ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

خفتگانِ خاک -ککاّ جی – روحی امتیاز

ہم اپنے بچپن سے ہی انہیں دیکھتے آرہے تھے ۔ نکلتا ہؤا قد ، درمیانی جسامت ، گندمی رنگت ، بڑی بڑی آنکھیں ، ماتھا چوڑا ، گھنے بال۔ وہ اور ڈاکٹر معراج کا گھرانہ لازم و ملزوم تھے ۔ ادھر ہم بچوں کا بیماری سے چولی دامن کا ساتھ تھا چنانچہ اکثر ہی ڈاکٹر صاحب کے گھر جانا پڑ جاتا جن کا گھر دادی اماں کے گھر سے چند گھر چھوڑ کر تھا اور یہیں وہ شخصیت پائی جاتی تھی جسے ڈاکٹر ککا اور باقی سب ککا جی کہتے تھے۔
ککا جی ڈاکٹر صاحب کے گھر کی روح رواں تھے ۔ کھانا پکانا، صفائی، کپڑے دھو کر اوراستری کر کے سب کے کمروںمیں پہنچانا،پودوں کو پانی دینا ، غرض اندر باہر ہر طرف ککا جی ہی ککا جی نظر آتے تھے ۔ ککا جی اورڈاکٹر صاحب کا ساتھ کیسے ہؤا، یہ بھی ایک دلچسپ داستان ہے ۔
ڈاکٹر صاحب کا تعلق کوٹلہ سے ہے جوگجرات کے راستے بھمبر جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے ۔ ان کے والدین کے گھر ایک ہندو میاں بیوی کام کرتے تھے جن کی چھ سات بیٹیاں تھیں ۔ بیوی نے منت مانی کہ اگر بیٹا ہؤا تو اپنی ٹنڈ کرائوں گی۔ چنانچہ جب بیٹا پیدا ہؤا تو اس نے اپنی ٹنڈ کرالی۔ منت و مرادوں سے ملنے والا بیٹا کتنا لاڈلہ نہ ہوگا ۔ یہ ککا جی تھے جن کابچپن ڈاکٹر صاحب کے آنگن ہی میں کھیلتے کودتے گزرا۔
اس زمانے میں اکثر شرفا کے گھروںمیں دستور تھا کہ شام میں بچوں کو لے کر بیٹھتے اور کھیل ہی کھیل میں تعلیم ، تہذیب اورسلیقہ سکھاتے ۔ بیت بازی کے مقابلے ہوتے تعلیمی تاش کھیلے جاتے ۔ چھوٹی چھوٹی سورتیں اور کلمے یادکروائے جاتے ، بچے ایک دوسرے سے مقابلے میں بڑھ چڑھ کر یاد کرتے اور سناتے ۔ گرمیوںکی راتیں صحن میں بچھی چارپائیوں پر کودتے پھاندتے گزرتیں ۔ ککا جی بھی انہی بچوں کے ساتھ پل رہے تھے چنانچہ وہ بھی یہ سب کچھ سیکھ رہے تھے ۔ پہلے تو ان کے ماں باپ نے کچھ خیال نہ کیا مگر جب ککا جی نے نماز پڑھنے کے شوق کا اظہار کیا تو انہیں ہوش آیا اور ککا جی کو خوب مار پڑی مگر جو شمع ان کے دل میںروشن ہو چکی تھی ، اس کی لَو مدھم نہ ہوئی ۔ علی الاعلان اپنے گھر میں تو نماز پڑھ نہیں سکتے تھے ، اس لیے غسل خانے میں چھپ کر پڑھنے لگے ۔
کم عمری میں ہی گھر والوں نے شادی کردی مگر وہ نبھی نہیں ۔ انہی دنوں پاکستان بن گیا ۔ ککا جی کے والدین نے بڑا زور لگایا کہ ککا جی ان کے ساتھ انڈیا چلیں ۔ بہت روئے تڑپے مگر ککا جی کا اٹل فیصلہ تھا کہ انہیں پاکستان ہی میںرہنا ہے ۔ آخر ان کے والدین انہیں چھوڑ کرچلے گئے اور ککا جی باقاعدہ پاکستانی مسلمان بن گئے پھر وہ ساری عمر ڈاکٹر صاحب کے گھرانے کے ساتھ ہی رہے ۔دونوںفریقوں نے بڑی وضع داری سے یہ ساتھ نبھایا۔
1970ء کا زمانہ تھا جب ڈاکٹر معراج گوجرانوالہ ماڈل ٹائون میں دادی اماں جنہیں ہم بڑی امی کہتے تھے ، کے محلے میں آن بسے ۔ ڈاکٹر صاحب بڑے متین مگر خوش مزاج تھے ۔ ہمیشہ ہنس کربات کرتے ۔ ہمارے والد قطر میں ہوتے تھے ۔ ننھیال بحرین میں تھا ۔ میں بحرین میںپیدا ہوئی ۔ وہاں سے امی قطرآئیں اور اگلے ہی دن انہیںپاکستان آنا تھا ۔ ہم جب دادی اماں کے گھر پہنچے تو میرا پیٹ سخت خراب تھا ۔ دادی اماں فوراً مجھے لے کر ڈاکٹر معراج کے پاس پہنچیں اورپریشانی سے کہا : ’’اے تے ٹھیک ای نئی ہو رئی اے ‘‘۔ ڈاکٹر صاحب بولے :’’ خیر اے ۔ کشمیریاںدی کڑی اے ، نئی مردی ‘‘۔ یہ جملہ خاندان میں اب تک مزے لے لے کردہرایا جاتا ہے ۔
ڈاکٹر صاحب کے گھرانے سے دادی اماںکے خاندانی مراسم استوار ہو چکے تھے ۔ ککا جی اکثر ان کے پاس آتے اور کافی دیر دیر تک بیٹھ کر باتیں کرتے ۔ ایک دن بڑی امی ( دادی اماں) نے ان سے پوچھا کہ برآمدے میںکیوں سوتے ہو؟(ڈاکٹر صاحب کی پورچ کے ساتھ ایک برآمدہ تھا جس کے گرد گرل لگا کر اُسے کمرے کی شکل دے دی گئی تھی ۔ ککا جی وہیںرہتے تھے )۔ کہنے لگے کہ ایک دفعہ اماں جی ( ڈاکٹر معراج کی والدہ ) نے کہا تھا کہ ککا کواندر سو لینے دو مگر گھر میں سے کسی نے کہا کہ باہر ہی رہنے دیں ۔ بس پھر ڈاکٹر صاحب نے کئی گھر بدلے مگر ککا جی نے کہا کہ میںباہر ہی سویا کروںگا ۔
81ء میں امی ہم بچوں کو لے کر پاکستان آگئیں ۔ ابو بعد میں 86ء میں آئے ۔ باہر گلی میں سبزی والا آتا تو امی اس سے سبزی لیاکرتیںمگر گوشت کے لیے ککا جی کا کہنا تھا کہ تم نہ جانا گوشت کی دکان پر میںخود لے کر آئوںگا ۔ پھر اس بات کی اتنی فکر ہوتی کہ وقتاً فوقتاً گھر کا چکر لگاتے کہ مجھے فکر تھی کہ گوشت ختم تونہیںہوگیا۔میں نے کہا جا کر پوچھ آئوں ۔ گوشت لے آئوں۔ایک دن آئے تو کہنے لگے ’’ پروین ، میں توڈاکٹر صاحب کی بیٹی کی شادی پر گیا ہؤا تھا پر مجھے فکر لگی ہوئی تھی کہ نئے آم آگئے ہیں ۔تمہارے گھر اچار بھی ڈالنے والا ہے ‘‘۔
پان کھانے کے شوقین تھے ۔ ابو نے قطر سے آنا ہوتا تو امی سے کہتے کہ امتیاز سے کہنا میرے لیے انڈیا کے پان کے پتے لے کر آئے۔ہمارے ابو ٹھہرے کٹر پاکستانی ۔وہ کبھی انڈیا کی کوئی چیزنہیں خریدتے تھے مگر ککا جی کے لیے پان ہمیشہ لے کر آتے۔
ککا جی بڑے صاف ستھرے رہتے ۔بالوںکوہمیشہ خضاب لگاتے ۔میرے چچا کی شادی تھی ان کے بال کافی زیادہ سفید تھے ۔شادی سے ایک دن پہلے ککا جی آگئے بولے :’’ تم نے ابھی تک کیوں نہیں بالوںکوکالا کیا ؟‘‘چچا نے کہا :’’ککا جی ، لڑکی والے ایسے ہی پسند کر کے گئے ہیں۔رہنے دیں ‘‘۔ بولے :’’ نہیں ، چلو میںخود تمہارے بال ٹھیک کرتا ہوں‘‘۔
ڈاکٹر صاحب کی کسی بہن کے گھر شادی رچی ہو، ککا جی پندرہ دن پہلے سے پہنچ جاتے ۔ ساری تیاریاں کرواتے ۔ دیگوںکے پاس خود بیٹھتے۔ اپنی نگرانی میںکھانا بھجواتے ۔ بعدمیںبچا ہؤا کھانا اورمصالحے وغیرہ ذمہ داری سے سمیٹتے اور گھر پہنچاتے ۔
ڈاکٹر معراج تین بھائی تھے ۔بڑے بھائی سراج کا جوانی میں ہی انتقال ہو گیا تھا ۔ سب سے چھوٹے بھائی ڈاکٹر وہاج امریکہ ہوتے تھے ۔ جب سراج صاحب کے بچوںکی شادیاں ہوئیں تو ڈاکٹرمعراج نے باپ بن کر ان کے سروں پر ہاتھ رکھا ۔ پھر جب ان کے اپنے بیٹے کی شادی بڑے بھائی کی بیٹی سے ٹھہری تو ککا جی نے ڈاکٹروہاج کو خط لکھا :’’ کل جب سراج کی بیٹیوںکی شادی ہوئی تھی تومعراج جا کر ان کے سر پر ہاتھ رکھتا تھا ۔ آج اس نے بیٹے کی بارات لے کر جانی ہے اور سراج کی بیٹی کوبیاہ کر لانا ہے تو تم آئو اور سراج کی بیٹی کے سر پرہاتھ رکھو ‘‘۔ ان کی بات کا مان رکھ کر ڈاکٹر وہاج امریکہ سے آئے اور بڑے بھائی کی بیٹی کے سرپر وقت رخصتی ہاتھ رکھ کر اُسے وداع کیا۔
ہمارے گھر جب شادیوںکا سلسلہ شروع ہؤا اوربڑی بہن کی تاریخ رکھی گئی تو ککا جی کو فکر لگ گئی ۔ امی سے پوچھا:’’ کپڑے تیار ہو گئے ہیں؟ میںآکر ٹانک دوں ؟‘‘ امی نے تعجب کا اظہار کیا کہ ٹانکنے ہیں؟ امی کیوں کہ باہر ہوتی تھیں ، جب بہن بھائیوں کی شادی ہوتی توبس عین وقت پر آکر شریک ہو جاتیں ۔جہیز ،بری کیسے تیار کیے جاتے ہیں،انہیں نہیں پتا تھا ۔ امی کی بات سن کر ککا جی ناراض ہوگئے ۔بولے :’’ کپڑے ایسے ہی نہیںرکھتے ، ان کو ٹانکتے ہیں ‘‘۔ پھرانہوں نے بڑے اہتمام سے زمین پر چادربچھائی ۔ باری باری سارے جوڑے استری کر کے کسی کا دوپٹہ تتلی کی طرح ٹانکا ۔ کسی کا کسی اور طرز میں ۔غرض نہایت نفاست سے سارے جوڑے سجا بنا کر رکھے ۔ چھوٹی بہن کی منگنی تک ہم کینٹ کے علاقے میںچلے گئے تھے مگر ککا جی وہاں بھی آجاتے تھے ۔
ڈاکٹر صاحب کے گھر کا ہر کام ککا جی کے سپردتھا تاہم جب عمر زیادہ ہو گئی اور ٹانگ میںدرد رہنے لگا تو صفائی اور کپڑے دھونے والی رکھ لی گئی جو ککا جی کی زیر نگرانی کام کرتی۔ کھانا ککا جی ہی بناتے ۔ اُلٹے توے پر ایسے زبردست باریک پھلکے بناتے کہ دیکھ کرہی بھوک چمک جائے ۔
کام کے ساتھ ساتھ ککا جی وقت پر نمازیںادا کرتے ۔ قرآن بہت پڑھا کرتے ہماری آنکھوںنے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ کبھی بیمار ہوئے اور ڈاکٹر صاحب کے گھر گئے توپورچ کے ساتھ پڑے ہوئے سیمنٹ کے بنچوں پر جو ڈاکٹر صاحب نے اس غرض سے رکھوائے تھے کہ گھر آنے والے مریض انتظار میں بیٹھ سکیں ، ڈاکٹر صاحب اور ککا جی بیٹھے ہیں۔ دونوں کے ہاتھ میںایک ایک اردو ڈائجسٹ ہے اور وہ پڑھ رہے ہیں۔
ککا جی تقریباً اسی سال جیے ۔آخری عمر میںآکر کمزور ہو گئے تھے۔ مشکل سے ایک ہفتہ بیمار رہ کر فوت ہو گئے ۔ انہوںنے اپنی قبر کے لیے کوٹلہ میں ڈاکٹر صاحب کے آبائی قبرستان میں جگہ خریدی ہوئی تھی ، وہیںدفن ہوئے ۔
ان سے بڑی یادیں وابستہ ہیں ۔ ان کی وفات کے وقت امی اور ابو عمرہ کرنے گئے ہوتے تھے ۔ وہیں انہیں خبر ملی ۔ انہوں نے حرم میںککا جی کے لیے بہت دعائیں کیں ۔ ککا جی نے اسلام کی خاطر اپنے خون کے رشتوںسے منہ موڑا ۔ نماز اور قرآن سے تعلق جوڑا تواللہ نے ان کو کیسی قدر افزائی فرمائی کہ بہ ظاہر ایک معمولی گھریلو ملازم ہونے کے باوجود ان کا نام اللہ کے گھر میں لیا گیا ۔ ان کے لیے مغفرت کی دعائیں حرم کی فضائوں میںگونجیں ۔ ساری عمر وہ جس اخلاص ، فکرمندی اور درد مندی کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کے خاندان سے جڑے رہے ۔
ایسے لوگ اب کہاں! اللہ انہیں غریق ِ رحمت کرے آمین۔
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x