ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

شیر کا فیصلہ – نور مارچ ۲۰۲۱

کتنا خوبصورت منظر تھا ، کیا حسین نظارہ تھا ، ہر طرف ہریالیاں تھیں ، پیڑ پودوں پر بہار آئی ہوئی تھی ، رنگ برنگ پھولوں کو دیکھ کر مور ناچ رہے تھے ، خوشنما لذیذ پھلوں کو کھاکر بندر مسکرا رہے تھے ، اور پیڑوں پر دوڑ دوڑ کر اپنی خوشی کا اظہار کررہے تھے ، پُروا ہوا سے جھولتی درختوں کی ٹہنیاں جھوم جھوم کر ’’سبحان اللہ‘‘ پڑھ رہی تھیں ، اور ان پر بیٹھے رنگین پرندے مسرت سے امن کے نغمے گارہے تھے ، زمین پر جانوروں کے غول کے غول پیٹ بھرجانے کے بعد جھیل کنارےسیراب ہوکر دھما چوکڑی کرتے اور خوش رہتے ۔
پھر ہوا یوں کہ ایک دن یہ حسین وادی حکومت کے نشانے پر آگئی ،اور یہ جگہ سرکاری بنگلہ بنانے کے لیے منتخب کرلی گئی ، تعمیری کام کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔اجنبی چہروں کو دیکھ کر ایک دن بھالو کے بچے نے اپنی ماں سے کہا :
’’یہ انسان ادھر کیا کرنے آرہا ہے ؟ اس کے ہاتھوں میں کدال پھاوڑےکیوں ہیں ؟۔‘‘
شیر کے بچے نے بھی انسان کو دیکھ کر کان کھڑے کرلیے ۔
’’ارے! یہ کون سی مخلوق ہے ؟ یہ ہمارے علاقے میں کیوں آئی ہے؟ ‘‘
ہر نوٹے نے گھبرا کر کہا !’’ یہ کیا ہورہا ہے ؟ ان لوگوں کی نیت ٹھیک نہیں معلوم ہوتی۔‘‘
اس نئی مصیبت پرشیر را جانے جنگل کے تمام جانوروں کی ایک ہنگامی میٹنگ بلائی ، میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے شیر نےکہا:
’’ بھائیو ! جیسا کہ آپ سب جنگل کے رہنے والوں کو معلوم ہے کہ انسانوں کو ہماری یہ خوبصورت وادی پسند آگئی ہے ۔جس پر قبضہ جمانے کے لیے کام کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔ اگر انسان یہاں آکر بس گئے تو ہم سب کو یہ علاقہ خالی کرنا پڑے گا ، اور ہمیں ہجرت پر مجبور ہونا پڑے گا ، اس اہم مسئلے پر آپ لوگ رائے دیں کہ کیا کرنا چاہئے ، اور اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہمیں کیا اقدام کرنا چاہئے ‘‘ ۔
چیتے مکھیا نے کہا: ’’اگر تم سب میرا ساتھ دو ، تو ان لوگوں پر حملہ کرکے ان کو ختم کردیا جائے ۔ یہ کم بخت ادھر کیا کرنے چلے آئے ہیں ؟‘‘
بھالو نے کہا:’’کیا اس زمین پر ہمارا حق نہیں ہے ؟ ہم اپنے باپ دادا کے زمانے سے یہاں رہتے چلے آئے ہیں ،کیا ہم کو ہمارے ہی گھروں سے نکال دیا جائے ،اور ہم خاموش رہ جائیں اور ادھر ادھر مارے مارے پھرنے پر مجبور ہوجائیں ؟‘‘
نوجوان شیروں اور ہاتھیوں نے کہا: ’’ ہم سب اپنے اپنے مسکن کو اجڑتا نہیں دیکھ سکتے ، ہم ان کا مقابلہ کریں گے ۔‘‘
شیر ببر خاموشی سے سب کی گفتگو سنتا رہا ۔ سب اپنی اپنی کہہ کر اب اس کے فیصلے کے منتظر تھے ، اس نے کہا:
’’ بات تو آپ سب لوگوں کی ٹھیک ہے ، خوشی کی بات ہے کہ ہم میں اتحاد اور بھائی چارگی موجود ہےتاہم میں سمجھتا ہوں کہ ، اگر چہ ہم مضبوط اور بہادر ہیں ، مگر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے ، وہ سب بند گاڑیوں میں آتے ہیں ،جہاں کھلی جگہ پر کام کرتے ہیں ، وہاںبھی لوہے کی مضبوط جالیوں کے اندر رہتے ہیں ، اور ہر جالی سے بندوق کی نال نظر آتی رہتی ہے ، رات کو وہ جہاں سوتے ہیں ان کا سپاہی آگ جلائے بندوق لیے کھڑا رہتا ہے ، ان سے مقابلے کا مطلب ہے اپنی نسل تباہ کرنا ، یہ ہم لوگوں پر دور سے ہی بندوق سے حملہ کرکے مار دیں گے ، یہ لوگ بم گرادیا کرتے ہیں ،یہ تو اپنے جیسے انسانوں پر بھی حملہ کرنے سے نہیں ڈرتے تو ہم حیوانوں کو کیسے بخش سکتے ہیں ؟ میرا خیال ہے ان کو بسنے دو ،فطری اشیا سے چھیڑ چھاڑ کے نتیجے اور دوسروں کا گھر اجاڑنے کے جرم میں فطرت خود ان سے انتقام لے لے گی ۔‘‘

انصار احمد معروفی

٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x