ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

مرد رویا نہیں کرتے – عالیہ حمید

بہت دیر سے وہ اپنے کچے کوٹھے کے باہر لکڑی کے دروازے میں کھڑی دور گلی میں پر امید نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ وہ ہر روز کی طرح آج بھی اپنے پڑوسیوں کے چھوٹے لڑکے ماجد کا انتظار کر رہی تھی۔ روزانہ اسے چودھری فضل دین کی حویلی میں بھیجتی اور ریڈیو سے خبر سن کر آنے کا کہتی۔ اور اس کے آتے ہی پوچھتی۔
’’میرا خیلہ نہیں بولا ؟ ‘‘
مگر ہر روز جواب’’ نہیں بولا‘‘ میں آتا ۔
خوف و امید کے بیچ لرزتے دل کیساتھ وہ پھر سے روز مرہ کے کام کاج میں مصروف ہو جاتی اور ساتھ ہی خیلہ کی واپسی کی دعائیں کرتی۔اس کے پڑوسی تو ایک طرف سب اہلِ محلہ اس کا بے حد احترام کرتے تھے کہ وہ ایک سپاہی کی ماں تھی۔وہ سپاہی محمد خلیل جس نے پینسٹھ کی جنگ میں میجر عزیز بھٹی کی کمان میں بی آر بی کا دفاع کیا تھا۔ تب سے ہی سب اہلِ محلہ کو اس سے بے حد پیار تھا اور مائی بشیراں کے کام تو ہر کوئی جلدی جلدی کر دیتا تھا۔ خلیل جب ڈیوٹی پر ہوتا تو محلے کی ڈیوٹی مائی بشیراں کی خدمت کرنا ہوتا۔ ہر چھوٹے بڑے کو سمجھا دیا گیا تھا کہ یہ اس سپاہی کی ماں ہے جس نے وطن کا دفاع کیا ہے، اس کی خدمت گویا عبادت سمجھ کر کرنی ہے۔ خلیل، مائی بشیراں کا اکلوتا بیٹا تھا۔ خلیل کے باپ کو فوت ہوئے دو سال ہوگئے تھے۔ اب گھر میں بس وہ اور اس کی بہوتھی۔ خلیل تو ڈیوٹی پر ہوتا تھا ۔
اس وقت گاؤں میں ایک ہی ریڈیو تھا، اس کا مالک چودھری فضل دین حویلی کے صحن میں بیٹھ کر روز مرہ کے پروگرام سنتا، آنے والے ملاقاتی اور دوست احباب ،اہلِ محلہ سب کی معلومات اور ملکی حالات سے آگاہی کا یہی واحدذریعہ چودھری صاحب کا ’’ ریڈوا‘‘ تھا۔ کبھی کبھی کچھ مخصوص پروگرامز کے شوقین ریڈیو مانگ کر بھی لے جاتے تھے ، چودھری صاحب کا کاما سب کو ریڈیو دے دیتا تھا۔ کوئی درس اور تلاوت سننے کو لے جاتا تو کوئی نور جہاں کے گانے سننے کے لیے لے جاتا۔
پھر دسمبر 1971 میں مشرقی پاکستان کھو جانے اور فوجیوں کے وہاں قید ہو جانے کے سبب اس ریڈیو کا چرچا کچھ زیادہ ہی ہو گیا ۔ ہر وقت اک تانتا بندھا رہتا، دونوں طرف کی سیاست، مکتی باہنی کی شر انگیزی سے لے کر جنرل نیازی کے ہتھیار ڈالنے تک مشرقی پاکستان سے آنے والی خبریں عوام کے لیے پہلی ترجیح بن گئیں۔ سب گاؤں والے جلدی جلدی کام نمٹا کر چودھری صاحب کی حویلی میں یوں اکٹھے ہو جاتے جیسے مشرقی پاکستان کی بقا کی جنگ یہیں لڑی جانی ہو۔ سب کومحمد خلیل کی فکر بھی تھی، وہ اس گاؤں کا ایساسپوت تھا جس پر انہیں فخر تھا۔
’’ارے اپنا خلیل بھی ہے ناں ادھر! ‘‘
’’ حویلی میں جمع لوگوں میں سے کوئی ایک اس وقت یہ فقرہ کہہ دیتا، جب لوگ مایوس ہونے لگتے‘‘۔اور سب اس کا نام سن کر یوں مطمئن ہو جاتے جیسے اکیلے خلیل یہ جنگ لڑ رہا ہے اور جیت بھی جائے گا۔
پھر 16 دسمبر کا ایک سیاہ دن طلوع ہؤا جو ان سب کے لیے یہ جان لیوا خبر لے کر آیا کہ مشرقی پاکستان چھن گیا ہے اور تمام پاکستانی فوجی قید کر دیے گئے ہیں ۔ اور ظاہر ہے کہ ان میں محمد خلیل ان کے گاؤں کا سپاہی بھی شامل تھا۔
آئے روز نت نئی خبریں ملتیں ۔ فوجیوں کو سزائے موت کی خبریں گردش کرتی رہیں، جس سے خلیل کی ماں کے ساتھ ساتھ پورا گاؤں اداس ہو گیا ۔پھر ان کی عمر قید کی خبر بھی آئی ۔ پھر خبر آئی کہ اہل خانہ انکے ساتھ خط پتر کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔ گاؤں کے نمبردار کے لڑکے سے ایک خط لکھوایا ، جب پتہ چلا کہ خلیل کو خط لکھا جا رہا ہے تو سارا گاؤں سلام دعا لکھوانے حاضر ہو گیا۔ پھر چودھری فضل دین کے آدمی کے ہاتھ آرمی ہیڈ کوارٹر میں بھیج بھی دیا جس میں بہت سی دعائیں ،محبتیں حوصلہ بلند رکھنے کی استدعا اور’’تمہاری اماں بشیراں کا خیال رکھا جاتا ہے‘‘ کا یقین دلایا گیا تھا۔
ایک دفعہ خبر ملی کہ کچھ جوانوں نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی اور شہید کر دیے گئے ، یہ سن کر بشیراں بی بی کا کلیجہ کٹ کر رہ گیا اور پورے ملک میں بھی خوف وہراس پھیل گیا ۔
اسی طرح کے حالات میں کچھ عرصہ گزر گیا ،پھر پتہ چلا کہ دونوں طرف کی حکومتوں میں معاہدہ ہوگیا ہے اور قیدیوں کی رہائی کا پروانہ آگیا ہے۔ ریڈیو پر چھوٹ جانے والے قیدیوں کا اعلان کیا جاتا تھا اور لوگ ریڈیو کے گرد یوں اکٹھے ہوتے جیسے شہد کی مکھیاں اپنے چھتے پر۔ ہر دوسرے دن کچھ قیدیوں کا نام بولا جاتا، جس میں خیلہ کا نام نہیں بولتے تھے تو سبھی کہتے تھے کہ آج بھی خیلہ نہیں بولا ۔ یوں تو سبھی قیدیوں کو نام سن کر خوشی ہوتی تھی مگر گاؤں والوں کو شدت سے جو نام ریڈیو پر بولے جانے کا انتظار تھا وہ خلیل کا نام تھا۔ ہر کوئی اماں بشیراں کو بتانا چاہتا تھا مگر نام نہیں بولا جاتا تھا۔ اور وہ پڑوسی کے لڑکے کو روزانہ چودھری کی حویلی میں بھیجتی تھی کہ پوچھ کر آئے’’اس کا خیلہ نہیں بولا‘‘ اور ہر روز اسے انکار میں جواب آتا۔
آج بھی اسی انتظار میں وہ گھر کی دہلیز پر کھڑی تھی اور شدت سے خبر لانے والے لڑکے کی منتظر تھی۔
اچانک دور سے کچھ شور سنائی دیا ، جیسے بہت سے لوگ کچھ نعرے لگاتے آگے بڑھ رہے تھے ۔وہ ہاتھ کو کان کے قریب لے جا کر سننے کی کوشش کرنے لگی۔ پھر ہجوم قریب آتا گیا اور اس کی آوزیں بھی صاف سنائی دینے لگیں ۔
’’خیلہ بول گیا ، خیلہ بول گیا ‘‘اماں بشیراں خیلہ بول گیا‘‘۔
اماں کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔ ان نعروں کا سننا تھا کہ کئی ماہ کے کڑے انتظار کی ساری تھکان اتر گئی،دل باغ باغ ہو گیا۔ اماں بشیراں دوڑکر گلی کے نکڑ میں گئی جہاں سامنے گلی میں محلے دار سامنے سے ’’خیلہ بول گیا ،خیلہ بول گیا ‘‘ کہتے اسی کی طرف چلے آرہے تھے۔ ہر سب نے اماں کو مبارکیں دیں جو اماں نے برستی آنکھوں کیساتھ وصول کیں۔
کئی روز کے انتظار کے بعد خیلہ گاؤں کے باہر والی سڑک پر پہنچا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ یہ جنگ مذکرات کی میز پر ہارنے اور اپنے وطن کے دو ٹکرے کروا کر واپس آنے والے قیدی سپاہی کا استقبال جوتوں کے ہار کی بجائے محبت کے پھول نچھاور کر کے کیا جارہا ہے۔
’’خیلہ آگیا ،خیلہ آگیا….‘‘ کی آوازوں نے اسے شرمسار سا کر دیا اور سوچ رہا تھا کہ اپنے گاؤں والوں کو کیا منہ دکھاؤں گا۔
سامنے ہجوم میں اسے چودھری صاحب ، سفید کرتے اور تہہ بند میں سر پر اونچے شملے والی اجلی سفید پگ لپیٹے اس کی طرف بڑھتے چلے نظرآرہے تھے۔ اس نے شرم سے سر جھکا لیا۔
’’خلیل تم لوٹ آئے ۔ شاباش آ جاؤ آ جاؤ ‘‘ چودھری صاحب نے اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا۔
’’اوئے کامے لوگوں کو پیچھے ہٹاؤ ، پہلے اسے گھر کی جانب جانے دو ،ماں کب سے راہ دیکھ رہی ہے‘‘ انہوں نے گرجدار آواز میں کہا تھا۔
راستہ تو صاف ہو گیا تھا مگر خیلہ ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا سکا ۔ وہ منہ سے کچھ بڑ بڑانے والا ہی تھا کہ چودھری صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا۔
’’میں تمہاری کیفیت کو سمجھ سکتا ہوں ،مگر ایک بات تو تمہیں بھی پتہ ہی ہے اور یہ تمہاری تربیت کا بھی حصہ ہے کہ ہار جیت جنگوں کا حصہ ہؤا کرتی ہے‘‘۔
’’ہاں مگر…. مگر جو ہاریں ہم خود اپنے ہاتھوں سے لکھ لیتے ہیں وہ…. ؟ ‘‘ خلیل نے دکھ سے کہا۔
’’یہ ہار دونوں طرف کی سیاست اور دشمنوں کی سازشوں نے لکھی ہے، اس میں تمہارا کیا قصور ؟ ہار لکھی جاتی ہے تو جیت بھی تو لکھی جاسکتی ہے ، بس دعا کرو کہ اس قوم کو اچھے برے کی تمیز آ جائے ، جس دن یہ فرق سمجھ آگیا جیت ہماری ہی ہو گی‘‘۔
ماسی بشیراں ،اس گاؤں اور پورے پاکستان کا یہ خیلہ، چودھری صاحب اور اس گاؤں کے ہر فرد کے کندھے پر سر رکھ کر دھاڑیں مار مار کر خوب رونا چاہتا تھا مگر وہ جانتا تھا کہ:
مرد رویا نہیں کرتے! ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x