ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

میں زندہ ہوں – نور مارچ ۲۰۲۱

یہ داستان میری حیات زندگی پر مشتمل نہیں ہے۔یہ میرے بھائی سلمان کی زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔ ویسے ہی جیسے مصطفی زید ی نے اپنے بھائی مجتبیٰ زیدی کی وفات پر نوحہ لکھا تھا۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جنا ح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح نے بھی اپنے بھائی کے حوالے سے کتاب لکھی تھی۔مجھے اورسلمان کو بھی اتفاق سے بہت سی وجوہات کی بنا ء پر قائداعظم اور فاطمہ جناح کے القاب سے پکارا جاتا رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اپنے احساسات وجذبات کو بیان کرنے اور اپنے بھائی کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیےاس روداد کو بیان کر رہی ہوں کہ ایک بھائی اور بہن کی محبت ہمیشہ سے لازوال رہی ہے۔اس کو پڑھ کر بہت سارے لوگوں کو نہ صرف حب الوطنی کا احساس ہوگا بلکہ یہ بھی معلوم ہوگا کہ وطن کے لیے قربان ہونے والے کیسے انمول ہوتے ہیں جو کہ سب کچھ اپنے مادروطن کے لیے لٹا دیتے ہیں۔یہ زندگی ایک بار ملتی ہے،اس میں انسان کو اتنا کچھ کرکے رخصت ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں،یادوں میں ہمیشہ بسا رہے۔اُس کا کردار اتنا مضبوط ہو کہ وہ دوسروں کے لیے ایک مثال بن سکے۔’’ میں زندہ ہوں!جب تک میری کردار سے روشن ہونے والی کرنیں باقی رہیں گی ،میں فنا نہیں ہو نے والا ہوں‘‘۔
یوں بھی شہید کہاں مرا کرتے ہیں وہ تو زندہ وجاوید رہتے ہیں۔
صبح آنکھ کھلتے ہی دیوار پر آویزاںکیلنڈر پر دیکھا تو آج دس تاریخ تھی اوریہ آزادی کے مہینے سے ایک ماہ قبل کا مہینہ تھا۔میری آنکھیں نم سی ہو گئیںاور میں ماضی میں کھو گئی۔
مجھے یا دآ رہا تھا کہ ماہ اگست میں میرے پیارے راج دلارے بھائی سلمان کی سالگرہ آتی ہے۔ہرسال 24اگست کو ہم بڑی دھوم دھام سے اُس کی سالگرہ منایا کرتے تھے۔چونکہ میں دوسرے بہن بھائیوں کی بہ نسبت کچھ زیادہ ہی انسیت رکھتی تھی اس لیے میرے لیےاپنی سالگرہ سے زیادہ اُس کاجنم دن منانا زیادہ اہمیت رکھتاتھا۔اُس کی خوشی میں شامل ہونا میرے لیے خوشگوارہوا کرتا تھا۔
یوں تو ہر دن کی اپنی ایک خاص اہمیت ہےمگر کوئی دن ہماری زندگی میں کسی خاص واقعے کی بنا پر اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔جیسے میرے لیے 24اگست اوردس جولائی کا دن جو مجھے ہمیشہ ماضی میںجھانکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
اگست تو یوں بھی ہمارے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے کہ اسی ماہ میں مملکت پاکستان مسلمانوں کو ملی۔جس کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ۔قائد اعظم محمد علی جناح ؒنے اپنی زندگی اسی پاکستان کے حصول کے لیے وقف کر کے ایک ایسا تحفہ دیا ہے جو کہ تاقیامت قائم رہے گا۔ان شاء اللہ ۔
پاکستان کے حصول کے لیے ہزاروں بہنوں کی عزت لٹ گئی، کئی بھائی شہید ہوئے ،کئی مائیں بیوہ ہوئیں ،کئی باپ اپنے بچوں سے جدا ہوئے تھے۔آج اسی ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے لگ بھگ چالیس ہزار سے زائد جانیں شہادت کا رتبہ پا چکی ہیں۔کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ آزادی انمول نہ ہوتی تو کبھی اتنی قربانیاں اس ملک کے حصول کے لیے اور اس کی بقا وسلامتی کے لیے نہ دی جاتیں۔

٭٭٭

ہرسال دس جولائی کا دن مجھے کچھ تکلیف دیتا ہے اور میں اس دن بے حد افسردہ ہو جاتی ہوں۔ماضی کی ساری بھولی بسری یادیں میری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں۔ماضی اچھا ہو یا بُرا دونوں ہی صورتوں میں یادآتا ہے۔جب کوئی بہت خاص اپنا اس دنیا سے رخصت ہو جائے تو پھر توُ اس کی یادیں اکثر ہمیں تڑپاتی ہیں۔میری طرح اکثر لوگ ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ جاتے ہیں۔لیکن قوم کی بقا کی خاطر جان لٹانے والے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اُن کی شہادت پر فخر سارہتا ہے کہ شہادت کا رتبہ خوش نصیبوں کو ہی ملا کرتا ہے۔

٭٭٭

سلمان کی پیدائش پر سب ہی بہت خوش ہوئے تھے ۔یوں بھی وہ بچپن سے بے حد مسکرانے والابچہ تھا۔اُس کی مسکراہٹ اُس کی معصومیت کو دوبالا کرتی تھی ۔اُس کے بچپن کی بے شمار حسین یادیں مجھے یاد ہیں۔اکثر دل کرتا ہے کہ وہ دن پھر سے واپس آجائیں مگر ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔مگر اُس دور کی خوب صورت یادیں اورسلمان کی بے ساختہ مسکراہٹ جب بھی میری نگاہوں کے سامنے آتی ہیں تو میں اکثر آس پاس کے ماحول کو فراموش کرتے ہوئے اُس دور میں نکل جاتی ہوں جہاں بے فکری کی دنیا ہوتی ہے۔

٭٭٭

سلمان بھائی اُن بچوںمیں سے تھے جن کی والدین کو تربیت کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی ۔چونکہ وہ شروع سےہی ذمہ دارواقع ہوتے ہیں۔ سلمان کو بھی کم ہی سمجھانے کی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔وہ سب کچھ ازخود سے ہی اتنا اچھا کر لیا کرتا تھا کہ ہم سب بہن بھائیوں اور والدین کو اُس پر فخر سا محسوس ہوتا تھا۔
جب وہ شعور میں پہنچا تو اُس کو خوف خدا اس قدر زیادہ تھا کہ وہ حقوق اللہ کی خاطر کسی کی بھی پروا نہ کیا کرتا تھا ۔ وہ جب دوستوں میں ہوتا تھا یا کرکٹ کھیلنے کے میدان میں ہوا کرتا تھا اور اذان ہو جاتی تھی۔ تو وہ فورا ًکسی شرمندگی کا احساس کئے بنا وہاں سے رخصت ہو جاتا تھا کہ اُس کیلیے اللہ کی خوشنودی زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔نماز کے بارے میں قیامت کے روز سب سے پہلے پوچھا جائے گا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس سے غفلت برتی جائے۔جو شخص خوف خدا رکھتا ہو وہی اس کی پابندی کرتے ہیں اور سلمان بھائی ایسے ہی نیک بندوں میں سے تھے ۔جو اپنے رب کی رضا کو سب کچھ سمجھتے تھے۔

٭٭٭

بچپن میں جب بھی بارش ہو تی وہ بے حد خوش ہو جاتا ۔بارش کے قطروں کے بلبلوں کو دیکھ کر وہ کہا کرتا تھا کہ دیکھو فوج جا رہی ہے۔
فوج میں جانے کا عشق شاید اُسی زمانے سے اُس کو ہو گیا تھا۔ آج بھی جب بارش ہوتی ہے تو اکثر اس کی یہ بات یاد آجاتی ہے۔بارش میں اُس کی مخصوص مسکراہٹ دیدنی ہوتی تھی۔
بچپن کا ایک واقعہ تو اکثر کہیں بھی جب بھی کسی برقع پوش پر نظر پڑتی ہے تو یا د آجاتا ہے۔ بچپن میں ہم سب کو بڑے بھائی اپنے ساتھ لیے جایا کر تے تھے۔اگرچہ وہ خود بھی ہمارے برابر ہی عمر کے تھے مگر وہ غضب کے ذمہ دار تھے۔ایک بار ایسا ہوا کہ کسی وجہ سے ہم سب اسکول نہ جا سکے ۔ چھٹی کا وقت ہو گیا مگر سلمان گھر نہ آیا ۔ والدہگئیں تو وہ کیا دیکھتی ہیں کہ ننھا سلمان ایک برقع پوش خاتون کا برقع پکڑے کھڑاہے۔یہ اُس کی اپنی والدہ سے بے پناہ محبت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

٭٭٭

ایک واقعہ تو مجھے بھلا ئے نہیںبھو لتا ہے۔ ا یک بار والد صاحب نے ہمارے کسی غلط رویے پر مجھے اور سلمان کو چند سخت باتیں سنا ڈالیں ۔
ہم دونوں جب اپنے کمرے میں آئے تھے تومیں نے اپنے بالوں سے بڑی معصومیت کے ساتھ مونچھ بنا لی ۔ سلمان نے میری طرح دیکھا تو مسکرا دیا۔اور کہا’’ابھی بابا سے ڈانٹ کھائی ہے تمہیں ذرا بھی احساس نہیں ہے‘‘۔
میں نے بھی ترنت سے جواب دیا’’ سلمان اگر میںزندگی کو سنجیدگی سے لوں گی تو جلد مرجائوں گی‘‘۔
اس پر اس سلمان نے اللہ کا شکر ادا کیا تھا کہ اُس کی بہن بھی اس کی مانند ہنس مکھ اور زندہ دل ہے۔

٭٭٭

بچپن سے ہی اُس کو وطن کے محافظوں سے عشق ساہو گیا تھا۔ وہ اکثر فلمیں بھی جنگ و جدل والی دیکھا کرتا تھا۔اپنے قومی ہیروز کی تصویروں کو جمع کیا کرتا تھا اور اُن کے حوالے سے پڑھتا رہتا تھا۔اپنے ایک رشتے دار سے جو کہ پاکستان فوج میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز رہ چکے تھے،اکثر بہت سی معلومات لیا کرتا تھا۔اپنے سوالات کیا کرتا تھا۔ملی نغموں اور قومی ترانےکے احترام میں ہمیشہ کھڑا ہوجا یا کرتا تھا اور ہمیں بھی ایسا کرنے کی تلقین کرتاتھا۔ یہ اس کی اس مادروطن سے بے پناہ محبت کا ثبوت ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کبھی اُس کے وطن کی سلامتی کوخطرات درپیش آئے وہ ہمیشہ سب سے آگے ہی رہا۔ وہ تعلیمی میدان میں بھی آگے رہا ۔اور ہمیشہ ’’فرسٹ ڈویژن‘‘ سے پاس ہوتا رہا۔

٭٭٭

بچپن میں اکثر فوج میں جانے کی باتیں کرتا تھا تو میں بھی کہتی تھی کہ فوج میں جائوں گی ، مشک لے کر زخمیوں پانی پلایا کروں گی یا ڈاکٹر بن کر مجاہد بھائیوں کی مدد کیا کروں گی۔
وہ ہمیں اپنے لیے شہادت کی دعاکرنے کا کہا کرتا تھا۔وہ کہاکر تا تھا کہ شہادت جیسا کوئی رتبہ نہیں ہے۔
جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا وہ اللہ تعالیٰ کے عشق میں مزید گرفتار ساہوا جا رہا تھا۔وہ اللہ کی رضا حاصل کرنےکے لیے تہجد پڑھنے لگا تھا۔ایسی اولاد تو نصیب والوں کو ملا کرتی ہےجو اپنے لیے تو جنت حاصل کرنے کی جہدوجہد کرتے ہیں ،لیکن اُن کی وجہ سے اُن کے والدین بھی رب کی خصوصی عنایت کے مستحق ہوجاتے ہیں۔
والدہ سے اُس کی محبت بے مثل تھی۔ایک بار وہ والدہ کوکتنی دیر تک تکتا رہا ۔جب اُس سے پوچھا گیا تو سلمان بولا’’والدین کو پیارومحبت کی نگا ہ سے دیکھنے سے مقبول جج وعمرہ کا ثواب ملتا ہے تو میں وہی حاصل کر رہا تھا‘‘۔
اپنے والدین کے فرماں بردار بیٹے تھے۔اس سے بڑھ کر والدین کو اور کیا اعزاز مل سکتا ہے کہ بیٹے کی نیک نامی سے والدین کا سر بھی فخر سے بلند ہو رہا ہو۔

٭٭٭

دوسری طرف اُس کو مصوری کا فن اپنی والدہ سے وراثت میںملا تھا۔ وہ بہت اچھی مصوری کرتا تھا۔ اس حوالے سے ایران کے اُستاد سے تکنیکی رموز بھی سیکھے تھےاُس نے چند تصویر وں میں عورت کے مختلف احساسات وجذبات کوبڑی خوبصورتی سے اُجاگر کیا۔ ایک دن ایسا کرنے سے اپنے آپ کو روک لیا تھا۔
وہ کہتا تھا کہ’’ میں ایسا کرکے اپنے رب کو ناراض نہیں کر سکتا ۔میں اُس کی تخلیق کردہ شے سے زیادہ بہتر کچھ بھی نہیں بنا سکتا ۔میںاُس کامقابلہ کیسے کر سکتا ہوں ؟وہ تو بہترین تخلیق کرنے والی ذات پاک ہے‘‘۔
رب سے محبت کا تقاضا ہی تھا کہ اُس نے بندوں کی چپکے سے مدد کرنا بھی سیکھ لیا تھا۔

٭٭٭

سلمان بھائی ایک ذمہ دا ر شہری بھی تھے۔ایک بار گھر کے پیچھے گلی میں گولی چلنے کی آواز آئی تو جہاں ہم سب گھبراہٹ کا شکار ہو گئے تھے۔ وہ فوراً باہر گئے اوریہ دیکھ کرکہ ایک نوجوان زخمی پڑا ہے ۔وہ اُس کی مدد کو لپکے۔سب لوگ پولیس کارروائی کے حوالے سے باتیں کررہے تھے کہ کہیں تم ہی نہ دھر لیے جائو۔ جیسے کہ ہمارے پاکستانی معاشرے کا حال ہوگیا ہےکہ ہم ایسے معاملات میں ہاتھ نہیں ڈالتے ہیں کہ سوچتے ہیں کہ کہیں ہمارے ساتھ ہی کچھ اُلٹا نہ ہوجائے۔ بدقسمتی سےپولیس بھی ایسے حالات میں بے گناہ کو ہی شکنجے میں پھنسالیتی ہے۔تب ہی آج ہماری حالت یہ ہوگئی ہے کہ کوئی شریف آدمی ایسے معاملات میں ہاتھ ڈالنے سے ڈرتا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ پولیس مجرموں سے زیادہ اُس کی پوچھ گچھ کر لے گی۔
مگر سلمان نے محض اللہ کے بندے کو مشکل میں دیکھ کراس کی مدد کی۔ ایسی مدد وہ سب کی کرتا رہتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ آج تک نہ صرف رشتے داروں میں بلکہ پڑوسیوں اور دوستوں تک میں وہ مقبول ہے۔اس کے حوالے دیئے جاتے ہیں کہ دیکھو وہ کیسے سب کی بھلائی کرتا رہا۔سلمان بھائی نے قرآنی احکامات کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لیا تھا۔
ــ ــ’’ اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جائو اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو،وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔(سورہ البقرہ،آیت 8)

٭٭٭

ہم سب اکثر بہن بھائی حیران سے ہو جاتے تھےکہ جب سے سلمان فوج میں گیا تھا۔ فون کی گھنٹی بجتی ،تو والدہ کہتی تھیں کہ یہ سلمان کا فون ہوگا۔اکثر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ۔ہم آج تک اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ کیسے ہو جاتا تھا۔شاید دل سے دل کو راہ ہوتی ہے تب ہی ایسا ہو تا ہے۔ہماری والدہ اس کی آمد پر من پسندکھانے تیار کرواتی تھیں۔ گھر آنے کے بعد اس کا جاگنا ،سونا سب والدہ کے ساتھ ہی ہواکرتا تھا۔والدہ کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑتا تھا ۔ ہمیں تھوڑی سی الجھن سی بھی ہو جاتی تھی کہ وہ ہم سب سے زیادہ والدہ پر حق جتاتاتھا۔
جب اُس کی عسکری مہم جوئی ہوتی تب والدہ دعااور صدقات کا خصوصی طور پر اہتمام کیا کرتی تھیں۔انھی دعائوں کی بدولت وہ جہاں بھی عسکری کارروائی کے لیے گیا ہمیشہ فاتح غازی بن کر ہی لوٹا۔وہ ایسا غازی تھا جو بہت سارے معرکوں میں شجاعت دکھا کر بالآخر شہید ہو گیا اور یوں اس کی دلی تمنا پوری ہو گئی۔

٭٭٭

آج اگرچہ سلمان ہمارے ساتھ نہیں ہے مگر لگتا ہے کہ وہ ہمارے آس پاس ہی رہتا ہے۔ جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ’’میں زندہ ہوں‘‘۔
’’ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں ،بلکہ وہ زندہ ہیں،اپنے رب کے پاس روزی دیئے جاتے ہیں‘‘۔(آل عمران)

٭٭٭

شہادت سے چند گھنٹے قبل سلمان بھائی کی امی سے بات ہوئی تھی اور شہادت کی دعا کے لیے کہا تھا، وہ جانتا تھا کہ شہید کا کیا رتبہ ہے۔ اسی لیے اُس نے فون کرکے امی سے اس خواہش کا اظہار کیا تھا۔اسی دن امی ،ابو نے بہت زیادہ صدقہ خیرات کا اہتمام کیا تھا۔
دوسری طرف مجھے ان کی شہادت کے حوالے سے خواب آ رہے تھے۔چھوٹے بھائی کو بھی خواب میں بھائی نے ’’خدا حافظ ‘‘ کہا تھا۔
وہ دس تاریخ ہی تھی جس دن اُن کو شہادت ملی تھی یہی وہ گھڑی ہے جو ہر برس غمگین کر دیتی ہے۔
امی کی دعا قبول ہو گئی تھی اور وہ ایک شہید بیٹے کی ماں بن چکی تھیںہم سب افسردہ تھے ہمیں اس بات پر فخر ہو رہا تھا کہ ہم ایک شہید کے بہن بھائی ہیں
دوسری طرف ابوجان غم سے نڈھال بھی تھے مگر دل بھی مسرت سے بھرپور تھا کہ وہ اب ایک شہید کے باپ بن چکے تھے۔۔۔
افسوس تھوڑا سا تھا کہ ان کو بڑھاپے میں جوان بیٹے کے جنازے کو کندھا دینا پڑا ۔

اے راہ حق کے شہیدو، وفا کی تصویروں
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

ذوالفقار علی بخاری

٭٭٭

 

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x