ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

درد کے رشتے – ماہ جبین

’’ویڈیوز دیکھی نہیںجاتیں، بچوں کی بےدھڑ خون آلود کٹی پھٹی لاشیں…. طبیعت خراب ہونے لگتی ہے‘‘صائمہ کی طبع نازک متاثر تھی۔
’’ٹھیک کہہ رہی ہو ذہن پر بھی دباؤ بڑھ جاتا ہے، شدید مایوسی طاری ہوجاتی ہے اللہ بس اپنا رحم کردے‘‘عالیہ نے تائید کی’’کل چھوٹے عمیر نے غلطی سے ایک ویڈیو کھول لی یقین جانو بچہ میرا ایسا سہم گیا ….رات کو بھی میرے پاس ہی سویا،اتنا ڈر گیا تھا‘‘وہ اپنے بچے کے لیے فکرمند تھی۔
’’اب یہ بائیکاٹ کا شور…. ویسے تو میں فاسٹ فوڈ کے ہی خلاف ہوں لیکن بس ویک اینڈز پر میاں بچوں کا تھوڑی آئوٹنگ وغیرہ کا موڈ بن جاتا ہے تو کےایف سی ،میکڈونلڈ وغیرہ کھلا دیتے ہیں‘‘ عالیہ نے بیزاری سے کہا۔
’’اور نہیں تو کیا ہم کون سا ان کی محبت میں مرے جارہے ہیں ….ہمیں بھی پتہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے۔یہ تو بس فیملی انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ ہے …. ایک برگر اور ڈرنک ہی تو ہے‘‘صائمہ بولی۔دونوں ہمسائیاں اپنے اپنے دروازے پہ کھڑی آپس میں محوِ گفتگو تھیں۔
عالیہ کو اب تک مصنوعات بائیکا ٹ ہضم نہیں ہورہا تھا۔فیس بک، واٹس ایپ ،انسٹاگرام ہر جگہ دشمن کو مدد فراہم کرنے والی مصنوعات کی تفصیل موجود تھی جسے دیکھ کر وہ دل پکڑ کر بیٹھ جاتی کہ غسل خانے سے لے کر باورچی خانے تک اور بیڈ روم سے لے کر لونگ روم ڈرائنگ روم اور باہر کا لان تک ان تمام مصنوعات سے بھرا ہؤاتھا ۔نہ ہی اس کا کوئی متبادل اس کے علم میں تھا اور نہ وہ کسی نئے تجربے سے گزرنا چاہتی تھی۔
رات کا کونسا پہر تھا کہ عالیہ کی آنکھ کچھ شور کی آوازوں سے کھل گئی۔کمرے میں ہلکی سی روشنی محسوس ہوئی ۔آنکھیں پھاڑ کر جائزہ لیا تو میاں صاحب دوسری کروٹ پر لیٹے موبائل پر سرگرم عمل نظر آئے۔
’’اووف ….سوئے نہیں آپ ابھی تک‘‘اس کی آواز میں غصہ نمایاں تھا۔عادل صاحب چونک کر مڑے ۔
’’اوہ بھئی معذرت تمھاری نیند خراب ہوگئی…. بس یہ خبریں ہی کچھ ایسی آرہی تھیں کہ نیند ہی اڑ گئی…. شدید بم باری کی اطلاعات ہیں معلوم نہیں مظلوموں کی صبح کس حال میں ہوگی‘‘۔
عالیہ حیرت سے میاں کامنہ تک رہی تھی۔وہ آدمی جو کبھی کسی کے معاملے سے سروکار نہ رکھتا، بلکہ گھر کے بھی کتنے ہی مسئلوں سے عالیہ خود ہی نمٹتی رہتی۔ آج دور پرے سے آنے والی خبروں پر اتنا بےچین کہ اسے نیند ہی نہیں آرہی۔حیرت کچھ ہی لمحوں میں ایک بےنام سی بےچینی میں تبدیل ہوگئی ۔
’’اچھا اب سو جائیں صبح آپ کو آفس بھی جانا ہے‘‘یہ کہتے ہوئے وہ کروٹ بدل کر لیٹ گئی کہ صبح سے تو وہ خود بھی مصروف ہوجائے گی کہ اس کی عزیز از جان سہیلی کل اس کی طرف لنچ پر آرہی تھی جس کی اسے مکمل تیاری بھی کرنی تھی۔
ہفتے کا دن یوں بھی بڑا مصروف ہوتا ہے ایک تو بچے گھر میں ہوتے ہیں پھر لانڈری ، گروسری،بچوں کے ہوم ورک ،پروجیکٹ ، اسائنمنٹس…. ایک ڈھیر ہوتا ہے کاموں کا ۔لیکن آج اس نے کئی کام کل کے لیے اٹھا رکھے کہ اس کی پیاری سہیلی سجیلہ جو آرہی تھی۔اس کی بچپن کی ساتھی ،اسکول میں بھی ساتھ ساتھ ایک ہی کالج میں داخلہ لیا لیکن انٹر کے بعد اس کی پوری فیملی پنڈی شفٹ ہوگئی تھی ۔کتنا عرصہ اسے اپنا آپ ادھورا محسوس ہوتا تھا ،ایک خالی پن …. جیسے انسانوں سے جڑے تمام رشتے سجیلہ میں ہی پائے جاتے تھے باقی دنیا تو خالی تھی۔
مگر وقت کہاں رکتا ہے! کالج سے یونیورسٹی اور پھر شادی سسرال بچے، وہ ایک کے بعد ایک ذمہ داریوں میں بندھتی چلی گئ۔ اسے یاد تھا جب شادی کے فوراًبعد اسلام آباد آنا پڑا کہ میاں صاحب کی جاب یہیں تھی اور باقی کی سسرال بھی پنڈی اسلام آباد میں ہی مقیم تھی۔سجیلہ کی یاد تو ہمیشہ سے ہی اس کے دل میں رہتی اب یہاں آکر تو اس سے ملنے کی امید بھی پیدا ہوگئی۔بڑی تگ ودو کے بعد اس کافون نمبر حاصل کیا جب رابطہ کیا تو معلوم ہؤا کہ شادی کے بعد وہ بھی یہیں اسلام آباد میں ہی مقیم ہے۔خوشی سے اس کے پاؤں زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ نئ نئ شادی نیا سسرال اور بچپن کی سہیلی کی محبت …. اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے اڑ کر اس کے پاس پہنچ جائے۔سب سے بڑھ عادل میاں تنہائی پسند آدم بیزار…. گھر سے آفس اور آفس سے گھر اور بس…. ابھی تو اسے خود بھی اپنے نئے نویلے دلہا میاں کی عادتوں کا اندازہ نہ تھا۔
’’سنیے وہ میری ایک دوست یہاں رہتی ہے اس کے گھر لے چلیں گے‘‘ہمت کرکے مدعا بیان کیا۔
’’ہممم ‘‘وہ موبائل میں گم تھے۔
’’بات سنیں‘‘سدا کی بےچین عالیہ کو کب سکون تھا۔
’’جی فرمائیں‘‘عادل میاں کو تو سکون اطمینان کی دولت ورثے میں ملی تھی۔اب وہ موبائل سائیڈ پر رکھ اپنی نئ نویلی دلہن کی طرف پوری طرح متوجہ تھے۔وہ جھینپ ہی تو گئی۔
’’ لو بھلا اسقدر متوجہ ہونے کو کس نے کہا تھا، بندہ موبائل پر نظر رکھ کر بھی بات کرسکتا ہے’’دل میں سوچ کر رہ گئی‘‘۔وہ میں کہہ رہی تھی کہ میری ایک بچپن کی دوست سجیلہ…. ‘‘دس منٹ میں پانچ چھ سال کی کہانی ایک ہی سانس میں بیان کرنے کا حوصلہ عالیہ میں ہی تھا۔
’’اچھا تو پھر‘‘ عادل دلچسپی سے سن رہے تھے‘‘۔
پھر یہ کہ آپ مجھے لے چلیں ناں اس کی طرف۔’’چلو ٹھیک ہے اگلے ویک اینڈ کا کنفرم کرلو میں تمھیں چھوڑ آؤں گا‘‘۔
اس کی تو برسوں کی مراد پوری ہونے جارہی تھی۔ خوشی کے مارے میاں جی کا شکریہ تک ادا نہ کیا، بس لگی فون گھمانے کہ جلد از جلد اپنی آمد کی اطلاع سجیلہ کو دے۔
وقت گزرتا گیا ذمہ داریاں بڑھتی گئیں۔سجیلہ کے میاں کی پوسٹنگ مختلف شہروں میں ہوتی رہی جس کی وجہ سے دونوں سہیلیوں کی ملاقات نہ ہوپاتی تاہم فون پر رابطہ رہتا۔چھوٹی عنیزہ کی پیدائش کے بعد اب وہ مستقل اسلام آباد شفٹ ہوگئ تھی لہٰذا دوبارہ ملنے کی سبیل بن گئی اور آج کتنے ہی عرصے بعد اس کی پیاری سہیلی اس کے گھر آرہی تھی۔
’’پتہ نہیں یہ کام والی کو مہمانوں کے آنے کا کیسے پتہ چل جاتا ہے چھٹی تو پکی ہے اس دن …..سب کا مرنا جینا اسی دن ہونا لازمی ہے‘‘۔
عالیہ الجھی ہوئی جلدی جلدی برتنوں پر ہاتھ مار رہی تھی۔ کام والی کی اچانک چھٹی نے اسے پریشان کردیا تھا۔ابھی توکھانا بھی تیار کرنا تھا۔اس نے برابر والی پڑوسن صائمہ کا نمبر ملایا۔
’’آپ پلیز آج اپنی ماسی کو میری طرف بھی بھیج دینا بس صفائی کروانی ہے‘‘اس نے التجا کی۔صائمہ بہت اچھی پڑوسن تھی،اس کی پریشا نی سمجھ کر فوراً حامی بھرلی۔ شکر ہے ایک طرف سے تو سکون ہؤا۔وہ تیزی سے باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی۔
کباب تو پہلے ہی بنا کر وہ فریز کرچکی تھی۔سویٹ ڈش بھی رات میں ہی تیار کرکے فریج میں رکھ دی تھی۔بس اب بریانی اور وائٹ کڑاہی اسے اپنی قدرتی مہارت کے ساتھ تیار کرنی تھی جو یقینا ًاس کے لیے آسان تھا۔
کھانے کے بعد بچے سب کھیل میں مشغول ہوگئے تو دونوں سہیلیوں کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔عالیہ نوٹ کررہی تھی کہ سجیلہ کے چہرے پر کچھ اداسی چھائی ہوئی ہے ،اس کی سجیلی مسکراہٹ ایک تکلیف دہ مسکان محسوس ہورہی تھی۔ وہ بات تو عالیہ سے کررہی تھی لیکن دھیان کہیں اور تھا ۔ عالیہ بغور اپنی عزیز سہیلی کا جائزہ لے رہی تھی۔
’’عنزی جانی نے تو اپنی ماما کو تھکا ہی دیا…. ہمم‘‘اس نےسجیلہ کی دو ماہ کی گل گوتھنی سی عنیزہ کو گود میں لیتے ہوئے کنکھیوں سے سجیلہ کو دیکھا۔ایک اداس سی مسکراہٹ نے سجیلہ کے ہونٹوں نے چھوا۔
’’ارے نہیں بھئی یہ بے چاری کیا کہتی ہے بس دودھ پیتی ہے اور سوتی رہتی ہے‘‘۔
’’پھر…. پھر کیا بات ہے تم پہلے جیسی فریش اور کھلی کھلی نظر نہیں آرہیں کوئ مسئلہ ہےتو مجھ سے شئیر کرو ہوسکتا ہے کوئی حل نکل آئے …. اور کچھ نہیں تو دل کا بوجھ ہی ہلکا ہوجائے گا‘‘۔
’’امی…. فریج سے کولڈ ڈرنک نکال کر سب کو دے دوں سارے بچے گرمی میں کھیل کر تھک چکے ہیں‘‘۔عالیہ کی بڑی بیٹی نمرہ نے کچن سے آواز لگائی۔
’’اوہو…. دیکھو میرے کام…. کولڈ ڈرنک تو فریج میں ہی رکھی رہ گئی‘‘عالیہ نے سر پر ہاتھ مارا۔’’ہاں بیٹا دے دو سب کو‘‘۔
مگر جونہی نمرہ کولڈ ڈرنک لے کر سجیلہ کے پاس آئی، سجیلہ نے انکار میں سر ہلایا۔
’’میں نہیں پیوں گی اور میرا کہا مانو تو آپ لوگ بھی نہ پیو‘‘۔
’’ارے کیوں بھئی؟‘‘عالیہ حیرت سے منہ کھولے کھڑی تھی’’یہ بچےتو ضد کریں گے‘‘وہ جانتی تھی اس کے بچے کوک کے عادی ہیں اور یہ تو وہ برداشت نہیں کرپائیں گے۔اس نے غور کیا سجیلہ کے چہرے کا دکھ بڑھ گیا تھا۔تھوڑی دیر کے لیے اسے سجیلہ کی ذہنی حالت پر شبہ ہونے لگا۔
’’آنٹی آپ نے یہ اس لیے تو نہیں کہا کہ یہ کمپنی اسرائیل کو اپنا منافع دیتی ہے‘‘نمرہ کے ذہن میں بات آئی۔
’’جی بالکل پیاری بیٹی‘‘سجیلہ نے مسکراتے ہوئے نمرہ کے گال کو چھوا ۔
’’یہ کیا بات ہوئی بھئی…. میں نہیں مانتی یہ بائیکاٹ وائیکاٹ…. سب مقامی بزنس ہیں…. ایک آدھ فیصد اگر دشمن کو چلا بھی جاتا ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘سدا کی جذباتی عالیہ مہمان کے خیال سے غصہ ضبط کرتے ہوئے کہے گئی۔
سجیلہ کے چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی ۔اس نےپرس میں سے موبائل نکال کر آن کیا۔اب ایک فلم ان سب کے سامنے تھی۔ ہفتے کے دن کا سورج کن تباہیوں اور بربادیوں کے ساتھ فلسطین میں طلوع ہؤا تھا…. کل رات کی شدید بمباری عمارتوں کے ملبے اور ان میں دب کر مر جانے والے عورتیں مرد بوڑھے بچے….انسانی جسموں کے جابجا بکھرے چیتھڑے خون آلود کٹی پٹی لاشیں،زخمیوں کی چیخ و پکار ایک آدمی کی گود میں اس کابچہ تھا جس کا آدھا سر اور ٹانگیں غائب تھیں۔
’’اف خدایا ! بس کردو،اس سے زیادہ میں نہیں دیکھ سکتی…. میری طبیعت خراب ہونے لگتی ہے۔پلیز بند کرو اسے‘‘عالیہ باقاعدہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر زور زور سے چلا رہی تھی۔
سجیلہ نے موبائل بند کرکے اس کا ہاتھ ہٹایا۔نمرہ خوف آنکھوں میںلیےپھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔وہ horror movies کی شوقین تھی لیکن وہ تو فلم ہوتی ہے نا اور یہ رئیل …. اس نے اس سے پہلے اتنی horrible filmکبھی نہیں دیکھی تھی،اس کا جسم آہستہ آہستہ کانپ رہا تھا۔عالیہ نمرہ کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگئی’’نمو بیٹا میری جان‘‘۔اس نے اسے اپنے سینے سے چمٹا لیا۔’’امی امی جلدی آئیں عمیر کھیلتے ہوئے گرگیا ہے اسے چوٹ لگ گئی ہے جلدی آئیں‘‘۔
اسماء پھولی ہوئی سانسوں میں چیختی ہوئی آئی۔
’’ہائے اللہ میرا بچہ‘‘وہ تیزی سے اٹھی۔
’’میں دیکھ لیتی ہوں…. اسے دیکھ کر تمھاری طبیعت خراب ہوجائے گی خدانخواستہ اگر خون بھی نکل رہا ہؤا تو تم سے برداشت نہیں ہوگا ‘‘ سجیلہ پریشانی سے بولی۔
’’ایسا کیسے ہوسکتا ہے وہ میرا بچہ ہے اس کی تکلیف میں کیسے برداشت کرسکتی ہوں‘‘۔
عالیہ تیزی سے باہر کی طرف بھاگی۔سجیلہ بھی پیچھے پیچھے آگئی تھی۔شکر ہے چوٹ زیادہ نہیں تھی لیکن عمیر ڈر زیادہ گیا تھا۔ رونا اب ہچکیوں میں تبدیل ہوگیا تھا۔
’’شکر ہےاللہ کا…. ‘‘سجیلہ عمیر کو پیار کرتے ہوئے بولی’’ایسے ہی بچے وہ بھی ہیں جن پر دن رات بمباری ہورہی ہے‘‘ یہ کہتے اس کی آواز بھرّا گئی۔
عالیہ حیران ہوئی مگر پھر چھن سے دماغ کی اسکرین پر ایک بچہ کی تصویر نمایاں ہوئی جو بمباری کے وقت سوتے سے جاگا تھا اور اس کے تمام گھر والے شہید ہوچکے تھے جس کی ہچکیاں بند نہیں ہورہی تھیں۔ وہ کپکپاتے لبوں کے ساتھ اپنی پوری ہمت مجتمع کرکے ایک پیرامیڈک کو اپنے بارے میں بتارہا تھا اور پھر آخر ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رودیا ۔اس نے عمیر کو غیرارادی طور پر مزید مضبوطی سے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔
سجیلہ بھی سب بچوں کو سمیٹ کر اس کے پاس کمرے میں ہی آبیٹھی تھی۔ماحول اچانک ہی سوگوار ہوگیا تھا ۔نمرہ کو محسوس ہورہا تھا جیسے کسی horror movie میں قتل کے بعد موت کا سناٹا چھا جاتا ہے، فضا خون آلود لگنے لگتی ہے،ایسا ہی خوف آج اسے اپنے آس پاس محسوس ہورہا تھا۔
’’میں ہرروز رات کو غزہ کی صورتحال دیکھ کر اور بچوں کو بھی دکھا کرسوتی ہوں ‘‘طویل اور گہری خاموشی میں سجیلہ کی آواز نے ارتعاش پیدا کردیا ’’تاکہ غزہ کے حالات خواب میں بھی ہمارا پیچھا کریں ہمارے حواسوں پر چھا جائیں …. تاکہ دشمن ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے رہے، ہماری کوئی بھی کمزوری ،کوئی کھانے پینے استعمال کرنے کی پسندیدہ چیزسے لے کر بڑی سے بڑی مجبوری اسے ہماری نظروں سے اوجھل نہ کرسکے‘‘۔
’’اس سے کیا ہوگا آخر؟ان کمپنیوں کو کیا فرق پڑے گا‘‘ عالیہ ابھی تک الجھی ہوئی تھی۔
’’ہمیں فرق پڑے گا…. معصوم بچوں پر بمباری کرنے والوں پر اپنا پیسہ خرچ کرنے کی تکلیف تو نہیں ہوگی۔مظلوم مسلمان بہن بھائیوں سے درد کا رشتہ محسوس ہوگا۔اور پھریہ احتجاج کا ایک طریقہ بھی ہے جسے سب لوگ اپنا لیں تو ان کمپنیوں کو بھی فرق ضرور پڑے گا…. ہم کریں تو سہی!‘‘
عالیہ خاموش تھی اور کچھ سوچ رہی تھی۔ سجیلہ دوبارہ بولی۔
’’کیا خیال ہے…. ہم کم از کم اتنا تو کرہی سکتےہیں!‘‘
’’ہاں کیوں نہیں‘‘اس بار عالیہ کا لہجہ یقین سے بھرا ہؤا تھا۔ سجیلہ کو لگا اس کے دکھ کی ایک گرہ کھل گئی ہے۔
٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x