ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

غزل – بتول فروری ۲۰۲۱

غزل

تری گلی سے جڑے راستے ہزاروں ہیں
قدم قدم پہ مگر مسئلے ہزاروں ہیں

بدل بدل کے مجھے عکس کیا دکھاتا ہے
مرے ضمیر ترے آئینے ہزاروں ہیں

نفیس کوچہ و بازار ہیں تو کیا حاصل
سفر سے پاؤں میں جو آبلے ہزاروں ہیں

یہ ایک دن تو مرے واسطے بہت کم ہے
کہ دن تو ایک ہے اور مسئلے ہزاروں ہیں

ادا شناس تھے پہلی نظر میں جان گئے
بہانے سوچ کے رکھے ہوئے ہزاروں ہیں

قبائے چاک ہوں لیکن وفا کی بستی میں
وہ مرتبہ ہے کہ میرے لیے ہزاروں ہیں

نہیں ہے شاملِ محفل اگرچہ تو بسملؔ
زباں زباں پہ ترے تذکرے ہزاروں ہیں

اسامہ ضیاء بسمل

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x