ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

خطہ جموں وکشمیر کل اور آج – بتول فروری ۲۰۲۲

جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے کشمیر بیچا

ہندو ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ کشمیر بیچنے سے لے کر آج کے کشمیر تک کی یہ داستان اس جنت نظیر خطے پر ٹوٹنے والے مظالم کا نقشہ کھینچ رہی ہے۔ وضاحت کے لیےکہیں کہیں واوین میں ضروری اضافے کیے گئے ہیں۔ مدیرہ

یہ کہانی سنہ 1846 کی ’امرتسر سیل ڈِیڈ‘ کے تحت کشمیر کی ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کو فروخت، ان کے مظالم اور پھر جموں اور کشمیر کی شاہی ریاست کے قیام کی ہے!
کشمیر کن شرائط پر بکا اور اس کےکشمیریوں پر کیا اثرات پڑے، یہ سب سمجھنے کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ کشمیر کی تاریخ حملہ آوروں سے بھری ہوئی ہے۔ انڈیا کی طرف جانے والے حملہ آور بھی کشمیر کے راستے ہی ہندوستان پہنچتے تھے، جن میں تین سو چھبیس قبل مسیح میں میسیڈونیا سے آنے والے سکندر اور سائیتھئینز جیسے کچھ وسطی ایشیائی قبیلے بھی شامل تھے۔
کشمیریوں نے کئی صدیاں پانڈو، موریا، کوشان، گوناندیا، کرکوٹا، اتپالا اور لوہارا جیسے بیرونی حکمرانوں کے تحت گزاریں۔ کشمیر کی تاریخ کو عام طور پر چار ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے: ہندو راجاؤں کا قدیم دور، جس کی تفصیل کلہن پنڈت کی لکھی ہوئی قدیم کتاب ’راجترنگنی‘ میں ملتی ہے، کشمیری مسلمانوں کا دور، جنھیں سلاطین کشمیر کہا جاتا ہے، مغل دور جسے شاہان مغلیہ کہا جاتا ہے اور پٹھانوں کا دور جسے شاہان درانی کہا جاتا ہے۔
ان میں سے تمام غیر کشمیری ادوار میں جو بات مشترک تھی وہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم اور ان کا استحصال ہے، جو کہ تاریخ کی کئی کتابوں میں درج ہے۔ان مظالم اور استحصال کے باوجود آٹھویں سے چودہویں صدی تک کشمیر کسی نہ کسی حد تک خود مختار اور خوشحال تھا۔ چودھویں صدی میں اسلام کشمیر پہنچا اور آبادی کا ایک بڑا حصہ مسلمان ہو گیا۔
مغلیہ سلطنت نے 1586 سے 1751 تک کشمیر پر حکومت کی۔ 1752-54 کے دوران افغانستان کے احمد شاہ ابدالی نے مغلوں سے کشمیر کو حاصل کر کے کشمیر پر جابرانہ تسلط قائم کیا۔ کشمیر میں افغان درانی دور 1819 تک چلا جب پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی قیادت میں سکھوں نے شوپیاں کی جنگ میں افغان گورنر جبار خان کو شکست دی۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ کا دور
سنہ 1822 میں رنجیت سنگھ نے گلاب سنگھ کو، جس کا تعلق ہندو ڈوگرا برادری سے تھا، اس کی خدمات کے عوض جموں کا راجہ بنا دیا۔ گلاب سنگھ نے اس میں راجوری، پونچھ، بدرواہ اور کشتوار کا اضافہ کیا۔سنہ 1839 میں رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد گلاب سنگھ کا مقام مزید نمایاں ہو گیا۔ سنہ 1845 میں برطانیہ نے یہ کہہ کر سکھوں کے ساتھ جنگ چھیڑ دی کہ مہاراجہ وقت نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ساتھ 1809 میں طے پانے والے معاہدہ امرتسر کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے ذریعے سکھ سلطنت کی مشرقی سرحدیں طے ہوئی تھیں۔

سکھ مہاراجہ جنگ ہار گیا اور نو مارچ 1846 کے معاہدہ لاہور کے تحت طے ہونے والا جرمانہ ادا نہیں کر سکا، جس کے بعد اسے کشمیر سمیت دیگر زمینیں بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام کرنا پڑیں۔
ایسٹ انڈیا کمپنی نے کشمیر بیچ دیا
ان کی کامیابی یقینی بنانے میں کردار ادا کرنے کے لیے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے جموں کے راجہ گلاب سنگھ کو مہاراجہ بنا دیا اور 1846 کے معاہدہ امرتسر کے تحت تقریباًپچھتر لاکھ روپے (لگ بھگ ایک لاکھ پاؤنڈ) میں انھیں کشمیر بیچ دیا۔
اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر جنرل سر ہنری ہارڈنج نے دو مارچ 1846 میں اپنی بہن کو لکھے ایک خط میں گلاب سنگھ کو ’ایشیا کا سب سے بڑا بدمعاش‘ کہہ کر متعارف کرایا۔ گلاب سنگھ کو مہاراجہ بنانے کی وجہ انھوں نے چٹھی میں یوں بیان کی: ’بدقسمتی سےان کی مدد کرنا لازمی ہے کیونکہ انھوں نے ہمارے خلاف جنگ میں حصہ نہیں لیا اور ان کی سرحدیں ہماری سرحدوں سے ملتی ہیں، ہم بغیر کسی مشکل ان کی حفاظت کر سکتے ہیں اور سکھوں کی سلطنت میں سے انھیں ایک ٹکڑا دے کر سکھوں کے مقابلے میں ان کی طاقت کو تھوڑا بڑھا سکتے ہیں۔‘
ایک ’غدار کو نوازنے‘ کے اس فیصلے پر چارلز نیپئیر اور لارڈ ایلنبراہ نے تنقید کی۔
1846 کا معاہدہ امرتسر کیا ہے؟
1846 کے معاہدہ امرتسر پر، جسے عام زبان میں ’سیل ڈیڈ‘ بھی کہا جاتا ہے، 16 مارچ 1846 کو دستخط کیے گئے۔ جموں کے مہاراجہ گلاب سنگھ اور برطانیہ کی طرف سے دو ارکان، فریڈرک کیوری اور بریور میجر ہنری مونٹگومری لارنس شامل تھے اور اس پر ہنری ہارڈنج کی مہر لگائی گئی۔
معاہدے کے تحت مہاراجہ اور ان کے وارثوں کی فوجیں ’پہاڑوں کے اندر‘ یا اس سے متصل علاقوں میں ضرورت پڑنے پر برطانوی فوجیوں کا ساتھ دینے کی پابند ہوں گی۔ایک شق یہ بھی تھی کہ مہاراجہ برطانوی حکومت کی رضامندی کے بغیر کسی بھی برطانوی، یورپی یا امریکی شخص کو اپنی خدمت میں نہیں رکھیں گے۔
ایک گھوڑا، بارہ بکرے اور پشمینہ شالوں کے تین جوڑے
برطانوی حکومت نے عہد کیا کہ وہ ’ان کے دشمنوں سے ان کے علاقوں کی حفاظت کرنے میں‘ مہاراجہ گلاب سنگھ کی مدد کریں گے۔ برطانوی برتری کا اعتراف کرتے ہوئے مہاراجہ گلاب سنگھ نے ہر سال برطانوی حکومت کو ’ایک گھوڑا، منظور شدہ شال بنانے والی نسل کے بارہ بکرے (چھ نر اور چھ مادہ) اور پشمینہ شالوں کے تین جوڑے‘ دینے کا عہد کیا۔
سنہ 1846 کا معاہدہ امرتسر ہندوستان کی دیگر خود مختار شاہی ریاستوں یا رجواڑوں کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں سے بہت مختلف تھا کیونکہ اس میں ایک برطانوی ریذیڈنٹ کی تعیناتی کے بارے میں کوئی شق نہیں تھی۔یہ معاہدہ کشمیر میں ڈوگرا حکومت مضبوط کرنے کی طرف پہلا قدم تھا۔ اس طرح جموں کشمیر کی نئی ریاست برطانوی سامراج کے ہندوستان میں ایک خود مختار شاہی ریاست کے طور پر شامل ہو گئی۔
سیاسی انتظامیہ کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ تھا کہ انڈیا کا وائس رائے کشمیر کا حاکم نہیں تھا۔ تمام داخلی امور مہاراجہ کے ماتحت تھے اور برطانوی تاج کا ایک سیاسی یا ’پولیٹیکل ایجنٹ‘ تمام دفاعی اور خارجہ امور کی نگرانی کرتا تھا۔ چونکہ برطانوی حکومت کو ’پیراماؤنٹ اتھارٹی‘ کا درجہ حاصل تھا۔سنہ 1857 کی بغاوت کے بعد، جسے ہندوستان کی آزادی کی پہلی جنگ بھی کہا جاتا ہے، برطانیہ نے کچھ دیگر حقوق بھی ان ریاستوں کو

سیاسی انتظامیہ کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ تھا کہ انڈیا کا وائس رائے کشمیر کا حاکم نہیں تھا۔ تمام داخلی امور مہاراجہ کے ماتحت تھے اور برطانوی تاج کا ایک سیاسی یا ’پولیٹیکل ایجنٹ‘ تمام دفاعی اور خارجہ امور کی نگرانی کرتا تھا۔ چونکہ برطانوی حکومت کو ’پیراماؤنٹ اتھارٹی‘ کا درجہ حاصل تھا۔سنہ 1857 کی بغاوت کے بعد، جسے ہندوستان کی آزادی کی پہلی جنگ بھی کہا جاتا ہے، برطانیہ نے کچھ دیگر حقوق بھی ان ریاستوں کو منتقل کر دیے۔ ایسا تب ہؤا جب برطانیہ کی ملکہ وکٹوریا نے 1858 میں ایک اعلامیے میں کہا کہ ’ہم مزید علاقوں پر قبضے کے خواہش مند نہیں ہیں۔‘
اس کے بعد 1928 میں ’میمورینڈم آف پرنسلی سٹیٹس پیپل‘ کی تصدیق ہوئی، جس کے تحت برطانیہ کو اقتدار کے غلط استعمال کی صورت میں ان ریاستوں کے داخلی امور میں دخل اندازی کی حق حاصل ہؤا۔برطانیہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ گلاب سنگھ چین کے علاقوں پر دوبارہ حملہ کرنے کی کوشش کرے کیونکہ ایسا کرنے سے برطانوی اقتصادی مقاصد خاص طور پر تبتی اون کی تجارت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا، اسی لیے معاہدہ امرتسر میں واضح طور پر یہ لکھا گیا کہ برطانوی رضامندی کے بغیر سرحدوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔
ہندوستان اور چین کی سرحد کا تعین
اسی دوران برطانیہ نے مغرب میں چین اور ہندوستان کے درمیان سرحد طے کرنے کی کوشش بھی کی تاہم چنگ حکومت نے ان کی درخواست رد کر دی۔ چین کے علاقےاکسائی چین کے ساتھ تقسیم کی لکیر کو برطانیہ نے یکطرفہ طور پر خود سے نافذ کیا اور اس کی حیثیت اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اسی وجہ سے چین اسے تسلیم نہیں کرتا۔یہاں تک کہ سنہ 1959 میں اس وقت کے انڈین وزیراعظم جواہر لعل نہرو ے نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ اکسائی چن میں سرحدوں کا تعین نہیں کیا گیا تاہم انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ اکسائی چن کا تمام علاقہ انڈیا کی حدود میں آتا ہے۔‘لیکن سنہ 1962 سے اکسائی چن پر چین کا کنٹرول ہے۔
ڈوگرا سلطنت کا قیام
ڈوگرا سلطنت نے جموں کشمیر کی شاہی ریاست کی سرحدوں کو مضبوط کیا۔ گلاب سنگھ کی فوج کے جنرل زورآور سنگھ نے مشرق کے ہمسایہ علاقوں لداخ اور بلتستان پر حملہ کرکے انھیں اپنی ریاست میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد معاہدہ امرتسر کے ذریعے گلاب سنگھ نے 1846 میں کشمیر کو حاصل کر لیا۔ اس کے علاوہ پونچھ کا علاقہ بھی گلاب سنگھ کے زیر انتظام تھا۔پونچھ دراصل گلاب سنگھ کے چھوٹے بھائی دھیان سنگھ کو مہاراجہ رنجیت سنگھ سے بطور جاگیر عطا ہؤا تھا۔ یہ تمام علاقے جموں کشمیر کی شاہی ریاست کا حصہ بن گئے۔
پونچھ ایک مسلم اکثریتی علاقہ تھا اور وہاں کے رہائشیوں اور ڈوگرا حکام کے درمیان 1830 کی دہائی میں کئی جھڑپیں ہوئیں۔ تاہم گلاب سنگھ نے طاقت کا استعمال کرکے ان ابتدائی ’بغاوتوں‘ کو کچل دیا۔ سنہ 1843 میں دھیان سنگھ کی وفات کے بعد گلاب سنگھ پونچھ، بھمبر اور میرپور کو اپنی ملکیت سمجھنے لگا تاہم کبھی بھی ان علاقوں کو (یہاں کے مسلم باشندوں کی مرضی کے خلاف) کنٹرول نہیں کر پایا۔
معاہدہ امرتسر کے تحت کشمیر کے ساتھ ساتھ گلگت ایجنسی کو بھی بیچا گیا تھا تاہم ڈوگرا سلطنت کبھی بھی اس پر مؤثر حکمرانی قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ سنہ 1852میں ایک قبائلی بغاوت کے بعد وہاں ڈوگرا حکمرانی پوری طرح ختم ہو گئی۔ تاہم 1860 میں مہاراجہ رنبیر سنگھ (گلاب سنگھ کے بیٹے) نے گلگت پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ پھر سنہ 1936 میں مہاراجہ ہری سنگھ نے پونچھ پر بھی باقاعدہ قبضہ کر لیا اور ایسے جموں کشمیر کی شاہی ریاست کا سیاسی نقشہ مکمل ہؤا۔
زمینوں پر قبضے اور سرحدوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ڈوگرا حکمرانوں نے قانون سازی کر کے سنہ 1939 کے جموں کشمیر آئین ایکٹ کا نقشہ بنا کر، اپنی فوج قائم کر کے اور کئی معاہدوں کے ذریعے بھی اپنی طاقت کو مضبوط کیا۔
ڈوگرا سلطنت کا جابرانہ نظام اور کشمیر کی کاشتکاری پر مبنی معیشت
گلاب سنگھ اور اس کی ڈوگرا سلطنت نے سو سے زیادہ برس کشمیر پر حکومت کی۔ یہ ایک بادشاہت پر مبنی مطلق العنان نظام تھا جس میں لوگوں پر بہت ظلم ہوئے۔ معاہدہ امرتسر پر اس وقت بھی سخت تنقید ہوئی۔ اس وجہ سے بھی کہ وہ پچھتر لاکھ جس کے ’عوض‘ کشمیر گلاب سنگھ کو ملا، اس کی وصولی کے لیے عام کشمیریوں پر بہت بھاری ٹیکس لگایا گیا۔ خود برطانیہ میں اس پر تنقید ہوئی اور یہ کہا گیا کہ کشمیریوں کو بیچ کر مہاراجہ کا غلام بنا دیا گیا ہے۔

رابرٹ تھورپ نے، جو کہ ہندوستان میں برطانوی فوج کے ایک افسر تھے، لکھا کہ یہ اتنی بڑی ناانصافی ہے کہ اس سےجدید تہذیب کی روح کی نفی ہوتی ہے اور اس مذہب کے ہر اصول کے بالکل الٹ ہے جس کے پیروکار ہونے کا ہم دعویٰ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ایلمسلی ایک مشنری ڈاکٹر تھے اور ان کا تعلق سکاٹ لینڈ سے تھا۔ انھوں نے کشمیر میں بہت وقت گزارا۔ انھوں نے لکھا کہ’ ’لوگوں کا شرمناک استحصال ہم انگریزوں کے لیے شرمناک ہے کیونکہ ہم نے اس ملک کو اس کے موجودہ ظالم حکمرانوں کو بیچ دیا، ہزاروں جیتے جاگتے انسانوں کے ساتھ، جنھیں ہم نے دائمی غلام بنا دیا‘‘۔
جب گلاب سنگھ نے کشمیر کا کنٹرول سنبھالا تو اس وقت تقریباً پچھتر فیصد آبادی کا انحصار کاشت کاری پر تھا اور یہی ریاست کی آمدنی کا مرکزی ذریعہ بھی تھا۔ گلاب سنگھ نے خود کو کشمیر کی تمام زمینوں کا مالک بنا دیا۔
گلاب سنگھ نے سکھوں کے دور کے نظام کو جاری رکھا اور خود کو کشمیر کی تمام زمینوں کا مالک قرار دیا کیونکہ وہ معاہدہ امرتسر کے ذریعہ کشمیر کو خرید چکا تھا۔ کسانوں سے ان کی زمینوں کی وہ ملکیت تک چھین لی گئی جو افغانون اور سکھوں کے دور سے ان کے پاس تھی۔ یعنی اب کسان مالک نہیں کرایہ دار تھا اور زمین پر کام کرنے کے لیے اسے ٹیکس دینا پڑتا تھا جسے ’حق مالکان‘ کہا جاتا تھا۔ مگر کسی وجہ سے ’حق مالکان‘ کی ادائیگی نہیں ہو پاتی تو کسان کو زمین سے خارج کر دیا جاتا تھا۔
یہ بات واضح ہے کہ 1846 کے بعد ڈوگرا دور میں کئی ایسی پالیسیاں اور کام متعارف کرائے گئے جن سے کشمیری عوام اور خاص طور پر مسلمان کاشتکاروں کو بہت نقصان پہنچا۔
کشمیر اور بیگار کا نظام
ظالمانہ ٹیکس نظام کے ساتھ ساتھ ڈوگرا حکمرانوں کے دور میں بیگار یعنی بنا معاوضے کے جبری مزدوری، ایک بدنام زمانہ پالیسی تھی۔ حالانکہ کشمیر میں بیگار19 ویں صدی کی دین نہیں تھی تاہم اسے جس طرح انتظامی اور اقتصادی ڈھانچے کا حصہ بنایا گیا وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہؤا تھا۔اس سب کے باوجود یہ بھی سچ ہے کہ اس دوران کاشت کاری کے شعبے میں کچھ اصلاحات بھی کی گئیں۔ سنہ 1902 میں محکمہ زراعت کا قیام کیا گیا اور پھر 1919-20 کے دوران حکومت نے زرعی ترقیاتی بورڈ کی تشکیل کی۔
سنہ 1920 میں ہر طرح کے بیگار کے نظام کو ختم کر دیا گیا جس سے ان کسانوں کو کچھ راحت ملی جو اکثر کھیتوں میں کام کرنے کے بجائے دور افتادہ علاقوں اور دشوار گزار پہاڑوں پر سامان پہنچانے کے لیے زبردستی بھیج دیے جاتے تھے۔
سنہ 1930 میں جاگیرداروں کو اجناس میں ٹیکس دینے کے نظام اور اس کی وجہ سے ہونے والے استحصال کے خلاف کاشت کاروں کا احتجاج شروع ہؤا۔حکومت نے مسئلے کے حل کے لیے ایک ’جاگیردار کمیٹی‘ بنائی، تاہم اس کے تمام ارکان خود جاگیردار تھے۔کمیٹی نے جاگیر میں کرایہ داروں کے حقوق اور جاگیرداروں کے حقوق اور فرائض وضع کیے۔

کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی کہ محصولات کو اجناس کی جگہ نقد کی شکل میں وصول کیا جائے اور اس کی وجہ سے جاگیرداروں کو ہونے والے ممکنہ نقصان کا ازالہ انھیں نئی جاگیریں دے کر کیا جائے۔
ان سفارشات کو حکومت نے تسلیم کر لیا تاہم زرعی شعبے میں اس تبدیلی کا غلط فائدہ اٹھایا گیا جس کی وجہ سے کاشت کاروں کا فائدہ ہونے کے بجائے ان کے حالات مزید بگڑ گئے۔ جاگیرداروں نے اکثر نقصان دکھا کر نئی جاگیریں حاصل کر لیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے حکومت مخالف جذبات نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔
13جولائی یوم شہدا کیسے بن گیا؟
13جولائی 1931 کو سرینگر کی سینٹرل جیل کے باہر لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ جمع تھی۔ عبدالقدیر نامی ایک شخص پر حکومت مخالف تقریر کرنے کا الزام تھا اور اس کیس کا اس دن فیصلہ آنے والا تھا۔ لوگ جیل کے باہر فیصلے کا انتظار کر رہے تھے، جب گورنر نے سب کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر دیے اور وہاں تعینات پولیس نے ان پر گولی چلا دی۔ اس دن وہاں بیس کشمیری موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جس کے بعد لوگوں میں بے چینی اور غصہ مزید بڑھ گیا۔تب سے 13 جولائی کو کشمیر میں یوم شہدا کے طور پر منایا جاتا ہے، ایک ایسا دن جب عام کشمیریوں نے اپنے حقوق اور عزت نفس کے لیے جانیں دیں۔
اس وقت کی حکومت کا مؤقف تھا کہ مظاہرین کا اصل اور خفیہ مقصد حکومت کا تختہ الٹنا تھا اور اس کے بعد موجودہ پابندیوں کو سخت کرتے ہوئے سیکشن 144 بھی نافذ کر دیا گیا جس کے تحت پورے کشمیر میں میٹنگوں، مظاہروں اور جلوسوں پر پابندی لگا دی گئی۔ساتھ ہی کشمیر دربار نے اپنے ایک بیان میں پولیس کی فائرنگ کو جائز قرار دیا جس سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ حکومت کشمیر کے اس رویے پر ریاست کے باہر بھی سخت تنقید ہوئی۔
اسی دوران کشمیر میں جاری شورش پر قابو پانے کے لیے مہاراجہ ہری سنگھ کو معاہدہ امرتسر کے آرٹیکل نو کے تحت ہندوستان کی انگریز حکومت سے مدد ملی۔ رائیفل بریگیڈ کو جموں میں، بارڈر ریجیمنٹ کو میرپور اور ہسارز کو جموں اور فرنٹئیر کے پٹرول کے لیے تعینات کیا گیا۔
مہاراجہ کے خلاف تحریک
سنہ 1931 میں پیش آنے والے واقعات نے کشمیریوں کو اپنے سیاسی حقوق کے حوالے سے ایک گہری نیند سے جگایا، جس سے ایک ایسی صورتحال پیدا ہو گئی جس کی نظیر اس وقت کی کسی خود مختار شاہی ریاست میں نہیں ملتی۔ کشمیر میں خود مختاری، سیاسی اور مذہبی آزادی کے لیے اور مہاراجہ کے خلاف ایک تحریک شروع ہو گئی۔
یہاں اس بات کو ذہن میں رکھنا اہم ہے کہ ہندوستان کے برعکس، کشمیر کی تحریک، برطانوی راج کے خلاف نہیں تھی (کیونکہ کشمیر برطانوی راج کے تحت نہیں تھا)۔ کشمیر کی تحریک ایک مسلمان اکثریتی آبادی پر ہندو ڈوگرا حکمرانوں کے مظالم کا نتیجہ تھی۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ ڈوگرا حکمرانوں نے ہندو پنڈتوں کے ایک بااثر طبقے کو کافی مراعات دے رکھی تھیں۔
لیکن یہاں یہ بات اہم ہے کہ مظالم کے خلاف اس انقلاب میں صرف مسلمان شامل نہیں تھے۔ یعنی کشمیری ہندو بھی اس کا حصہ تھے۔سنہ 1932 میں شیخ محمد عبداللہ نے آزادی کی اس تحریک کی قیادت سنبھالی اور اسی سال آل جموں اینڈ کشمیر مسلم کانفرنس کا بھی قیام ہؤا۔ دیگر حقوق کے ساتھ ساتھ انھوں نے کسان کو اس کی زمین پر ملکیت کے حق کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔سنہ 1932 میں مسلم کانفرنس کے اجلاس میں اپنے صدارتی

لیکن یہاں یہ بات اہم ہے کہ مظالم کے خلاف اس انقلاب میں صرف مسلمان شامل نہیں تھے۔ یعنی کشمیری ہندو بھی اس کا حصہ تھے۔سنہ 1932 میں شیخ محمد عبداللہ نے آزادی کی اس تحریک کی قیادت سنبھالی اور اسی سال آل جموں اینڈ کشمیر مسلم کانفرنس کا بھی قیام ہؤا۔ دیگر حقوق کے ساتھ ساتھ انھوں نے کسان کو اس کی زمین پر ملکیت کے حق کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔سنہ 1932 میں مسلم کانفرنس کے اجلاس میں اپنے صدارتی خطاب میں شیخ محمد عبداللہ نے پرزور انداز میں کسانوں کو دائمی طور پر ان کی زمینوں کی ملکیت دینے کا مطالبہ کیا۔
اسی سال شیخ محمد عبداللہ کو گرفتار کیا گیا، ان پر پر مقدمہ چلا اور انھیں قصوروار ٹھہرایا گیا۔ ان پر مجرمانہ سازش، حکومت کے خلاف جنگ کرنے، جنگ کی نیت سے اسلحہ جمع کرنے، غداری، منافرت پھیلانے اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کے الزام لگائے گئے۔ اس کیس کا نتیجہ یہ ہؤا کہ شیخ محمد عبداللہ کو جیل بھیج دیا گیا لیکن پھر رہا کر دیا گیا۔تاہم تب تک کشمیر کی تحریک کافی زور پکڑ چکی تھی۔ کشمیریوں نے اپنی شکایات کی تفتیش کے ساتھ ساتھ سیاسی، معاشی اور مذہبی حقوق کے اپنے مطالبات جاری رکھے۔
یہاں تک کہ مہاراجہ نے آخر کار یہ اعلان کیا کہ وہ ’مناسب‘ مطالبات کو پورا کرے گا۔ سر بی جے گلینسی کی صدارت میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا جس کا مقصد مسلمانوں اور دوسروں کی شکایات کی تفتیش کرنا تھا۔اس کمیشن نے 22 مارچ 1932 کو اپنی رپورٹ جاری کی ۔تاہم گلینسی کمیشن کی سفارشات مجموعی طور پر ناکام رہیں کیونکہ ان پر پوری طرح عمل نہیں کیا گیا۔ تیس اور چالیس کی دہائیوں میں کشمیر میں مہاراجہ کے خلاف تحریک بھی چلتی رہی اور حکومت کی طرف سے اسے دبانے کی کوششیں بھی۔
سنہ 1938 میں شیخ عبداللہ نے مسلم کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی میں ایک قرارداد پیش کی جس کے تحت مسلم کانفرنس کا نام بدل کر ’نیشنل کانفرنس‘ رکھ دیا گیا اور اس کی رکنیت غیر مسلمانوں کے لیے بھی کھول دی گئی۔ جس کے بعد بہت بڑی تعداد میں لوگ میٹنگوں میں شامل ہونے لگے۔
سنہ 1941 میں غلام عباس نے مسلم کانفرنس کو دوبارہ شروع کیا اور نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس دونوں نے ہی اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کر دیں۔سنہ 1946 میں مہاراجہ کے خلاف ’کوئِٹ کشمیر‘ یعنی ’کشمیر چھوڑ‘ تحریک کا آغاز کیاگیا۔نیشنل کانفرنس کے نمایاں رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور شیخ عبداللہ کو غداری کے جرم میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔
1940 کی دہائی میں نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس دونوں نے کشمیر کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر شرکت کی اور ڈوگرا انتظامیہ میں نمائندگی کی کمی کو واضح کیا۔ 1930 کے بعد سے شروع ہونے والے آئینی اصلاحات سے عوام کو کسی حد تک ریاستی انتظامی نظام میں حصہ لینے کا محدود موقع ملا۔ ان اصلاحات سے کشمیریوں میں سیاسی شعور اور آگاہی بھی پیدا ہوئی۔
مہاراجہ نے جن اصلاحات کا آغاز کیا تھا ممکن ہے کہ ان سے آگے چل کر کشمیر میں ایک منتخب حکومت اور اسمبلی وجود میں آتی، تاہم برطانوی ہندوستان کی بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال اور شاہی ریاستوں کے الحاق کے سوالات کا کشمیر پر گہرا اور دیرپا اثر پڑا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والے انتخابات میں برطانیہ میں ونسٹن چرچل کی کنزرویٹو پارٹی ہار گئی اور لیبر پارٹی نے اقتدار سنبھالا۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب برطانیہ شدید اقتصادی مشکل میں تھا اور اس کے دیوالیہ ہونے کا بھی خدشہ تھا۔اس صورت حال کی وجہ سے وزیر اعظم ایٹلی نے برطانیہ کی انڈیا پالیسی تبدیل کر دی۔
19 فروری 1946 کو برطانیہ نے کیبینٹ مشن بھیجا جس کا ایک مقصد مقامی راجوں مہاراجوں اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنا بھی تھا۔یہ مشن سرینگر پہنچا تو شیخ محمد عبداللہ نے انھیں ایک میمورنڈم بھیجا۔ اس میں لکھا تھا کہ ’ہم یہ درخواست کرتے ہیں کہ اس رشتہ پر نظر ثانی نہایت اہم ہے کیونکہ تقریباً ایک سو سال پہلے کشمیر کی زمین اور اس کے عوام کو برطانیہ نے بیچ دیا تھا۔ کشمیری عوام اپنی تقدیر بدلنے کے لیے پرعزم ہیں اور ہم مشن سے ہمارے مقصد کے منصفانہ کردار اور اس کی طاقت کو پہچاننے کی اپیل کرتے ہیں۔ آج کشمیری عوام کا ’قومی مطالبہ‘ محض ایک ذمہ دار حکومت کا قیام نہیں، بلکہ ’مکمل آزادی‘ ہے۔آزادی کے اس مطالبے کے بعد 12 مئی 1946 کو کیبینٹ مشن میمورنڈم پاس کیا گیا۔ اس کے پانچویں پیراگراف میں لکھا ہے ’ریاست کے وہ حقوق جو اسے برطانوی تاج کے ساتھ رشتے کی وجہ سے حاصل ہیں ان کا وجود اب ختم ہوتا ہے‘ـ
اس کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ کے پاس تین راستے تھے: انڈیا کے ساتھ الحاق، پاکستان کے ساتھ الحاق، یا خود مختاری۔مہاراجہ ہری سنگھ نے فوری طور پر انڈیا یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان نہ کر کے بظاہر خود مختار رہنے کا فیصلہ کیا(اگرچہ بعد ازاں کشمیر کے ایک حصے پر پاکستانی قبضے کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ نے 26 اکتوبر 1947 کو بھارت سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کردیے تھے۔تقسیم کے وقت غلام عباس کی جماعت مسلم کانفرنس نے پاکستان سے الحاق جبکہ شیخ عبد اللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس نے بھارت سے الحاق کا موقف اپنایا، شیخ عبد اللہ اور ان کے سیاسی وارثین کی یہی بھارت نوازی ان کےتمامتر سیاسی کیریئر میں نمایاں رہی اسی لیے ان کو اکثریت کشمیری عوام کی حمایت حاصل نہ ہوسکی اورانہیں بھارت کے پٹھو گردانا جاتا ہے)۔

نیشنل کانفرنس واضح طور پر ڈوگرا مخالف تھی (تاہم بھارت مخالف نہیں!) اور اس نے حکومت سے معاشی، سیاسی اور مذہبی حقوق کا مطالبہ کیا جس کی وجہ سے ڈوگرا دور میں زرعی نظام اور اصلاحات کے حوالے سے بڑی تبدیلیاں بھی عمل میں آئیں۔ بیشتر اصلاحات کے باوجود جاگیردار زرعی اور معاشرتی ڈھانچے میں بالاتر مقام پر قائم رہے۔ کشمیر میں اصل تبدیلی 1948 کے بعد تب آئی جب جاگیردارانہ نظام اور اس سے منسلک مراعات کو ختم کیا گیا۔
ڈوگرا دور کشمیر کی جدید تاریخ کا ایک نہایت ہی اہم حصہ ہے۔ اس دور میں کشمیر ایک واضح سیاسی خطے کے طور پر سامنے آیا ۔اس زمانے کی دستاویزات کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ ڈوگرا حکمران علاقائی استحکام قائم کرنے، قانون سازی، فوجیں قائم کرنے اور ساتھ ساتھ آئین سازی میں کامیاب رہے اور یہ بھی کہ 1940 کی دہائی میں سامراجیت کے خاتمے کا عمل شروع ہونے کے ساتھ ہی کشمیری پراعتماد تھے کہ وہ ڈوگرا حکمرانوں کا تختہ الٹ دیں گے۔
ماضی قریب کے حالات پر ایک نظر
1986 کے اواخر میں فاروق عبداللہ (نیشنل کانفرنس) نے انڈین حکومت کے ساتھ صلح صفائی کر لی جس کے بعد انہیں مارچ 1987 میں ہونے والے انتخابات سے پہلے وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔ان انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد ہی کشمیر میں انڈیا کے خلاف مسلح تحریک کا آغاز ہؤا جو اب تک جاری ہے۔
ان حقائق سے کشمیر میں جمہوریت کے فقدان اور سیاسی جبر کی ایک تصویر کھنچتی ہے۔ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ جب چاہے بنائے اور نکالے گئے، اور انڈین گورنرز کو کشمیر پر حکومت کرنے کے لیے تعینات کیا گیا۔
سنہ 1989 آتے آتے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سیاست کا دائرہ اس قدر تنگ ہو چکا تھا کہ ایک مقامی تحریک کا آغاز ہؤا جو ایک مسلح تحریک میں بدل گئی اور جس کے نتیجے میں انڈین فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں (اشارہ ہے اس تحریک حریت کشمیر کی طرف جس میں اس وقت سے اب تک روزبروز اضافہ ہورہا ہے اور جو سیاسی محاذ پر حریت کانفرنس کے نام سے ۱۹۹۳ سے اور تحریک حریت کے نام سے ۲۰۰۴ سے سرگرم عمل ہے جبکہ غاصب بھارتی فوج کے خلاف مسلح جہاد کی صورت میں حزب المجاہدین اور دیگر گروہ جہاد میں مصروف ہیں)۔
9 جون 1990 کو انڈیا نے کشمیر پر گورنر راج نافذ کر دیا۔ گورنرجگ موہن نے چار ماہ طویل اس دور میں ایسے کئی اقدامات کیے جن سے کشمیر کی مشترکہ ثقافت پر اثر پڑا۔ سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی سیلیکشن کی شرح لگ بھگ آدھی کر دی گئی۔ ساتھ ہی اسی دوران کشمیری پنڈتوں نے بڑی تعداد میں وادی سے ہجرت کر لی۔کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت وقت نے کشمیری پنڈتوں کو تحفظ فراہم کرنے کی جگہ ان کے انخلا کو فروغ دیا تاکہ ان کے جانے کے بعد وہ کشمیر کی مسلم آبادی سے بنا کسی روک کے نمٹ سکیں۔ اس عرصے میں حق خود مختاری کا مطالبہ کرنے والے کشمیریوں کو دبانے کے لیے سخت فوجی طاقت کا استعمال کیا گیا۔
1996 میں سول راج کی بحالی کی کوشش کے لیے انتخابات کا انعقاد کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد فاروق عبداللہ کی قیادت میں نیشنل کانفرنس کی حکومت بنی۔ ان انتخابات پر بھی غیر شفاف ہونے کے الزامات لگے۔آٹھ اکتوبر 2002 کو پھر انتخابات منعقد ہوئے مگر حسب

1996 میں سول راج کی بحالی کی کوشش کے لیے انتخابات کا انعقاد کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد فاروق عبداللہ کی قیادت میں نیشنل کانفرنس کی حکومت بنی۔ ان انتخابات پر بھی غیر شفاف ہونے کے الزامات لگے۔آٹھ اکتوبر 2002 کو پھر انتخابات منعقد ہوئے مگر حسب توقع بائیکاٹ اور تشدد کے سائے تلے۔سنہ 2002 میں ہونے والے انتخابات میں نیشنل کانفرنس کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور کانگریس کے اتحاد کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ اس سے قبل ہونے والے انتخابات کی ہی طرح اس الیکشن پر بھی خونریزی، دھاندلی، سکیورٹی فورسز کی طرف سے زبردستی اور عسکریت پسندوں کی طرف سے تشدد کے الزامات لگے۔
سنہ 2005 میں کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد کو اتحادی حکومت کا سربراہ بنایا گیا اوروہ سات جولائی 2008 کو مستعفی ہو گئے۔کشمیر میں اکثر ہند نواز حکومتوں کو تب تب اقتدار سے علیحدہ کیا گیا ہے جب جب ان کے اقدامات دلّی کی کشمیر پالیسی سے مختلف رہے ہیں۔
شری امرناتھ شرائین بورڈ کو زمین نہ دینے کے فیصلے کے خلاف بی جے پی اور شو سینا جیسی سخت گیر ہندو جماعتوں نے شدید اور پرتشدد احتجاج کیا۔ اس کے ساتھ ہی کشمیر کے خلاف ایک اقتصادی بلاکیڈ بھی شروع کیا گیا اور کشمیر جانے والی شاہراہوں کو بلاک کر دیا گیا تاکہ ضروری اشیا وادی تک نہ پہنچ سکیں۔غلام نبی آزاد کے استعفیٰ کے بعد ایک بار پھر کشمیر میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ نئے گورنر نے آتے ہی ایک اعلامیے کے ذریعے ریاستی حکومت کی تمام کارروائی سنبھال لی۔ گورنر نے ہندو جماعتوں کے احتجاج کی وجہ سے چار رکنی پینل تشکیل دی جس نے چالیس ہیکٹئیر زمین کے استعمال کے حوالے سے شری امرناتھ شرائین بورڈ کے خصوصی اختیارات کو بحال کر دیا۔اس سے کشمیر کے حالات مزید بگڑ گئے اور روزانہ کی بنیاد پر آزادی کے حق میں مظاہرے ہونے لگے جو کہ مجموعی طور پر پرامن تھے۔
مئی 2010 میں تین کشمیریوں کے ’قتل‘ اور پھر ان پر دہشت گرد ہونے کا الزام لگانے کی کوشش کے بعد ایک بار پھر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جواب میں حکومت نے طویل عرصے تک کرفیو نافذ کر دیا اور پتھر پھینکنے والے مظاہرین پر گولیاں برسائیں۔
سنہ 2014 میں بی جے پی انڈیا میں اقتدار میں آئی۔ بی جے پی ایک سخت گیر ہندو قوم پرست جماعت ہے، جس کا ایجنڈا جمہوریت اور سکیولرِزم کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ ان کے دور میں انڈیا میں گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں قوم پرست ہندوؤں کے ہاتھوں کئی مسلمانوں کا قتل ہو چکا ہے۔یہی سب کچھ سنہ 2015 میں کشمیر میں بننے والے بی جے پی اور پی ڈی پی کے اتحاد میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی لوگوں کی نظر میں اس اتحاد سے کشمیر میں پی ڈی پی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔
سنہ 2016 عسکریت پسند (مجاہد)کمانڈر برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاکت (شہادت) کے بعد بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے شروع ہوگئے۔ ان پر قابو پانے کے لیے انڈین فورسز نے پیلیٹ گنز کا استعمال کیا جن سے کئی لوگ بینائی سے محروم ہو گئے۔
کشمیر میں اس وقت تقریباً سات لاکھ انڈین فوجی موجود ہیں۔ یہ دنیا میں کہیں بھی فی کس آبادی فوجیوں کی سب سے زیادہ شرح ہے۔انڈین فوج پر ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، فِزِشنز فار ہیومن رائٹس جیسی بین الاقوامی تنظیموں اور کویلِشن فار سِوِل سوسائٹی جیسی مقامی تنظیموں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ ان میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، شہریوں کو انسانی ڈھال کی طرح استعمال کرنا، ٹارچر، جعلی مقابلے، قتل عام، اجتماعی قبریں، کاروباروں اور گھروں کو تباہ کرنا، رہائشی علاقوں کو آگ لگانا، اور سکولوں اور یونیورسیٹیز کی عمارتوں پر قبضہ کرنا شامل ہے۔(درج بالا اداروں کی مصدقہ رپورٹوں کے مطابق کشمیری عوام کی شہادتوں اور ٹارچر کے علاوہ خواتین کے ساتھ زیادتی کے اعدادوشمار لاکھوں تک پہنچتے ہیں)۔
یورپی پارلیمان کی رکن ایما نکلسن آف ونٹربورن نے یورپی پارلیمان کے لیے ’پریزنٹ سچویشن اینڈ فیوچر پروسپیکٹس آف کشمیر‘ کے عنوان سے تیار کی گئی اپنی ڈرافٹ رپورٹ میں انڈین مسلح فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔پچھلی کئی دہائیوں سے کشمیری عوام مسلسل مظالم برداشت کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سنہ 2018 اور 2019 میں شائع ہونے والی رپورٹس میں ان کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اگست 2019 کے بعد جس طرح حالات مزید بگڑے ہیں اس کی دنیا بھر میں مذمت ہوئی ہے۔ کشمیر کی سِوِل سوسائٹی نے اگست 2019 کے بعد پیش آنے والی تبدیلیوں کے قانونی اور معاشی اثرات کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ
پانچ اگست 2019 کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پر ایک مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے بعد سخت گیر ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی قیادت میں انڈین حکومت نے یکطرفہ طور پر، کشمیر کی ریاستی اسمبلی سے مشاورت کے بغیر ،جو کہ گورنر راج کی وجہ سے اس وقت فعال نہیں تھی، کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا۔
ایک لمحہ کے لیے لگا کہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ لگ بھگ تمام ہند نواز سیاسی رہنماؤں کو قید کر دیا گیا۔ اگر دیکھا جائے تو اس سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مین سٹریم ہند نواز سیاست کے لیے جگہ مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ان حالات میں ایک نیا آئینی آرڈر، کانسٹیٹیوشن آرڈر 2019 پاس کیا گیا جس کے تحت ریاست جموں کشمیر کو دو یونین ٹیریٹوریز میں تقسیم کیا گیا: لداخ، اور جموں و کشمیر۔ اس عمل کے دوران انڈیا نے کشمیر میں موجود اپنی فوجوں میں اضافہ کیا جس سے کشمیر میں انڈین فوج کی مجموعی تعداد ساڑھے سات لاکھ تک پہنچ گئی۔ کشمیر پر مکمل مواصلاتی پابندی لگا دی گئی، اور اب بھی کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بگڑتے ہوئے حالات کے باوجود تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ پر پابندی ہے۔چار ہزار کے قریب افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں بچے بھی شامل تھے اور ان میں سے اکثر کو بنا کسی فرد جرم کے قید کیا گیا۔
کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا مطلب ہے کہ انڈین آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کے تحت کیے گئے وعدے اب نہیں رہے اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پر اب دلی کی براہ راست حکومت ہے۔ اس سے ریاستی پرچم، ریاست کا آئین اور سینکڑوں ریاستی قوانین بھی بیکار ہو گئے اور سیاسی، انتظامی اور قانونی نقطہ نظر سے سب کچھ تھم گیا۔ ا کتو بر 1946 معاہدے کے تحت مہاراجہ نے دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کا اختیار انڈیا کو دے دیا تھا۔ اسی کی بنا پر کچھ عرصے بعد آرٹیکل 370 اور 35A کو انڈین آئین میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انڈیا اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ کشمیر دیگر معاملات میں خود مختار رہے گا۔دراصل آرٹیکل 370 اور 35A ڈوگرا حکمرانوں کے ان وعدوں کی عکاسی کرتے تھے جو انھوں نے کشمیریوں سے، کشمیریوں کو سرکاری نوکریوں اور زمین کے استعمال اور ملکیت پر حقوق کے حوالے سے کیے تھے اور جو غیر کشمیریوں کے لیے نہیں تھے۔
اس کے بعد انڈیا نے 18 مئی 2020 کو جموں و کشمیر یونین ٹیریٹوری کے لیے ڈومیسائل کے نئے قواعد متعارف کرائے جن کے تحت انڈیا کے کسی بھی حصے سے لوگ کشمیر کا ڈومیسائل حاصل کر سکتے ہیں۔ آرٹیکل 370 اور 35A کے تحت حاصل حاصل ضمانتوں کے تحت یہ ممکن نہیں تھا۔ دی جموں اینڈ کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر 2020 کے تحت ڈومیسائل کی تعریف بدل دی گئی تا کہ غیر کشمیریوں کے لیے مستقل رہائش حاصل کرنا آسان ہو جائے۔ اس کا مقصد کشمیر کے متنازع خطے میں آبادی کے تناسب کو بدلنا ہے۔
ترمیم شدہ ڈومیسائل قانون کی وجہ سے کشمیریوں کے لیے ملازمت میں بھی مواقع کم ہو جائیں گے کیونکہ اب کشمیر میں موجود نوکریوں کے لیے غیر کشمیری بھی درخواست دے سکیں گے۔ اس طرح کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے کسی بھی رائے شماری کے نتائج پر اثر پڑے گا۔کئی مبصرین نے اس ڈومیسائل قانون میں اس تبدیلی کو ’اسرائیلی طرز‘ کی یہودی آبادیوں کی طرف ایک قدم قرار دیا ہے، جس سے آخر کار کشمیر کی مسلمان اکثریت اقلیت میں تبدیل ہو جائے گی جس کے بعد اس کی نسل کشی آسان ہو جائے گی۔
کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے پہلے انڈیا کے زیر انتظام جموں کشمیر کی ریاستی قانون ساز اسمبلی سے مشاورت نہیں کی گئی جو کہ آرٹیکل 370(3) کے تحت لازمی تھا۔ کشمیر کی اسمبلی کو جون 2018 میں اس وقت تحلیل کر دیا گیا تھا جب پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان اتحاد ختم ہو گیا تھا۔اس کے بعد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پر گورنر راج اور پھر صدارتی راج نافذ کر دیا گیا تھا۔آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا مقصد پورا کرنے کے لیے 2019 کے صدارتی حکم نامے میں ’آئین ساز اسمبلی‘ کو

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے پہلے انڈیا کے زیر انتظام جموں کشمیر کی ریاستی قانون ساز اسمبلی سے مشاورت نہیں کی گئی جو کہ آرٹیکل 370(3) کے تحت لازمی تھا۔ کشمیر کی اسمبلی کو جون 2018 میں اس وقت تحلیل کر دیا گیا تھا جب پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان اتحاد ختم ہو گیا تھا۔اس کے بعد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پر گورنر راج اور پھر صدارتی راج نافذ کر دیا گیا تھا۔آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا مقصد پورا کرنے کے لیے 2019 کے صدارتی حکم نامے میں ’آئین ساز اسمبلی‘ کو بدل کر ریاست کی ’قانون ساز اسمبلی‘ کر دیا گیا۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری تھا کیونکہ آرٹیکل 370 (3) کے مطابق آرٹیکل 370 صدارتی حکمنامے سے ختم ہو سکتا ہے تاہم اس کے لیے ’آئین ساز اسمبلی‘ کی سفارش لازمی ہے۔یہ تمام آئینی ترامیم غیر آئینی تھیں کیونکہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پہلے سے ہی صدارتی راج نافذ تھا اور 2019 کے صدارتی حکمنامہ کے دعوے کے برعکس ریاست کی رضامندی حاصل کرنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔
انڈیا کی ان یکطرفہ آئینی تبدیلیوں کے اثرات خطے کی سیاست پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ چین اور پاکستان بھی اس تنازع میں شریک ہیں اور دونوں نے نیپال میں مقیم چینی سفارت خانے کے ذریعے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی طرف سے منظور شدہ حل کی پاسداری کی جانی چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں کشمیر کی حیثیت کے تحفظ کے لیے کئی قراردادیں منظور کی گئیں جو کہ انڈیا پر لاگو ہوتی ہیں۔ ان میں 20 جنوری 1957 کو منظور ہونے والی قرارداد 122 شامل ہے جو کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتی ہے اور جس کے مطابق، ’جموں کشمیر کی حیثیت کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام کرائے جانے والی ایک آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کے تحت ہوگا، کشمیر کے عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ ‘
رائے شماری کا مطالبہ کرنے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سے اس معاملے پر ایک ابتدائی اعلانیہ تشکیل دیا جا چکا ہے جس کے تحت ممالک پر ایک مخصوص رویہ اپنائے رکھانا لازمی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انڈیا کی طرف سے ڈومیسائل لا متعارف کرانے جیسے یک طرفہ اقدامات کی وجہ سے اس کے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک قابض طاقت ہونے کے تاثر کو تقویت ملتی ہے۔کشمیر سے متعلق نئے آئینی اقدامات متعارف کرانے سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہو جاتی کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کشمیر ایک متنازع خطہ ہے۔ بین الاقوامی برادری نے غیر قانونی قبضے کے حوالے سے ایک متواتر پالیسی تسلیم کی ہے جیسا کہ بالٹک ریاستوں، فلسطین، کرائیمیا اور کویت کی مثالوں سے واضح ہے۔

؎۱ ایسوسی ایٹ پروفیسر،سٹی یونیورسٹی آف ہانگ کانگ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x