ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ملائشیا میں چند روز … مکالمہ، مباحثہ – ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

کانفرنس، سیمینار اور سیر و تفریح بھی

ملائشیا میں چند روز… مکالمہ، مباحثہ، کانفرنس، سیمینار اور سیر و تفریح بھی’’کیا آپ ہماری کام یابی،خوشیوں میں شریک ہونے اور ہماری دو تین کانفرنسز میں بطور مہمان مقرّر ہمارے پاس ملائشیا آسکتی ہیں؟‘‘ہماری بہت ہی عزیز دوست اور ملائشیا کے صوبے، کلنتان کی ویمن ڈیویلپمنٹ کی وزیر ،حاجۃداتو ممتاز ناوی کا اصرار کے ساتھ دعوت نامہ اور فون آیا ۔اُن کا کہنا تھا کہ ’’ملائشیا میں ہماری اسلامی پارٹی کی، جسے عرفِ عام میں’’پاس‘‘ کہا جاتا ہے، پانچ صوبوں میں حکومت بن چُکی ہےاوریوں ہم سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھرے ہیں، تو کلنتان اور ترنگانو میں ’’خواتین اور علماء کانفرنسز‘‘ اور کوالالمپور میں ’’انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین‘‘ کا اجلاس منعقد کررہے ہیں، جس میں آپ کی شرکت ہمارے لیے باعثِ افتخار ہوگی۔‘‘
ان کی محبّت و چاہت دیکھ کر ہم نے گھر اور پارٹی دونوں سے اجازت لی، تو امیر جماعت، سراج الحق صاحب کا اجازت نامے کے ساتھ حوصلہ افزائی سے بھرپور فون بھی آیا کہ ’’آپ حلقۂ خواتین، جماعت اسلامی اور ہمارا فخر ہیں کہ پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کی نمایندگی کرتی ہیں۔ہماری دُعائیں آپ کے ساتھ ہیں اور انقلاب کی جو لہریں تُرکیہ اور ملائشیا میں اُبھری ہیں۔اللہ ربّ العزت پوری اُمتِ مسلمہ کو اس سے مستفید کرے۔‘‘نیز،دردانہ صدّیقی نے کمال مہربانی سے اپنی نائب ڈاکٹرحمیرا طارق کو ہمارے ساتھ بھیجا،جو ہمیں اپنی چھوٹی بہن خولہ ہی کی طرح عزیز ہیں اور انہوں نے بھی پورا سفر چھوٹی بہن ہونے کا بھرپورحق ادا کیا۔
کوالالمپور ائیرپورٹ پر28 مئی 2023ء کی صبح اُترے، تو بھائی لقمان کے عزیز دوست سعید بھائی نے استقبال کیا۔ بہت اچھی میزبانی کی اور کلنتان کے لیے رخصت کیا۔ کلنتان میں جہاز کے دروازے پرحاجۃ ممتاز اپنی متعدّد ٹیم ارکان کے ساتھ خُوب صُورت گُل دستے لیے استقبال کو کھڑی تھیں۔ بہت محبّت سے اپنے لائونج میں لے گئیں، جہاں مقامی لباس زیبِ تن کیے بچیوں نےپلے کارڈز پر ہماری تصاویر اور خیر مقدمی سلوگنزکے ساتھ استقبال کیا۔ پھر لذیذ مٹھائیوں ، رسیلے پھلوں سے تواضع کی گئی اور کچھ دیر بعد ہم ہوٹل کے لیےروانہ ہوگئے۔اسلامی تحاریک کے مابین محبّت کی یہ فراوانی اللہ کا بہت بڑاانعام ہے، جو اس مادّہ پرست دَور میں کسی نعمت سے کم نہیں۔ ملائشیا سمندری کھانوں کے شوقین افرادکے لیےجنّت ہے، مگر چوں کہ ہم دونوں ہی سی فوڈ نہیں کھاتیں، تو ہمارا گزارہ زیادہ ترسلاد اور پَھلوں پر ہی رہا۔
29مئی 2023ء کی صبح کلنتان کی’’سلطان اسماعیل انٹرنیشنل اسلامک یونی وَرسٹی‘‘ میں ’’مسلمہ انٹرنیشنل سمٹ، کلنتان‘‘ کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی مباحثے میں حصّہ لیا، جس کا عنوان’’Rejuvinating the Muslimah Identity ‘‘ تھا۔ تقریب کی مہمانِ خصوصی ملائشیا کے پہلے وزیراعظم، تنکو عبدالرحمٰن کی صاحب زادی اور کلنتان کے شاہی خاندان کی رُکن، نور حیاتی تھیں۔
انہوں نے ہمارے وفد کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ ’’میری بہت عزیز دوست پاکستانی ہیں اور پاکستان سے میری بہت ہی خُوب صُورت یادیں وابستہ ہیں۔‘‘ اس مباحثے میں مختلف ممالک کی دانش وَر خواتین نے حصّہ لیا۔موضوع بھی بہت اہم تھاکہ ’’ آج اکیسویں صدی میں ہم ، کُل عالم پرمسلمان عورت کی شناخت کیسے آشکار کر سکتے ہیں۔ وہ عورت، جسے مجبور ،مظلوم، مقہور،پس ماندہ اور روایات میں جکڑی ہوئی سمجھا جاتا ہے، اُس کی کھوئی ہوئی عظمتِ رفتہ کو کیسے باز یاب کروا سکتے ہیں اور وہ کون سی سرگرمیاں ہیں، جو ایک مسلمان عورت کی ذہنی وجسمانی ، جذباتی و روحانی فلاح و بہبودکے لیے معاون ثابت ہوسکتی ہیں؟‘‘ ہم نے ایک مسلمان عورت کی ذمّے داریوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسے وقت میں، جب زمانہ مسلمان عورت کو بہت پس ماندہ اور علم سے بے بہرہ سمجھتا ہے، ہم پراس کی شناحت کی بازیافت کی عظیم ذمّے داری عائد ہوتی ہے۔
تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں مسلمان عورت پر چاروں طرف سے ثقافتی یلغار برپا ہے اور اسے دینی، اخلاقی اور سماجی اقدار سے بےگانہ کیا جا رہا ہے، لیکن ان اجنبی قوّتوں کو ہماری آواز نہیں بننا چاہیے۔ بلکہ ایک مسلمان عورت کوتو آگے بڑھ کردنیا کے سامنے قرآن و سنّت کی واضح تعلیمات آشکار کرنی چاہئیں کہ جس میں عورت کا غالب اور متحرّک کردار ہے۔ قرآنِ کریم میں عورت کا کردار اتنی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت بی بی حواؑ سے لے کر حضرت مریم ؑتک،بی بی آسیہؓ سے حضرت موسیٰ ؑکی والدہ،بہن اور اہلیہ تک اور امّی جان حضرتِ عائشہؓ کی بریت سے لے کر حضرت خولہؓ بنتِ ثعلبہ کی فریاد رسی تک، اچھی عورت کی شناخت، اوصاف تفصیلاً بیان کیے گئے۔
آج کی دنیا میں ہمیں مسلمان عورت کو امن وسلامتی، محبّت و اخوّت،عزت و احترام کی سفیر اور ترقّی کی علامت کے طور پر پیش کرنا ہے۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی دائروں میں مسلمان عورت کوشرم و حیا، عجزوانکساری اور یک جہتی کی قدروں کی علَم بردار کے طور پر متعارف کروانا ہے۔دنیا کو یہ سمجھانا ہے کہ ہمارے لباس اور حجاب کی وجہ سے ہمیں معاشرے کی ترقّی میں اپنا فعال کردار کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی۔ اپنے رویّوں اور عمل سے اسلام کی خُوب صُورت قدروں کی ترویج کرنی ہے، علم کے اسلحے سے لیس ہو کر معاشرے کے مختلف دائروں میں اپنی مہارتوں کو تسلیم کروانا ہے، تربیت کرنی ہے۔
خاندان کے ادارے کے استحکام کی بنیادی ذمّے داری ادا کرتے ہوئے اپنے معاشرے اور مُلک و ملّت کی ترقّی میں فعال کردار ادا کرنا ہے۔ ہمیں دنیا کو’’خود مختار عورت‘‘ کی صحیح تشریح بتانی ہے کہ ایک مسلمان عورت کس قدر بااختیار ہے ،اُسے وہ تمام بنیادی حقوق اللہ پاک نے بن مانگے ہی ساڑھے14 سو سال پہلے عطا کر دیئے تھے، جن کا مغرب کی عورت آج بھی تصوّر نہیں کر سکتی۔ ہمیں مسلمان عورتوں کے اتحاد، بین الاقوامی رابطوں اور منظّم تنظیمات کے روابط سے اپنی آواز توانا بنانی ہے۔ اپنی عظمتِ رفتہ کی باز یابی اور صحیح شناخت کے لیےہم آواز ہونا ہے۔‘‘
پاکستان سے ڈاکٹر حمیراطارق،جکارتا سے ڈاکٹر امانی لبیس، بندآچے، انڈونیشیا سے ڈاکٹرعنایت اللہ اور ملائشیا سے رکنِ پارلیمنٹ، حاجۃ ممتاز محمّد ناوی نے بھی اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، جب کہ مہمانِ خصوصی، نور حیاتی نے زور دیا کہ ’’مسلمان عورت کی صحیح نمایندگی کے لیے جامعات کو اس موضوع پر علمی و تحقیقی سطح پر ٹھوس کام کرنا چاہیے۔‘‘اس عالی شان علمی کانفرنس کی میزبان ڈاکٹر نور حفیلہ اور استادہ اسمک بنتِ حُسین نے’’Muslim International Summit Kelentan Misk 2023 ‘‘کا اعلامیہ پڑھ کر سُنایا اور نیک خواہشات کے ساتھ کانفرنس سے رخصت کیا۔
باہر نکلے، تو کلنتان کے شہر، کوٹابھارو کی سڑکوں پر ہماری تصاویر کے ساتھ خیر مقدمی بینرز کی بہار دیکھ کر دل ممنونیت سے بھر گیا ۔وہاں سے بہت ہی دیدہ زیب، آرام دہ کوچز میں شہر کی سیر کروائی گئی، تو ملائشیا اور تھائی لینڈکے بارڈر پر ایک انتہائی خُوب صُورت فیری پر لے جایا گیا۔ کیسا دل فریب منظر تھا، جہاں ایک دریا دونوں ممالک کے درمیان حدبندی کرتا ہے۔ ملائشیا کی طرف کوٹا بھارو ہے اور تھائی لینڈ کی طرف تخت بھائی۔ یہ دریافیری کے ذریعے عبور کیا جاتا ہے، جہاں بہت بڑی ’’بارڈر مارکیٹ‘‘ ہےاور جس میں خواتین کی پسند کے بہترین برتن موجود ہیں، پر افسوس اس بات کا تھا کہ ہم اتنے بھاری برتن خرید کر نہیں لا سکتے تھے۔
ہاں، البتہ حاجۃ ممتاز نے وہاں سےتنکوں کی بنی ایک خُوب صُورت ٹوکری خرید کر ہمیں تحفتاً دی۔ اس کے بعد وہ ہمیں اپنے دفتر لے کر گئیں، جو جدید سہولتوں سے مزیّن تھا۔ وہیں ہماری ’’انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین(آئی ایم ڈبلیو یو)‘‘ کی ریجنل میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں بورڈ آف ٹرسٹیز کی 9ارکان نے حصّہ لیا۔ آئی ایم ڈبلیو یو کی میزبان، ملائشیا کی ڈاکٹر عاتکہ نے ایجنڈا پیش کیا،جس میں رپورٹ سیشن،پلان آف ایکشن برائے 2023-2024پر مباحثہ ہؤا ۔ارکان نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ہماری تنظیم نامساعد حالات میں بھی باقاعدگی سے دستوری اجلاسوں کا اہتمام کرتی ہے۔
جب کہ ہمیں قومی اور بین الا قوامی طور پر اپنے اپنے ملکوں میں عورت کی ترقّی کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کے ضمن میں کچھ فیصلے بھی کیے گئے، جیسے،عورت اور خاندان کی بہبود کے لیے کام کرنے والی خواتین لیڈرز، تنظیموں اور جماعتوں کے ساتھ باقاعدگی سے رابطے رکھے جائیں۔ ترکیہ کی حکومت اور وہاں کی منظّمات کے ساتھ رابطوں کو بحال کیا جائے۔ قرآن و سنّت کی تعلیمات پر مبنی کورسز کا انعقاد کیا جائے۔ خواتین جیلوں میں ان کی فلاح و بہبود کے لیے کا م کیا جائے۔ خواتین کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں( اس حوالے سے ملائشیا کی ’’حضرت خدیجۃؓ کاروباری مارکیٹ‘‘ بہترین ماڈل ہے۔)
آئی ایم ڈبلیو یو کے ممبر ممالک کے درمیان حجاب اور ساتر لباس کی تجارت کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ حجاب نمایش اور حجاب کے پروگرامز پر مبنی مہینہ منایا جائے۔ غیر مسلموں میں اسلام کی دعوت اوربالخصوص ایل جی بی ٹی کیو(LGBTQ)کے فتنے سے اپنی نسل کو بچانے کے لیے خاص اقدامات کیے جائیں اور اس سلسلے میں باقاعدہ پروگرامز مرتّب کیے جائیں وغیرہ ۔بعد ازاں،دفتر میں کلنتان کے صوبے میں موجود خواتین کے پراجیکٹ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
یہ دیکھ کربےحد خوشی ہوئی کہ حاجۃ ممتاز اپنے صوبے کی خدمت کر کے، اب رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوکر کوالالمپور جارہی ہیں، تو انہوں نے اپنی جگہ نئی منتخب ہونے والی بہن کو اپنا خُوب صُورت دفتر منتقل کردیا اور یہ انتقالِ حکومت کا مرحلہ اس قدر سکون واطمینان سے طے ہو رہا تھا کہ نہ کوئی کھینچا تانی، نہ حسد، نہ بغض اور نہ الزام تراشیاں۔ بعد میں چِھلکوں سمیت مچھلی اور دو تین طرح کی دریائی مخلوق کھانے میں پیش کی گئی،مگر ہم بس دیکھتے ہی رہ گئے، کھا نہیں سکے۔ اس کے بعد کلنتان میں ایشیا کی صدیوں پرانی لکڑی کی مسجد کی زیارت کروائی گئی، جس میں ایک کِیل بھی نہیں لگائی گئی ہےاور فنِ تعمیر کا ایک شاہ کار ہے۔ سمندر کنارے پُرسکون ماحول، تالاب میں انواع و اقسام کی خُوب صُورت مچھلیاں دیکھیں اور کلنتان کے ٹراپیکل فروٹس سے محظوظ ہوئے، جن میں چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کی چٹنی بھی مکس کی گئی تھی۔
اس کے بعد کلنتان کے ایک ہنر کدے کا دَورہ کروایا گیا۔ کوٹا بھارو میں خواتین کی ہنر مندوں کی ایک مارکیٹ ’’حضرت خدیجہؓ مارکیٹ ‘‘ہے، جس میں سارا کاروبار خواتین کے ہاتھ میں ہے، کھانے پینے کا بہت بڑا بزنس صرف خواتین چلاتی ہیں۔ وہاں سے باتک مارکیٹ لے جایا گیا۔ عموماً لوگ کلنتان میں باتک خریدنے ہی آتے ہیں۔ یہ انتہائی خُوب صُورت ریشم کے کپڑے پربےحد نفیس پرنٹ اور کڑھائی ہوتی ہے۔ وہاں کی خواتین نے ہمارے ساتھ اپنی وزیر حاجۃ ممتاز کو دیکھا، توخوشی کا اظہار کیا۔
دُکان پر موجود ایک معمّر خاتون نے انتہائی محبّت سے چائے اور مقامی مٹھائی سے تواضع کی۔ وہیں دو خواتین انتہائی تپاک سے ملیں، تو ہم بھی جواباً گرم جوشی سے مل لیے اور پھر وِنڈو شاپنگ میں لگ گئے۔ ایک گھنٹے بعدحاجۃ ممتاز سے کہا کہ ’’قریبی صوبے، تیرنگانوسے کسی نے ہمیں لینے آنا تھا، تو ذرا ان کا پتا تو کریں‘‘ تو وہ ہنس پڑیں کہ ’’وہ جو دو خواتین آپ سے اتنی محبّت سے ملیں تھیں، وہ تو گھنٹا بَھر سے اپنے قافلے کے ساتھ آپ کی کی منتظر ہیں۔‘‘ یہ سُن کر ہم اور حمیرا بڑے شرمندہ ہوئے کہ ہم نے تو انہیں پہچانا ہی نہیں اور انہوں نے بھی نہیں کہا کہ ’’ہم آپ کو لینے آئے ہیں‘‘ ان کے نام تو نوراور حیاتی تھے، مگر ان کو سب ٹی اور ٹا کہہ کر بلارہے تھے۔پتا چلا کہ ملائشیا میں نِک نیمز ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ٹی اور ٹا دونوں صوبہ تیرنگانوکی پارلیمنٹرینز تھیں اور ہمیں لینے تین بڑی آرام دہ گاڑیوں میں پہنچی تھیں۔ ہمیں ادھر ہی دعوت نامہ بھی دیا کہ آپ ہماری علماء کانفرنس کی واحدخاتون شریک ہیں اور آپ کا سیشن عالمی شہرت یافتہ اسکالر، ڈاکٹر ذاکر نائک کے ساتھ رکھا گیا ہے۔یہ جتنا بڑا اعزاز تھا، اُتنی ہی بڑی ذمّے داری بھی۔
ہمیں ترینگانو کی خُوب صُورت ریاست کے، جسے’’دارالایمان‘‘ یعنی ’’ایمان کا گھر‘‘ بھی کہا جاتا ہے، بہت ہی دیدہ زیب لاجز میں ٹھہرایا گیا۔ یہ بین الاقوامی کانفرنس تیرنگانو کی انفارمیشن، دعوۃ اور انسانی ترقّی کی وزارت نے کچھ یونی وَرسٹیز کے تعاون سے منعقد کی تھی، جس میں پوری دنیا سے ممتاز علماء شرکت کر رہے تھے۔ کانفرنس کا عنوان ’’عالمِ اسلام کو درپیش چیلنجزاور اُن کا حل ‘‘ تھا، جس کے افتتاحی سیشن کے ساتھ تین مذاکرے بھی رکھے گئے تھے۔
شرکاء کی رجسٹریشن کے بعد تلاوتِ کلام پاک سے آغاز ہؤا۔ ملائشین قراء کی تلاوت سے روح وجد میں آجاتی ہےکہ وہ لوگ قرآن کی رُوح کو سمجھتے ہوئے تلاوت کرتے ہیں۔ پھر ڈاکٹر محمّد خلیل نے استقبالیہ کلمات کہے اور وزیرِ اعلیٰ تر نگانو داتو سری، ڈاکٹر محمّد سمسوری کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ملائشیا کے حالیہ انتخابات میں مُلک کی سب سے بڑی پارٹی ’’پاس‘‘ کے سر براہ حاجی عبد الہادی آوانگ نے اپنے کلیدی خطبے سے کانفرنس کا افتتاح کیا۔اور قرآنی آیات و احادیث بیان کرتے ہوئے انسان کا مقصدِ حیات،اس کی حیثیت اور ذمّے داریاں یاد دلائیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’تہذیبِ جدید کی تباہ کاریوں کو خطرات بھانپتے ہوئے بھٹکی انسانیت تک اسلام کی آفاقی تعلیمات پہنچانا ہماری بنیادی ذمّے داری ہےکہ آج انسان اور انسانیت کواسلام کے زرّیں اصولوں پر سمجھوتا کیے بغیر اس کی اعلیٰ اقدار کی جس قدر ضرورت ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔ انسانیت کے دشمن اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں، مگر اللہ اپنا نور پھیلا کر ہی رہے گا، ہمیں باطل قوتوں کے اکٹھ سے نہیں گھبرانا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے کامل نمونہ ہے۔‘‘انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام سورۃ الاحزاب کی آیات نمبر21 تا 24پر کیا۔ ’’یقیناً تمہارے لیے رسول اللہؐ میں عُمدہ نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے، جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور جب مومنوں نے فوجوں کو دیکھا، تو کہا یہ وہ ہے، جس کا ہم سے اللہ اور اس کے رسولؐ نے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ ہی کہا تھا، اور اس سے ان کے ایمان اور فرماں برداری میں ترقّی ہو گئی۔
ایمان والوں میں سے ایسے بھی ہیں، جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا، اسے سچ کر دکھایا، پھر ان میں سے بعض تو اپنا کام پورا کر چُکے اور بعض منتظر ہیں اور عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی، تاکہ اللہ سچّوں کو ان کے سچ کا بدلہ دے اور اگر چاہے، تو منافقوں کوعذاب دے یا ان کی توبہ قبول کرلے۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘بعدازاں، ہم نے پاکستان کے ہنر مندوں کی ایک ٹوکری مہمانِ خصوصی کی خدمت میں پیش کی۔ چائے کا وقفہ ہؤا اور پھر پہلا مذاکرہ منعقد ہؤا، جس کا عنوان’’ کثیر الجہتی اور کثیر المسلکی معاشرے میں ایک دوسرے کے ساتھ امن بقائے باہمی کے ساتھ کس طرح زندگی گزاریں‘‘ تھا۔
پہلا مذاکرہ ’’Peaceful Coexistance ‘‘ پر ہوا، جس میں کہا گیا کہ ’’اسلام سے متعلق غیر مسلموں کا یہ خیال غلط ہے کہ اسلام تشدّد آمیز رویّوں کا مجموعہ ہے۔ وہ دراصل ریاستِ مدینہ اور مسلمانوں کی تہذیبیں نظر انداز کر دیتے ہیں کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ کس قدر پُرامن رویوں اور رواداری کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ ‘‘عمّان کے شیخ احمد سود اور ملائشیا کے داتو سری ڈاکٹر ذوالکفل نے اس پر سیر حاصل بحث کی۔ اس کے بعد سوال وجواب کا موقع دیا گیا، جس میں ملائشیا کی یونی وَرسٹیز کے طلبہ نے بَھر پور دل چسپی لی۔دوسرا مذاکرہ’’ Da,wah in Contemporary Diverse Society ‘‘ پر ہؤا۔ جس میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے خطاب کیا۔
اُن کا خطاب سننے کے لیے ہال کھچا کھچ بَھرا ہوا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے عالی دماغ سے آیات واحادیث ایسے وارد ہورہی تھیں، جیسے وہ ایک کمپیوٹر ہوں۔انہوں نے کہا ’’دعوت کا بنیادی مطلب کسی کو اللہ کی طرف بلانا ہےاور اللہ کی طرف بلانے کو اصلاح کہتے ہیں۔ نہ جانے غیر مسلموں کے ذہن میں اسلام کا نام آتے ہی شدّت، انتہا پسندی، بنیاد پرستی ،ایک سے زیادہ بیویاں، دہشت گردی، نقاب اور جہاد سمیت تمام منفی تصورات ہی کیوں آتے ہیں۔ مَیں نے اس کا جواب اپنے رسالے ’’20 سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوال ‘‘ میں لکھا ہے۔
لوگوں کے دماغوں کو صحیح تصوّرات سے بھرنے کے لیے پہلے ان کے غلط خیالات کا صفایا کرنا ہوگا، کیوں کہ اگر ایک گلاس َھرا ہؤا ہوگا اور آپ اس میں مزید پانی ڈالیں گے ،تو وہ ضائع ہی ہو جائے گا۔ اس لیے پہلے تودماغ غلط تصوّرات سے خالی کرنا ہوگا۔آج کل نوجوانوں میں لادینیت بڑھتی جا رہی ہے۔ اُن کے لیے ’’لا الہ‘‘ یعنی ’’کوئی معبود نہیں‘‘کہنا تو آسان ہے۔ ہمیں انہیں بس ’’الاللہ‘‘ پڑھا نا ہے۔ اللہ نے ہمیں بڑی عزّت دی ہے کہ’’تم بہترین اُمّت ہو، جسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے۔‘‘تو ہر مسلمان بنیادی طور پر داعی ہے۔ اسے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا ہے، ہر بستی میں فُل ٹائم داعی بھی لازم ہے اور ہر مسلمان پر پارٹ ٹائم داعی بننا لازم ہے۔ سورۃ العصر آج کے دَور میں نجات کی سورت ہے۔
ہم میں ہر ایک ، دوسرے کوایمان ،عملِ صالح ، حق اور صبر کی نصیحت کرے۔اور میرے خیال میں آج کا سب سے بڑا فتنہ ایل جی بی ٹی کیوہے، جس سے بچنے کی خود بھی فکر کرنی چاہیے اور آنے والی نسلوں کو بھی بچانا چاہیے۔گرچہ ہر مذہب میں اس کو ناپسندیدہ فعل گردانا گیا ہے۔1980 ء تک یہ دنیا کے ہر قانون میں ایک جرم تھا، مگر نوّے کی دہائی میں اس غلاظت کا آغاز ہؤا اور اب ہر جگہ یہ دندناتے پھر رہے ہیں۔ سو، ہمیں اِس کے سدّ باب کے لیے ’’دعوہ‘‘ کا کام کرناہے ۔جیسا کہ قطر نے ورلڈ کپ میں قابلِ فخر مثال قائم کی کہ’’ آپ کے ایک مہینے کے کھیل کے لیے ہم اپنا دین، مذہب نہیں چھوڑ سکتے ۔‘‘ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی سیر حاصل گفتگو کے بعد ہم نے اُن کی بات کو آگے بڑھایا اور ملائشین زبان میں ہال میں موجود نوجوانوں سے بات کی، جس پر وہ بہت خوش ہو کر تالیاں بجاتے رہے۔
ہم نے پہلے ’’پاس‘‘ کو 2023 ء کے الیکشن میں عظیم الشّان کام یابی پر مبارک باد پیش کی کہ آپ کی کام یابی ملائشین عوام کے آپ پر اعتماد کی مظہر ہے۔ پھر اسلام کے اخوّت و محبّت، سلامتی، رواداری اور برداشت کے دین ہونے کی بات کی کہ یہ پیغامِ محبّت ہماری رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے۔ ہمیں آج قومی اور بین الا قوامی طور پر جن مسائل کا سامنا ہے، اُن میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم پرتشدّد،دہشت گردی اور انتہا پسندی کا لیبل لگا دیا گیا۔سو،ہماری اجتماعی دانش اس بات کی متقاضی ہے کہ مکالمے کو رواج،باہمی تعاون کو فروغ دیں اور اپنی باہمی قوّت،مختلف رنگوں اور ثقافت سے دنیا میں محبّت کا پیغام عام کریں۔
دعوتِ دین، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے طریقۂ کار کی طرف بلانے کا نام ہے، جو ہر مسلمان کی زندگی کا لازمی جزو ہے۔ اسلام کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ ساری انسانیت کو اجتماعی طور پر اللہ کی بسائی ہو ئی دنیا میں مل جل کر امن سے رہنا ہے۔ اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ ’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلائو۔اور اس شخص سے زیادہ اچھی بات اور کس کی ہوگی، جس نے اللہ کی طرف بلایا اور اچھے اعمال کیے اور کہا کہ مَیں مسلم ہوں۔‘‘لہٰذا ہمیں کثیر الجہتی معاشروں میں اِن طریقوں سے دعوت کا کام کرناچاہیے۔
حصولِ علم اور لوگوں کے خیالات سمجھنا۔ لوگوں تک بہت عزّت و احترام کے ساتھ اپنی بات پہنچانا۔ ذاتی تعلقات قائم کرنا۔ سماجی روابط کے ساتھ بہت واضح طور پر اپنا پیغام عام کرنا۔ مشترکہ معاملات و امور پر بات شروع کرنا۔تمام طبقات تک ان کی ضروریات کے مطابق دعوت پہنچانا،تمام لوگوں کو شمولیت کا احساس دلانا۔ تعلیم اور شعورو آگہی کی مہمّات چلانا۔ یوں بھی دعوت کا کام بہت صبر و استقامت اور ایثار و قربانی کا متقاضی ہے، مگر خواتین میں یہ کام مزید اہمیت اختیارکر جاتاہے۔ ہمیں ایسے پلیٹ فارمز بنانے ہوں گے، جہاں ہم خواتین کو اپنے تجربات میں شریک کرسکیں۔
ایسے سیمینارز اور کانفرنسز منعقد کرنی ہوں گی، جس میں مسلمان عورت کی صحیح شناخت کے ساتھ اُس کا کردار اجاگر کیا جائے۔ اس کی قدر و قیمت، تحفّظ، کفالت کے انتظام، بنیادی حقوق کو اجاگر کیا جائے۔ بین المسالک اور بین المذاہب مکالمےکوفروغ دیا جائے۔ میڈیا میں اپنے اثرورسوخ کو بڑھایا جائے اور مسلمان عورتوں کے مجبور اور مظلوم ہونے کے تاثر کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا جائے۔معاشرے میں عورت کی اہمیت، اُس کوبااختیار بنانے اوراُس کی ترقّی ، فلاح و بہبودکے لیے مرحلہ وار پروگرام تیار کیے جائیں۔ دعوت کے لیے سب سے اہم اور ضروری کام اتّحادِ اُمت ہے، ہم اکٹھے ہوں گے،تو تمام ناممکنات آپ ہی آپ ممکن ہو جائیں گے۔‘‘
اس کے بعد سوال و جواب کی نشست شروع ہوئی اور ڈاکٹر ذاکرنائیک کے ساتھ پینل میں شرکت کا اعزاز ملا۔ فیمنزم اور فیملی اِزم کی تعریفات اور خاندان کے ادارے کے استحکام کی اہمیت،عورت کے بنیادی کردار، خصوصاًماں کے کردار پر بات ہوئی ۔تیسرا مذاکرہ ’’اسلامی سیاست اور اتحادِ اُمّت پر ہؤا‘‘جس پر انڈونیشیا سے ڈاکٹر محمّد ہدایت نور، سوڈان سے پروفیسر ڈاکٹر عبدالرّحیم اور ملائشیا سے ڈاکٹر داتک محمّد زواوی نے سیر حاصل گفتگو کی۔کانفرنس کے چئیر مین، استاد محمّد نور حمزہ نے، جو کہ اطلاعات، انسانی ترقّی اور دعوۃ کے وزیر بھی ہیں، اختتامی خطاب کیا ۔ پھر دعا اور عشائیے پر اس خُوب صُورت کانفرنس کا اختتام ہؤا۔
کانفرنس کے دوران ہمیں تیر نگانو کی، جو کہ ملائشیا کا خُوب صُورت تفریحی مقام بھی ہے، سیر کروائی گئی۔دریا پر پُرنور مساجد میں نماز پڑھنے کا موقع ملا، تو مقامی مارکیٹ میں سووینئیرز، مسالوں اور خشک مچھلی کے پاپڑوں کی بہتات بھی دیکھی۔ رات کو لندن برج کے طرز پر تعمیر شُدہ تیر نگانو برج کی سیر کروائی گئی۔یونی وَرسٹی کی طالبات کے ساتھ ایک سیر حاصل نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں اسلامی تحریکوں میں خواتین کے آپس کے مضبوط تعلقات اور طالبات کے اسٹڈی ٹورز کے تبادلےپر بھی اتفاق کیا گیا۔
اسی اثنا ایک ظہرانے میں تُرکیہ کے صدارتی انتخابات میں اردوان کی کام یابی کا اعلان بھی سُنا اور دو اسلامی تحاریک کی کام یابی کا جشن بھی منایا۔یاد رہے، ترکیہ کے صدارتی انتخابات میں اردوان کی کُھل کر مخالفت اور ان کی شکست کے لیے ایک بہت مضبوط منصوبہ بندی کی گئی تھی، 600کی پارلیمنٹ میں بمشکل200نشستیں لینے کی پیش گوئی بھی کی گئی تھی، مگر تُرک قوم نے اپنی بیداری کاثبوت دیتے ہوئے ثابت کردیا کہ ’’ہم اپنے خوابوں کا سودا نہیں کرنے دیں گے۔‘‘
29 مئی، فتحِ استنبول کا دن ہے، ہم نے مردِ مجاہد، نجم الدّین اربکان کے استنبول کی فتح کا جشن کئی بار اپنے آغاجان (قاضی حُسین احمد)کے ساتھ دیکھ رکھا ہے، جس کے وہ مہمان خصوصی ہوتے تھے۔ وہ پاکستان کے مختلف جماعتوں کے وفود کو اس جشن میں شرکت کی دعوت دیتے تھے۔ اربکان کا خواب، اردوان کی فتح کی صُورت تعبیر پا رہا ہے اور ہم پاکستان میں بھی اس خواب کی تعبیر پانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x