ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

واہ مز ا آگیا – نور نومبر ۲۰۲۰

واہ مز ا آگیا

شاخ پر جب لگے
سبز ڈوڈے تھے یہ

سبز چادر لیے
ان میں دانے بنے

شکل چوکور سی
اور کچھ گول بھی

اِک طرف نوک تھی
پودے ہلتے تھے جب

ایسے لگتا تھا تب
کان میں بالیاں

پہنے ہیں ڈالیاں
یا کہ پہنے ہوں ہار

گول اور نوک دار
جیسے دلہن کوئی

کھیت میں ہو کھڑی
نرم کھانے میں تھے

پیارے لگتے تھے یہ
جب ذرا پک گئے

بولے بچے بڑے
ہر طرف شور اٹھا

چھو لیا آگیا
چھو لیا آگیا

ہنڈیا پکنے لگی
کیا مزے دار تھی

شوربا تھا کہ یا
یخنی تھی مرغ کی

چاولوں میں چنے
ڈال کر جب پکے

سارے چھوٹے بڑے
چاٹتے رہ گئے

انگلیاں وہ سبھی
واہ! کیا بات تھی

کھیت کٹنے کا اب
آگیا دور جب

حسن گہنا گیا
زرد رنگ چھا گیا

حسن فانی تھا ، یاں
مان کس چیز کا

ذائقے دار وہ
چھولیا نہ رہا

کچا کھانے کا اب
وہ مزا نہ رہا

نرمی جانے کہاں
چل دی منے میاں

اب تو کالے چنے
سخت جاں ہو گئے

پھر سنیں ماجرا
قلب حیران تھا

ان کو کوٹا گیا
خول توڑا گیا

یہ تھے کالے سیاہ
جیسے حبشی سپاہ

پہنے کالا لباس
ہو کھڑی شہ کے پاس

گھر میں لائو میاں
بھر کے کئی بوریاں

سن مری بات آج
یہ تو ہے اِک اناج

ان کے اندر چھپے
کتنے ہی فائدے

رب نے کی ہے عطا
ان کو طاقت سوا

یہ ہیں کالے چنے
پکنے والے چنے

چاہے سالن بنائو
یا بنا لو پلائو

یہ چنے تھے جنہیں
چکی کے پاٹ میں

ڈال کر جب دلا
خوب رگڑا لگا

بھر گیا ان سے ٹب
رنگ تھا زرد تب

دال بننے لگی
ہنڈیا پکنے لگی

جب بگھاری گئی
خوش بو آنے لگی

بول اٹھے سب کے سب
روٹی کھانے کا اب

اور ہی ہے مزا
واہ ! واہ! واہ! واہ!

جب یہ بھونے گئے
کھیل بنتے گئے

وہ سیہ پیر پن
پھر اترنے لگا

اِک نیا روپ تھا
اِک نیا رنگ تھا

حسن پھر آگیا
پہنے پیلی ردا

وہ سنہری چنے
جیسے موتی ڈھلے

جب چبائے گئے
یا کہ کھائے گئے

ہر کوئی کہہ اٹھا
واہ مزا آگیا

٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x