ام حبیبہقرآن اور ہم - نور اپریل ۲۰۲۱

قرآن اور ہم – نور اپریل ۲۰۲۱

ماہ رمضان اور قرآن پاک کا آپس میں گہرا تعلق ہے ۔ کلامِ پاک میں ارشاد ہے:
’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ۔‘‘(البقرۃ،۱۸۵)
لہٰذا یہ قدرتی بات ہے کہ اس مہینے میں قرآن کی تلاوت خصوصی طور پر زیادہ کی جاتی ہے ۔ حضرت ابن عباسؓ کی ایک روایت میں ہے کہ رمضان کی ہر رات جبرئیل ؑ آپؐ سے ملتے تھے اور رسولؐ اللہ انھیں قرآن سناتے تھے ۔(بخاری) حضورؐ کا فرمان ہے کہ قرآن کے ہر حرف کو پڑھنے سے دس نیکیاں ملتی ہیںاور آپؐ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ رمضان میں ہر نیکی کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔ پھر رمضان میں قرآن پڑھنے کا اجر و ثواب کتنا بڑھ جائے گا ؟
قرآنِ کریم ہماری ہدایت اور رہنمائی کے لیے نازل ہوا ہے ۔ یہ ہمارا محسن ہے ۔ اس کے احسان کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی تلاوت ہمارے معمول میں شامل ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
فَاقْرَئُ وْا مَاتَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰن
’’قرآن جتنا آسانی سے پڑھ سکتے ہوں پڑھو‘‘(المزمل ۴۰)
حضرت محمدؐ کا ارشاد ہے کہ جس شخص نے کھڑے ہو کر دس آیات پڑھیں۔ ( یعنی نماز میں ) وہ غافلوں میںنہیںلکھا جائے گا اور جس نے کھڑے ہو کر سو آیات پڑھیں وہ فرماں برداروںمیںلکھا جائے گا جو بہت زیادہ ثواب جمع کرتے ہیں ۔( ابو دائود)
پھر یہ کہ تلاوت عمدگی سے کی جائے ۔ یعنی صحیح تلفظ اور لہجے کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلً
’’قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کو پڑھو۔‘‘( المزمل۴)
عربی میںزیر ، زبر کے فرق سے ، حرف کے غلط مخرج سے ادائیگی سے ، الفاظ کے معنی بدل جاتے ہیں اور ثواب کی بجائے گنا ہ ہو سکتا ہے۔
قرآن کا حق ہے کہ یہ ہمارے سینوں میں محفوظ ہو۔ حضرت شاہ عبد القادر محدث دہلوی آیت ۔
فیِْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُو الْعِلم۔(العنکبوت)
(قرآن کی آیات اہل علم کے سینوںمیں ہوتی ہیں )کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی اصل جگہ سینہ ہے، کتابت امرِ زائد ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نبی پاکؐ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
’’یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔ اسے امانت دار روح لے کر اتری ہے ، تیرے دل پر تاکہ تو ( لوگوں کو) ڈرانے والوں میں سے ہو ۔‘‘(اشعراء۱۹۴۔۱۹۲)
ہر مسلمان کو کم از کم اتنا قرآن ضرور زبانی یاد ہونا چاہیے جو وہ نماز میںپڑھ سکے۔ پیارے نبیؐ کاارشاد ہے کہ جس شخص کے سینے میں قرآن کا کوئی حصہ نہیں ، وہ اجڑے ہوئے گھر کی مانند ہے۔(ترمذی)
قرآن کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ جو پڑھا جائے ، وہ سمجھ بھی آ رہاہو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
حتیّٰ تَعْلَمُوْ امَاتَقُولُونَ
’’یہاں تک کہ تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو ۔‘‘(انساء۴۳)
ظاہر ہے جب قرآن ہماری ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے تو جب تک ہمیں یہ معلوم نہیں ہو گا کہ اس میں کیا لکھاہے، تب تک ہم کیسے ہدایت پا سکتے ہیں ؟ چناںچہ قرآن پاک کو ترجمہ سے پڑھنا چاہیے ۔اگرچہ زیادہ اچھا یہ ہے کہ ہمیں عربی زبان آتی ہو۔
قرآن کا ایک بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہماری زندگی قرآن کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط کی روشنی میں بسر ہو ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ
’’بے شک ہم نے یہ کتا ب حق کے ساتھ تمھاری طرف نازل کی ہے تاکہ آپ اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں ۔‘‘( انساء۱۰۵)
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام معاملات میں ہدایات اور احکام نازل فرما دئیے ہیں ۔ چاہے وہ باہمی تعالقات ہوں،چاہے تجارت و سیاست ہو، خواہ عدالتی نظام کے بارے میں ہوں ، خواہ دوسرے ممالک سے تعلقات کے ضابطے ہوں ، ان پر عمل درآمد کرنا ہماری ذمہ داری ہے جس کے بارے میں قیامت میں پوچھ ہو گی ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو پڑھنے ، سمجھنے ، یاد کرنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے۔ کتنا ہی اچھا ہو کہ اس رمضان المبارک میں ہم یہ تہیہ کر لیں کہ ہم نے قرآن پاک کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنی ہے اور اسے اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانا ہے ۔ حضور پاکؐ کا ارشاد ہے کہ قرآن یا تمھارے حق میںگواہی ہے یا تمھارے خلاف ۔ اللہ تعالیٰ اسے ہمارے حق میں گواہی دینے والا بنائے اور ہمیں ان لوگوں میںشامل کرے جن کے متعلق حدیث میں ارشاد ہوا ہے :
’’ قرآن (پڑھنے) والا قیامت کے دن پیش ہو گا تو قرآن کہے گا کہ اے میرے رب ! اسے جوڑ ا پہنا ۔ پس اسے عزت اور کرامت کا تاج پہنا یا جائے گا ۔ پھر قرآن کہے گا کہ اے میرے رب! اسے اور زیادہ پہنا ۔ تو اسے عزت اورکرامت کا جوڑا پہنا یا جائے گا ۔ پھر قرآن کہے گا کہ اے میرے رب ! اس سے راضی ہو جا تو اللہ اس سے راضی ہو جائے گا ۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ ( قرآن) پڑھو اور ( بلند درجات) پر چڑھ جائو اور ہر حرف کے بدلے اس کی ایک نیکی بڑھائی جائے گی ۔‘‘( ترمذی)٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here