ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

میری مٹی میرا خواب – بتولاگست۲۰۲۲

میں ایک پاکستانی ہوں۔ ہر پاکستانی شہری کی طرح مجھے بھی اپنے وطن سے بہت محبت ہے ۔ میں شادی کے بعد سے تقریباً بائیس سال سے پاکستان سے باہر ہوں ۔ مگر کیا آپ یقین کریں گے کہ میں ایک لمحہ کو بھی اس سے غافل نہیں رہی ۔ یہ مذاق نہیں مگر میرے پرس میں ایک چھوٹی سی ڈبیہ میں اپنے وطن کی مٹی رکھی ہوئی ہے جو میرے اس احساس کواور بڑھا دیتی ہے کہ میں اس سے قریب ہوں اورمجھے اسی سے جڑا رہنا ہے ۔میری موت اور زندگی اسی سے وابسطہ ہے ۔ میرے شوہر کا بزنس پوری دنیا میں پھیلا ہؤا ہے ۔ اور میں ان کے ساتھ بیرون ممالک خصوصاًمغربی دنیا کے ملکوں میں رہتی ہوں۔ مجھے غیر مسلم مغربی خواتین کے سامنے کبھی اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہوئے کوئی شرمندگی نہیں ہوئی۔ بلکہ گیارہ ستمبر اور سات جولائی کے بعد سے تو میں نے اپنے تعارف میں مسلم پاکستانی خاتون کہنا شروع کر دیا ہے ۔ مجھے اپنے وطن کی ہر چیز خواہ وہ کچی پکی گلیاں ہوں یا ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ، گندے پانی کی نالیاں ہوں یا گلے سڑے پھل اور سبزیاں ، سب بے انتہا عزیز ہیں۔
اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی وطن کی یاد مجھے بے چین کر دیتی ہے ۔ میرا وطن پاکستان میرا گھر ، میرا آشیانہ ہے ۔ میرا وہ گھونسلہ ہے جس کے تنکے تنکے جمع کرنے میں کتنے لوگوں کی قربانی شامل ہے ۔ پاکستان کی محبت اور اس کو بنانے سنوارنے اس کے لیے ہر احساس کو قربان کرنے کا جدبہ بی اماں نے مجھ میں پیدا کیا تھا ۔ جنہوں نے پاکستان کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا۔
جی ہاں ، بی اماں نے !
وہ بڑی متقی ، پرہیز گار ، عبادت گزار خاتون تھیں ۔ سارے محلے والے ان کو بی اماں کہتے تھے ۔ ان کا نام ام کلثوم تھا ۔ مگر میرے علاوہ شاید کسی کو بھی ان کا نام نہیں معلوم تھا ۔ مجھے بھی یہ نام اس وقت معلوم ہؤا جب ایک دن وہ اپنا بہت پرانا صندوق نکالے بیٹھی تھیں۔ میں ان کے پاس جا کر بیٹھ گئی ۔ وہ اپنے کپڑے درست کر رہی تھیں ۔ میں نے اپنی کتابیں بند کر کے ان کے کپڑوں کی تہہ بنانا شروع کردی ۔ کپڑے صندوق میں رکھتے ہوئے میری نظر صندوق کی نچلی تہہ میں رکھے ہوئے پلاسٹک کے اندر اخباروں پر پڑی ۔ میں نے احتیاط سے وہ اخبار نکال لیے ۔ یہ تقریباً پچاس پچپن سال پرانے اخبارات تھے ۔ جو ہندوستان کے شہر علی گڑھ سے شائع ہوتے تھے ۔ انگریزی کا یہ اخبار پاکستان کے متعلق مضامین پر مشتمل تھا۔
’’ پاکستان ، آور ڈریم Pakistan.Our Dream‘‘
ایک مضمون میں جس کی لکھنے والی خاتون ام کلثوم تھیں ۔ ان کے بارے میں ایڈیٹر نے تعریفی وتوصیفی کلمات لکھے تھے کہ یہ خاتون علی گڑھ کالج کی یونین کی خواتین شاخ کی سب سے کم عمر صدر ہیں ۔
میں نے اخبار دیکھا تو بی اماں سے پوچھا ۔
’’ بی اماں آپ نے یہ اخبار اب تک کیوں رکھا ہے ‘‘۔
وہ اداسی سے بولیں ’’ بیٹا یہی اخبار تو میری شناخت ہے ‘‘۔
میں نے تعجب سے انہیں دیکھا ۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ اخبار کس طرح ان کی شناخت ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے اسی اخبار میں لپٹی ہوئی ڈگریاں نکالیں جو پھسل کر میرے سامنے گر گئیں ۔ میں نے بڑی احتیاط سے انہیں اٹھایا ۔ یہ ام کلثوم کی ایم اے انگریزی کی ڈگری تھی جو علی گڑھ یونیورسٹی سے ملی تھی۔
میںحیرت سے ان کی شکل دیکھ رہی تھی ۔’’ بی اماں آپ… آپ ام کلثوم ہیں ۔‘‘ انہوں نے آہستہ سے سر ہلا دیا ۔ میں انتہائی پر جوش ہوگئی۔ میں نے جلدی جلدی ان کے وہ سارے سرٹیفکیٹس دیکھ ڈالے جو مسلم لیگ کی طرف سے ان کو ملے تھے ۔ یہ تو صیفی اور تعریفی اسناد ہی ان کا سرمایۂ حیات تھیں۔
میں غیر یقینی انداز میں اپنے سامنے بیٹھی ہوئی سیدھی سادی سفید کپڑوں میں ملبوس ان محترم خاتون کو دیکھ کرہی تھی ۔ جو تحریکِ پاکستان کی سر گرم کارکن رہیں اور انہوں نے اپنے کسی کارنامے کا کبھی بھولے سے بھی کسی کے سامنے تذکرہ نہیں کیا اور مجھے بھی سختی سے منع کر دیا تھا کہ میں کسی سے بھی اس بات کا ذکر نہ کروں ۔ میں حیران تھی بی اماں کی صلاحیتوں پر ۔ ان کے انگریزی زبان میں لکھے گئے اخبارات میں چھپنے والے مضامین پر ۔ سارے محلے والے تو ان کو ایک عام لا وارث تنہا عورت سمجھتے تھے جو جہانگیر روڈ کے اس سرکاری مکان میں رہتی تھی ۔
ہمارا مکان ان کے گھر سے بالکل ملا ہؤا تھا۔ اس لیے ہر وقت کا آنا جانا تھا ۔ وہ تو گھر سے کم نکلتی تھیں ۔ محلے کی عورتیں ہی ان کے ہاں زیادہ تر آتی جاتی رہتی تھیں ۔ ہمارے ابا جان بھی سرکاری ملازم تھے اس لیے انہیں یہ مکان الاٹ ہوگیا تھا ۔ ہم لوگوں کے لیے یہ مکان چھوٹا تھا کیونکہ سات بہن بھائی اوروالدین کے ساتھ دوکمروں کا یہ گھر واقعی ناکافی تھا۔ ایک مرتبہ سردیوں کی رات جب بی اماں نے دروازہ کھٹکھٹاکر گجریلا امی کے ہاتھ میں دیا تو ہم لوگوں کوایک کمرے میں گھسے سوتا دیکھا ۔ دوسرے دن باتوں ہی باتوں میں امی سے کہا ۔
’’ بیٹی اگر برا نہ مانو تو سامعیہ اور رافعہ کو میرے پاس سلا دیا کرو میرے پاس جگہ بھی ہے اور ان دونوں کی پڑھائی بھی سکون سے ہو جائے گی ‘‘۔ میں اور رافعہ اس وقت اسلامیہ کالج میں بی اے اور انٹر میں پڑھتے تھے ۔ امی بھی یہ بات اچھی طرح جانتی تھیں کہ بچیوں کے شورو غل میں ہم دونوں کی پڑھائی کتنی متاثر ہوتی ہے ۔ ان کی تو دل کی مراد برآئی ۔ مگر تکلفاً بولیں ۔
’’ بی اماں آپ کو تکلیف ہو گی ۔ ان دونوں کی وجہ سے ‘‘۔ اس وقت امی کا دل اندر سے کس قدر بے چین تھا میں جانتی تھی ۔
’’ نہیں بیٹا مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو گی تم ان دونوں کو میرے پاس سامان کے ساتھ بھیج دینا ۔ اب یہ دونوں میرے پاس ہی رہیں گی ‘‘۔
ہم دونوں کا خوشی سے برا حال تھا ۔ دوسرے دن اتوار کی وجہ سے کالج کی چھٹی تھی ۔ ناشتہ کر کے ہم دونوں نے اپنی کتابوں اور کپڑوں کا بیگ اٹھایا اور بی اماں کے گھر آگئے ۔
بی اماں صبح ہوتے ہی اپنے دروازے کی کنڈی کھول دیتی تھیں اور پھر سارا دن وہ کنڈی کھلی ہی رہتی تھی ۔ صبح فجر کے بعد وہ صحن میں چڑیوں کوباجرہ ڈال دیتیں ۔ مٹی کے کوزے میں پانی بھر کر رکھتیں اور پھر قرآن مجید کی تلاوت کے لیے بیٹھ جاتی تھیں ۔ اس وقت بھی وہ قرآن مجید کی تلاوت کر رہی تھیں ۔ سردیوں کی چمکیلی سی صبح تھی ۔ ہم دونوں نے ان کو سلام کیا وہ محبت سے مسکرائیں جیسے ہمارا انتظار ہی کر رہی ہوں ۔ سلام کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے اپنے بستر پر لیٹنے کا اشارہ کیا۔ ہم دونوں جھینپ گئے ۔ سفید سفید بستر پر سر مئی نرم ملائم کمبل تہہ کیا ہوا رکھا ہوا تھا ۔ سردی سی محسوس ہو رہی تھی ۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کودیکھا اورکمبل پھیلا کر بستر میں دبک گئے ۔ رافعہ تو پلنگ پر لیٹی اور سو گئی ۔ میں تکلفاً جاگ رہی تھی ۔ سردیوں میں نرم گدوں میں گھس کر ملائم کمبل اوڑھنا ہم لوگوں کا صرف خواب تھا۔ ابا جان کی معمولی سی تنخواہ میں اماں جس طرح گزارا کرتی تھیں وہ ہی جانتی تھیں ۔ دو لحافوں کورات بھر سب بہن بھائی اپنی اپنی طرف کھینچتے رہتے تھے ۔ اس نرم بستر پر لیٹ کر میری بھی آنکھیں بند ہوئی جا رہی تھیں ۔ بی اماں نے قرآن مجید جز دان میں لپیٹ کر الماری پر رکھ دیا ۔ میں اُٹھ کر بیٹھ گئی۔وہ پیار سے بولیں ۔
’’لیٹی رہو آج تو کالج کی چھٹی ہے سو جائو آرام سے ‘‘میں تو جیسے بہانہ ڈھونڈ رہی تھی ۔ پھر مجھے سونے میں چند لمحے بھی نہ لگے۔
بس اس دن سے ہم دونوں بہنوں کا دانہ پانی بی اماں کے گھر تھا ۔ اپنے گھر سے وہ دانہ پانی اُٹھ گیا تھا ۔ امی اور ابا جان کے بے حد اصرار کے باوجود بی اماں نہ مانیں اور انہوں نے ہم دونوں بہنوں کی پڑھائی لکھائی ، کپڑے لتے اور کھانے پینے کا سارا ذمہ خود لے لیا ۔اپنے پلنگ کے قریب ہی انہوں نے دونواڑکے پلنگ بچھا لیے تھے جس پر ہم دونوں بہنیں سوتی تھیں ۔ دوسرے کمرے میں انہوں نے ہمارا سامان ، کتابیں چھوٹی سی الماری وغیرہ رکھ دی تھی ۔ ہم دونوں وہیں پڑھتے اور جب نیند آتی تو بی اماں کے کمرے میں بچھے ہوئے پلنگوں پر خوابِ خرگوش کے مزے لیتے۔
بی اماں کی شخصیت میں ممتا اور پیار کوٹ کوٹ کے بھرا تھا۔ کوّے ، چڑیوں ، طوطوں کی خوراک کے ساتھ ساتھ چوہے بلیوں کا بھی خیال رکھتیں ۔ چوہوں کے لیے پانی اور روٹی یا ٹماٹر کے ٹکڑے رات کو ان کی مخصوص جگہ پر رکھنا نہ بھولتی تھیں،جہاں ان کی آمدو رفت رہتی تھی ۔ ہم لوگوںنے کبھی ان کو مارنے کے لیے کوئی زہریلی دوا ان ٹماٹروں پر چھڑکنا چاہی تو انہوں نے سختی سے روک دیا ۔ ایسی محبت اب عنقا ہے ۔اصل میں باتیں بنانے اور شخصیات و واقعات پر تبصرہ کرنے والے تو بہت ہوتے ہیں مگر دنیا میں ایسے لوگوں کی بہت کمی ہے جن کے پاس بیٹھ کر طمانیت کا احساس ہویا تحفظ مل سکے ۔ اور جن کی صحبت میں انسان ذہنی اور نفسیاتی الجھنیں سلجھا سکے ۔ بی اماں ایسی ہی شخصیت تھیں جن کے پاس بیٹھ کر خود اپنے آپ سے انسان کو پیار ہو جائے ۔ ہم دونوں ان کے پیار کے سائے میں اپنی جماعتوں میں آگے بڑھتے جا رہے تھے ۔
ایک مرتبہ میں یونیورسٹی سے جلدی آگئی ۔ بی اماں اندر کمرے میں کسی سے باتیں کر رہی تھیں ۔ میں صحن میں رُک گئی ۔ کافی دیر تک جب دوسری کوئی آواز نہ سنائی دی تو میں دستک دے کر اندر چلی آئی۔ میں حیران رہ گئی وہ تنہا تھیں ۔ ان کے ہاتھ میں تصویر تھی ۔ مجھے دیکھ کر انہوں نے تصویر اپنی الماری میں رکھ دی ۔ مجھے بھی ان سے کچھ پوچھنا اچھا نہ لگا ۔ رات کو جب عشاء کی نماز سے فارغ ہوئیں تو ہم دونوں بہنوں کو اپنے پاس بلایا ۔ الماری میں سے تصویر نکالی اور میرے ہاتھ میں تھما دی ۔ یہ کسی نوجوان کی تصویر تھی جو انڈین آرمی کا یونیفارم پہنے ہوئے تھا۔
’’ بی اماں یہ کون ہیں ‘‘ میں نے تصویر دیکھ کر رافعہ کو دے دی۔
’’ بیٹا میرے شوہر ہیں ‘‘۔
ہم دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے ۔ ہم لوگوں کو ان کے پڑوس میں رہتے کافی عرصہ ہو گیا تھا مگر ہم نے کبھی کسی آدمی کو ان کے گھر آتے جاتے نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کبھی ان کی زبان سے کسی کا ذکر سنا تھا۔
وہ پلنگ پر تکیوں سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں ۔’’ ہاں بیٹا یہ انڈین آرمی میں کیپٹن تھے جب میرا ان سے نکاح ہؤا تھا میں اس وقت علی گڑھ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی ۔ میرے والد صاحب خود ماہر تعلیم تھے اور عورتوں کی تعلیم کے زبردست حامی تھے۔ خاندان کی مخالفت کے باوجود انہوں نے مجھے نہ صرف اعلیٰ تعلیم دلوائی بلکہ علی گڑھ میں گرلز ہوسٹل میں بھی داخل کیا ۔ کیونکہ میرا اپنا خاندان دہلی میں رہتا تھا ۔ عاصم میرے چچا زاد بھائی تھے۔ مگر عورتوں کی تعلیم کے مخالف تھے ۔ میں اور ابا جان بلکہ ہمارا پورا گھرانہ مسلم لیگی تھا ۔ اس کے برعکس چچا جان کانگریسی تھے اور مسلم لیگ کے خلاف تھے ۔ پتہ نہیں کیوں اور کیسے میرا ان سے رشتہ ہو گیا ۔ہم اور ہمارا گھرانہ قائد اعظم کے فرمان اور ہر تقریر پر جان قربان کرنے والا تھا ۔ پاکستان کی تحریک زوروں پر تھی ۔ ہم سب اس کو اپنا مشن اور زندگی کا سب سے بڑا خواب سمجھتے تھے ۔ جس کی تعبیر بس سامنے آنے ہی والی تھی ۔
میری نصابی اور غیر نصابی سر گرمیاں اس زمانے میںعروج پر تھیں۔ عاصم میری ان سر گرمیوں کے سخت خلاف تھے ۔وہ تو نظریہ پاکستان کے بھی مخالف تھے ہندوئوں کے ساتھ فوج میں رہ کر ان کے خیالات متعصب اور غیر اسلامی ہو گئے تھے ۔ پاکستان کا اعلان ہوتے ہی مسلم کش فسادات پورے ہندوستان میں پھیل گئے ۔ ان فسادات میں ان لوگوں کو چن چن کر شہید کیا گیا جو تحریک پاکستان کے حامی تھے ۔
میں اس زمانے میں امتحان سے فارغ ہو کر دہلی جانے کا ارادہ کر رہی تھی کہ مجھے اپنے پورے خاندان کے شہید ہونے کی اطلاع ملی ۔ بلوائیوں نے میرے گھر کے ہر ہر فرد کو ختم کر دیا ۔ عاصم فوجی ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ کر سکے ۔ کسی کو نہ بچا سکے ۔ انہوں نے میرے خاندان کی شہادت کی اطلاع دے کر میرے زخموں پر نمک چھڑکا ۔ مجھے ان سے ، ان کی حکومت سے ، ان کی فوج سے شدید نفرت محسوس ہو رہی تھی ۔ وہ جب چھٹی لے کر مجھے لینے علی گڑھ آئے تو میں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا ۔ میں نے نکاح کی انگوٹھی بھی ان کے منہ پر دے ماری ۔ کیونکہ مجھے بعد میں معلوم ہؤا کہ بلوائیوں کے جس گروپ نے ہمارے محلے پر حملہ کیا تھا اس گروپ کی حوصلہ افزائی کے لیے عاصم کے سپاہی بھی شامل تھے ۔
اب میری منزل صرف اور صرف پاکستان تھی ۔ ایک آزاد اسلامی مملکت ۔ ہمارے خوابوں کی تعبیر اور میں مسلمانوں کے اس قافلے کے ساتھ جارہی تھی جو لا وارث تھے ۔ جن کے خاندان کے بیشتر افراد ہندوئوں کے بہیمانہ تشدد کا شکار ہو چکے تھے ۔ عاصم اس تمام بر بادی کا ذمہ دار مسلم لیگ کو سمجھتے تھے ۔ وہ مجھ سے بہت ناراض تھے ۔ میری سر کشی اور ضد پر میرے شہید والدین کو برا بھلا کہہ رہے تھے جنہوں نے مجھے اعلیٰ تعلیم دلا کر خود سر بنا دیا ۔ میرے دل میں پھانسی چبھی ہوئی تھی ۔ میں نے ان کے خلوص کو آزمانے کے لیے ایک شرط رکھی کہ اگر وہ فوج سے استعفیٰ دیدیں تو میں ان کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو ں۔ یہ سن کر انہوں نے مجھے ایک بے ہودہ سی گالی دی اور بھناتے ہوئے کہا ’’ پاکستان تمہاری ایسی قبر بنے گا جہاں کوئی رونے والا نہیں ہوگا‘‘۔ وہ پیر پٹختے ہوئے جاتے جاتے یہ دھمکی دے گئے کہ وہ مجھے زندگی بھر طلاق نہیں دیں گے اور عذاب میںمبتلا رکھیں گے ۔
’’ میں سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آگئی ۔ یہ سب دکھ میں نے پاکستان کی خاطر ہی تو سہے تھے ۔ اس وقت پاکستان کو جو مسائل در پیش تھے ان میں لٹے پٹے مہاجرین مسلمانوں کی آباد کاری کا مسئلہ سب سے اہم تھا ۔ میرے پاس قائد اعظم کی طرف سے دی جانے والی توصیفی اسناد اور اپنی تعلیمی ڈگریاں تھیں ۔ جن کی وجہ سے مجھے ملازمت ملنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی ۔ سب لوگ میرا خیال رکھتے تھے عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ میں آبادکاری کے دفتر میں ملازم ہو گئی ۔ یہ چھوٹا سا مکان مجھے اس نوکری کی وجہ سے الاٹ ہؤا تھا ۔ حالانکہ اس وقت جو ہندو سجے سجائے سامان سے بھرے ہوئے بنگلے چھوڑ کر ہندوستان گئے تھے وہ سب خالی تھے ۔ مگر مجھے کبھی ان کا خیال بھی ذہن میں نہیں آیا ۔ میرے دفتر میں بے شمار لوگوں نے جھوٹے کلیم داخل کر کے ان پر قبضہ کر لیا ۔ مگر میں صرف پاکستان کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا کر آئی تھی مجھے کبھی کسی چیز کی تمنا یا ہوس نہیں ہوئی ۔ صرف یہ تمنا ضرور تھی کہ کاش میرا پاکستان بالکل اسی شکل میں دنیا کے نقشے پر ابھر کر آئے جیسا کہ قائد اعظم نے خواب دیکھا تھا ۔ ایک پاک صاف فلاحی مملکت ۔ جس میں سب کے دکھ سکھ سانجھے ہوں ۔ ایک کے کانٹا چبھے تو دوسرا محسوس کرے ۔ میں نے پینتیس سال اس ادارے میں ملازمت کی ۔ مگر ان پینتیس سالوں میں ایک لمحے کو بھی پاکستان کی محبت کم نہ ہوئی ۔ مجھے کبھی کسی قسم کا کوئی پچھتاوا نہیں ہؤا‘‘۔
بی اماں خاموش ہوئیں تو ہم دونوں نے عقیدت اور احترام سے اس پاکیزہ چہرے کو دیکھا جس کی پیشانی سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں ۔ ان کی پور پور پاکستان کی محبت میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ انہوں نے اس محبت کا کبھی کسی سے کوئی صلہ نہیں مانگا ۔ اپنی جوانی ، اپنا سرمایہ حیات اپنے خواب سب کچھ پاکستان کی نذر کر دیے ۔ دوران ملازمت جب کسی نے ان کا ہاتھ تھامنے کے لیے بڑھایا تو انہوں نے سختی سے جھٹک دیا اپنے آپ کو بیوہ اور کثیر الاولاد کہہ کر معذرت کرلی ۔ وہ اپنے آپ کو کثیر الاولاد کہتی تھیں کیونکہ بقول ان کے محلے کے سارے بچے ان کے بچے تھے ۔ کئی فلاحی اداروں کی سر پرست تھیں ۔ کتنے ہی یتیم بچوں کی کفالت کرتی تھیں ۔
مگر یہ سارے کام انتہائی خاموشی اور راز داری سے کرتی تھیں ۔ ہم دونوں کا پلنگ ان کے پلنگ سے ملا ہوتا تھا مگر وہ بغیر کسی آہٹ کے تہجد کی نماز کے لیے اٹھتیں ۔ کسی وقت رات کو اچانک میری آنکھ کھلتی تو انہیں سجدے میں زور زور سے دعا مانگتی ہوئی سنتی ۔ ’’ اے اللہ ہمیشہ میرا پردہ رکھنا ۔ جیسے آج تک تو نے کسی کا محتاج نہ کیا مرنے کے بعد بھی کسی کا محتاج نہ کرنا۔ اے اللہ مجھے شہادت کی موت دینا …‘‘ میں ان کی دعائوں پر لرز جاتی ۔ کچھ دنوں سے انہوں نے رات کو سوتے وقت نہا کر کفن پہننا شروع کر دیا تھا ۔ سفید لٹھے کی چادر جو کفننی سی تھی ، میں اور رافعہ انہیں دیکھتے تو تھر تھرانے لگتے خوف کی وجہ سے ۔
’’بی اماں آپ ہمیں کیوں ڈراتی ہیں کفن پہن کر ‘‘
وہ مسکرا کر کہتیں ’’ بیٹا مسلمان کو ہر وقت موت کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ میں اپنا کفن اس وقت سے ساتھ رکھتی ہوں جب میں ہجرت کر کے پاکستان آئی تھی ۔ اب رات کو اس لیے پہن کر سوتی ہوں کہ جانے کس وقت رات کو جان نکل جائے نہا دھو کر کفن میں دفنانے میں آسانی ہو گی ۔ میں تو یہ بھی اپنے معبود سے دعا کرتی ہوں کہ اللہ مجھے اس کے لیے بھی کسی کا محتاج نہ کرنا ۔‘‘
اس وقت وہ ایک روح نظر آتی تھیں ۔ سفید پاکیزہ چہرہ سفید کفن میں لپٹی ہوئی روح ۔ بستر پر لیٹتے وقت تمام سورتیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونکتیں اور پھر پورے جسم پر جہاں جہاں تک ہاتھ پہنچتا ، پھیر لیتیں ۔ ہم دونوں کو بھی اس کی تاکید کرتیں۔
اس سال اگست میں شدید بارشیں شروع ہو گئی تھیں ۔ آج بھی اگست کی وہ رات مجھے اچھی طرح یاد ہے جب پاکستان کا یوم آزادی منایا جا رہا تھا ۔ پر جوش تقاریر ، ملی نغمے اس وقت کی ثقافت تھی ۔ مگر شام سے ہی موسم اچانک ابر آلود سا ہوگیا تھا ۔ اس وقت تک ٹی وی پاکستان میں عام نہیں ہؤا تھا ۔ صرف ریڈیو سننا ہی بہت بڑی تفریح سمجھی جاتی تھی ۔ محلے کی گلیوں میں بچے اپنے طور پر قومی نغمے گا کر اور لکڑی کا تخت بچھا کر اسٹیج سمجھ کر تقاریر کرلیا کرتے تھے ۔ چودہ اگست کی شام بی اماں ہماری مہمان خصوصی تھیں ۔ جنہوں نے اپنی پر جوش تقریر سے بچوں کے دل میں پاکستان کی محبت کے جذبے کو ابھارا تھا ۔ پچاس منٹ کی تقریر میں انہوں نے ایک لفظ بھی اپنی کسی قربانی یا اپنی کسی صلاحیت کے بارے میں نہیں کہا ۔ وہ صرف نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ان کی عمر اورذہنی استعداد کے مطابق مختلف واقعات سے سمجھاتی رہیں کہ نوجوان نسل کو کس طرح پاکستان کی ترقی یافتہ ملک بنانا ہے اور کس طرح اسلامی فلاحی مملکت کا خواب پورا کرنا ہے ۔
ابھی پروگرام جاری ہی تھا کہ بارش شروع ہو گئی ۔ بجلی غائب ہو گئی گھن گرج کے ساتھ بادل اور بجلی کی چمک نے موسم کو خوفناک کر دیا ۔ ہم سب اپنے اپنے گھروں میں گھس گئے ۔ موم بتیاں جلا کر گھروں میں اُجالا کرنے کی کوششیں تیز ہوائیں اور پانی کے چھینٹے ناکام بنا رہے تھے ۔ ہم دونوں بہنیں خوفزدہ ہو کر امی کے پاس آگئے ۔ شاید یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ خوف میں خدا اور اس کے بعد ماں ہی کو پکارتا ہے ۔
رات بھر آندھی طوفان اور بارش نے سیلابی کیفیت پیدا کردی تھی گلیوں سڑکوں نالوں اور ندیوں میں پانی ہی پانی تھا ۔ موم بتی کی مدھم اور پگھلتی جلتی بجھتی روشنی عجیب سا ماحول پیدا کر رہی تھی ۔ کھونٹی سے لٹکی ہوئی لالٹین کی روشنی ناکافی تھی ۔ تیل نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی بھڑک بھڑک کر بجھنے کے لیے تیار تھی ۔ بارش کا زور صبح کی اذانوں کے وقت کم ہؤا ۔ ہم دونوں بھی گھبرائے ہوئے خوفزدہ امی سے لپٹے ہوئے تھے ۔ اچانک امی نے کہا ۔
’’ تم دونوں اماں بی کے پاس جائو ۔ وہ اکیلی ہوں گی ‘‘۔
میں ملگجے سے اُجالے میں اندھیرے کو چیرتی ہوئی آئی ۔ اماں بی کا دروازہ کھلا ہؤا تھا ۔ ہم دونوں رات کو خوفزدہ ہو کر امی کے پاس گئے تو دروازہ کھلا ہی چھوڑ گئے ۔ ان کے دونوں کمروں میں ہر چیز سیلاب کے پانی سے تیر رہی تھی ۔ میں نے خوفزدہ ہو کر اماں بی کو پکارا ۔ مگر ان کا پلنگ خالی تھا۔ بستر پانی میں تر بتر تھا ۔ کئی گھنٹے کے بعد بارش پوری طرح تھمی ۔ بادلوں نے سورج کے لیے تھوڑی سی جگہ بنائی تو روشنی کی کرنیں پھوٹیں ۔ کمرے میں روشنی ہوئی تو میں نے امی کے ساتھ آکر پھر اماں بی کو پکارا ۔ وہاں تو کوئی بھی نہیں تھا ۔ اماں بی کا تو دور دور تک پتہ نہیں تھا پورا محلہ اماں بی کو تلاش کر رہا تھا۔
ایک ہفتے کے بعد جب پانی اُترنا شروع ہؤا اور سیلابی کیفیت میں کمی آئی تو اخبار میں ایک خبر پڑھنے کو ملی کہ بارش کی تباہ کاریوں میں ایک کفن شدہ لاش بھی بہتی ہوئی میوہ شاہ کے قبرستان میں پہلے سے کھدی ہوئی ایک قبر میں جا گری اور سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ قبر آس پاس کی مٹی سے خود بخود بند ہو گئی ۔ ہم لوگوں کو پورا یقین تھا کہ وہ اماں بی ہی تھیں جو روزانہ موت کی مکمل تیاری کر کے سوتی تھیں ۔ جنہوں نے ہمیشہ یہی دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کو کسی کا بھی محتاج اور احسان مند نہ کرے ۔ ان کی دعا حرف بحرف قبول ہوئی ۔
آج ان کی تیسویں برسی ہے پورے ملک میں یوم آزادی کا جشن بپا ہے ۔ ٹی وی پر مختلف رنگوں میں یہ جشن منایا جا رہا ہے ۔ مگر ان سب کو دیکھتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں ۔ کیا صرف پاکستان اسی لیے وجود میں آیا تھا ؟ کیا بی اماں جیسے ہزاروں لوگوں نے اپنا تن من دھن اسی لیے قربان کیا تھا کہ ثقافت اور روایات کے نام پر یہ خرافات ہوں ؟ اب تو پاکستان کے پرائیویٹ ٹی وی چینل دنیا کے ہر ملک میں جاتے ہیں ۔ میں پاکستانی مسلم خاتون جب غیر مسلم عورتوںکے ساتھ بیٹھ کر یوم آزادی کے یہ پروگرام دیکھتی ہوں تو پھر اپنے نام کے ساتھ ’’ پاکستانی مسلم ‘‘ ہٹا لیتی ہوں ۔ کیوں کہ ان کی مضحکہ اور تمسخر اڑانے والی طنزیہ نگاہیں مجھ سے پوچھتی ہیں ’’ کیا یہ پاکستانی ٹی وی چینل ہیں ؟ کیا آپ کے پاس اسی طرح جشن آزادی منایا جاتا ہے ؟ کیا پاکستان کے لیے اسی لیے اتنی قربانیاں دی گئی تھیں (وہ جو آپ ہر وقت کہتی ہیں اور ہم سے بحث کرتی ہیں ؟)
واقعی اس وقت میں اپنی نگاہیں جھکا لیتی ہوں کیونکہ میں اپنے گھر کو صرف اپنی صلاحیتوں سے سجانا چاہتی ہوں ۔ مغرب کی یلغار سے گھر کی اینٹوں میں دراڑ ڈالنا نہیں چاہتی ۔ میرا آشیانہ،میرا گھونسلہ صرف میرے ہی تنکوں سے بسا رہے ۔ اس میں کسی کا کوئی تنکا نہ شامل ہو ۔ یہی میری آرزو ہے کہ میں اپنے گھر کی خاطر کچھ بھی کر سکوں ۔ یہ ہنستا بستا شاد و آباد رہے۔ یہاں کوئی کسی کی بے حرمتی نہ کرے کوئی کسی کے مال کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھے ۔ سب ایک جسم کی طرح رہیں کہ ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف محسوس کرے ۔ جہاں ہر شخص کو یہ آزادی ہو کہ وہ حاکم وقت سے یہ پوچھ سکے کہ سب کے حصے میں مال غنیمت سے ایک چادر آئی تمہارے جسم پر یہ دو چادریں کیسی ہیں۔
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x