بتول مارچ ۲۰۲۲رومان پرور باتیں - بتول مارچ ۲۰۲۲

رومان پرور باتیں – بتول مارچ ۲۰۲۲

انسانوں کے بے شمار مزاج ہوتے ہیں۔ اور ہر مزاج کا ایک الگ ہی رنگ ہوتا ہے لیکن یہ ایک فطری تقسیم ہے کہ خوشی سچی ہو اور غم گہرا ہو تو اس پہ سارے انسانوں کا اظہار ایک جیسا ہی ہوگا۔ خوشی میں مسکرانا، ہنسنا یا قہقہہ لگانا اور اداسی، غم، تکلیف یا پریشانی میں اظہار کے سب تاثرات آفاقی ہیں۔
محبت اور نفرت آفاقی جذبے ہیں ان کے اظہار کے لیے انداز بھی ہر انسان میں ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ دنیا کے کسی خطے میں یہ نہیں ہوتا کہ انسان جب کسی سے خوش ہو تو اظہار کے لیے اسے مار پیٹ کرے یا اسے اذیت دے اور نہ ہی کہیں یہ ملے گا کہ کوئی اپنی عزتِ نفس پامال کرنے والے سے دلی تعلق محسوس کرے۔ اور اس بات کا چرچا کرے کہ فلاں نے آج مجھے بہت بےعزت کیا اس لیے میں بہت خوش ہوں۔ یقیناً یہ غیرفطری اور لایعنی تصور ہے۔
انسانوں کی زندگی میں رومان بھی روح کی تسکین کے لیے ایک فرحت افزا اور خوب صورت جذبہ ہے۔
ہر باذوق فرد رومان پرور ماحول، رومانی باتیں، رومانی کہانیاں اور نغمے پسند کرتا ہے۔ رومان کے بارے میں بھی سب کا نقطہٴ نظر ایک جیسا نہیں ہوتا۔
رومانس کا تصور آتے ہی عموماً مرد و عورت کے درمیان آشنائی کی کہانیاں ذہن میں گھومنے لگتی ہیں۔ محبت کے فلمی گیت گاتے ہوئے، چوری چھپے ملاقاتیں کرتے، کسی جھرنے، جھیل کے کنارے سرگوشیاں کرتے، ساتھ نبھانے کی قسمیں کھاتے اور ظالم سماج سے لڑتے جھگڑتے یا سماج سے بغاوت کر کے گھر سے فرار ہوتے ہوئے۔
ساری کہانیاں، فلمیں، افسانے بس رومان کا یہی تصور دیتی ہیں۔ کیا رومانس کا تعلق صرف جنسی کشش کا نام ہے؟آخر یہ جذبہ کیا ہے؟ رومانس کا نشہ کیا ہوتا ہے؟
رومانیت پر بحث کرتے ہوئے ڈاکٹر سید عبداللہ فرماتے ہیں کہ’’یہ لفظ جتنا دل خوش کن ہے، تشریح کے لحاظ سے اتنا سہل نہیں ہے۔ لغات اور فرہنگ، اصطلاحات کے انسائیکلوپیڈیا اور تنقید کی کتابیں اس سلسلے میں الگ الگ کہانی سناتی ہیں‘‘۔ سید عبد اللہ مزید لکھتے ہیں کہ’’رومانیت کا ایک ڈھیلا سا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسے اسلوب یا اندازِ احساس کا اظہار ہے جس میں مضبوط فکر کے مقابلے میں تخیل کی گرفت مضبوط ہو یعنی رسم و روایت کی تقلید سے آزاد خیالات کو سیلاب کی طرح جدھر ان کا رخ ہو آزادی سے بہنے دیا جائے‘‘۔
مختصر یہ کہ رومان پسند اپنے جذبے اور وجدان کو ہر دوسری چیز پر ترجیح دیتا ہے۔ اسلوب اور خیالات دونوں میں اس کی روش تقلید کے مقابلے میں آزادی اور روایت کی پیروی سے بغاوت اور جدت کا میلان رکھتی ہے۔ رومانی ادیب حال سے زیادہ ماضی یا مستقبل سے دلچسپی رکھتا ہے۔ حقائقِ واقعی سے زیادہ خوش آئند تخیلات اور خوابوں کی اور عجائبات و طلسمات سے بھری ہوئی فضاؤں کی مصوری کرتا ہے۔ دوپہر کی چمک اور ہر چیز کو صاف دکھانے والی روشنی کے مقابلے میں دھندلے افق، چاندنی اور اندھیرے کی ملی جلی کیفیت اسے زیادہ خوش آئند معلوم ہوتی ہے۔ ڈاکٹر محمد حسن رومانیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”رومانیت“ کا لفظ رومانس سے نکلا ہے۔ اور اکثر زبانوں میں اس کا اطلاق اس قسم کی نثری منظوم کہانیوں پر ہوتا ہے جن میں انتہائی آراستہ و پرشکوہ پس منظر کے ساتھ عشق و محبت کی ایسی داستانیں سنائی جاتی تھیں جو عام طور پر دورِ وسطیٰ کے جنگجو اور خطر پسند نوجوانوں کی مہمات سے متعلق ہوتی تھیں۔ اس طرح اس لفظ کے تین خاص مفہوم ہیں:
ثعشق و محبت سے متعلق تمام چیزوں کو رومانی کہا جانے لگا۔
ثزبان کی بناوٹ، سجاوٹ، آراستگی اور محاکاتی تفصیل پسندی کو رومانی کہا جانے لگا۔
ثعہدِ وسطیٰ سے وابستہ تمام چیزوں سے لگاؤ، قدامت پسندی اور ماضی پرستی کو رومانی کا لقب دیا گیا۔
گویا کسی مقصد کے حصول کے لیے اپنے آپ کو فنا کر کے خوشی محسوس کرنا رومانیت ہے۔ اور فدائیت کی بنیاد لا محالہ محبت ہوتی ہے۔ اور محبت کے آسمان پہ ستارے اور کہکشائیں لا محدود ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں اظہارِ رائے کی آزادی میں سب سے زیادہ آزادی ہر دو اصناف کے درمیان میل جول کو حاصل ہوگئی اور رومان کا جذبہ محض ڈراموں، فلموں، ناولوں، افسانوں میں جنس مخالف کے مخفی تحیر کو افشا کرنے کا ذریعہ بن کر رہ گیا۔ اور رومانٹک یا رومان پرور ماحول کی بات ہو تو ذہن جنس مخالف سے اظہارِ محبت کے علاوہ کچھ قبول ہی نہیں کرتا۔
اگر عشق و محبت کو ہی عنوان بنایا جائے تو زندگی کے اَن گنت ایسے مقاصد ہیں جن سے رومانی تعلق قائم کر کے روح کو ان قصوں کہانیوں سے کہیں زیادہ شاد کیا جا سکتا ہے جن کی مثالیں ہیر رانجھا یا لیلیٰ مجنوں کے حوالے سے دکھائی سنائی جاتی ہیں۔
رومان دراصل کسی شخص، رشتے یا کام سے ایسا قلبی تعلق ہے کہ اس شخص سے ملنے میں روح کی تسکین ہو۔ رشتہ راحتِ جاں ہو، کام سے زندگی بے مقصد نہ لگے۔ اور کام بوجھ کی بجائے فرحت افزاء لگے اور اس تک رسائی کا تصور تنہائیوں کا ساتھی ہو۔
مومن کی زندگی میں ساری خلقت، سارے رشتے، اور ہر کام اس کی جنت ہیں۔ ہر احساس، جذبے اور کام کی نیت ہی اسے جنت جیسی رومانی جگہ پہ جا بسنے کی آس دلاتی ہے۔
رومان کے بارے میں اپنا نقطہٴ نظر سطحی اور پست نہ رکھا جائے اور اسے شعوری گہرائی و گیرائی میں تبدیل کر لیں تو رومانس کے مواقع چاروں طرف صبح و شام مل جاتے ہیں۔
جب رومان کے معنی روح کی شادابی، دل کی تسکین، اور محب اور محبوب کے ملاپ پہ کائنات کے رقص کرنے کا احساس ہونا ہے تو یہ جذبہ محدود کیسے ہوسکتا ہے؟
پوری کائنات میں محبت کی خوشبو سے ہی رومانیت پیدا ہوتی ہے تو محبت بھی محدود نہیں ہے اور نہ ہی رومان ایک نکتہ پہ مرکوز ہے۔
بچہ پیدا ہوتا ہے تو ماں کا حقیقی رومانی دور شروع ہو جاتا ہے۔ اپنے بچے سے ماں کی محبت سے بڑھ کر کوئی جذبہ نہ تسکینِ جاں ہو سکتا ہے نہ راحت افزاء۔
خصوصاً پہلوٹھی کے بچے کا سراپا ماں کے لیے ایسا رومان پیدا کرتا ہے کہ وہ نو مولود کی مسکان دیکھنے کے انتظار میں گھنٹوں اس کا چہرہ تکتی رہتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھنے کے لیے اس کی نیم باز آنکھوں پہ نظریں جمائے رکھتی ہے۔ اپنی آواز کی پہچان کرانے کو اس کے منے منے سے کانوں میں سر گوشیاں کرتی ہے۔ نہلا دھلا کر اچھے کپڑے پہنا کر جی خوش کرتی ہے۔ وہ سو جائے تو بھی اپنی محبت کی گرمی کا لمس اسے پہنچاتی ہے۔ اگر محبت کی سرخوشی، دیدار کی تسکین اور قربت کی خوشبو اور میٹھی پیاری سرگوشیاں رومان ہیں تو یہ کتنا پیارا رومانس ہے جو ماں اور بچے کی محبت کی صورت میں ہے۔
جب تک بچہ خود مختار نہیں ہوتا ماں کا بچے سے پیار ایک عجب سرشاری کا رومانس ہوتا ہے۔
بچہ ہی ماں کا محبوب ہے۔ اس کی خاطر وہ ہر دکھ بسہولت سہہ لیتی ہے، بھوک پیاس بے آرامی کی تو کوئی وقعت ہی نہیں۔ ماں کی مامتا رومانس کی انتہا کا استعارہ ہے۔
اگر اللہ رب العزت نے مامتا کا احساس عورت کے دل میں ہر محبت سے کہیں زیادہ شدت سے نہ رکھا ہوتا تو قبرستان ننھی منی قبروں سے بھرے ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے عظیم رومانس کا نام مامتا ہے۔ اور اسی مامتا کے جذبے سے اللہ رب العالمین کی بندوں سے محبت کی مثال دی جاتی ہے۔
اسی طرح ہم زندگی اور زندگی سے جڑے سارے رشتوں یا دلی وابستگی میں رومانی تعلق پاتے ہیں اور یہی آخرکار روحانی تعلق بن جاتا ہے اور رشتوں کا یہ تعلق وہاں تک جا پہنچتا ہے جب صرف ایک ہی کارآمد تعلق باقی رہ جائے گا اور وہ ہے ’’اللہ کے لیے محبت‘‘۔
اسی تعلق کا خوب صورت نتیجہ ہوگا کہ عرشِ الٰہی کی چھت کا رومان پرور سایہ، تسکینِ جاں ہوگا۔ جب قیامت کی کڑی دھوپ میں کسی کو سایہ نصیب نہ ہوگا۔
محب اور محبوب کی رازدارانہ تنہائی میں سرگوشیاں، ملاقات کی خوشی، جدائی کا خوف نہ ہونا، کبھی ناراض نہ ہونے کی خوشخبری اور دیدار کا مژدہ مل جانا، رومان دراصل اسی احساس کا نام ہے اور یہی مدعا مقصود اور منتہا ہے۔
ہر فرد اپنے ظرف، علم اور تفکر و تدبر کے مطابق رومان پرور ہوتا ہے۔ سطحی سوچ کے مالک سطحی اور فانی اور بے مقصد چیزوں سے رومانیت پیدا کر لیتے ہیں اور مومنانہ شان کے مالک کو اپنے لیے احساس جاوداں مطلوب ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے کی تمنا میں شب و روز گزارنا اک عجب رومانس ہے۔
جنت کے روح پرور رومانی مناظر کا تخیل زندہ رکھنا اور وہاں پہنچنے کے لیے تگ ودو کرنا ایک رومانٹک سرگرمی ہے۔
مومن کے لیے اپنے حقیقی محبوب سے تعلق کا جائزہ لیتے رہنا ایک رومان پرور احساس ہے۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن چار مقام پہ رب سے تعلق کا اندازہ کر سکتا ہے۔
پہلا مقام:
جب آدمی اپنے بستر پر آتا ہے، جب اس کے تمام حواس اور اعضاء فارغ ہوتے ہیں، تب دل اپنے محبوب کی طرف دھیان کرتا ہے، کیوں کہ آدمی کو نیند اسی وقت آتی ہے جب وہ اپنی محبوب ترین ذات کو یاد کرے، اور دل اسی کی یاد میں مصروف ہو۔
دوسرا مقام:
جب نیند سے بیدار ہو جاتا ہے، چونکہ جاگتے وقت سب سے پہلی چیز جو اس کے دل کو چھوتی ہے وہ محبوب ترین چیز ہوتی ہے، اس لیے جب آدمی بیدار ہوتا ہے، اور اس کی روح واپس لوٹائی جاتی ہے، تو اس کے محبوب کی وہ یادیں بھی واپس کر دی جاتی ہیں، جو یادیں لے کر رات کو سویا تھا۔
تیسرا مقام:
جب آدمی نماز میں داخل ہوتا ہے، کیونکہ نماز تمام احوال کی جامع ہے، ایمان کا پیمانہ ہے، اسی سے آدمی کا ایمان پرکھا جاتا ہے، اس کے دل کی حالت، دل کا اصل مقام، اس کی اللہ سے قرابت اور اس کی محبت میں اس کا حصہ کتنا ہے، سب اسی نماز میں معلوم ہوتا ہے۔
چوتھا مقام:
مصیبت و پریشانی کے وقت، کیونکہ اس حالت میں دل سب سے پہلے اپنے محبوب کو یاد کرتا ہے، اوراسی کی طرف دوڑ کر جاتا ہے، جس کی محبت سب سے بڑھ کر ہوتی ہے۔
رومانٹک مزاج ہونا بہت اچھی بات ہے مگر اپنے رومانس کے معیار کا جائزہ بھی لیتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ ہر شخص اپنی محبت کے معیار کے مطابق اللہ تعالیٰ کی نظر میں مقام و مرتبہ پائے گا۔
٭ ٭ ٭ ≠

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here