ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ماہنامہ بقعۂ نور کا کردار – بتول جنوری ۲۰۲۳

نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں

بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ان کی بہترین تعلیم و تربیت ہماری اولین ذمہ داری ہے۔اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے جہاں نصابی تعلیم اور جسمانی تفریح یعنی کھیلوں کی اہمیت ہے، وہاں غیر نصابی تعلیم اور ذہنی تفریح بھی اسی قدر ضروری ہے، اور یہ دونوںضروریات بہترین ادب کے ذریعے پوری کی جاسکتی ہیں۔چنانچہ بچوں کے لیے جہاں بہت سے مصنفین نے کتابیں لکھیں،وہیں بہت سے رسائل کا اجرابھی کیا گیا،لیکن ان میںسے انہی مصنفین و رسائل نے مقبولیت اور دوام حاصل کیا جنہیں بچوںنے اپنے ادب کا نمائندہ سمجھ کر پذیرائی دی۔انہی رسائل میں سے ایک معتبر نام ماہنامہ بقعۂ نور کا ہے جسے پاکستان سے چھپتے ہوئے نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ (۶۰ سال) ہو چکاہے ۔ابتدا سے اب تک اس رسالے کے جتنے مدیران رہے، وہ سب ادب، خصوصاََ بچوں کے ادب میں اہم مقام رکھتے ہیں۔فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی پروفیسر ،اور مشہور براڈ کاسٹر شمع خالد یونیورسٹی کے ریڈیو چینل کے حوالے سے لکھتی ہیں:
’’بچوں کا رسالہ نور گزشتہ دو سال سے میرے زیرِمطالعہ ہے۔ ریڈیو (voice of women)میں جمعہ کو بچوں کی دنیا نشر کی جاتی ہے جس میں زیادہ ترکہانیاں نور سے لی جاتی ہیں۔یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ نئے لکھنے والوں کے ساتھ ساتھ پرانے لکھنے والوں کی کہانیاں بھی ہوتی ہیں۔غلام عباس اور بہت سارے بڑے لکھنے والوں کی کہانیاں چھاپ کر نور بچوں میں اردو ادب سے لگاؤ بڑھانے کا کام خاموشی سے کیے جا رہا تھا۔‘‘
انڈیا میں ابو سلیم عبدالحئی صاحب نے ادارہ الحسنات کے تحت ۱۹۵۳ء میں رامپور سے بچوں کے لیے پندرہ روزہ رسالہ نور جاری کیا تھا،جو بعد میں ماہنامہ ہو گیا۔اس کے بانی مدیر وہ خود تھے،لیکن بعد میں یہ ذمہ داری مائل خیر آبادی کے سپرد ہو گئی۔ پاکستان میں جب ادارہ بتول نے بچوں کے لیے رسالے کے اجرا کا فیصلہ کیا تومقاصد کی ہم آہنگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ادارہ الحسنات رامپور کی اجازت سے اپنے رسالے کے لیے ’’نور‘‘ ہی کا نام منتخب کیا۔یوںیکم دسمبر ۱۹۶۲ء میںلاہور سے پندرہ روزہ ’’نور‘‘جاری ہؤا۔ بعد میں یہ بھی ماہوار رسالے میں تبدیل ہو گیا۔ تب سے اب تک بلا تعطل پہلے ہرپندرہ دن بعد اوربعد میں ہر ماہ اس کا تازہ شمارہ نذرِقارئین ہوتارہاہے۔تقریباً ۳۵ سال تک رسالہ ’’نور‘‘ کے نام سے نکلتا رہا لیکن پھر رجسٹریشن کے حوالے سے بعض تکنیکی مسائل کی وجہ سے اسے ’’ بقعہ ٔ نور‘‘ کے نام سے ازسرِنورجسٹر کروانا پڑا، لیکن یہ تبدیلی محض نام میں ایک لفظ کے اضافے تک ہی محدود تھی،عملی طور پررسالہ اسی مدیر کی زیر نگرانی،اسی ادارے کے پلیٹ فارم سے، اسی رنگ و آہنگ اور اندازسے شائع ہوتا رہا اور اس کی پالیسی اور مقاصد بھی پہلی نہج پر قائم رہے۔
رسالہ نور کے اجرا کے وقت اس کے لیے بعض مقاصد اور اہداف کا تعین کیا گیا تھا جو کہ درجِ ذیل ہیں:
۱۔ اس میںشائع ہونے والی کہانی ،مضمون اور نظمیں دلچسپ اور معلوماتی ہوں۔
۲۔ بچوں کی عمر اور نفسیات کا خیال رکھا جائے۔
۳۔ واقعات ایسے ہوں جو بچوں پر منفی اثرات مرتب نہ کریں۔
۴۔ کہانی میں انداز ایسا ہو کہ جھوٹ نہ لگے بلکہ واقعات سچ لگیں۔
۵۔ صرف زبان ہی آسان نہ ہو بلکہ واقعات بھی ذہنی سطح کے

مطابق ہوں۔
۶۔ پندو نصائح براہِ راست نہ ہوں بلکہ کہانی میں سبق ہو۔اس ، میں دلچسپی اور مقصدیت آپس میں یوں ملے ہوئے ہونے چاہئیں کہ ان کی حدود کی نشان دہی نہ ہوپائے ۔
۷۔خوف اور دہشت کے عناصر سے پرہیز کیا جائے۔ گزشتہ نصف صدی سے رسالہ انہی اصولوں کو مدِنظر رکھ کر بچوں کے ادب کی تخلیق و ترویج میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہا ہے اور اکیسویںصدی کے جدید تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بھی اپنے ادب کی بنیاد انہی راہنما اصولوں پر قائم رکھے ہوئے ہے۔
اکیسویں صدی میںماہنامہ بقعئہ نور نے بدلتے زمانے کے جدید تقا ضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے سائنس فکشن اور موجودہ عہد سے تعلق رکھنے والے بچوں کے مسائل کو بھی اپنے صفحات میں جگہ دینی شروع کردی ہے۔یہی نہیں بلکہ دورِ جدید کے بچوں کی ذہنی استعداد کے حوالے سے ان کی بہترین ادبی اور معاشرتی تربیت کے لیے بقعۂ نور نے موضوعاتی خاص نمبر نکالنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جن میں درجِ ذیل نمبر شائع ہو چکے ہیں:
۱۔پسندیدہ کہانی نمبر ۲۔طنزومزاح نمبر ۳۔ہماری زبان نمبر ۴۔تاریخی کہانی نمبر ۵۔لوک کہانی نمبر ۶۔قضا نمبر ۷۔مہم جوئی نمبر ۸۔ ـ’’پیارے نبیﷺ نمبر (دعوۃ اکیڈمی کی تجویز پر بچوں کے دیگر کئی رسالوں کے ساتھ ساتھ ماہنامہ بقعۂ نور نے بھی دسمبر ۲۰۱۰ء میں یہ خاص نمبر نکالا) ۹۔سائنس فکشن نمبر
اردو کے ادبِ اطفال میں اس رسالے کا ایک اہم قدم ترجمہ نگاری ہے جس کے تحت دوسری زبانوںکے ادب ، خصوصاًًعربی،فارسی اورانگریزی سے بچوں کی کہانیوں کے اردو میں معیاری تراجم کرائے گئے ہیں۔ گذشتہ چند سالوں میں ترجمہ ہونے والے انگریزی ناولوں میں بچوں کے ادب میں کلاسیک کا درجہ رکھنے والے ناول :
The Secret Garden,The Railway Children,
Haidi,The Coral Island,What Katy Did,Christmas Carol, House at the Corner وغیرہ نمایاں ہیں۔
بقعہ نور میں شائع ہونے والے سلسلہ وار ناول اوربہترین کہانیاںکتابی شکل میں بھی شائع کی جاتی ہیں۔اس ذخیرۂ کتب کی تعداد پچاس سے تجاوز کر چکی ہے اور بہت سے نئے لکھے والے صاحبِ کتاب ہو کر سکہ بند ادیب بن چکے ہیں۔
نور کی روشنی تین نسلوں کی راہنمائی کر چکی ہے۔ایوب گوہر لکھتے ہیں:
’’ نور سے میری باقاعدہ وابستگی کو بیس سال ہو گئے ہیں۔اب اگرچہ میں قصے کہانیوںکی عمرسے نکل گیا ہوں مگر ہر ماہ اس کی زیارت ضرور کرتا ہوں۔ہمارے خاندان میں رسالہ اس وقت سے آ رہا ہے جب اس کی قیمت غالباً دو روپے تھی۔میںجب خریدار بنا تو قیمت پانچ روپے تھی۔مختلف اوقات میں میری مختلف چیزیں نور میں شائع ہوتی رہیں۔میری دلی دعا ہے کہ اللہ کریم نور کومزید ترقی دے۔آمین!‘‘
آج کل منہاج یونیورسٹی میں ایم فل کی سطح کے ایک مقالہ بہ عنوان ’’پاکستان میں ادبِ اطفال کی روایت اور ماہ نامہ بقعہ ء نور کی خدمات ‘‘ پر کام ہو رہا ہے۔ یہ مقالہ ایم فل سکالر خرم رفیق لکھ رہے ہیں۔یہ مقالہ یقیناً رسالے کی ادبی خدمات کا اہم اعتراف ہے ؛ تاہم اس سے پہلے بھی ناقدین کی طرف سے رسالے کو تعریفی اسناد ملتی رہی ہیں۔
۸۔بچوں کے ادب کے حوالے سے بقعۂ نور کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے تمکنت عامرلکھتی ہیں:
’’ بچوں کے ادب میں ایک اہم کردار اخبارات اور رسائل کا رہا ہے۔سب سے پہلے بچوں کا اخبار ’پھول‘۱۹۰۹ء میں شائع ہؤا۔اس کے بعد اور بہت اخبار اور رسالے نکلے جن میں تعلیم و تربیت، نونہال، بچوں کی دنیا، بچوں کا اسلام، تحفہ، کھلونا، ذوق و شوق، روضۃ الاطفال، تہذیب الاطفال،پیغام ، ساتھی، ٹوٹ بٹوٹ، کو ثر، مجاہد، ذہین اور بچوں کا اپناپیارا رسالہ نور شامل ہے جو نصف صدی سے زیادہ کے عرصے سے بچوں کے لیے نظم اور نثر میںدلچسپ اور نصیحت آموز ادب پیش کر رہا ہے اور جس نے ’ریڈیو نورستان‘کی شکل میں بچوں کے لیے ایک منفرد اوردلچسپ سلسلہ

بھی جاری کیا ہے۔ ‘‘
بقعۂ نور نے جس طرح نسل در نسل بچوں کی تعلیم و تربیت میں اپنا کردار ادا کیا ہے، اس کا ذکر تحریک ِ محنت پاکستان کے جنرل سیکریٹری خواجہ محمد اعظم مدیرہ کے نام اپنے خط میں یوں کرتے ہیں:
’’۷۷۔۱۹۷۴ء سکول دور میں ’نور‘ پڑھا کرتے تھے۔اب میرے بیٹے ،بیٹیاں بھی اس کا مطالعہ شوق سے کرتے ہیں۔ دین کے ساتھ لگن،شوق،سمجھ،فہم مجھے تو کلاس ششم میں ’نور‘ سے حاصل ہؤا،جسے بعد میں ’ ہمقدم‘ نے فروغ دیا،الحمد للہ کثیراً ’نور‘ آج بھی سراپا نور ہے۔ اس کے نور سے دل اور گھر منور ہیں۔ نجانے اس دوران کتنی باجیاں ( باجی بنت مجتبیٰ مینا جیسی) آئیں اورچلی گئی ہوں گی، مگر ’نور‘ کا نورانی سفر جاری و ساری ہے۔میںآج بھی ’نور‘ کو مکمل پڑھتا ہوں۔امید ہے کہ آئندہ نسلیں بھی اس سے مستفید ہوتی رہیں گی ا ن شاء اللہ۔‘‘
تحریکِ نفاذِ اردو پاکستان کے نائب صدر حسیب احمدنے اسی حوالے سے اپنے خط میں لکھا ہے :
’’میں بچپن میں بھی ’نور‘ کا بے قاعدہ قاری تھا اور اب ۴۸ سال کی عمرمیں بھی ’’بقعۂ نور‘‘ کا بے قاعدہ قاری ہوں۔
(بچوں کے لیے گھر آتاہے کبھی کبھار میں بھی پڑھ لیتا ہوں)۔ اس بار نور کا ’’ہماری زبان نمبر‘‘پورے کا پورا پڑھا۔ ماشاء اللہ بہت اچھا نمبر نکالا ہے۔ تمام تحریریں معیاری اور معلوماتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبول اور بار آور کرے،آمین۔‘‘
بقعۂ نور نے بچوں کے لیے تسلسل سے موضوعاتی خاص نمبر نکالنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے،اس کے حوالے سے لائبہ شفیق اپنے ایم فل کے مقالے میں لکھتی ہیں:
’’نور میں شائع ہونے والی ہر تحریر بچوں کے مزاج کے عین مطابق،دلچسپ اور حقیقی زندگی سے قریب ہوتی ہے۔بقعۂ نور بچوں کی دلچسپی کے مطابق خاص نمبر بھی شائع کرتا ہے اور بچوں کے رسائل میں موضوعاتی خاص نمبر کی روایت کے آغاز کا سہرا بھی ماہنامہ بقعۂ نور کے سر ہے،جس کی تقلید اب بچوں کے دوسرے رسائل بھی کر رہے ہیں۔‘‘
رابعہ سرفرازنئی نسل کو اپنی زبان و تہذیب کی قدر و منزلت کا ادراک کروانا اہلِ فکر کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہتی ہیںکہ نئی نسل کو اپنی تہذیب سے جوڑے رکھنے ،اردو زبان سکھانے اور زبان پر فخر کرنے کے لیے جس بنیاد کی ضرورت ہے، اسے لمحہ بہ لمحہ مضبوط کرنا اہلِ فکر و دانش کا اولین فریضہ ہے ۔ہمیں نئی نسل کی اپنی اقدار سے دوری کا نوحہ پڑھنے کی بجائے اس کی اس زاویے سے تربیت کرنا ہوگی کہ وہ اپنی زبان اور ماحول کے تمام مثبت عناصر پر فخر کر سکے۔ بقعۂ نور اپنی اس ذمہ داری سے کیسے عہدہ برآ ہؤا ہے،اس کا اندازہ تحریکِ نفاذِ اردو پاکستان کے نائب صدر حسیب احمدکے خط سے بخوبی ہو سکتا ہے۔وہ رسالے کو سراہتے ہوئے کہتے ہیں :
’’اردو کا احیاء اور نفاذ وقت کی ضرورت ہے۔ہماری دنیاوی ترقی(اورشاید دینی بھی) اردو ہی سے وابستہ ہے۔ شاید اسی لیے ہماری اشرافیہ نے اردو کو اس کا اصل مقام نہیں دیا۔انہی کی سازشوں (اور ہماری غفلت) کی وجہ سے اب ہمارے بچے بھی اردو سے بیگانے ہوتے جا رہے ہیں۔ایسے میں نور کا ’ہماری زبان نمبر‘ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔‘‘
شمع خالدنور کے ’ہماری زبان نمبر‘پر اپنے تبصرے میں اس کاوش کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہیںاور کہتی ہیں :
’’اس مرتبہ رسالہ نور نے وہ بڑا کام کیا ہے جسے بہت پہلے کسی بڑے ادبی رسالے کو کرنا چاہیے تھا،اور یہ کام نور کی ٹیم نے کیا ہے۔ میں تہِ دل سے اس میں لکھنے والوں،تزئین کرنے والوں اور کلام منتخب کرنے والوں کو مبارک باد پیش کرتی ہوں۔‘‘
قانتہ رابعہ خاص نمبر کی پذیرائی کرتے ہوئے کہتی ہیں:
’’ نور ’اردو زبان نمبر ‘ میرے سامنے ہے۔ ماشاء اللہ ضخامت اتنی بھاری بھرکم ہے کہ دل مطمئن ہو گیا کہ اندر بھی پڑھنے کے لیے کچھ نہ کچھ مواد ضرور ہو گا۔اس خاص نمبر کی بے حد ضرورت تھی،زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس میں تقریباً تمام اردو اصناف ِادب شامل ہیں۔شعری حصہ بھی خوب ہے۔ اردو ادب کی تاریخ، ارتقاء،حال بلکہ مستقبل کی بھی ہلکی سی جھلک دیکھنے کو ملی۔بابائے اردو کا تعارف ضروروی تھا،سو وہ بھی اچھا

رہا۔کہانیاںبھی اچھی تھیں۔نور کی منتخب پرانی کہانیوں کا سلسلہ مجھے بہت پسند ہے،بہانے سے کوثر و تسنیم سے دھلی زبان پڑھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ مجھے امید ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ اگر اردو زبان کے لیے نکالے گئے بچوں کے رسالوں کا مقابلہ منعقد ہؤا تو ’نور‘ ان میں نمایاں مقام کرے گا،ان شاء اللہ!‘‘
۹۔ بقعۂ نور نے ہمیشہ بچوں کے لیے اپنی تاریخ کے روشن باب وا کیے ہیںاور کوشش کی ہے کہ بجائے اس کے کہ ہمارے بچے غیروں کی لکھی ہوئی تاریخ پڑھ کر گمراہ ہوں، انھیں ہم خود اپنے روشن ستاروں اور ان کے کارناموں سے متعارف کرائیں تاکہ ان میں بھی ملک و ملت کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ان کی اسی کوشش کی مدح سرائی کرتے ہوئے حوریہ سلطان لکھتی ہیں:
’’ تاریخی نمبر نکالنے پر میں آپ کو مبارک باد پیش کرتی ہوں۔ یہ بہترین کوشش تھی۔ اس سے ہم اپنے ماضی کے درخشاں ابواب سے واقف ہوئے اور ہم میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ پیدا ہؤا۔یہ خصوصاً نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ تھا۔اللہ آپ کو اتنی محنت کا اچھا صلہ دے،آمین۔‘‘
۱۰۔بقعۂ نور کے ’’لوک کہانی نمبر‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرزانہ چیمہ کہتی ہیں:
’’ بقعہ نور کا ’لوک کہانی نمبر‘‘ ملا۔کافی دیر تو ٹائٹل یعنی سرورق کو دیکھتے رہے،اس قدر خوبصورت بامعنی سرورق۔آپ کی محنت،جذبے اور ذوق کی دل ہی دل میں داد دیتے رہے۔پھر اندر سے جھانکااور فہرست پر نگاہ جما دی۔ماشاءاللہ ہر دیس کی کہانی تھی اور ترجمہ کرنے والوں میں کیا بچے،کیا جوان،کیا عمر رسیدہ، کیا نوجوان۔گویا ایک کہکشاں سی بکھری تھی۔ہر سال باقاعدگی سے خاص نمبر نکالنا اور انوکھے بلکہ مشکل عنوانات کے نمبر نکالنا یقینا بڑے عزم و حوصلے کا کام ہے۔‘‘
عشرت گورداسپوری نے نور پر کیا خوب منظوم تبصرہ کیا ہے:
ہنستا مہکتا ہؤا پھول ہے
بچوں میں بے حد یہ مقبول ہے
یہ دلچسپ ہے اور ، نرالا ہے یہ
بڑا خوبصورت رسالہ ہے یہ
بڑی ہی لگن سے، بڑے ذوق سے
ہیں پڑھتے سبھی یہ بڑے شوق سے
پھولوں کی جیسے کیاری سجی
بڑے نامور ہیں لکھاری سبھی
ماہ نامہ بقعۂ نور نے ہمیشہ بچوں کے لیے بہترین ادب فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔اللہ اس پلیٹ فارم سے کی جانے والی کوششوں کو شرفِ قبولیت بخشے اور نور کی کرنوں کو مزید تابناکی عطا فرمائے۔ آمین
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x