ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

غزل – بتول اگست ۲۰۲۱

غزل

ہم سفر پھر نئے سفر میں ہیں
ہم اسی آرزو کے گھر میں ہیں

حالِ دل کی خبر نہ پھیلا دیں
وہ جو بے تابیاں نظر میں ہیں

بیش قیمت ہیں ہر گہر سے وہ
سچے موتی جو چشمِ تر میں ہیں

غم نہ کر ان دیوں کے بجھنے پر
ساعتیں چند اب سحر میں ہیں

حوصلوں کو کمک بھی پہنچے گی
قافلے اب بھی رہگزر میں ہیں

[آمنہ رُمیصا زاہدی]

 

غزل

آنکھیں جلتی رہتی ہیں
تنہائی میں بہتی ہیں

فرقت کے غم سارے یہ
چپکے چپکے سہتی ہیں

چاہت کے سب افسانے
تاروں سے یہ کہتی ہیں

ملن کی آس میںراہوں کو
ہر دم تکتی رہتی ہیں

یادوں کے موتی انمول
دامن میں یہ بھرتی ہیں

فلک تلک جو جاتا ہے
اُس رستے کو تکتی ہیں

جو تقدیر کا مالک ہے
اس کی رضا میں راضی ہیں

شاہدہ اکرام سحرؔ

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x