چیزوں کا خاص عمل دخل تھا۔ زمین ادھر سے ادھر ہو جائے لیکن اسے بس انہی چیزوں کی پروا تھی جن کا اس نے از خود اہتمام کر رکھا تھا۔
نمبر ایک، پیسہ ہی سب کچھ ہے ،پیسہ کمانے کے لیے جو بھی کر سکتے ہو جس سے جتنا مفاد لے سکتے ہو لے لو۔
نمبر دو ،کھانا ہی بس زندگی نہیں ہے ،کھانے کے علاوہ بھی زمانے میں بڑے دکھ ہیں جب شادی بیاہ کی تقریبات میں لوگ پلیٹوں میں کھانا ڈال ڈال کر پہاڑیاں کھڑی کرتے وہ آرام سے سلاد ٹھونگ کر یا حسب ضرورت کھا پی کر فارغ بھی ہوجاتا ۔لوگ جو پیسہ کھانے پینے پر خرچ کرتے وہ اسی مد میں پیسہ جمع کیے جاتا۔ ہاں نمود و نمائش کا وہ شوقین ہی نہیں جنونی تھا ۔کھانا پینا تو کبھی موضوع گفتگو نہ بن سکا لیکن گاڑی جدید ماڈل کی ہونی چاہیے۔ گھر ایسا ہو کہ لوگ سات کوس دور سے بھی گزریں تو چونک کر پوچھیں یہ کس کا گھر ہے۔
اور یہ سب بغیر محنت مشقت کے نہیں ملتا ہے ۔محنت کرنے کو بھی اس کے پاس کون سا بیسویں گریڈ کی نوکری تھی یا وہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی کا ہیڈ تھا جومحنت سے حاصل کر لیتا۔اس کے پاس تو میٹرک کی سند بھی نہیں تھی ، انگریزی میں فیل تھا ،تین چانس ملے تینوں میں اس کی اور اس موئی فرنگیوں کی زبان کی علیک سلیک نہ ہو سکی اور وہ ایک دوست کے چچا کے توسط سے لیبر ویزہ پر بحرین سدھار گیا ۔
شروع میں تو کفیل کے لیے ہی کمائی کا زیادہ تر حصہ نکلتا رہا پھر آہستہ آہستہ جمع کرنے کا ہنر بھی آتا گیا۔چند سالوں میں اس نے اپنی دونوں چھوٹی بہنوں کی خوب دھوم دھام سے شادیاں کیں جس خاندان میں شوربے والا سالن اور میٹھے کے نام پر زردہ دے کر لڑکیاں رخصت کی جاتی ہوں وہاں اس نے ٹرک بھر کر جہیز کے علاوہ لڑکے کی ماں کو بھی سونے کے کڑے ڈالے ہوں لڑکے کو موٹر سائیکل سلامی میں دی ہو اسے دھوم دھام نہ کہیں تو کیا کہیں۔
پھر اس کی اپنی شادی ہوئی سارا ہی پیسہ خرچ ہوگیا کئی دن تک لوگ اس شادی اور اس کی بارات کی روانگی کے وقت دولہا پر نچھاور کیےجانے والے نوٹوں کو یاد کرتے رہے ۔
شادی کے بعد ڈیڑھ ماہ کے قیام میں اس نے جی بھر کے اس کے ارمان پورے کیے جہاں بیوی نے کہا لے کر گیا جو کہا خرید کر دیا اور تو اور جو کھانے کی فرمائش کی ،کھانے پینے پر کبھی خرچ نہ کرنے والے نے رج کے خرچ کیا اور اتنا خرچ کیا کہ بحرین واپس جانے کے لیے ٹکٹ کے پیسے تک ادھار لینا پڑے ۔
جاتے وقت بیوی کی آنکھوں میں ساون بھادوں کی برسات تھی رو رو کر وہ ہلکان ہو رہی تھی کئی دن پہلےہی اس نےمورا جیا نہیں لاگے گانا شروع کر دیا تھا مگر جانے والا چلا گیا پورا سال بیوی واپسی کے لیے طرح طرح کے حربے آزماتی رہی ۔
میرا جی متلانا شروع ہو گیا ہے ،ہر چیز سے بساند آتی ہے ،مجھے خیر سے پانچواں مہینہ شروع ہو گیا ہے۔الٹراساؤنڈ والی ڈاکٹر نے بیٹی کی خوشخبری دی ہے۔مجھ سے ہلا نہیں جاتا پائوں سوج سوج کے فیل پا بن گئے ہیں ۔خون کی بے حد کمی ہے ۔ڈاکٹر نے ذرا بھی تسلی نہیں دی مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں چیر پھاڑ ہی نہ کریں ۔
سارے خدشات جوں کے توں پورے ہوئے۔حالت بھی خطرے میں رہی آپریشن بھی ہؤا اور چھٹانک بھر کی بچی پیدا ہوئی ، پورے دس دن بچی انکوبیٹر میں رکھی گئی لیکن ظالم باپ کا دل نہ پسیجا۔جب

سارے خدشات جوں کے توں پورے ہوئے۔حالت بھی خطرے میں رہی آپریشن بھی ہؤا اور چھٹانک بھر کی بچی پیدا ہوئی ، پورے دس دن بچی انکوبیٹر میں رکھی گئی لیکن ظالم باپ کا دل نہ پسیجا۔جب اس کی ماں نے منت سماجت کی،بہنوں نے ڈراوے دیے بیوی نے اپنے سر کی قسم کھا کر واپسی پر مجبور کیا تو بھی اس کا یہی جواب ہوتا ،ہونی کو کون ٹال سکتا ہے جو ہونا ہے وہ میری موجودگی میں بھی ہوکر رہے گا اس لیے میں تو تب ہی آئوں گا جب میرے پاس سب کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے مٹھی بھر پیسہ موجود ہوگا۔
مسعود پاکستان آیا جب اس کی سعدیہ سات ماہ کی ہو چکی تھی باپ نے گود میں لیا تو یوں سسکیاں بھر بھر کے روئی جیسے بھڑ نے کاٹ لیا ہو اگلے دو ماہ میں جب وہ مانوس ہوئی باپ کے گلے کا ہار بن گئی جہاں جہاں بٹیا رانی کو گود میں اٹھائے بل جمع کروانا ہے تو ساتھ ،راشن لینا ہے تو ا س کی گود میں سعدیہ ہوتی ۔اب کے اس نے اپنے تحائف کو ماں بہنوں کے ساتھ بیوی اور بیٹی میں تقسیم کیا خوب پیار اور پیسہ لنڈھا کے پھر واپس چل دیا ۔
ماں نے سو سو ترلے مارے ۔
’’ائے مسعودے میری بوڑھی ہڈیوں میں کہاں اب دم خم کہ تیرے ریوڑ کی نگرانی کروں تو یہیں کوئی دھندہ کر لے‘‘۔
بیوی نے پھر چھما چھم آنسو بہائے ہاتھ جوڑ کر واسطہ دیا۔ پر نہ بھئی نہ مسعود رکنے کے لیے تو نہیں آیا تھا دم بھر سانس لینے کو اور قبیل داری میں اضافے کے لیے آیا تھا جو سات ماہ کے بعد ولی عہد کی صورت میں ہؤا ۔
کون ہے جسے پہلے بیٹے کی خوشی نہ ہوتی ہو اس نے بیٹے کی خوشی میں ماں بیوی دونوں بہنوں کو سونے کے زیورات خرید کر بھیجے ساس کو عمدہ جوڑا بھجوایا من بھر لڈو کا بحرین میں بیٹھے آرڈر کیا ختنے ہوئے تو سارے علاقے میں دیگیں بنوا کر گوشت چاول بانٹے مگر خود نہیں آیا ۔
سال بھر ماں کی منت سماجت اور بیوی کا گیلا پروگرام جاری رہا تب پاکستان آمد ہوئی پچھلی تاریخ دہرائی گئی خوب پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا سب خوش تھے پہلے دن سے غیر محسوس طریقے سے بیوی نے اسے واپس نہ جانے اور پاکستان میں مقیم رہنے کے فوائد بتانا شروع کر دیے بیوی کی ہر بات پر وہ آمنا و صدقنا کہتا رہا بیوی جی ہی جی میں خوش ہوتی رہی اسے بھی دوبچوں کے ساتھ ہر لمحہ میاں کی ضرورت محسوس ہوتی تھی ۔ لیکن وہ دن بھی طلوع ہو ہی گیا جب وہ دو بچوں کے ساتھ بیوی کے آنسوؤں کی پرواکیے بغیر چلتا بنا ۔
اس کے بعد تاریخ نے کیلنڈر کے صفحات نہیں تبدیل کیے دو کیلنڈر ہی بدل ڈالے تیسرا سال اپنے آغاز کے ساتھ مسعود کی آمد کی خبر لایا ماں سفید بالوں اور جھریوں سے بھرے چہرے کے ساتھ اس مرتبہ اسے کہیں بیمار لگی ،پانچ سالہ بیٹی بھی اپنی ٹانگوں جتنی لمبی محسوس ہوئی۔
مسائل کی نوعیت بدل گئی تھی مگر وہ رکا نہیں یہ اعلان کر کے بحرین واپس آگیا کہ اب کہ وہ پانچ سال نہیں آئے گا ۔
سب کی کیوں کا ایک ہی جواب تھا پہلے بہنوں کی باعزت رخصتی کے لیے کمایا پھر اپنی شادی ہوئی اب اولاد کے لیے اتنا تو کمائے گا کہ بچوں کے لیے کوئی مکان ،زمین کا ٹکڑا خرید سکے ۔
بیوی کے لب بھنچے ہوئے تھے۔بچوں کے لبوں پر شکوے شکایتوں کے پلندے ۔ماں نے اپنی بیماری کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا کہ اکلوتے بیٹے کا دل پسیج جائے لیکن بیٹا کمائی کی پنج سالہ مشین بننے کے لیےروانہ ہو گیا ۔
سب ہی جانتے تھے کہ اس کے منہ سے نکلی بات پتھر کی لکیر ہوتی ہے۔سب جانتے ہیں بھلے جو بھی ہو جائے وہ پانچ سال سے پہلے واپس نہیں آئے گا ۔لیکن روانگی کے صرف اور صرف سات دن کے بعد وہ واپس آگیا۔کسی پردیسی ،لٹےپٹے مہاجر کی طرح۔آنکھوں میں وحشت لیے ،رت جگوں سے قدم رکھتا کہیں توپڑتا کہیں اور تھا۔سب پوچھ پوچھ کر تھک گئے۔
اچانک….؟
بغیر بتلائے ؟اتنی جلدی ؟
ہؤا کیا؟
اس نے بس بیوی کو چپکے چپکے بتایا اس کے ساتھ دوسرے پاکستانی دوست جو عرصہ سترہ سال سے اس کے ساتھ کام کر رہا تھا ،انتہائی شریف النفس اورسادہ مزاج کے عبدالشکور کی پندرہ سالہ بیٹی نے محلے کے سب سے آوارہ لڑکے کے ساتھ خفیہ طور پر کورٹ میرج کر لی اور پتہ اس وقت چلا جب بیٹی کو ہیضہ ہونے کی علامتوں پر ماں ہسپتال لے کر گئی تو یہ بھیانک انکشاف ہؤا کہ وہ تو پردیس میں کولہو کے بیل بنے باپ کو بہت جلد نانا بنانے کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ مسعود کے دوست کو تو سنتے ہی دل نے دھڑکنے سے انکار کردیا ،مسعود اسے ہاسپٹل لے گیا جہاں اسے دوسرا دورہ پڑا اور ملک عدم کا راہی ہؤا ۔

انا للہ وانا الیہ راجعون۔
چھے فٹ کا کڑیل مرد منے بچے کی طرح ہچکیاں لے لے کر رو رہا تھا ۔مجھے لگا میری سعدیہ کورٹ میں کھڑی کہہ رہی ہے ۔میرا کوئی ولی نہیں میرا کوئی وارث نہیں ،میں اپنی مرضی سے نکاح کرنے کے لیے یہاں پر موجود ہوں۔میں ہوں ناں اس کا کفیل ،اس کا ولی اس کا وارث ،وہ بھل بھل بہتے آنسو صاف کرتے ہوئے کہہ رہا تھا اور بیوی سوچ رہی تھی روزی روٹی تو جتنی مقدر میں لکھی ہےاتنی ہی ملے گی رہنے کو کنال بھر کی کوٹھی نہ بھی ملے خیر ہے لیکن عزت اور وہ بھی بیٹی کی ؟ کون سمجھوتہ کرے ۔
٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x