ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

سعودی عرب میں رہنے کا تجربہ- بتول جولائی ۲۰۲۱

ویکسین لگوا کر پہلا دن تو اچھا گزر گیااور ہم خوش رہے کہ سب ٹھیک جا رہا ہے۔ دوسرے دن اس قدر تھکاوٹ کہ لگ رہا تھا پورا جسم ٹوٹ گیا ہے۔ سر تک کمبل لے کر لیٹنے سے بے حد سکون مل رہا تھا۔ اسی حالت میں ہسپتال گئے، کلینک کیا اور شکر کیا کہ گھر آ کر بستر پر لیٹ گئے ہیں۔ تیسرے دن الحمدللّٰہ طبیعت بالکل ٹھیک تھی۔ مشاہدہ یہ ہے کہ ہر ایک کا ویکسین کے بعد مختلف ردعمل تھا۔ کچھ ہفتوں تک ہمیں چکر بھی آتے رہے، جن میں سے ایک آدھ تو گھبرانے والا بھی تھا۔ اس کے بعد سب کچھ معمول پر آ گیا۔
غم اور خوشی زندگی کے ساتھ لازم وملزوم ہیں۔ سعودی عرب میں رہائش کے دوران مختلف قوموں کو ان دونوں کیفیتوں سے گزرتے دیکھا۔ سعودی اپنی معاشرتی زندگی میں اسلام کے پابند ہیں۔ اسلام کا آغاز بھی اسی خطے سے ہؤا ہے اس لیے اسلام کی کئی چیزیں بیان کرتے ہوئے ان کی معاشرت کا ذکر آیا ہے جیسے اونٹ، صحرا، پہاڑ، عربی تمثیلات، کھجور، وغیرہ۔ ان کے ہاں غم بہت سادا ہے۔ جو بھی ہو جائے یہ عموماً اس پر جزع فزع نہیں کرتے۔ اللہ کا حکم سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔
میری ایک مریضہ مجھے دکھا کر گئی۔ ایک ہفتے کے بعد اس کی اپائنٹمنٹ تھی۔ وہ جب آئی تو اس نے بتایا کہ اسے کل سے بچے کی حرکت محسوس نہیں ہوئی۔ مجھے کچھ دھڑکا لگ گیا۔ جب بچے کی دھڑکن چیک کرنے کی کوشش کی تو نہیں ملی۔ الٹراساؤنڈ ہؤا تو علم ہو گیا کہ بچہ فوت ہو چکا ہے۔ والدین کو یہ خبر بڑے دکھے دل اور تحمل کے ساتھ پہنچائی۔ مریضہ بھی بہت متحمل مزاج تھی۔ بچے کا والد باریش اور نیک آدمی لگتا تھا۔ وہ دونوں رونے لگے۔ خیر انہوں نے ہسپتال میں داخلہ نہیں لیا اور کہا کہ وہ بعد میں آئیں گے۔ کئی بار مریض ایسا کرتے ہیں کیونکہ وہ ایک اور رائے لینا چاہتے ہیں جو کہ ان کا حق بھی اور ان کی تسلی کے لیے ضروری بھی ہے۔ اگلے دن مریضہ آ کر داخل ہو گئی اور ہم نے بچے کی پیدائش کا عمل شروع کیا یعنی مصنوعی دردیں لگانے کے لیے دوائی دی۔ اللہ کا شکر تھا کہ جلد ہی دردیں آنا شروع ہو گئیں اور اسی دن بچے کی پیدائش ہو گئی۔ ہماری ٹیم نے پیدائش کے بعد کا سارا عمل مکمل کیا، جس میں بچے کی وفات کا تصدیق نامہ مع وجہ ، بعد از پیدائش کے معاملات جیسے تدفین ، جنازہ وغیرہ شامل تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو تسلی اور ان کی counseling بہت اہم تھے۔ والدین آنسوؤں سے روتے رہے لیکن انہوں نے کوئی حرف منہ سے نہیں نکالا سوائے الحمدللّٰہ کے۔
ان کا تذکرہ کرتے ہوئے ہمیں اپنی بہت عزیز ایک مریضہ اور دوست یاد آ گئی ہیں۔ ہم جب پاکستان میں تھے تو ان کے شاید تین بچوں کی پیدائش ہمارے پاس ہوئی۔ ان کا پہلا بچہ” ڈاؤن” تھا یعنی اسے Down’s Syndrome تھی اور اسی وجہ سے وہ فوت ہو گیا۔ ہماری دوست کی عمر زیادہ نہیں تھی، اس لیے وجہ تلاش کرنے کے لیے دونوں میاں بیوی کے ٹسٹ کروائے گئے۔ ان میں ہماری دوست میں ’’Balanced Translocation “ کی تشخیص ہوئی۔اس صورت میں دوسرے بچے کے ڈاؤن ہونے کا احتمال کافی بڑھ جاتا ہے۔ دوسرا بچہ ہمارے پاس پیدا ہؤا، جو بیٹا تھا اور اللہ تعالیٰ نے بالکل صحت مند دیا۔ تیسرا بچہ بھی بیٹا تھا، اور پوری طرح صحت مند تھا۔ چوتھے حمل میں پانچویں مہینے سے ہی مسائل شروع ہو گئے۔ آنے والا بچہ بیٹی تھی، اس کا پیٹ کا حجم تو نارمل، بلکہ تھوڑا زیادہ تھا لیکن باقی سارے پیرامیٹر اس کی عمر سے کم آ رہے تھے۔ نویں مہینے میں جا کر آپریشن ہؤا۔ ان مسائل کی وجہ سے آپریشن بھی بہت اچھے ہسپتال میں ہؤا جہاں فوراً بچوں کے ماہر طبیب

اور اعلیٰ نرسری موجود تھی۔ پیدائش کے فوراً بعد ہی بچی میں ڈاؤن سنڈروم کی تشخیص ہو گئی۔ ساتھ ہی بچی کا جگر بہت بڑھا ہؤا تھا۔ اسی دوران بچی کے ناک اور منہ سے خون بہنا شروع ہو گیا اور کچھ دیر بعد وہ فوت ہو گئی۔ والدین کے دکھ اور تکلیف کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ بچی کی پیدائش سے پہلے ہی اندازہ تو تھا کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ دونوں والدین آنسوؤں سے رو رہے تھے۔ باپ، ماں کو تسلی دے رہا تھا اور اس کے آنسو پونچھ رہا تھا۔ ماں آپریشن کے فوراًبعد رو تی تھی تو اس کی ٹانگوں میں تکلیف ہوتی تھی۔ لیکن سوائے آنسوؤں کے انہوں نے کوئی حرف زبان سے نہیں نکالا۔ اب ان کے ماشا اللہ دو بیٹے ہیں۔
ریاض میں ہمارے دوستوں میں سے ایک کا بیٹا کچھ مہینے پہلے فوت ہو گیا ہے۔ بچے کی عمر تقریباً ایک ماہ تھی۔ وہ کافی دن آئی سی یو میں رہا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے پاس بلا لیا۔ ڈاکٹر نے گھر فون کر کے والدین کو جو اطلاع دی، وہ مبارک باد کی صورت میں تھی کہ ان کا بچہ ان سے پہلے چلا گیا ہے تاکہ ان کے لیے جنت میں داخلے کے لیے سفارش کر سکے۔ اس بات سے والدین بہت حوصلے میں رہے۔
کئی بارہماری مریضائیں اس حال میں ہمارے پاس آئیں کہ چند ہی دن پہلے ان کے کسی پیارے کی وفات ہوئی تھی، جیسے ایک مریضہ کا بھائی تین دن پہلے فوت ہؤا تھا اور جوان تھا۔ اسی طرح کئی ایسی تھیں جن کے جوان بیٹے یا بیٹی ٹریفک کے حادثے میں یا تیراکی کرتے ہوئے فوت ہو گئے۔ ہم جب ان سے ہسٹری لیتے تھے تو وہ اتنا ہی ذکر کرتی تھیں جتنا ہم پوچھتے تھے۔ ہمارے ایک ڈاکٹر صاحب جو مصری تھے ان کی والدہ فوت ہو گئیں۔ ہم ان کے گھر ان کی اہلیہ سے تعزیت کرنے گئے۔ ہم نے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب مصر نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں، وہاں ان کے اور بہن بھائی موجود ہیں۔ اس سے یہ گمان نہ ہو کہ وہ افسردہ نہیں تھے۔ وہ بے حد د ل گرفتہ تھے۔
ہماری ایک سعودی نرس کا بیٹا پیدا ہؤا اور کچھ دن زندہ رہ کر وفات پا گیا۔ ہم ان کے گھر تعزیت کے لیے گئے۔ بہت سی اور خواتین بھی لاؤنج میں ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، جن میں ان کی سسرالی رشتہ دار خواتین بھی شامل تھیں۔ ہمارا بیٹا گاڑی چلا رہا تھا۔ ہم نے انہیں کہا کہ آپ گاڑی میں بیٹھیں، ہم بس آدھے گھنٹے میں تعزیت کر کے واپس آ جاتے ہیں۔ میں اندر گئی اور سب خواتین سے مصروف گفتگو ہو گئی۔ ماحول کافی شگفتہ تھا۔ فوت ہونے والے بچے کی ماں نے اسے اللہ کا حکم سمجھ کر قبول کر لیا تھا، اور ہمارے ساتھ ساتھ اپنی سسرالی خواتین سے بھی ہلکی پھلکی گفتگو کر رہی تھی۔ ایک جانب چائے کے لوازمات پڑے تھے، جن میں کئی اقسام کی چائے تھیں، جیسے ادرک کی چائے، دودھ کے بغیر اور دودھ والی کالی چائے، کر کدی چائے، سعودی قہوہ وغیرہ۔ ہم نے ادرک والی چائے کا انتخاب کیا جس میں لیموں ڈال کر بغیر دودھ کے پیش کیا گیا۔ چھوٹے چھوٹے تین فنجان پینے کے بعد ہم نے بس کیا۔ عموماً سعودی معاشرے میں طاق عدد کو ترجیح دی جاتی ہے، جیسے چائے پیتے ہوئے بھی یا تو ایک فنجان پئیں یا تین یا پانچ۔ اسی طرح کھجور بھی تین، پانچ یا سات کھائی جاتی ہیں۔ اس بات کا علم غیر سعودی اورغیر مسلم بھی رکھتے ہیں۔ اسی دوران میں جب ہماری نرس کے والد کو جو انجینئر تھے، علم ہؤا کہ ہمارے صاحبزادے باہر گاڑی میں بیٹھے ہیں تو وہ فوراً باہر گئے اور انہیں اندر لے آئے۔ اس طرح ہماری نشست طول پکڑ گئی۔ جب تک ہم ان کے ہاں ٹھہرے، وہ ہمارے بیٹے کے پاس بیٹھے رہے۔سسرال اور میکے میں سے کسی نے بھی یہ ذکر نہیں کیا کہ بچہ کیوں فوت ہو گیا، ڈاکٹر کی کہاں غفلت تھی، فلاں کی بجائے فلاں کو کیوں نہ دکھایا۔
جس طرح ہمارے معاشرے میں لڑکے کی اہمیت ہے، سعودی معاشرہ بھی اسی طرح ہے۔ بیٹے کی کمی کو محسوس کیا جاتا ہے۔ اگرچہ بیٹی کی شادی میں والدین پر معاشی بوجھ نہیں ہوتا لیکن وہ متفکر ضرور ہوتے ہیں کہ بیٹی کے لیے اچھا رشتہ مل جائے۔ اب سوائے سعودی عرب اور پاکستان کے، باقی سب مسلمان معاشروں میں رشتے بچے خود ہی طے کرتے ہیں۔ ہمارے ساتھ جتنے مسلمان کولیگ تھےانہوں نے اپنے رشتے خود ہی ڈھونڈے اور کیے۔ ان کے بچوں نے بھی اپنی پسند سے رشتے کیے۔ وہ سب بہت حیران ہوتے تھے جب انہیں علم ہوتا کہ ہم نے شادی سے پہلے اپنے شوہر کو نہیں دیکھا تھا یا ہماری ان سے شادی سے پہلے

کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ سعودی عرب میں بھی ابھی تک والدین ہی رشتے طے کرتے ہیں۔
رشتہ طے کرنے کے بعد’’خطوبہ‘‘ ہوتا ہے جس میں نکاح کر دیا جاتا ہے۔ خطوبہ اور منگنی میں عموماً تین ماہ کا وقفہ ہوتا ہے۔ اس دوران میں دونوں خاندان ایک دوسرے کو اچھی طرح جان لیتے ہیں اور لڑکا لڑکی بھی ایک دوسرے کی طبیعت اور مزاج کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نکاح کے موقع پر دیگر تحائف کے ساتھ مہر کی رقم بھی ادا کر دی جاتی ہے اور اس رقم کو بھی خوب سلیقے سے پیک کر کے پیش کیا جاتا ہے۔
شادیاں عموماً رات کو ہوتی ہیں اور فجر تک جاری رہتی ہیں۔ خواتین والے حصے میں موبائل فون کی اجازت نہیں ہوتی۔ کئی بار بچوں کو لے جانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔ ہمیں ایک دعوت نامہ آیا تھا، جس میں لکھا تھا کہ فون اور بچوں کو آنے کی اجازت نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین کی محفل میں سب بنی سنوتی ہوتی ہیں اور پردہ نہیں ہوتا اس لیے یہ محفل بالکل الگ ہوتی ہے۔ جب سب مہمان چلے جاتے ہیں تو پھر بھائی اور والد اندر آ جاتے ہیں۔ رقص کرنے کو حرام نہیں سمجھا جاتا۔ عربی روایتی رقص باہر مرد بھی کرتے ہیں اور اندر خواتین بھی کرتی ہیں، خاص طور پر دلہا دلہن کی والدہ ، بہنوں اور دیگر خواتین کا رقص میں حصہ لینا بے حد ضروری ہے۔ ہم نے بھی یہ رقص دیکھا ۔ مرد تو تلوار ہاتھ میں لے کر تھوڑا بہت ہلتے رہتے ہیں۔ خواتین تلوار کے بغیر ہی کچھ سادہ سی حرکات کرتی ہیں، لیکن سب اسی میں خوش ہو جاتے ہیں۔ البتہ بلاد شام کے ملکوں میں دلہا دلہن مغربی انداز میں تیار ہوتے ہیں اور رقص بھی مغربی انداز کا ہوتا ہے۔ شادیاں بھی مخلوط ہوتی ہیں۔ لیکن سعودی عرب کی شادیوں کا سب سے بڑا مزہ یہ ہے کہ یہ بالکل مخلوط نہیں ہوتیں۔
شادی کے بعد دلہا دلہن عموماً الگ گھر میں رہتے ہیں۔ میری ایک کولیگ کے بھائی کی شادی ہوئی جو انجینئر تھا۔ اس کی والدہ کی خواہش تھی کہ بیٹا اور بہو ان کے ساتھ رہیں کیونکہ ان کا گھر بہت بڑا تھا۔ لڑکے نے شادی سے پہلے ہی اپنا الگ گھر لے لیا تھا۔ وہ اپنی والدہ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا تھا۔ میری کولیگ بھی اس معاملے میں بھائی کے ساتھ تھی۔ وہ بھی اپنی والدہ کی رائے سے متفق نہیں تھی اور اس کا خیال تھا کہ جب وہ دونوں الگ رہنا چاہ رہے ہیں تو میری امی ان پر کیوں دباؤ ڈال رہی ہیں۔ شادی کے بعد ہنی مون پر جانا بہت ضروری ہے۔ اور وہ بھی یورپ، بالی، ترکی وغیرہ۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی سب سعودی سیر پر ضرور جاتے ہیں۔ آج کل کووڈ کی وجہ سے ملک سے باہر جانا مشکل ہے اس لیے مملکت کے اندرسیرو تفریح کے پروگرام بن رہے ہیں۔
سعودی عرب بہت بڑا ملک ہے اور دیکھنے والی جگہیں بھی بہت ہیں۔ چھٹیوں میں رشتہ داروں کے ہاں جانے کا رواج بھی ہم سے ملتا جلتا ہے۔ چھٹیاں مل جل کر گزارنا پسند کرتے ہیں۔ شادی شدہ لڑکیاں اور لڑکے بھی چھٹیوں میں والدین کے پاس ضرور جاتے ہیں۔ چھٹیوں میں گھر مہمانوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ اسی طرح عیدوں پر بھی ضرور سب اکٹھے ہوتے ہیں۔ بچوں کی پیدائش کے بعد بھی لڑکیاں اپنے والدین کے گھر جا کر رہتی ہیں یا ان کی والدہ اور بہن ان کے پاس آ کر رہتی ہے۔

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x