ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

قسمت کے پھیرے – بتول فروری ۲۰۲۳

جہاز تیزی سے اڑان بھرتا ہؤاکراچی ائیر پورٹ کی حدود سے دور نکل گیا ۔ کاک پٹ سے کیپٹن نے دعا کے بعد اپنا اور اپنے عملے کا تعارف پیش کیا۔پرواز کے نگران افسر نے ضروری سفری ہدایات سے مطلع کیا ۔
ڈبل گلاس کی ساؤنڈ پروف کھڑکی سے نیچے مکان ماچس کی ڈبیا کے برابر دکھائی دے رہے تھے ۔میں پلک جھپکائے بغیر انہیں دیکھ رہا تھا۔انہی گلیوں اور شاہراہوں پر میں نے زندگی کے کئی رنگ دیکھے تھے۔انہی ٹمٹماتی روشنیوں کے دور ہوتے عکس میں میں نے خوابوں کے کئی جزیرے تلاشے تھے۔میرے وجود اور میرے وجدان کو محبتوں کے رنگوں سے بھرنے والے تمام رشتے یہیں پر بسے تھے ۔آج انہیں تنہا چھوڑ کر میں سات سمندر پارجارہا تھا ۔
خلوص بھرے ہاتھوں سے دامن چھڑانا اور تنہائی کی اذیت ناک شام و سحر کو گلے لگانا کس کی چاہت ہوسکتی ہے!
پر تقدیر کے فیصلوں پر ہمارا زور نہیں چلتا ۔ہمیں تو بس چلتے جانا ہے انجان راہوں کے مسافر کی طرح….جسے راستوں کا علم نہیں پر چلنا اس کا مقدر ہو ۔
کچھ ہی لمحوں میں جہاز جست لگا کرہزاروں فٹ کی بلندی پر پہنچ گیا۔اب کھڑکی سے باہر اندھیرے کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ نفیس یونیفارم پہنے مسکراتی ہوئی ائیر ہوسٹس سب مسافروں کو سافٹ ڈرنکس پیش کررہی تھیں۔ میرا دل بے کل اور پژمردہ تھا،مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔میں نے کھڑکی کا سلائیڈنگ ڈور بند کر دیا ،بٹن دبا کر کرسی کی پشت کو نیم دراز کیااور اپنی آنکھیں موند لیں ۔میرے لا شعور میں ایک ہیولہ سا لہرا گیا۔
’’نعیم تم واپس کب آؤ گے….تم سن رہے ہو نا نعیم….جواب دو‘‘۔
مدھم سی سرگوشی کی بازگشت میرے کانوں میں گونجی۔میں چونک کر ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔پر سب مسافر اپنے آپ میں مگن تھے ۔ کوئی بھی میری طرف متوجہ نہیں تھا ۔
شاید وہ میرا وہم تھا ۔یا پھر شاید جذبات کی شکست وریخت سے میرے اعصاب شل ہو چکے تھے ۔مجھے ان تخیلاتی ہیولوں سے خوف سا محسوس ہؤا۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا ۔جہاز سبک رفتاری سے منزل مقصود کی طرف رواں دواں تھا ۔کچھ دیر بعد تھکن کے باعث میری آنکھ لگ گئی اور میں نیند کی وادیوں میں کھو گیا ۔
٭ ٭ ٭
’’تم لڑکیاں کتنی سنگدل ہوتی ہو… کتنے وعدے کتنی قسمیں کھاؤ معصوم بندے پر اعتبار ہی نہیں کرتیں ‘‘۔
میں نے روبی کی لمبے گھنے بالوں کی چٹیا کھینچتے ہوئےاس کےکان میں سرگوشی کی ۔
اس کے گال شرم سے گلابی ہو گئے ۔وہ مسکرا کر بولی۔
’’نعیم تم جھوٹے ہو‘‘اور کسی جنگلی ہرنی کی طرح تیزی سے باورچی خانے کی طرف دوڑ گئی ۔
’’دیکھیں نا ممانی جان نعیم کو…انہوں نے پھر سے میری چٹیا کھینچی‘‘۔
باورچی خانے میں امی جان رات کے کھانے کےلیے ہنڈیا تیار کر رہی تھیں ۔ میری شرارت پر مسکرائیں اور ایک ہلکی سی چپت میرے سر پر لگا کر بولیں ۔

’’نعیم میری پیاری بیٹی کو تنگ کرنا چھوڑ دو نہیں تو تمہارے ابا جان سے شکایت کر دوں گی ‘‘۔
میں روبی کی طرف دیکھتے ہوئےڈھٹائی سے بولا ۔
’’امی جان اپنی پیاری بیٹی سے کہیں کہ وہ بھی مجھے جھوٹا کہنا چھوڑ دے ‘‘۔
روبی کے چہرے پر کئی رنگ لہرا گئے۔
’’مم… مم…میں نے کب کہا جھوٹا ؟‘‘بے چاری کی آواز حلق میں پھنس رہی تھی۔
اس کی حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے میں نے کہا ۔
’’تو پھر بتاؤ نا امی جان کو تم میری کس بات پر یقین نہیں کر رہی تھی اور مجھےجھوٹا کہہ رہی تھی ‘‘۔
روبی بے چاری کیا کہتی ۔وہ معصوم تو میری دیدہ دلیری پر حیرت سے میرا منہ تک رہی تھی ۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی ابا جان کی موٹر سائیکل کا ہارن بجا اور میں گیٹ کھولنے چلاگیا ۔
٭ ٭ ٭
میرے ابا جان مظفر علی چھوٹے سے قصبے سے تعلیم حاصل کر کے کراچی نوکری کی تلاش میں آئے تھے۔قسمت سے بڑے ڈاکٹر کے کلینک میں ڈسپنسری سنبھالنےکی نوکری ملی تو عمر بھر وہیں کام کیا ۔ہم تین بہن بھائی تھے، مجھ سے چھوٹی دو بہنیں نمرہ اور رابعہ تھیں ۔میرے والدین نہایت سادہ لوح تھے۔
ہمارے پھوپھا ظہور علی اچانک ایک حادثے کا شکار ہوکر چل بسے اور پھوپھو بے چار ی چند ماہ کی بچی کے ساتھ تنہا رہ گئیں ۔روبی ان کی اکلوتی اولاد تھی ۔ پھوپھوتبسم رفیق حیات کے یوں اچانک بچھڑ جانے پر صدمے سے بیمار ہو گئیں ۔کچھ عرصے تک تو صاحب فراش رہیں ۔میری والدہ نے چند ماہ کی روبی کو اپنی ممتا کے آنچل میں سمیٹ لیا ۔دادی جان لاڈلی بیٹی کا غم برداشت نہ کر پائیں اور وہ بھی کچھ عرصے بعد جہان فانی سے کوچ کر گئیں ۔پھوپھو تبسم کو سنبھلنے میں کئی ماہ لگے لیکن روبی کی دیکھ بھال کی ذمہ داری مکمل طور سے اٹھانے کے قابل وہ پھر کبھی نہ ہو پائیں۔
میرے والد اپنی بہن سے بہت محبت کرتے تھے ۔ انہوں نے اپنے تین بچوں سمیت بیمار بہن اور ننھی بھانجی کی ذمہ داری خوش دلی سے اٹھا لی ۔
پھوپھو تبسم کے چہرے کا تبسم کہیں کھو چکا تھا ‘ وہ ہر پل خاموش اور اداس رہنے لگیں ۔میری امی جان پھوپھو کی بے انتہا خدمت کرتیں ۔ پھوپھو بھی امی جان کے بغیر بے چین ہو جاتیں اور زور زور سے انہیں پکارنے لگتیں ۔
امی جان روبی کو اپنی اولاد سے بڑھ کرچاہتی تھیں ۔اسی لیے بچپن میں ہی انہوں نے پھو پھو سے روبی کا ہاتھ میرے لیےمانگ لیا تھا۔ وقت کا پہیہ تیزی سے چلتا گیا ۔ہم سب ایک ہی آنگن میں ہنستے کھیلتے جوان ہو گئے۔
٭ ٭ ٭
میری نگاہوں میں جس دن سے امنگوں اور آرزوؤں کے چراغ روشن ہوئے، اس دن سے ہی روبی ان کا مرکز بن گئی ۔
اس کی من موہنی صورت اور ستاروں کی مانند چمکتی غزالی آنکھوں کا میں اسیر ہو چکا تھا ۔ہم دونوں کے دل کی زمین پر محبت کی خود رو نو خیز کونپلیں پھوٹ رہی تھیں۔زندگی بہت حسین لگنے لگی تھی۔
میری دونوں بہنیں روبی کی ہم عمر اور پکی سہیلیاں تھیں ۔وہ بھی روبی کے دائیں بائیں منڈلاتی رہتیں ۔گھر میں تینوں کی بےتھکان باتوں اور شرارتوں کے دم سے رونق تھی ۔ان کے قہقہے گھر کی خاموش فضا میں جلترنگ کی طرح گونجتے تھے ۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب روبی بارہویں کے پرچوں کی تیاری کر رہی تھی اور میں بی کام کر رہا تھا۔گھر کا اکلوتا بیٹا ہونے کے ناطے مستقبل میں گھر کی ذمہ داری مجھے اٹھانی تھی ۔اسی لیے میں دن رات ایک کر کے پڑھائی میں مصروف تھا۔
پھوپھو تبسم کی صحت تیزی سے گرنے لگی ۔ڈاکٹروں کےمطابق ان کی ذہنی حالت کے ٹھیک ہونے کی اب کوئی امید نہ تھی بلکہ آنے والے دنوں میں مزید بگڑنے کا بھی خطرہ تھا۔ان حالات میں امی جان اور ابو

نے ہماری شادی سادگی سے کر دینے کا فیصلہ کیا۔ میں اپنی پڑھائی مکمل کرنا چاہتا تھا ،اس ذمہ داری کو ابھی اٹھانا نہیں چاہتا تھا ۔لیکن بڑوں کا فیصلہ مقدم تھا ‘ اور پھر روبی میری چاہت بھی تو تھی ۔
گھر میں شادی کی تیاریاں سادگی سے شروع ہوئیں ‘ خاندان میں سب کو اطلاع دے دی گئی میری اور روبی کی شادی کی خبر سن کر پھوپھو بھی عرصے بعد خوش نظر آرہی تھیں ۔
٭ ٭ ٭
روبی کا معصوم چہرہ ابٹن کے سنہرے رنگ سے سونے کی طرح دمک رہاتھا ۔اگلے روز ہمارا نکاح تھا ۔شہر میں چند قریبی عزیز ہی تھے جنہیں مدعو کیا گیا تھا ۔
اور نکاح کے بعد اب لڑکیاں رخصتی کے گیت گا رہی تھیں ۔
’’اب تو تمہیں یقین ہؤا کہ میں جھوٹا نہیں ہوں ۔تمہیں ہم سفر بنانے کی خاطر کتنے پاپڑ بیلنے پڑے اپنی پڑھا ئی کو بھی داؤ پر لگانا پڑا ‘‘۔
میں نے روبی کے خوبصورت چہرے کی طرف محبت سے دیکھتے ہوئےکہا ۔
روبی بھی مسکرا دی ۔
’’مجھے تو آپ پر مکمل بھروسہ ہے ۔نعیم آپ میرا ساتھ ہمیشہ نبھائیں گے نا ‘‘۔
میں نے اس کا نازک ہاتھ تھاما اوراس کی آنکھوں میں جھانک کر کہا۔
’’ہمیشہ ہمیشہ نبھاؤں گا ‘‘۔
اتنے میں میری دونوں شرارتی بہنیں بھی آگئیں ۔
’’لیں جناب ہم دولہا میاں کو سارے گھر میں تلاش کر رہے ہیں اور وہ تو ہماری پیاری بھابھی کو ستانے میں مصروف ہیں‘‘۔نمرہ نے چہکتے ہوئے کہا ۔
اس کی بات سن کر ہم سب مسکرا د یے ۔
عرصے بعد خوشیوں کی برسات گھر کی درو دیوار پر کھل کر برس رہی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے دل کی نگری رنگ و نور سے نہا کر معطر ہو گئی ہو اور چاندنی نے ہمارے گھر بسیرا کر لیا ہو ۔
گھر کے بڑے اپنی نسلوں کو پروان چڑھتے اور احساس و جذبات کے دھاگوں سے بندھتا دیکھ کر بے حد مسرور تھے ۔
٭ ٭ ٭
زندگی کے نشیب و فراز بالکل اس پتنگ کی طرح ناقابل بھروسہ ہیں جو کبھی ہلکورے کھاتی لہراتی ہوئی اونچی اڑان بھرتی ہے اور کبھی آن کی آن میں کٹ کر نیچے آگرتی ہے۔
زندگی میں کچھ موڑ ایسے ضرور آتے ہیں کہ جب ہمیں اپنی بے بسی کا احساس شدت سے محسوس ہونے لگتا ہے۔
عین رخصتی کے دن کچھ ایسا ہؤا کہ ہم سب کی زندگیاں ایک بار پھر آندھیوں کی لپیٹ میں آگئیں ۔اچانک ابا جان کی طبیعت خراب ہونے لگی فوری طور پر ہم انہیں ایمبولینس میں بڑے ہسپتال لے کر گئے ۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان پر فالج کا اٹیک ہؤا ہے۔ان کاآدھا دھڑ مفلوج ہو گیا ۔ وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہو گئے ۔
ہمارے گھر پر قیامت گزر گئی ۔
اپنے بھائی کی یہ حالت دیکھ کر پھوپھو کو ہسٹیریائی دورے پڑنے لگے ۔بہت مشکل سے انہیں دوائیاں دے کر پر سکون کیا گیا ۔ آناً فاناً شادی کا گھر اداسیوں میں ڈوب گیا ۔ رشتے داروں نے تو ذرا لحاظ نہ کیا اور ارمانوں سے دلہن بنی روبی کو منحوس قرار دے دیا ۔
غم اور صدمے سے دوچار روبی نے عروسی لباس تبدیل کیا اور پھو پھو اور ابا جان کی تیمار داری میں جت گئی۔
ہم سب کے لیےوہ دن قیامت سے کم نہ تھے ۔ایک طرف ابا جان کی ناگہانی بیماری اور دوسری طرف مالی مشکلات ۔نمرہ اور رابعہ کی شادی کےلیےجو پیسے جمع کیےتھے وہ بھی اباجان کے علاج معالجہ پر لگ گئے ۔چھوٹے سے مکان کو گروی رکھ کر ہمیں کسی سے قرض اٹھانا پڑا ۔
ہسپتالوں کے چکرطویل علاج اور ابا جان کی نوکری کا چھوٹ جانا ۔ مشکلات کا لا متناہی سلسلہ تھا جو تھمنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا ۔ابا جان کی دیکھ بھال ایک کٹھن اور صبر آزما کام تھا ۔میں اور امی جان مل کر یہ فرض پورا کر

رہے تھے ۔مسلسل نگہداشت اور فزیو تھیرپی سے ابا جان کی حالت کچھ بہتر ہوگئی اور وہ سہارے سے تھوڑا بہت چلنے لگے ۔ اس دوران میرے امتحانات بھی گزر گئے اور میں پرچے نہ دے پایا ۔میری تعلیم ادھوری رہ گئی۔روزگار کی تلاش میں میں نے در بدر کی ٹھوکریں کھائیں پر میری معمولی تعلیمی قابلیت پر بہ مشکل چند ہزار کی نوکری ملی ۔ بہنوں کی شادی بیمار والد کا علاج ‘ گھر کے اخراجات سب کچھ اس تنخواہ میں پورا کرنا ناممکن تھا۔
میں تلاش معاش کی فکروں میں ایسا الجھا کہ روبی کی منتظر نگاہوں اور ادھورے ارمانوں کی طرف توجہ دینے کی فرصت نہ ملی۔شادی کے دن سے روبی کی مسکراہٹ جو روٹھی تو لاکھ چاہنے کے باوجود بھی واپس لوٹا نہ پایا ۔
٭ ٭ ٭
یہ حقیقت ہے کہ رب اپنے بندوں کو ان کی ہمت سے زیادہ آزمائش میں نہیں ڈالتا۔ مشکلات کے اس طویل مدوجزر سے بالآخر باہر نکلنے کا راستہ ہمیں مل گیا۔
میرے کالج کے گہرے دوست علی کے والد کویت میں ایک بڑی کمپنی میں ملازمت کرتے تھے ۔انہیں جب ہمارے حالات کا علم ہؤا تو انہوں نے اپنی کمپنی میں میرے لیے ایک اچھی نوکری کی آسامی ڈھونڈ نکالی۔میرے تمام کاغذات اور سفری اخراجات انہوں نے اصرار کر کے اپنی جیب سے ادا کیے ۔میری تنخواہ کا پیکیج بہت معقول تھا ۔ مجھے فوری طور پر جوائن کرنا تھا۔
’’نعیم تم واپس کب آؤ گے…تم سن رہے ہو نا نعیم…جواب دو‘‘۔
سرگوشی پھر سنائی دی ،مبہم ہیولہ واضح دکھائی دینے لگا تھا۔وہ روبی تھی ۔میری شریک حیات،میری چاہت، میری ہمدم ۔
غزالی آنکھیں رو رو کر سوج چکی تھیں ۔آنسوئوں سے رندھی آواز میں اس نے مجھ سے سوال کیا۔میرے پاس اس کے سوال کا کوئی جواب نہ تھا ۔
ابھی توسفر کا آغاز ہؤا تھا،لوٹنے کی کیا خبر !
ائیر ہوسٹس نے کویت ائیر پورٹ کے قریب پہنچنے کا عندیہ دیا ۔
ابھی تو بس چلتے جانا ہے۔لمبی مسافتیں سنگلاخ راستے اور تنہائیوں کی رفاقتیں میری منتظر ہیں !
٭ ٭ ٭

 

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x