ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

حاتم طائی – مارچ ۲۰۲۱

حسیب کمال میرے ساتھ فٹ بال کلب میں تھا۔وہ بہت اچھا کھیلتا، کوچ اکثر اس کے کھیل کی تعریف کرتے تھے لیکن کسی دوسرے وقت وہ اس کے معمولی بیک گراونڈ سے ہونے کے باعث اس کا خوب مذاق بھی اڑاتے جس سے ساتھی کھلاڑیوں کو بھی شہ ملتی کہ وہ حسیب پر طنز کریں، اس کے لیے دبا دبا حسد اس انداز میں نکالیں۔ کوچ اور ساتھیوں کے رویہ کو وہ خاموشی سے برداشت کرتا لیکن اس کی آنکھوں میں مجھے غصہ نظر آتا ۔ اس کے ہاتھ اور چہرے پر کبھی کھرونچ کے نشانات ہوتے جیسے کسی کے ساتھ اس کی لڑائی ہوئی ہو۔ ہماری ٹیم انڈر ففٹین تھی، اس کلب میں شہر کے کھاتے پیتے گھر کے بچے فٹ بال کھیل سیکھنے آتے تھے، فیس ان گھرانوں کے لیے کچھ زیادہ نہ تھی لیکن حسیب کمال کیسے یہ فیس ادا کرتا تھا، یہ حیرت تھی…..ہم جانتے تھے کہ حسیب کے والد قریب کے علاقے میں فرنچ فرائز کا اسٹال لگاتے ہیں اور ان کے حسیب کے علاوہ چار اور بچے ہیں، وہ سب اسکول پڑھتے ہیں۔ ایسے میں یہ بات سمجھ نہ آتی تھی کہ حسیب کی یہ فیس کیسے ادا ہوتی ہے۔ کئی بار میں نےکلب کاؤنٹر پر حسیب کو فیس خود ادا کرتے دیکھا تھا، اس لیے کلب انتظامیہ کی حسیب کے لیے خصوصی بخشش کا امکان بھی نہ تھا۔
ایک دن جب کھیل ختم ہونے کے بعد کوچ نے حسیب کے کھیل کی تعریف کی تو ایک لڑکے نے فٹبال سے اس کا نشانہ لیتے کک لگائی۔ چہرے سے ٹکرا کر بال نے اس کی ناک زخمی کردی، ناک سے ٹپکتے خون نے حسیب کمال کو خونخوار شیر بنا دیا، اس نے اس لڑکے اسامہ ملک کو آگے بڑھ کر اتنے زور کا تھپڑ مارا کہ سب اس آناً فاناً حملہ پر ساکت ہوگئے۔
اسامہ ملک نے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنا بیگ اٹھایا اور میدان سے باہر چل پڑا، وہ اب خوفزدہ تھا، واقعہ کی خبر انتظامیہ کو ہوئی تو حسیب کمال کی ڈریسنگ کردی گئی اور وہ چلا گیا۔
اس دن کے بعد اسامہ ملک تو فٹ بال کھیلتا رہا لیکن حسیب کمال نظر نہ آیا۔
ہم نے کچھ عرصہ تو اس پر گفتگو کی جسے اسامہ بے نیازی سے سنتا رہا۔ کسی لڑکے کی بھی حسیب سے کوئی خاص دوستی نہ تھی، شاید اسے دوست کہنا ان کے مرتبے کے خلاف تھا۔ سو جلد ہی سب نے حسیب اور اس واقعہ کو بھلادیا۔ لیکن مجھے حسیب یاد رہا، وہ میرا دوست نہ تھا لیکن مجھے اس سے ہمدردی تھی۔
پھر چار برس بعد شہر کے پس ماندہ علاقے میں اپنے والد کے ساتھ مخصوص گھروں میں راشن باٹتے مجھے علاقے کے کھلے میدان میں حسیب کمال نظر آگیا۔
پہلےتو مجھے یقین ہی نہ آیا کہ یہ لمبے قد اور اسمارٹ جسم کا لڑکا حسیب کمال ہے جس کے پتلے چہرے اور پتلے ہاتھوں پر کھرونچوں کے نشانات ہوتے تھے۔
وہ اس وقت بھی فٹ بال کھیل رہا تھا، بلکہ مقامی بچوں کو فٹبال سکھاتا کوچنگ میں مصروف تھا۔ لڑکے اس کے گرد عقیدت مندوں کی مانند جمع تھے، اور وہ ان کا گرو حسیب بھائی تھا۔
میرے قدم کھیل کی جانب بڑھ گئےجہاں وہ تھا۔ ہماری نگاہیں ملیں، اس کی آنکھوں میں شناسائی چمکی، وہ تیز قدم اٹھاتا میرے پاس آیا اورمجھ سے ہاتھ ملایا۔ ہم دونوں خاموش تھے ۔پھر وہ لوٹ گیا، بالکل ایسے جیسے وہ آیا تھا۔
میں بھی واپسی کے لیے مڑ گیا۔ راشن کے دو تھیلے باقی تھے، میرے والد نے میری سرگوشی پر حسیب پرنگاہ ڈالی اور کئی منٹ تک کھیل دیکھتے رہے۔ مجھے حیرت تھی ان کو فٹبال میں کیا دلچسپی…. لیکن پھر باقی تھیلے کھیلنے والے بچوں میں تقسیم کرکے انہوں نے واپسی کے لیے گاڑی کا رخ کیا۔
’’آپ نے حسیب کو کیوں نہیں دیا؟’’ میرے سوال پر ڈیڈی نے گاڑی اسٹارٹ کرتے مجھے دیکھا اور پھر گردن گھما کر میدان کو جہاں کھیل جاری تھا۔
’’حسیب کمال مجھے اس خیرات سے کہیں بلند لگا جو ہم بانٹ رہے تھے۔ وہ پسے ہوئے انسانوں کے اندر بھری ایٹمی طاقت کو مفید جگہ لگا کر خودحاتم طائی بن چکا ہے‘‘ڈیڈی مشکل باتیں کرتے تھے۔ اس وقت بھی کر رہے تھے۔
حسیب بھائی!
کمال بھائی!
لڑکے کوچ کی ہر جنبش کے ساتھ پر جوش تھے۔ میدان میں ان کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
گاڑی اب میدان کو پیچھے چھوڑ چکی تھی۔ لیکن مجھے ڈیڈی کی بات پلّے نہیں پڑی تھی۔ ’’وہ جو بھی تھا جیسا بھی تھا، ضرورت مند ہی ہوگا تب ہی تو ایسے علاقے میں کوچنگ کر رہا تھا‘‘ میں نے ڈیڈی کو یہ کہا بھی لیکن ڈیڈی نے کوئی جواب نہ دیا۔
تین ماہ بعد میرے پاس ڈیڈی کے ای میل اکاؤنٹ سے ایک فارورڈڈ میل آئی۔یہ ڈیڈی کے نام حسیب کی میل تھی جس میں اس نےڈیڈی کا شکریہ ادا کیا تھا کہ انہوں نے دارالحکومت میں ہونے والے فٹبال مقابلے میں اس کا نام شامل کروایا اور آئے غیر ملکی مہمان وفد نے اپنی لیگ کے لیے اس کو گول کیپر چن لیا۔
حسیب کمال کا لکھا یہ خط مجھے ڈیڈی سے شکایت پیدا کر گیا ’’مجال ہے جو ایسی کوشش اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے کی ہو!‘‘
میں نے سڑا منہ بنا کر اسکرین آف کردی۔ اگلے لمحے موبائل میں بیپ ہوئی۔
’’حسیب کمال حاتم طائی ہے، اس لیے راشن نہیں سنہری موقع دیا‘‘ ۔ پھر فلسفہ! میں نے پڑھ کر منہ بنایا۔
’’تم بھی انسانوں کے لیے کچھ کرو، سنہری موقع تمہارا بھی انتظار کر رہا ہے‘‘
ایک اور میسج آیا، اور کچھ امید دے گیا۔

٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
میمونہ حمزہ
میمونہ حمزہ
2 years ago

حاتم طائی بہت خوبصورت افسانہ ہے۔ راشن کے تھیلے کے بجائے صلاحیتوں کو نکھارنے والا پلیٹ فارم کتنی بڑی قدر افزائی ہے۔ قوم کے باصلاحیت ورجوانوں کو ایسے سرپرستوں کی ضرورت ہے۔ بہت قمدہ نصرت!

1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x