ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

غزل – بتول اکتوبر ۲۰۲۱

غزل
جاں سے سوا عزیز دیانت قلم کی ہے
سچائی جو بھی ہے وہ امانت قلم کی ہے

طوفان بن کے اٹھتے ہیں لفظوں کے پیچ و خم
ہر موجِ فکر زندہ کرامت قلم کی ہے

الفاظ کے رہین ہیں دنیا کے انقلاب
تلوار کی کہاں ہے جو طاقت قلم کی ہے

بے شک خیال و جذبہ و حالات ایک ہوں
سرقہ کرے کوئی یہ اہانت قلم کی ہے

لکھا ہو سات پردوں میں چھپ کر کسی نے کچھ
سب بھید کھول دیتا ہے عادت قلم کی ہے

آزار دینے والے نہ مضموں اگر لکھیں
پائیں گے سرخروئی ضمانت قلم کی ہے

اے یاسمینؔ لوح و قلم کی ہیں برکتیں
جو کچھ بھی آج ہم ہیں عنایت قلم کی ہے

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x