ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ملازم – بتول اپریل ۲۰۲۲

’’گرمیوں میں راتیں چھوٹی جن میں کئی بار مچھر کاٹنے، گرمی اور پیاس کی وجہ سے آنکھ کھلتی ہے۔ان راتوں میں نیند کا پورا ہونا محال ہوتا ہے اور دن میں کسی وقت نیند پوری کیے بغیر گزارا نہیں۔ ایسے ہی سردیوں میں دن چھوٹے،ناشتہ کرتے کراتے ہی دن کے بارہ بج جاتے ہیں۔ پھر دوپہر کا کھانا اور دوپہر کے کھانے کے فوراً بعد رات کے کھانے کی تیاری گویا پورا دن باورچی خانے میں ہی گزار دو۔ ایسے میں گھر کے دوسرے کاموں کی جانب کس وقت توجہ دیا کریں؟‘‘
امینہ نے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے پاس بیٹھی اپنی سہیلی فریحہ سے اپنے دل کا دکھڑا بیان کیا۔ امینہ کو وقت کی کمی کی شدید شکایت تھی اس کا خیال تھا کہ کام دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں اور دن سمٹتے جا رہے ہیں۔ وقت میں برکت نہیں رہی۔ امینہ کے وقت کی کمی کے متعلق گلے شکوے سننے کے دوران فریحہ اپنی چائے ختم کر چکی تھی۔ اس نے اپنا کپ میز پر پڑی ٹرے میں رکھا اور امینہ کی طرف متوجہ ہو کر بولی۔ ’’کیوں بھئی آپ کے لہجے میں بہت زیادہ تھکاوٹ نظر آ رہی ہے کیا کام والی ماسیاں نہیں آرہیں؟‘‘
ملازم ماسیاں بھی تو کوئی تھوڑی درد سر نہیں۔ آنے کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ اگر آ بھی جائیں تو ان کی فل نگرانی کرنی پڑتی ہے ،نہ کریں تو گندامندا کام کرکے چلی جاتی ہیں۔ کونے کھدروں میں کوڑا ویسے ہی پڑا رہتا ہے۔ پوچا گندے پانی میں ہی بار بار دھو کر لگا دیتی ہیں۔ سوکھنے پر جس کی مٹی کی لکیریں واضح نظر آتی ہیں۔ دھلے برتنوں میں چکناہٹ اپنی بہار دکھا رہی ہوتی ہے۔ رہی بات کپڑوں کی دھلائی کی تو کپڑے دھونے میں ان ماسیوں کا کوئی ثانی ہی نہیں…..ایسا لگتا ہے جیسے مشین سے نکال کر بغیر کھنگالے ہی الگنی پر لٹکا دیے ہوں۔
سچ پوچھیں فریحہ! میں تو ان کی نگرانی کرتے کرتے ہی تھک کر چور ہو جاتی ہوں۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ان کی موجودگی میں ایک پل بھی آرام کر لوں۔ میرا آرام کرنا ان کی من موجیاں بن جاتا ہے۔
’’آپ سنائیں آپ کی کام والی ماسیاں کیسی ہیں؟ یا میری طرح آپ بھی انہی چکروں میں پڑی رہتی ہیں؟‘‘
امینہ اپنے دکھڑے سنانے کے بعد مسکراتی ہوئی فریحہ سے جواب طلب تھی۔
’’نہیں بھئی! جن مسائل کا آپ شکار ہیں مجھے ان میں سے ایک بھی مسئلہ نہیں۔ میری کام والیاں آنے جانے میں نہ تو دیر سویر کرتی ہیں اور نہ ہی مجھے ان کی نگرانی کرنی پڑتی ہے۔ ان کی چھٹی بھی نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ وہ کم ہی بیمار پڑتیں ہیں۔ سارا کام میری پسند اور مرضی کا ہوتا ہے‘‘۔
’’اچھا…… کیسے ڈھونڈ لی ہیں اس دور میں ایسی ماسیاں؟ سہیلی! ایسا کرو کہ مجھے بھی ایک ایسی ہی عورت ڈھونڈ دو‘‘۔امینہ کی آنکھیں پھیل کر حیران ہونے کے تاثرات دے رہی تھیں۔
’’امینہ! ایسا کریں کہ ایک دو دن میں تھوڑا وقت نکال کر میرے گھر میں تشریف لائیں میں وہیں ان سے آپ کی ملاقات بھی کروا دوں گی اور آپ کے لیے بھی ایک خاتون کا انتظام کر دوں گی۔ عرصہ ہوگیا ہے آپ کو میرے گھر میں آئے ہوئے چلو اسی بہانے میرے گھر کی طرف چکر بھی لگ جائے گا اور ہوسکتا ہے کچھ فائدہ بھی ہوجائے۔ اب مجھے جانے کی اجازت دیں میں تو فارغ تھی لیکن آپ کا مصروفیات والا کافی وقت لے لیا‘‘۔ فریحہ جانے کے لیے کھڑی ہوگئی۔ بڑی چادر اچھی طرح سے اوڑھی اور الوداعی سلام کرنے کے لیے امینہ کی طرف بڑھی۔
’’فریحہ میری بہن! آپ کا بہت شکریہ کہ آپ مجھے ملنے آ جاتیں ہیں۔ اگر یہ ملنا صرف میرے پر آ جائے تو شاید مہینوں گزرنے کے باوجود بھی ہم نہ مل سکتیں۔ میں بھی کل یا پرسوں تک آپ کے گھر کا چکر لگاتی ہوں‘‘۔ امینہ نے ممنونیت سے فریحہ کے دونوں ہاتھ تھام رکھے تھے۔ فریحہ امینہ کے کندھے پر پیار بھری تھپکی دیتے ہوئے بیرونی گیٹ کی جانب چل دی۔
وقت اپنی تیز رفتاری دکھا رہا تھا۔ امینہ کا فریحہ کے گھر کی طرف چکر لگانے والا ایک دو دن بعد کا وعدہ دو ہفتے گزار چکا تھا۔ جب یاد آتا تو اس وقت مصروفیت ہوتی اور جب ذرا فرصت میسر ہوتی تو وعدہ دماغ سے کینگرو کی طرح چھلانگ لگا کر بھولی بسری وادیوں کی طرف تیز پرندے کی مانند محو پرواز ہو جاتا۔دو ہفتے گزرنے کے احساس نے امینہ کو دل ہی دل میں شرمندہ کر دیا۔ اس دن کام والیوں کے جاتے ہی وہ فریحہ کے گھر جانے کی تیاری کرنے لگی۔ گھر والوں کو دوپہر کا کھانا کھلایا، جلدی جلدی برتنوں کا پھیلاوہ سمیٹا۔ کتنا دل تھا کہ جب فریحہ کے گھر جائے گی تو اس کے لیے چنا چاٹ اور کھیر بنا کر لے کر جائے گی کیونکہ فریحہ کو اس کے ہاتھ کی بنی یہ دونوں چیزیں بہت پسند تھیں۔ چاہتے ہوئے بھی وہ کچھ نہ بنا سکی کہ اتنی فراغت میسر نہ ہو سکی۔ بڑی مشکل سے گھر والوں کے لیے بس کھانا ہی تیار کر سکی تھی۔ مجبورا ًبیکری سے بقلاوہ اور بسکٹ پکڑنے پڑے، خالی ہاتھ جانا بھی تو اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ مہینوں بعد بھی جائے تو خالی ہاتھ جائے۔ حالانکہ بیکری کی چیزیں گھر کی بنی چیزوں کا نعم البدل تو نہیں ہوسکتی۔ چلیں خانہ پری تو تھی ہی۔ فریحہ جب بھی آتی اس کے لیے کچھ نہ کچھ گھر میں ہی بنا کر لاتی جسے اس کے سب گھر والے بڑے شوق اور مزے سے کھاتے۔ کھانے کی تعریف کرتے اور فریحہ کو دعائیں دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں لذت بھی خصوصی رکھی تھی۔ گھنٹی پر ہاتھ رکھنے کے چند سیکنڈ بعد ہی دروازہ کھل گیا جیسے فریحہ امینہ کے انتظار میں دروازے کے قریب ہی کھڑی تھی۔ فریحہ فرطِ محبت میں امینہ سے لپٹ گئی۔فریحہ کے صاف ستھرے گھر میں داخل ہوتے ہی امینہ کو ٹھنڈک اور سکون کا احساس ہؤا۔ فریحہ جلدی سے اس کے لیے لیموں پانی لے آئی۔ ہلکے ٹھنڈے لیموں پانی نے اندر تک ٹھنڈک اتار دی۔
’’آپ ٹانگیں صوفے کے اوپر رکھ لیں اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر کے دس منٹ کے لیے لیٹ جائیں۔ تھوڑا سا پرسکون ہو جائیں پھر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں‘‘۔
امینہ سے آرام کرنے کا کہہ کر فریحہ خود باورچی خانے کی طرف آگئی۔ وہ تھوڑی دیر بعد ہی چائے لوازمات کے ساتھ لے کر امینہ کے پاس حاضر ہو گئی۔ سارا سامان امینہ کے سامنے میز پر رکھا اور خود بھی اس کے پاس ہی بیٹھ گئی۔
’’آپ تو چراغ کے جن کی طرح منٹوں میں ٹرے بھر کر لے آئی ہیں۔ بھئی میں تو ان لوازمات کے ساتھ پورا انصاف کروں گی۔ آج تو جلدی میں دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھا سکی۔ ایک بھوک اور دوسرا آپ کے ہاتھ کی بنی چیزیں یعنی آپ کے برتن خالی کرنے کی ڈبل وجہ بن گئی‘‘۔ امینہ رول اور پکوڑے اپنی پلیٹ میں ڈالنے لگی۔
’’آپ میرے گھر سے شوق اور رغبت سے کھائیں، میری لاڈو بہن! یہ سعادت ہے میرے لیے۔ مہمان کو کھانا پسند آئے اور اچھی طرح کھائے تو میزبان کو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اسے اس کی محنت کا سارا صلہ وصول ہو گیا اور آپ تو میری سہیلی ہیں آپ تو میرے گھر میں حکم دے کر دھڑلے سے اپنی من پسند چیزیں بھی بنوا سکتی ہیں‘‘۔ یہ اپنائیت بھرے جملے بولتے ہوئے فریحہ بڑی محبت سے شامی کباب پکڑ کر امینہ کی پلیٹ میں رکھنے لگی۔
’’بس کریں فریحہ جی اور نہ رکھیں۔ میں اتنی بھی پیٹو خان نہیں جتنا آپ سمجھ رہی ہیں۔ بھوک ضرور لگی تھی لیکن اب کیا مہینے بھر کا راشن پیٹ میں رکھ لوں‘‘؟ امینہ نے ایک کباب لے کر مسکراتے ہوئے فریحہ کا ہاتھ پیچھے کر دیا۔ فریحہ بھی پاس بیٹھ کر چائے پینے لگی۔ دونوں سہیلیاں کھانے پینے کے دوران باتیں بھی کرنے لگیں۔ دوران گفتگو امینہ کو یاد آیا اور پوچھا۔’’ آپ نے میرے لیے کوئی اچھی مددگار ڈھونڈنے کا وعدہ کیا تھا کیا ڈھونڈی ہے کوئی‘‘؟
’’ہاں….. ہاں مجھے اپنا وعدہ اچھی طرح یاد ہے اور میں نے آپ کی مدد گار ڈھونڈ کر رکھی ہوئی ہے‘‘۔
’’اگر آسانی ہے تو پھر اس سے ملوا دیں‘‘۔ امینہ بھی خوش ہو گئی۔
’’ ٹھیک ہے میں اسے لے کر آتی ہوں‘‘۔
یہ کہہ کر فریحہ دوسرے کمرے میں چلی گئی چند منٹوں بعد برآمد ہوئی تو ہاتھ میں ایک آئینہ تھا جو اس نے امینہ کے چہرے کے سامنے کر دیا اور کہا۔
’’ دیکھو! اس آئینے میں جو چہرہ تمہیں نظر آرہا ہے وہی تمہارے کاموں میں تمہاری سب سے بڑی مدد گار ہے۔ اپنے گھر کے لیے جو خلوص تمہیں اس میں ملے گا وہ کسی اور میں نہیں۔ دیکھیں! سب سے پہلا کام تو یہ کرنا ہے کہ اپنے دن کا آغاز صبح فجر سے ہی شروع کرنا ہے اس طرح ناشتے کے وقت تک آپ کے سارے کام نمٹ چکے ہوں گے اور ناشتہ کے بعد فارغ۔ ہماری بڑی بوڑھی عورتوں کا اپنے وقت میں یہی طریقہ تھا جس کی وجہ سے ان کی صحت بھی قابل رشک تھی۔ اگر دن کے گیارہ بارہ بجے تک سو کر اٹھیں گے اور پھر کام والیوں کا انتظار کریں گے تو صحت، برکت اور فراغت، یہ تینوں چیزیں ہمارے مقدر میں کبھی نہ آئیں گی اور صبح کے وقت میں تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی برکت کی خوشخبری سنائی ہے۔ یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ ہم اپنے کام دوسروں کے سر پر تھوپ کر بہتری کی امید رکھیں۔ ہم زیادہ کام یا صحت کی خرابی میں کسی کو بطور مددگار رکھ سکتے ہیں لیکن جب تک ہمت اور توانائی ہےانحصار ہمیشہ اپنے وجود پر ہی کرنا چاہیے‘‘۔
امینہ حیرت سے ہونق بنی فریحہ کی باتیں سن رہی تھی۔ وہ اس کی باتوں سے متفق اور متاثر تھی اور ساتھ دل میں تہیہ بھی کر لیا کہ اب انشاءاللہ میں بھی کام میں اپنے دن کا آغاز صبح فجر کے وقت سے کروں گی اور اپنی مددگار خود بن کر اس وقت کی برکتیں اور رب کی رحمتیں سمیٹوں گی۔
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x