ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

سات نسلیں – روبینہ قریشی

جہاز رن وے پر دوڑ رہا تھا، صائمہ پانچ سال کے بعد کینیڈا سے پاکستان آنے پر جہاں بہت خوش تھی وہاں اداس بھی تھی۔ان سالوں میں اس کے بہت پیارے کچھ رشتے اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے تھے جن میں ایک اس کے بہنوئی تھےاور دوسری اس کی دوست عشاء۔
کووڈ سے پہلے تو وہ باقاعدگی سے ہر سال اپنے شوہر کے ساتھ پاکستان آتی رہتی تھی لیکن 2018 کے بعد کووڈ کے علاوہ بھی کچھ وجوہات کی بنا پر وہ پاکستان نہیں آسکی تھی۔اور اب پاکستان جاتے ہوئے وہ اپنی دوست اور بہنوئی کے ساتھ پچھلے سالوں میں اپنی ملاقاتوں کو یاد کرتے ہوئے اداس ہو رہی تھی۔
جہاز اسلام آباد ایئر پورٹ پر اتر چکا تھا۔اس کی بڑی بہن اور بھانجا اسے لینے ایئرپورٹ پر موجود تھے۔
آپا کو سفید بالوں، سفید دوپٹے اور سادہ چہرے میں دیکھ کر پھر سے بہنوئی کا اچانک دنیا سے جانا یاد آگیا۔
وہ ایئر پورٹ پر ان کے گلے لگ کر بہت سارا رونا چاہتی تھی لیکن اِدھر اُدھر لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے اس نے اپنے آپ کو بڑی مشکل سے سنبھالا۔
یہ مئی کی نسبتاً گرم دوپہر تھی۔گھر جاتے ہوئے سڑک کے کنارے درختوں پر مٹی کی ایک تہہ کو دیکھتے ہوئے اسے محسوس ہورہا تھا جیسے پاکستان بہت اداس اور میلا ہورہا ہے، ہر چیز پر مٹی کی تہہ دیکھ کر اس کا دل مزید اداس ہوگیا۔
بے اختیار اس نے آپا کے کندھے پر سر رکھا اور اس کے آنسو بہتے ہوئے اس کے گریبان سے ہوتے ہوئے اس کے دامن پر گرنا شروع ہو گئے۔
خدیجہ نے اپنے بازو کھول کر اسے اپنے ساتھ لگا کر رونے دیا۔کچھ دیر کے بعد اس کا کندھا تھپتھپایا، ماتھے پر بوسہ لیا اور اس کا دھیان بٹانے کے لیے پوچھا۔
’’اس مرتبہ اکبر بھائی کیوں نہیں آئے؟‘‘
’’ بس آپا ،وہی چھٹیوں کا مسئلہ…میں اس مرتبہ کچھ زیادہ دن رکنا چاہتی تھی اور انہیں چھٹیاں نہیں مل رہی تھیں، میری واپسی سے پہلے وہ بھی آجائیں گے اور واپس ہم اکٹھے ہی جائیں گے‘‘اس نے ٹشو سے آنکھیں اور رخسار رگڑ کر صاف کرتے ہوئے کہا۔
اسلام آباد شروع ہونے کے بعد اب درختوں پر مٹی نظر آنے کی بجائے سڑکوں کے دونوں طرف گہرے سبز رنگ کے دھلے دھلائے درخت اور مختلف مقامات پر چوک میں لگے ہوئے پھولوں کو دیکھ کر اور رو چکنے کے بعد اب اس کے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوچکا تھا ۔
گھر پر دونوں بھانجیاں ڈاکٹر ارحہ اور ڈاکٹر مرحہ اس کے انتظار میں تھیں۔بھانجے نے گاڑی کی چابی دروازے کے ساتھ دیوار میں لگے ہوئے خوبصورت چابی اسٹینڈ میں لٹکاتے ہوئے بلند آواز سے نعرہ لگایا
’’کھانا‘‘
دونوں بھانجیاں دوڑ کر صائمہ کے گلے لگیں تو بے ساختہ اس کی آنکھیں پھر سے برسنا شروع ہو گئیں۔
بلال نے جب دیکھا کہ یہاں تو پھر رونے کا پروگرام شروع ہو چکا ہے تو ماحول بدلنے کو کہا’’ یار، آپ لوگ یہ رونا دھونا تھوڑی دیر کے لیے postpone نہیں کرسکتے، پہلے پیٹ پوجا، پھر کام دوجا‘‘۔
ارحہ نے خالہ کے کندھے سے سر اٹھا کر کہا۔
’’ ہمیں رونا اب آرہاہے، بعد میں کیسے arrange کریں گے‘‘۔
مرحہ نے کہا’’کبھی کھانے کے علاوہ بھی کچھ سوچ لیا کرو بلال‘‘۔
صائمہ بچوں کی نوک جھونک پر بے ساختہ ہنس پڑی، ماحول ہلکا پھلکا ہو گیا۔
دوپہر کے کھانے کے بعد بچیاں اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلی گئیں کیوں کہ رات کو ان کی ہسپتال میں ڈیوٹی تھی جب کہ بلال نے واپس آفس جانا تھا۔جانے سے پہلے خالہ کے پاس بیٹھ کر انہیں پھر سے گلے لگایا اور کہا۔
’’خالہ جانی، اُس وقت ماحول رونے کے لیے بڑا سازگار تھا اس لیے آپ کو نہیں ملا…کیوں کہ میں آپ کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا…اور امی جان آپ پلیز اب سو جائیں کیونکہ خالہ نے jet lag سے باہر آنے تک ہر رات آپ کو بھی اپنے ساتھ جگانا ہے‘‘۔
بلال یو کے سے ایم بی اے کے بعد اب ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں بہت اچھی جاب کررہا تھا۔
بلال کی بات درست ثابت ہوئی جب رات کو صائمہ ہشاش بشاش اٹھ کر بیٹھی ہوئی تھی اور نیند کا دور، دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ خدیجہ نے جھانکا تو وہ اپنے کمرے میں ویڈیو کال پر اپنے بچوں سے بات کررہی تھی۔ خدیجہ کو آتا دیکھ کر صائمہ نے بچوں اور شوہر کو خدا حافظ کہا اور آپا کے بیٹھنے کے لیے اپنے ساتھ جگہ بنائی۔
موسم اس وقت قدرے بہتر تھا صائمہ نے کھڑکی کے پردے ہٹائے تو تازہ ہوا نے کمرے کا ماحول مزید خوشگوار بنادیا۔
کچھ دیر تک ادھر، ادھر کی باتیں کرنے کے بعد صائمہ نے خدیجہ سے وہ سوال پوچھ ہی لیا جو پچھلے 26 برس سے اس کے ذہن میں کلبلا رہا تھا
’’آپا، مجھے آپ کی ایک بات کی اب تک سمجھ نہیں آئی کہ آپ میں اور نصراللہ بھائی میں تعلیم، ماحول اور مزاج میں نمایاں فرق تھا تو آپ نے ان سے شادی کیوں کی جب کہ وہاں شہر میں آپ کے ایک کلاس فیلو کی فیملی نے آپ کا رشتہ مانگا بھی تھا؟‘‘
’’لیکن صائمہ…میں نے نصر اللہ کے ساتھ بڑی پرسکون زندگی گزاری ہے…ماحول میں فرق کے باوجود وہ ایک کھرے اور سچے انسان تھے، عورت کی عزت کرنے والے تھے، وہ تعلیم میں مجھ سے کم تھے لیکن انہوں نے ہمیشہ میری بات کو اہمیت دی…ویسے تمہیں آج یہ سوال پوچھنے کا خیال کیوں آیا؟‘‘
’’لیکن آپا وہ شکل صورت، تعلیم، رکھ رکھاؤ سب میں آپ سے بہت کم تھے اور پھر پھوپھو کے گھر کا مجموعی طور پر ماحول بھی ابا کے گھر سے بہت مختلف تھا اور ویسے بھی…‘‘
’’لیکن صائمہ میں نے ایک اچھی زندگی گزاری ۔نصراللہ کچھ ہی سالوں کے بعد مجھ سے بہت محبت کرنا شروع ہوگئے تھے،دونوں بچیوں کو ڈاکٹر بننے کا شوق تھا ۔بیٹا باہر جا کر پڑھنا چاہتا تھا اور بچوں کے یہ سب شوق ان کے باپ نے پورے کیے‘‘۔
خدیجہ نے بہن کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’آپا، آپ بات کو بدلنے کی کوشش مت کریں پلیز میری سیدھی سادھی بات کا سیدھا سا جواب دیں جب کہ مجھے علم ہے کہ آپ پھوپھو کے گھر کے ماحول کو زیادہ پسند نہیں کرتی تھیں‘‘۔
خدیجہ نے گہری سانس لی اور خلا میں گھورنا شروع کردیا۔
’’آپا، پلیز…تائیں ناں‘‘۔
اب خدیجہ ماضی کے شب وروز میں کھوئی ہوئی تھی۔
٭٭٭
یہ گرمیوں کے موسم میں نور پور تھل کے ایک کشادہ صحن کی چاندنی رات میں سید ظفراللہ اپنی بیوی سے باتیں کررہا تھا ،جبکہ اس کے دونوں بیٹے باہر بیٹھک پر سورہے تھے اور دونوں بیٹیاں صحن میں چارپائیوں پر اپنی بےبے عزیز بیوی اور بابا ظفراللہ کے ساتھ سو رہی تھیں۔
عزیزاں اپنے شوہر ظفراللہ کو کب سے ایک ہی بات سمجھانا چاہ رہی تھی کہ بیٹی نے میٹرک پاس کر لی ہے اب اسے شہر مزید پڑھنے کے لیے بھیجنے کی بجائے کچھ گھرداری سیکھنے دیں۔
ادھر خدیجہ سانس روکے بے بے اور باپ کی باتیں سن رہی تھی۔
’’دیکھ نیک بختے، وہ ہمارا خون ہے،مجھے پورا یقین ہے کہ وہ کبھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس پر ہمیں شرمندہ ہونا پڑے۔ تم بس دعا کرو کہ اللہ اسے عزت دے اور وہ شہر سے اچھے طریقے سے پڑھ کر واپس آئے‘‘۔
جب خاندان میں خبر پھیلی کہ خدیجہ شہر کے کالج جارہی ہے مزید پڑھنے کےلیے تو جتنے منہ اتنی باتیں۔
لیکن اس کے باپ نے کسی کی باتوں کی پروا کیے بغیر اسے کالج داخلہ کروایا۔ پھر ہاسٹل میں کمرہ لیا ،اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا۔
’’دھیے!‘‘
’’تیرے پچھے دو بیٹیاں میرے بھائی کی، تیری اپنی چھوٹی بہن، تیرے دونوں مامؤوں کی بیٹیاں بیٹھی ہیں…ویکھ پتر…ایسی مثال پیش کرنا کہ پیچھے بیٹھی ہوئی بیٹیوں کی پڑھائی کے رستے کھل جائیں، تجھے اللہ کی امان میں دے کر جارہا ہوں… اب میری عزت تیرے ہاتھ میں ہے‘‘۔
’’ابا، آپ فکر مت کریں، ان شاءاللہ آپ کا شملہ نیچا نہیں ہونے دوں گی‘‘۔
خدیجہ باپ کے گلے لگی تو بے اختیار اس کے آنسو بہہ نکلے۔
نفسیات میں ایم اے کرنا اس کا خواب تھا۔ کالج کے تیسرے سال تک شہری ماحول اور کالج کی بہترین لیکچررز کی تربیت نے اس کی دبی ہوئی شخصیت کو تراش، خراش کے بعد ایک باوقار اور پراعتماد لڑکی میں تبدیل کردیا تھا ۔اب خدیجہ بہت اچھی طالبہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین ڈیبیٹر اور بزم اردو ادب کی سرگرم رکن تھی۔
سال چہارم کے سالانہ ضلعی تقریری مقابلہ میں اپنے کالج کی طرف سے نمائندگی کے لیے خدیجہ کو منتخب کیا گیا تھا۔اس مقابلہ میں ضلع کے تمام کالجز کے لڑکے اور لڑکیاں شریک تھے۔لیکن پہلے انعام کی حقدار سیدہ خدیجہ ظفر قرار پائی جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر بوائز کالج کے سید حسن علی اور فیروز علی خان رہے۔
نتائج کا اعلان ہؤا تو گرلز کالج کی طرف سے پہلی مرتبہ کسی لڑکی کے پہلی پوزیشن لینے پر بہت گرم جوشی سے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا گیا اور جب وہ انعام لینے کے لئے آئی تو پورا ہال اس کی تعظیم کے لیے کھڑا ہو گیا۔
مقابلہ ختم ہونے کے بعد سید حسن علی اور فیروز علی خان اسے مبارکباد دینے اس کے پاس آئے۔اگلے سال یونیورسٹی داخلہ ہونے کے بعد سید حسن علی آتے جاتے اسے نظر آتا رہتا لیکن اس نے کبھی اس سے بات نہیں کی تھی۔
الوداعی تقریب میں سید حسن علی نے اس سے کہا۔
’’مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے ۔کیا چند منٹ دے سکتی ہیں؟‘‘
خدیجہ ایک مضبوط شخصیت اور ٹھوس کردار کی لڑکی تھی لیکن اس دن اس کی بےقرار اور محبت بھری نظروں سے چھلکتا ہؤا پیغام محبت سمجھ چکی تھی۔
’’جی؟‘‘خدیجہ جانتے ہوئے انجان بن کر بولی ۔
’’ دیکھیں خدیجہ… میں جانتا ہوں کہ آپ لڑکوں سے بات چیت کرنے کے حق میں نہیں ہیں، میں بھی آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ بس…سیدھی سی بات ہے کہ میں اپنے والدین کو آپ کے گھر بھیجنا چاہتا ہوں‘‘۔
’’ نہیں، پلیز…آپ ایسا مت کیجیے گا، میری بات بہت بچپن سے میرے کزن کے ساتھ طے ہو چکی ہے اور میرے واپس جانے کے کچھ مہینوں کے بعد میری شادی ہے‘‘۔
صائمہ جو لیٹ کر غور سے ساری بات سن رہی تھی اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’ لیکن آپا آپ نے ایسا کیوں کیا جب کہ آپ بھی انہیں پسند کرتی تھیں اور ذات پات کا بھی مسئلہ نہیں تھا؟‘‘
’’تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ میں بھی اسے پسند کرتی تھی؟‘‘
’’آپا، جس دن آپ نے انہیں انکار کیا تھا اس دن میں نے آپ کو بہت ٹوٹ کر روتے ہوئے دیکھا تھا‘‘۔
’’بس میں نہیں چاہتی تھی کہ میرے حوالے سے کوئی میرے گھر تک پہنچے اور شریکہ برادری کو باتیں بنانے کا موقع ملے… اور دیکھو… جب میں کامیاب ہو کر آئی تو میرے بعد آنے والی میرے سے چھوٹی میری ساری رشتے کی بہنوں کو پڑھنے کی اجازت مل گئی۔ایک مرد تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ صرف ایک فرد تعلیم حاصل کرتا ہے اور جب ایک عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو ایک نسل تعلیم حاصل کرتی ہے، میرے بعد میری کتنی خالہ زاد ماموں زاد چاچا زاد تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں اور آج ہمارے ہر گھر میں ڈاکٹر، انجینئر، آرمی آفیسر اور ذمہ دار پوسٹ پر کام کرنے والے کتنے لڑکے اور لڑکیاں موجود ہیں۔
تو صائمہ پیاری!ایک نسل قربانی دیتی ہے تو سات نسلیں سنور جاتی ہیں…بس میں قربانی دینے والی نسل تھی!‘‘٭
٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x