بتولفیصلہ انسان کا ہے -بتول اپریل ۲۰۲۱

فیصلہ انسان کا ہے -بتول اپریل ۲۰۲۱

قرآنِ مجید نے پہلے انسان کی تیاری کے لیے مٹی کی مختلف کیفیات کا ذکر کیا ہے۔ وہ أحسن تقویم اس وقت بنا جب خاکی پتلے میں روح پھونکی گئی۔
بطنِ مادر میں نظامِ ربوبیت کے محیر العقول کرشموں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ باری تعالیٰ بچے کی حیاتیاتی تشکیل کے یہ تمام مرحلے ماں کے پیٹ میں تین پردوں کے اندر مکمل فرماتا ہے۔ یہ بچے کی حفاظت کا کس قدر خوشگوار اِہتمام ہے۔
اِرشادِ ربانی ہے (الزمر، 39: 6):
’’وہ تمہیں ماؤں کے پیٹ میں تاریکیوں کے تین پردوں کے اندر ایک حالت کے بعد دُوسری حالت میں مرحلہ وار تخلیق فرماتا ہے۔ یہی اللہ تمہارا ربّ (تدرِیجاً پرورش فرمانے والا) ہے۔ اُسی کی بادشاہی (اندر بھی اور باہر بھی) ہے۔ سو اُس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، پھر تم کہاں بہکے چلے جاتے ہو!‘‘
17ویں صدی عیسوی میں Leeuwen Hook نے خوردبین (microscope) اِیجاد کی۔ صاف ظاہر ہے اِس سے پہلے اندرونِ بطن اُن مخفی حقیقتوں کی صحیح سائنسی تعبیر کس کو معلوم ہو سکتی تھی! آج سائنس اُن پردوں کی حقیقت بھی منظرِ عام پر لے آئی ہے جس کی رُو سے اس امر کی تصدیق ہو چکی ہے کہ واقعی بطنِ مادر میں بچے کے یہ اِرتقائی مرحلے تین پردوں میں تکمیل پذیر ہوتے ہیں۔ جنہیں قرآنِ مجید نے ’’ظُلُمٰتٍ ثَلاَثٍ‘‘(three veils of darkness) کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔
اُن پردوں کے نام یہ ہیں:
1-شکم مادر کی دیوار (Anterior abdominal wall)
2-رحم مادر کی دیوار(Uterine wall)
3 -غلاف جنین اور اس کے گرد لپٹی ہوئی جھلی۔
(Amnio-chorionic membrane)
قرآنِ مجید نے اِنسانی تخلیق کے ضمن میں پیش آنے والے چار مراحل کا ذِکر کیا ہے، جو یہ ہیں:
تخلیق (Creation)
تسوِیہ (Arrangement)
تقدیر (Estimation)
ہدایت (Guidance)
اِن مراحل کا ذِکر سورۃ الاعلیٰ کی ابتدا میں یوں کیا گیا ہے:
’’اپنے ربّ کے نام کی تسبیح کریں جو سب سے بلند ہے جس نے (کائنات کی ہر چیز کو) پیدا کیا، پھر اُسے (جملہ تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ) درُست توازُن دیا اور جس نے (ہر ہر چیز کے لیے) قانون مقرّر کیا، پھر (اُسے اپنے اپنے نظام کے مطابق رہنے اور چلنے کا راستہ بتایا۔‘‘
ہم دیکھتے ہیں کہ تکوینِ وجود کے تمام مرحلے نظامِ ربوبیت کی پوری جلوہ سامانیوں کے ساتھ تکمیل پذیر ہوتے ہیں۔ ہر مرحلے کو ایک خاص حکمت و تدبر اور نظم کے ساتھ مکمل کیا جاتا ہے۔
سورہ السجدہ میں فرمایا:
’’پھر اس کو نِک سُک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، اور تم کو کان دیے، آنکھیں دیں اور دِل دیے تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو‘‘۔
گویا کہ روح پھونکے جانے کا عمل ابنِ آدم کی وہ ’’تاجپوشی‘‘ ہے جس کے بعد وہ حقیقتاً ’’آدمی‘‘ قرار پاتا ہے۔ جبکہ اس سے قبل وہ رحم مادر میں صرف’’ حیوانِ انسان‘‘ کے ارتقائی مراحل طے کر رہا تھا!
امام بخاری ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں مکمل کی جاتی ہے۔ چالیس دن تک نطفہ رہتاہے، پھراتنے ہی وقت تک منجمد خون کا لوتھڑارہتا ہے پھر اتنے ہی روز تک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے۔ اس کے بعد اللہ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے کہ اس کا عمل، اس کا رزق اوراس کی عمر لکھ دے۔ اوریہ بھی لکھ دے کہ بدبخت ہے یا نیک بخت، اس کے بعد اس میں روح پھونک دی جاتی ہے‘‘۔ (صحیح بخاری، باب بدء الخلق)
اور سورہ الحج میں فرمایا:
’’لوگو، اگر تمہیں زندگی بعد موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی (یہ ہم اس لیے بتا رہے ہیں) تاکہ تم پر حقیقت واضح کر دیں۔ ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھیرائے رکھتے ہیں، پھر تم کو ایک بچّے کی صورت میں نکال لاتے ہیں۔ (پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی پُوری جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے، تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے، پھر جہاں ہم نے اُس پر مینہہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کر دی‘‘۔
جسم کی حیاتیاتی تشکیل میں قدم قدم پر ربوبیتِ الٰہیہ کے حسّی اور معنوِی لاتعداد مظاہر کارفرما ہیں۔ ہر جگہ حسنِ نظم اور حسنِ ترتیب کی آئینہ داری ہے۔ ہر کام اور مرحلے کے لیے مخصوص مدّت اور طریقِ کار متعین ہے۔ ایک مرحلے کے جملہ مقتضیات خود بخود پورے ہو رہے ہیں۔ جو کام اِنسان کے جسمانی پیکر سے بعد میں لیا جانے والا ہے اُس کی تمام تر ضرورتیں رحمِ مادر میں پوری کی جا رہی ہیں۔ ہر مرحلے پر نہ صرف اُن ضرورتوں کی کفالت ہو رہی ہے بلکہ بہرطور اُن کی حفاظت و نگہداشت کے بھی تمام اِنتظامات ساتھ ساتھ ہو رہے ہیں۔ اللہ ربُّ العزت کی شانِ خلّاقیت کا نظارہ اِس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ مکمل اِنسان کے لیے مطلوبہ تمام صلاحیتوں کا جوہر ایک نطفہ کے اندر پیدا کر دیاگیا ہے۔ پھر اُس کے خواص و آثار اور علامات کو اپنے اپنے مقررہ اَوقات پر پورا کر کے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اِس اُصول کو نظامِ ربوبیت کے تحت ’’تقدیر‘‘کے عنوان سے واضح کیا گیا ہے۔’’تقدیر‘‘ کے معنی اَندازہ کرنے کے ہیں، خواہ یہ کسی شے کے وجود میں ہو یا ظہور میں، کمیّت میں ہو یا کیفیت میں، مدّتِ پرورش میں ہو یا تکمیل میں۔
سورہ الفرقان کی آیت نمبر دو میں اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور اُسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے، پھر اُس (کی بقا و اِرتقاء کے ہر مرحلہ پر اُس کے خواص، اَفعال اور مدّت الغرض ہر چیز) کو ایک مقرّر اندازے پر ٹھہرایا ہے‘‘۔
باری تعالیٰ کے نظامِ ربوبیت کے اِس حسنِ تقدیر نے کائنات کے ظاہر وباطن میں ایک عجیب نظم و ترتیب، مطابقت و یگانگت اور توازُن و اِعتدال پیدا کر دیا ہے۔ یہی رنگ ہم بچے کی تشکیل و اِرتقاء کے جملہ مراحل میں اور انسان کی زندگی کے ارتقاء میں کار فرما دیکھتے ہیں۔
اِس خاص موضوع پر سورہ عبس میں اِرشادِ ربانی ہے:
’’اللہ نے اُسے کس چیز سے پیدا فرمایا ہے؟ نطفہ میں سے اُس کو پیدا فرمایا، پھر ساتھ ہی اُس کا (خواص و جنس کے لحاظ سے) تعیّن فرما دیا پھر (تشکیل، اِرتقاء اور تکمیل کے بعد بطنِ مادر سے نکلنے کی) راہ اُس کے لیے آسان فرما دی پھر اُسے موت دی، پھر اُسے قبر میں دفن کر دیا گیا، پھر جب وہ چاہے گا اُسے (دوبارہ زندہ کر کے) کھڑا کر لے گا‘‘۔
انسان جس مخلوط نطفے سے وجود میں آتا ہے وہ زمین سے حاصل ہونے والی واسطہ یا بالواسطہ نباتات سے ہی تیار ہوتا ہے۔ جس کو’’مٹی کا رس‘‘ یا’’سلالہ من طین‘‘ کہا جاتا ہے۔ گویا کہ پہلے آدم کو مٹی سے بنایا تو اولاد آدم بھی مٹی سے ہی تیار ہوتی ہے۔ ماں کے پیٹ میں تین اندھیروں میں اس کے مختلف مدارج طے ہوتے ہیں ۔ ماں کا پیٹ بچے کی کل کائنات ہوتی ہے پھر وضع حمل کے بعد ایک وسیع نیا جہان اس کا منتظر ہوتا ہے۔ اب کرہ ارضی اس کی کل کائنات ہے۔ بچپن، جوانی، بڑھاپا گزارتا ہے یا ارذل العمر میں وہ دانا انسان ویسا ہی لاعلم ہوجاتا ہے جیسا کہ پیدا ہؤا تھا۔ اور پھر زمین کے پیٹ میں پہنچ جاتا ہے۔ ماں کے پیٹ میں وہ تین پردوں میں ہوتا ہے تو زمین کے پیٹ میں بھی تین ہی پردے ہوتے ہیں۔ کس قدر مماثلت ہے دونوں پیٹوں میں……
کفن (غلاف جنین اور اس کے گرد لپٹی ہوئی جھلی)، سِل (رحم مادر کی دیوار) اور قبر کی ظاہری شکل (شکم مادر کی دیوار)۔
ایک مقرر وقت تک انسان زمین کے پیٹ میں رہے گا اور پھر وضع حمل ہوگا تو ایک لا متناہی جہان کا سامنا کرنا پڑےگا۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کے پیٹ سے زمین کے پیٹ میں جانے کے درمیانی عرصہ کے لیے ربوبیت اور ہدایت کا انتظام کیا تاکہ وہ موت اور زندگی کی تقدیر لکھ کر جانچے کہ کون زیادہ اچھے عمل کرتا اور جنت کی طرف سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ گویا کہ مٹی سے مٹی تک کے سفر کے درمیان جو وقت ہے وہ ایک مہلت ہے اور یہی مہلت اس لامتناہی جہان کی ابدی زندگی کا ذریعہ ہے۔ فیصلہ اولادِ آدم کا ہے، جنت یا جہنم؟

٭ ٭ ٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here