ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

خوشگوار اور کامیاب زندگی گزارنے کے لیے صرف سوچ بدلنے کی ضرورت ہے – بتول اگست۲۰۲۲

عالمگیرشہرت کی حامل کتاب ’’مثبت سوچ کی طاقت‘‘ کا مصنف ونسنٹ پلے ایک روز اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ ایک فون آیا۔ فون پر موجود شخص رو رہا تھا کہ اس کا سب کچھ لٹ چکا ہے۔ ہر چیز تباہ ہو چکی اور وہ مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے اب اس کے پاس جینے کا کوئی جواز نہیں۔ ونسنٹ نے اس شخص کو اپنے دفتر آنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔
اگلے روزوہ شخص ونسنٹ پیلے کے آفس میں موجود تھا، ملاقات کی ابتدا اس نے آہ و بکا سے کی۔ وینسنٹ نے مسکرا کر اسے تسلی دی اور سکون سے بیٹھنے کو کہا جب وہ قدرے اطمینان سے بیٹھ گیا تو مینجمنٹ کے اس معروف ماہر نے کہا کہ آئو مل کر تمہارے حالات کا مفصل جائزہ لیتے ہیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ تمہارے مسائل کیا ہیں اور ان کا حل کیا ہے؟ ونسنٹ نے ایک کاغذ لے کر اس کے درمیان ایک عمودی لکیر کھینچی اور کاغذ اس شخص کے سامنے رکھتے ہوئے کہامیں تم سے بہت سی باتیں پوچھوں گا۔ جو باتیں تمہاری زندگی میں مثبت ہیں انہیں کاغذ پر دائیں کالم میں لکھنا اور جو منفی ہیں انہیں بائیں طرف لکھو وہ شخص پریشان ہو کر یک دم بولالیکن میری زندگی میں تو کچھ بھی مثبت نہیں ہے آپ کو لکیر لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ میں ابھی سارا صفحہ منفی باتوں سے بھر دیتا ہوں۔ ونسنٹ نے ایک بار پھر اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔ ’’تم صرف ان باتوں کا جواب دینا جو میں پوچھوں وینسنٹ نے پہلا سوال کیا۔آپ کی بیوی آپ کو چھوڑ کر کب گئی؟ وہ شخص یکدم تلملا کر بولا، یہ آپ سے کس نے کہا؟ میری بیوی مجھے کیوں چھوڑ کر جائے گی۔ وہ بہت اچھی ہے، میرے ساتھ ہے اور مجھ سے بہت محبت کرتی ہے۔
بہت خوب! یہ تو بہت اچھی بات ہے، اسے دائیں طرف لکھ لو۔ اس شخص نے یہ بات دائیں کالم میں لکھ لی تو وینسنٹ نے اگلا سوال کیا۔آپ کے بیٹوں کو جیل کب ہوئی؟یہ سن کر اس شخص کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔انہیں جیل کیوں ہو گی؟ میرے بیٹے انتہائی مہذب شہری ہیں، قانون کا احترام کرتے ہیں والدین کے فرمانبردار ہیں، اچھی ملازمت ہے ان کی، آسودہ حال ہیں اور میرے ساتھ ہی رہتے ہیں۔
یہ تو اور بھی اچھا ہے۔ یہ سب باتیں دائیں طرف لکھ لو۔ ونسنٹ نے مسکرا کر کہا۔ اس کے بعد ونسنٹ نے مزید کچھ چبھتے ہوئے سوال کیے اور ان کا مثبت جواب دائیں کالم میں لکھواتا رہا۔ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا۔ اس طرح کئی صفحات بھر گئے لیکن بایاں کالم بالکل خالی رہا۔ اتنے سوالوں کے بعد اس شخص کو سمجھ آ چکی تھی کہ قصور حالات کا نہیں، اس کی منفی سوچ کا ہے۔ اس سے پہلے کہ وینسنٹ کچھ کہتا، وہ شخص خود ہی مسکرا کر کہنے لگا۔ ’’آپ صحیح کہتے ہیں سوچ کا انداز اگر مثبت ہو تو ہر چیز بدلی بدلی اور بہترین نظر آتی ہے۔‘‘ مائینڈ سائنس کے مطابق پریشانی حالات سے نہیں بلکہ خیالات سے پیدا ہوتی ہے۔
مثبت طرز فکر ہے کیا؟:
اوپر دیا گیا واقعہ اپنے اندربڑی حکمت رکھتا ہے، مگر پہلا سوال تو یہ ہے کہ مثبت طرز فکر کس چڑیا کا نام ہے؟ ماہرین کے مطابق زندگی کے ناخوشگوار حالات و واقعات میں ہر صورت حالات سدھرنے اور بہترین کی توقع و امید رکھنا مثبت طرز فکر ہے۔ کامیابی اور مثبت سوچ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ مثبت طرز عمل کا آغاز خود کلامی سے ہوتا ہے۔ انسان اپنے آپ سے خاموش گفتگو کرتا ہے، مائنڈ سائنس میں اِس کو خود تلقینی(Self Suggestion)بھی کہتے ہیں۔جو لامتناہی سوچوں پر مبنی ہوتی ہے۔ سوچوں کی لہریں ہمارے دماغ میں سفر کر رہی ہوتی ہیں۔ یہ سوچیں منفی بھی ہو سکتی ہیں اور مثبت بھی، دلیل و منطق پر مبنی بھی ہو سکتی ہیں، غلط فہمیوں اور غلط تصورات پر مشتمل بھی ہو سکتی ہیں اور اچھے گمان و امید پر بھی۔
محققین نے مثبت سوچ کے نتائج پرتحقیق کی اور نتیجہ یہ نکالا کہ مثبت سوچ کے حامل افراد کی عمر طویل ہوتی ہے۔ وہ ڈپریشن میں بہت کم مبتلا ہوتے ہیں۔ باد مخالف کا جوانمردی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ ان کی جسمانی و نفسیاتی صحت دوسرے لوگوں کی نسبت بہتر ہوتی ہے۔ یونیورسٹی آف کمینٹ امریکہ کے ماہرین نے اپنی ریسرچ کے بعد یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان جس طرح اپنی زندگی کے معاملات کے بارے میں سوچتا ہے، اس کے سوچنے کا وہ انداز اس کے جسم کی قوت مدافعت پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر کوئی انسان اپنی زندگی کے معاملات کے بارے میں مثبت انداز میں سوچتا ہے تو یہ مثبت سوچ اس کے جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ اور صحت میں بہتری کا باعث بنتی ہے۔ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ مستقبل کے بارے میں اچھے اور مثبت انداز میں سوچنا حالیہ زندگی پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کرتے ہیں۔
زمانہ حال کی مصیبتوں کے بارے میں مثبت انداز میں سوچنے سے انسان فالج، ہارٹFailure اور دماغی سکتے وغیرہ سے محفوظ رہ سکتا ہے کیونکہ سامنے آنے والی مشکلات اور مستقبل کے بارے میں مثبت اور اچھے انداز میں سوچنے کا اثر دماغ کے سامنے والے درمیانی حصے پر ہوتا ہے جو کہ آنکھ کے پیچھے گہرائی میں واقع ہوتا ہے یہ حصہ متحرک ہو جاتا ہے۔ متحرک ہونے سے جسم کے مدافعتی نظام میں قوت پیدا ہوتی ہے اور مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ یوں انسانی پریشانیوں اور مشکلات سے فرار اختیار کرنے کے لیے سگریٹ نوشی یا دیگر قسم کی سرگرمیوں کی طرف مائل نہیں ہوتا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مثبت رویے کی تعمیر کیسے کی جائے۔ ماہرین نفسیات اس کے لیے بہت سے طریقے بتاتے ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔
1۔ دوسروں کے ساتھ اپنا موازنہ نہ کریں:
ہر انسان ایک مختلف گھریلو ماحول، معاشی و معاشرتی حالات، والدین، تعلیم، بہن بھائی اور دوست رکھتا ہے عمر، مواقع، قابلیت مزاج اور ذہنی صلاحیتیں بھی سب کی یکساں نہیں ہوتیں تو پھر موازنہ کرنا کہاں کی دانشمندی؟ یاد رکھیے موازنہ ہمیشہ صرف یکساں خصوصیات و حالات کی حامل اشیاء یا افراد میں ہی کیا جا سکتا ہے۔
اگر زندگی میں کبھی آپ کو خود میں خامیاں ہی خامیاں اور دوسروں میں خوبیاں خوبیاں نظر آنے لگیں تو خود کو خود ترسی کے اندھیروں کے حوالے کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیجیے گا کہ کیا آپ کے حالات اور صلاحیتیں سو فیصد اس شخص کی مانند ہیں جس کے ساتھ آپ اپنا موازنہ کر رہے ہیں۔ اگر جواب نفی میں آئے تو بغیر کسی مقابلے کے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جائیے۔ صرف اور صرف اپنی منزل پر نظر رکھیے تاکہ آپ کی راہ کھونہ جائے۔
2۔ ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے:
جب بھی ناکامیاں آپ کے حوصلوں کو پسپا کرنے لگیں خود کو سنبھالیں۔ اپنے کندھے پر ایک تھپکی دیں اور چپکے سے خود سے کہیں ’’تھوڑی سی کوشش اور… کامیابی انہیں کے قدم چومتی ہے جو راہ کی صعوبتوں سے تھک کر بیٹھ نہیں جاتے۔ حوصلہ شکنی سے سفر ادھورا نہیں چھوڑ دیتے بلکہ طے شدہ مقاصد کے حصول کے لیے کوشش اور ’’تھوڑی سی اور کوشش‘‘ کے فارمولے پر عمل کرتے ہیں۔
3۔اللہ پر بھروسہ:
جب بھی لفظ، لہجے، حالات مایوسی کی دلدل میں دھکیلنے لگیں۔ خواہ آپ کی مٹھی سے تعبیریں ریت کی طرح پھسل جائیں، زندگی کے صحرا میں کامیابی کسی انجان مسافر کی طرح بچھڑ جائے اور ناامیدی کی ریت اڑ اڑ کر باقی ماندہ خوش کن آرزوئوں کا خون کرنے لگے اور اللہ پربھروسے کی کشتی ڈگمگانے لگے تو ایسے میں ایک چھوٹی سی مشق صحرا کو نخلستان میں تبدیل کر دے گی۔ ڈگمگاتی کشتی سنبھل جائے گی۔ معروف صوفی سکالر سید سرفراز اے شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ زندگی میں جب بھی مایوس ہونے لگیں تو سوچیں کہ ماضی میں کتنی بار ایسا ہؤا کہ لگا ’’یہ کام نہیں ہو پائے گا‘‘ لیکن اللہ نے غیب سے مدد کی اور وہ کام ہو گیا۔ کتنی بار اللہ نے مشکل حالات سے نکال لیا۔ کتنی بار ناموافق حالات موافق ہو گئے اور جن خواہشات کے پورا نہ ہونے پر آپ بے چین رہتے تھے۔ آنے والے وقت نے بتایا کہ ان کا نہ پورا ہونا ہی بہتر تھا تب آپ نے دل کی گہرائیوں سے اللہ کا شکر ادا کیا۔ جب آپ ان سارے واقعات کو یاد کریں گے تو آپ کا اللہ پر بھروسہ مضبوط ہو جائے گا۔
4۔ اللہ والوں سے قریب ہو جائیں:
ایسے لوگوں سے قریب ہو جائیں جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آتا اور نیکی کا جذبہ دل میں پیدا ہوتا ہے۔ منفی سوچ مثبت میں بدلنے لگتی ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ اگر شبہ بھی ہو جائے کہ فلاں شخص اللہ کا مقرب ہے تو اس کے قریب ہو جائو کیونکہ ہم نشینی کا اثر بہر حال ہوتا ہے۔
5۔ حلقہ احباب وسیع کیجیے:
محبت دوسروں کی خوبیوں کو بے نقاب کرنے کا نام ہے۔ خوشبو صفت، مخلص اور اچھے دوست یہی کرتے ہیں، مخلص دوست سر محفل ہماری خوبیوں کو اجاگر کر کے ہمارے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق پر اعتماد لوگ کامیابی کی شاہراہ پر بہت تیزی سے سفر کرتے ہیں۔ اچھے دوستوں سے آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ تعلقات کا وسیع کینوس بعض اوقات کائنات کے حسن کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ انسانی نفسیات کا ادراک ہوتا ہے۔ رویوں کو سمجھنے اور مختلف مزاج کے لوگوں سے برتائو کرنا اور انہیں ہینڈل کرنا سکھاتا ہے۔ سچ تو یہ بھی ہے کہ جس قدر زیادہ لوگوں سے میل جول ہو گا۔ علم، تجربہ اور مشاہدہ بھی اسی قدر بڑھتا چلا جائے گا جو حتمی طور پر انسان کو بتائے گا کہ مثبت سوچ رکھنے والے خوشبو صفت لوگ ہی ہر دلعزیز ٹھہرتے ہیں۔
6۔ اپنانے یا مسترد کرنے سے پہلے اچھی طرح غور کریں:
جلد بازی میں بہت بار ہم سنہری مواقع ضائع کر دیتے ہیں اور غلط چیزوں کا انتخاب کر لیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جس چیز کو ہم رد کر رہے ہیں وہ مستقبل میں ہمارے لیے بہت سودمند ثابت ہو اور جس کو وقتی طور پر مفید سمجھ رہے ہیں وہ آنے والے وقت میں ضرر رساں اور زندگی کو اجیرن کر دینے والی ہو۔
سورہ بقرہ کی آیت نمبر 216 میں ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم یاد رکھیں۔
’’اور شاید کہ تم کو بری لگے ایک چیز اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں اور شاید تم کو بھلی لگے ایک چیز اور وہ بری ہو تمہارے حق میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘
اس لیے کسی بھی شے یا شخص کو اپنانے یا مسترد کرنے کا حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے دوبارہ، سہ بارہ سوچ لیں۔
7۔ شخصیت کو نکھاریں:
ظاہری شخصیت ہمارے اپنے ہی نہیں دوسروں کے ہمارے متعلق امپریشن اور رویے کو بھی تبدیل کر دیتی ہے۔ اگر آپ خوش لباس ہیں، آپ کا ہیئر سٹائل خوبصورت ہے، جوتے لباس کے مطابق اور صاف ستھرے ہیں تو آپ کی ظاہری شخصیت کی خوبصورتی آپ کے اندر کے حسن اور اعتماد میں اضافہ کا سبب بنے گی۔ سادہ اور باوقار شخصیت کا تاثر بہت دیرپا ہوتا ہے۔ آپ اپنی اندرونی شخصیت کو ظاہری شخصیت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مثبت سوچ اور طرز عمل اپنا سکتے ہیں کیونکہ اندر کا عکس ظاہر سے ضرور عیاں ہوتا ہے۔
8۔ گفتگو کریں:
کسی نے بجا کہا کبھی کبھی کہنے کو صرف اور صرف ہمارے پاس خاموشی ہوتی ہے لیکن شکیب جلالی نے کہا تھا۔
گفتگو کیجیے کہ یہ فطرتِ انساں ہے شکیب
جانے لگ جاتے ہیں جب بند مکاں ہوتا ہے
اگر کوئی شخص آپ کو بے جا تنقید کا نشانہ بناتا ہے یا ایسے رویے کا مظاہرہ کرتا ہے کہ منفی سوچوں کی مکڑی آپ کے ارد گرد جالابننے لگتی ہے تو آپ اس جالے میں مقید رہنے کی بجائے اسے مثبت سوچوں کی طاقت سے توڑ ڈالیے۔ بہت جرأت، اعتماد، نرمی اور ملائمت سے ناقد سے اس بارے گفتگو کریں اور اس کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ آپ کی بات سمجھ جائے تو ٹھیک ورنہ اپنے آپ کو سمجھائیے کہ ہر انسان کا زاویہ نگاہ اس کے ظرف کے مطابق ہوتا ہے اور ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ ٹھیک ہو۔ بلاوجہ خود کو منفی سوچوں کے حوالے کبھی مت کریں۔
9۔ دوسروں کی سوچوں کو خود پر غالب نہ آنے دیں:
کبھی کسی کو اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کو تضحیک کا نشانہ بنائے۔ کبھی منفی رد عمل کی وجہ سے اپنا موڈ خراب نہ کریں۔ دوسروں کی منفی آراء کو سر پر سوار کر کے کبھی اپنا مثبت طرز زندگی ترک نہ کریں۔
10۔ خود کو خوش رکھنے کی کوشش کریں:
ایسی مصروفیات اپنائیں جو آپ کو سچی خوشی دے سکیں۔ اصل خوشی وہی ہوتی ہے جو دوسروں کے لیے بھی کسی نہ کسی طور نقصان نہیں، فائدے کا باعث ہو۔
11۔ مسکرانا سیکھیں:
ایک تھکن سے بھرپور دن میں جب آپ کے اعصاب تنے ہوئے ہوں۔ خوفناک سنجیدگی چہرے سے ٹپک رہی ہو، ایسے میں اچانک ایک خوبصورت مسکراہٹ جھلتی دوپہر میں رم جھم کا سا سکون دیتی ہے۔ جو لوگ مسکرانا جانتے ہیں، وہ منفی سوچوں کو بھگانا بھی بہت خوب جانتے ہیں۔
12۔ مثبت سوچوں کی لائبریری بنائیں:
روزانہ 10 سے 15 منٹ ایسی باتیں سننے، پڑھنے، دیکھنے میں گزاریں جو رویے کو مثبت رکھنے کی تحریک پیدا کرتی ہیں۔ رابرٹ ایچ شلر، ڈیل کارینگی، سٹیفن کو وے یا کسی بھی ایسے مصنف یا ٹرینر کی کتاب پڑھیں جو آپ کی سوچ کی سمت کو مثبت رکھنے اور مایوسی سے بچنے میں آپ کی مدد کرے۔ کوئی ٹی وی پروگرام یا فلم دیکھیں، ریڈیو پر ان لوگوں کو سنیں جو مثبت گفتگو کرتے ہوں۔ جب آپ اپنے ذہن میں اچھی اور روشن سوچوں کی لائبریری قائم کر لیں گے تو آپ کی شخصیت سے جھانکتی یہ روشنی دلفریب اور سحر انگیز لگے گی۔
13۔ اشتعال انگیزی پھیلانے والوں سے اجتناب:
لوگ ہوں یا میڈیا۔ ایسے تمام محرکات سے دور ہو جائیں جو اشتعال کو ہوا دیتے اور منفی باتوں کے بیج بوتے ہیں۔
14۔ شاکی لوگوں کو نظر انداز کریں:
کچھ لوگ آپ کی کامرانیوں اور شادمانیوں پر آپ کو مبارکباد تو دیتے ہیں لیکن ان کا لہجہ کھوکھلا ہوتا ہے۔ وہ اندر سے آپ کی کامیابی کو قبول نہیں کر پا رہے ہوتے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اپنا بہت زیادہ بھی بہت کم اور دوسروں کا بہت تھوڑا بھی زیادہ لگتا ہے۔ وہ ہر وقت حالات اور قسمت سے شکوہ کناں رہتے ہیں اور یوں اپنا وقت، توانائی اور صلاحیتیں ضائع کرتے کرتے محرومیوں اور ناکامیوں کا تعویذ گلے میں لٹکائے پھرتے ہیں۔ یہ تعویذ انہیں دوسروں کی سبقت کو قبول کرنے سے روکتا ہے۔ ایسے لوگوں سے فاصلہ رکھیں کیونکہ صحبت بہرحال اپنا رنگ تو دکھاتی ہے۔
15۔ مثبت زخیرہ الفاظ کا استعمال:
ذرا سا بات کرنے کا سلیقہ سیکھ لو تم بھی
ادھر تم لب ہلاتے ہو ، ادھر دل ٹوٹ جاتا ہے
جی ہاں، گفتگو کا سلیقہ تو اہم ہے ہی لیکن لفظوں کا چنائو اس سے بھی زیادہ اہم۔ منفی الفاظ صورتحال کو سنگین اور حالات کو کشیدہ کر دیتے ہیں جبکہ خوبصورت الفاظ اور مثبت لہجہ کہتا ہے پریشان ہونے کی بات نہیں۔ نئے دروازے آپ کے لیے کھل چکے ہیں جہاں آپ اپنی صلاحیتیں زیادہ بہتر انداز میں منوا سکتے ہیں۔ منفی طرز گفتگو مایوسی پھیلاتے ہوئے کہتا ہے۔
’’تم میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ تم زندگی میں کچھ کر سکو۔ تم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ تمہارے لیے آگے بڑھنا ناممکن ہے۔‘‘ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنی ڈکشنری سے ناممکن ’’نہیں کر سکتا‘‘،’’کوئی فائدہ نہیں‘‘ جیسے الفاظ نکال دیں اور ’’ممکن‘‘ کیا جا سکتا‘‘ ہے ’’ضرور فائدہ ہو گا‘‘ جیسے الفاظ کو Bold کر لیجیے۔ منفی الفاظ آپ خود استعمال کریں یا کوئی اور آپ کے لیے استعمال کرے، یہ منفی رجحانات کو جنم دیتے ہیں۔ آگے بڑھنے کی راہیں مسدود کرتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آپ کسی بات پر شدید برہم ہوں تب بھی نرم الفاظ اختیار کرتے ہوئے کہیں ’’میں کچھ ناراض ہوں۔‘‘
16۔ اپنے احساسات کو قابو میں رکھیں:
بعض اوقات اپنی مرضی کے برعکس ردعمل دیکھ کر ہم آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ ہمارا منفی اظہار خیال جہاں دوسروں کو رنجیدہ کرتا ہے، وہاں خود ہمیں بھی جھنجھلاہٹ کا شکار کرتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ اپنے احساسات کے اظہار کو قابو میں رکھیں۔
17۔چند اصول
اپنی ڈائری آفس ٹیبل یا وائٹ بورڈ پر یہ چند اصول تحریر کر لیں:
٭ منفی سوچیں جب بھی ذہن پر دستک دیں گی ہم دروازہ نہیں کھولیںگے۔
٭ ہمیشہ ہر شے اور معاملہ کا روشن پہلو دیکھنا ہے کیونکہ سورج کی طرف منہ کرنے سے اندھے سائے پشت پر چلے جاتے ہیں۔
٭ رجائیت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہے کہ رحمت کے امیدواروں پر رحمت ضرور ہوتی ہے۔
٭ ایسے مواقع کی تلاش میں رہنا ہے کہ مسکراہٹ چہرے کا لازمی جز بن جائے۔
٭ حتی المقدور کوشش کر کے یقین رکھنا ہے کہ اللہ ضرور میری مدد فرما کر مجھے بہترین سے نوازے گا۔
٭ مثبت طرز فکر و زندگی کے حامل افراد کی صحبت میں روزانہ کچھ نہ کچھ وقت ضرور گزارتا ہے۔
٭ صرف ان لوگوں اور چیزوں کے بارے میں سوچنا ہے جو مسرت کا احساس دلاتی ہیں۔
٭ ناکامی اور خوف کو لفٹ نہیں کرانی۔
٭ مایوس، پست ہمت اور کمزور لوگوں کو سنبھالا دینا ہے اور یقین دلانا ہے کہ ہاں تم یہ کر سکتے ہو۔
ایک بہت بڑے ادارے کے ہر دلعزیز اور کامیاب منیجر کی کامیابی کا راز کھوجنے کی کوشش کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ اس کا مثبت رویہ دراصل اسے ایسی توانائی فراہم کرتا ہے کہ مشکل حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے اسے نئے نئے راستے سجھائی دینے لگتے ہیں۔ اس منیجر کے مثبت رویے کا آغاز نو حرفی لفظ سے ہوتا تھا۔ دفتر میں جب بھی کوئی اس سے پوچھتا ’’آپ کیسے ہیں؟‘‘ وہ مکمل توانائی اور بھرپور گرمجوشی سے جواب دیتا Excellent۔
ایک سوال نامہ
کیا آپ مثبت سوچ کے حامل ہیں؟ یہ اس سوالنامے کے ذریعے پرکھا جا سکتا ہے۔
1۔ کیا آپ مشکل حالات میں مسکراتے ہیں؟
2۔ کیا آپ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں، دوسروں کے گڑھے مردے نہیں اکھاڑتے؟
3۔ غیر متوقع صورتحال سے گھبرانے کی بجائے یکدم اسے چیلنج سمجھ کر اس سے لطف اندوز ہونے اور سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں؟
4۔ دوسروں کو کسی نہ کسی مثبت لفظ اور جملے کے ذریعے آگے بڑھنے کی تحریک دیتے رہتے ہیں؟
5۔ کیا انجان لوگوں کے ساتھ آپ کا مزاج دوستانہ ہوتا ہے؟
6۔ آپ گرتے ہی دوبارہ اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں؟
7۔ آپ کی ذات آپ کے گرد و پیش میں رہنے والوں کے لیے مینار ہ روشنی ہے؟
8۔ مشکل صورتحال میں بجائے گرجنے برسنے اور دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کے، آپ تحمل، خاموش اور مسکراہٹ کا سہارا لیتے ہیں۔
9۔ آپ رشتوں اور تعلقات کو مادی چیزوں پر ترجیح دیتے ہیں؟
10۔ ضروریات پوری نہ ہونے کے باوجود آپ خود کو خوش رکھنے کا کوئی طریقہ ڈھونڈ لیتے ہیں؟
11۔ شکست کھا کر بھی ناامید نہیں ہوتے؟
12۔ دوسروں کی جیت پر خوش ہوتے ہیں؟
13۔ موجودہ حالات مخدوش ہونے کے باوجود آپ ایک روشن اور بہتر مستقبل کے لیے پرامید و پریقین رہتے ہیں؟
14۔ اجنبی لوگوں کو بھی ان کے اچھے اخلاق و اطوار پر سراہتے ہیں؟
15۔ آپ کو دوسروں کو یہ بتا کر خوشی ہوتی ہے کہ آپ نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے؟
16۔ آپ کی صحبت میں لوگ خوشی، سکون اور توانائی محسوس کرتے ہیں؟
17۔ کہیں ناانصافی ہوتی دیکھیں تو محض شکوہ کرنے کی بجائے ناانصافی کے خاتمے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں؟
18۔ ناقدین کی وجہ سے اپنا مورال پست نہیں ہونے دیتے؟
19۔ بدلے کی توقع کے بغیر دوسروں کو فائدہ پہنچا کر خوش ہوتے ہیں؟
20۔ ہر وقت لڑائی جھگڑے کا سبب بننے والی منفی باتوں کو دہرانے کی بجائے انہیں ذہن سے محو کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟
21۔ دوسروں کی خامیوں کی بجائے خوبیوں پر نظر رکھتے ہیں؟
22۔ حتی المقدور دوسروں کا ذکر اچھے الفاظ میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں؟
23۔ مثبت واقعات، اقوال، سوچیں دوسروں کے ساتھ Share کرتے ہیں۔
24۔ کیا آپ دوسروں کو مصیبت یا پریشانی میں دیکھ کر چپکے چپکے ان کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں؟
25۔ اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ سچ بولتے ہیں؟
جتنے سوالوں کا جواب ہاں ’’میں ہے، اتنے ہی آپ مثبت ہیں۔ زندگی خوش ذائقہ اور گلے سڑے… دونوں طرح کے پھلوں سے بھری ایک ٹوکری ہے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ گلے سڑے پھلوں کا انتخاب کر کے صحت خراب کرتے ہیں یا خوش ذائقہ تازہ پھلوں سے لطف اور توانائی کشید کرتے ہیں؟
یاد رکھیے، مثبت رویہ ضروری نہیں، آپ کے تمام مسائل حل کر دئیے لیکن اگر آپ مسائل سے نکلنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد طریقہ مثبت سوچ، مثبت رویہ اور مثبت طرز عمل ہی ہے۔
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x