اسامہ ضیا بسملغزل - مارچ ۲۰۲۱

غزل – مارچ ۲۰۲۱

ہجر سے جاں بہ لب ہیں دیوانے
آہ کرتے ہی کب ہیں دیوانے

بے گناہی بھی جرم گنتے ہیں
اِس کچہری میں سب ہیں دیوانے

زندگی کیا جواز رکھتی ہے
ہم تو بس بے سبب ہیں دیوانے

پتھروں سے جواب آتا ہے
کیا پکاریں کہ جب ہیں دیوانے

منہ پہ رکھتے ہیں من کی باتیں بھی
کس قدر بے ادب ہیں دیوانے

ہم کلامی جنون کیسا ہے
اتنے بدنام کب ہیں دیوانے

تیری آمد ہے کیا چھپائیں اب
ہم نہیں اب، تو کب ہیں دیوانے

(اسامہ ضیاء بسمل)

اپنے پیروںکو سمیٹو سبھی سر پر رکھ دو
حکمِ آقا ہے، غلامو، مرے در پر رکھ دو

توڑ کر تم جو ستاروں کو فلک سے، اچھا
لے ہی آئے تو کسی اور کے گھر پر رکھ دو

اف یہ دنیا ہے زمانہ بھی ہے گھر والے بھی
سو سبھی مجھ سے کیے عہد اگر پر رکھ دو

ہم بھی دنیا کا زمانے کا حوالہ رکھ دیں
تم بھی بنیاد ہر اک عہد کی ڈر پر رکھ دو

روشنی میری کہیں دیکھ نہ لے بے ستری
تم جہاں بھر کے اندھیرے مرے گھر پر رکھ دو

میں بھی برجیس و ثریاؤں کا ہمسر ٹھہروں
تم جو اک بالِ ہما گر مرے سر پر رکھ دو

جس کو تقدیر کا کہتے ہیں، زمانے والو
وہ ستارہ کوئی لا کر مرے در پر رکھ دو

اک دیا بھی نہ لہو دے کے جلانے والو
ظلمتِ شب کا بھی الزام سحر پر رکھ دو

میں قفس میں کسی قیمت نہیں دفنا سکتا
لاش تم میری اٹھا کر مرے پر پر رکھ دو

آستانوں پہ چڑھاووں سے کہیں بہتر ہے
ہاتھ بڑھ کر کسی نادار کے سر پر رکھ دو

اس کا شرمانے لجانے کا سبب ہو کوئی
سارا الزام حبیبؔ اپنی نظر پر رکھ دو

(حبیب الرحمن)

٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here