ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

جنگی قیدی کی آپ بیتی- بتول مئی ۲۰۲۱

ہوسٹل لائف اور چار کی منڈلی
خیر میرا داخلہ اسلامیہ کالج سول لائنز میں ایم اے اکنامکس میں ہوگیا۔ میں سول لائنز کے ہاسٹل میں منتقل ہوگیا ۔ یہاں بھی میرے لیے ہر لحاظ سے آزاد زندگی گزارنے کی سہولت موجود تھی مگر میں نے یہاں بھی قید کی زندگی ہی گزاری ۔ ہاسٹل کے ہلہ گلہ سے میرا کوئی واسطہ نہ تھا۔ وہی مغرب کے بعد باہر نہ جانا، وقت پر کھانا کھانا اور پڑھنے بیٹھ جانا ۔ اللہ تعالیٰ نے ہاسٹل میں شروع سے ہی مجھے بہت سی نعمتوں سے نوازاتھا۔ کالج کے پرنسپل بہت شفیق انسان تھے۔ مجھ سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے۔ ہاسٹل کے ساتھ والے کمرے میں جناب طیب گلزار صاحب میرے ہمسائے بنے اور پوری زندگی میرے لیے انمول سرمایہ ثابت ہوئے۔ جناب محترم عبدالحفیظ احمد صاحب بھی ہمارے ساتھ ہوتے تھے جو البدر پبلی کیشنز کے مالک تھے۔ ہمارا وقت بہت اچھا گزرتاتھا۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد جناب عبدالوحید سلیمانی صاحب پیدل سنت نگر سے ہمیں ملنے آتے تھے۔ یہاں ہم چاروں کی منڈلی تھی۔ کھانے کے بعد تقریباً روزانہ مال روڈ سے ہوتے ہوئے مسجد شہدا تک جاتے اور واپس آتے ۔ عبدالوحید سلیمانی صاحب بہت نفیس آدمی تھے ۔ ہلکے پھلکے شگوفے چھوڑنا اور چھوٹے چھوٹے چٹکلے سنانا، اس کا انھیں ملکہ حاصل تھا۔ ہم سب خوب انجوائے کرتے اور محظوظ ہوتے ۔
کالج وقت سے فارغ ہو کر ہم ان کے مطب میں چلے جاتے۔ اُن کامطب سنٹرل ماڈل ہائی سکول کے سامنے واقع تھا۔ وہ اپنے مطب میں براجمان ہوتے، عبدالحفیظ احمد صاحب بھی وہاں موجود ہوتے، طیب صاحب بھی پیچھے نہ رہتے۔ حفیظ صاحب کی سفارش پر سلیمانی صاحب مجھے اور طیب صاحب کو ایک ایک پُڑیا دیتے جو بڑے مزے کی ہوتی۔ پتہ نہیں اس میں کیا ہوتاتھا مگر ہم بہت شوق سے کھاتے تھے۔ وہاں سے حفیظ صاحب اور سلیمانی صاحب اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے اور ہم دونوں اپنے ہاسٹل اور رات کو پھر مال روڈ کی سیر۔
طیب صاحب کے ساتھ ہماری دوستی بہت جمی۔ وجہ یہ تھی کہ میرے پاس وسائل نہ تھے اور طیب صاحب کے پاس بے شماروسائل کے باوجود نخرا نہ تھا۔ وہ بہت زیادہ نفاست یاتکلفات کے قائل نہ تھے، سادہ طرز زندگی رکھتے تھے۔
اگرچہ عبدالوحید سلیمانی صاحب اور عبدالحفیظ احمد صاحب کی دوستی ہم سے بہت پرانی تھی مگر انھوں نے ہم دونوں کو بھی شامل کرلیا، اس لیے ہم چاروں تقریباً روز ملتے تھے ۔ ہم چاروں میں سے صرف سلیمانی صاحب شادی شدہ تھے۔ وہ کبھی کبھی ناشتے یا کھانے پر ہمیں اپنے گھر بلا لیا کرتے تھے۔ ان کے گھر کاکھلا ماحول تھا، اچھا زمانہ تھا،زندگیوں پر امیرانہ رنگ نہ تھا۔ ہم چاروں کھانے کے لیے بیٹھتے تو پانچ قسم کے برتنوں میں ہمیں کھانا پیش کیاجاتا ۔ بازار میںد ستیاب گلاسوں کی کئی قسمیں موجود ہوتی تھیں ۔ مہمان نوازی کے لیے میٹھا بھی لازمی بنتا مگر وہی چار قسم کا پیالہ پانچ قسم کے چمچ ۔انہیں ایسے دینے میں کوئی جھجک نہ ہوتی اور ہمیں کھانے میں بہت لذت ملتی تھی۔ اُن کے سب بچے ہم سے بہت پیار کرتے تھے اور ہمیں بھی اُن سے مل کر بہت خوشی ہوتی تھی۔
محترمہ بیگم عبدالوحید سلیمانی صاحبہ جو بعد میں میری چچی ساس بنیں اعلیٰ اخلاق کا پیکر تھیں ۔ خدا کی رضا کی خاطر سب کچھ کرنے پر تیار، اپنی پوری زندگی اللہ کے لیے وقف کیے ہوئے تھیں۔ ہاں ایک خاص بات ،چچی جان ذات کے لحاظ سے خاکوانی تھیں اور سلیمانی بھائی اُن سے دباؤ محسوس کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے سلیمانی بھائی کو غریق رحمت کرے، آمین۔
راستے اور منزلیں
وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہؤااور میں نے ایم اے بھی مکمل کر

لیا ۔ کالج کے پرنسپل صاحب نے بلایا اور پوچھا کہ اب کہاں جاؤ گے ؟میں خاموش رہا۔ پھر انھوںنے خود ہی کہا کہ جب تک کوئی بندوبست نہیں ہوتا تم ہاسٹل میں رہو۔ اُن کے رویے میں باپ کی شفقت تھی ،اپنائیت کی انتہا تھی ۔ میں نے اُن کاشکریہ ادا کیا اور اُن کی پیشکش کو قبول کرلیا۔
اب مجھے کافی فرصت مل چکی، تھی ماسٹرز کرچکاتھا ،اپنے بارے میں سوچنے کاموقع ملا۔ میں نے واہگہ کی سرحد پار کرنے کے بعدلاہور کینٹ سے پاکستان کے سفر کاآغاز کیا تھا۔ اجنبی کیفیت اور اجنبی راستوں میں منزل کی طرف بڑھتا رہا۔ سفر شروع کیاتھا تو نہ گھر تھا نہ ٹھکانہ ، گاڑی چل رہی تھی، سمت کااندازہ نہ تھا۔ کیسے ٹھوکر نیاز بیگ کی مسجد میرا پہلا سہارا بنی، وہاں سے اچھرہ پہنچااور مولانا ؒ کی صحبت نے میری ساری مشکلات آسان کردیں ۔ ایف اے کیا ، بی اے اور ایم اے کیا، ساری منزلیں طے ہوتی گئیںاور کوئی ٹھوکر نہیں لگی ۔ زندگی یوں چلتی رہی جیسے کسی نے بہت پیار سے میری ضرورت کے مطابق میرے لیے سب راستہ بنارکھا ہو اور وہ ہستی تھی میرے رب کی، جس نے کبھی مجھے تنہا نہ چھوڑا ، مضبوطی سے مجھے تھامے رکھا، سوچتا ہوںمیں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کا شکر ادا کروں!
میں آپ کو سچ بتاؤ ں کہ مجھے زندگی میں کبھی حسرت سے دوچار نہیں ہوناپڑا ۔ یہ حسرت ہوتی کیا چیز ہے مجھے اس کی خبر نہیں۔ میرے اللہ نے مجھے کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ۔ ہاسٹل کاکھانا کھایا اور وہیں رہنے کو ہمیشہ غنیمت جانا۔ جس دن کسی وجہ سے ہاسٹل کاکھانا بند ہوتا میں اور طیب صاحب انارکلی کا رخ کرتے ،چل کر دونوں کھانا کھاتے ۔ وہ گوشت اور قیمہ کھانا زیادہ پسند کرتے تھے اور میں سبزی مٹر یا آلو انڈہ کھاتا ۔ کئی بارمیں سوچتا اگر میں بیمار ہوگیا تو مجھے کون سنبھالے گا ، اس کے تو گھر والے ہیں دیکھ بھال کرلیں گے۔ خیر ماسٹر کرکے فارغ ہوئے تو دونوں نے میڈیکل چیک اپ کروایا ۔ طیب صاحب کو معدے کا السر ہوگیاتھا جس نے بعد میں کافی عرصہ انہیں تنگ کیا لیکن مجھے اللہ نے اس سے محفوظ رکھا۔
خلوص اور محبت سے مالامال ساتھی
کالج کی زندگی سے تو میں فارغ ہوگیا تھا مگر ہاسٹل کی کے کمرے کی رونقیں بڑھ گئی تھیں ۔ جمعیت کے ساتھیوں کاایک ہجوم لگا رہتا۔ سب لوگ مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے ایک ایسا بندھن تھا جو محسوس تو کیاجاسکتاہے مگر جس کے اظہار کے لیے میرے پاس الفاظ نہیںہیں۔ تمام دوستوں اور ساتھیوں کا میری زندگی پر احسان میرے لیے اللہ کی بہت بڑی نعمت تھی، جن میں سے چند کاذکر ضرور کرنا چاہوں گا ۔ محترم عبدالحفیظ احمدمرحوم ومغفور ، عبدالوحید سلیمانی مرحوم و مغفور ، طیب گلزار صاحب، میاں بابر حمید صاحب ، شفاعت علی عباسی صاحب، ڈاکٹر تنویر الحسن زبیری صاحب ،حافظ سلمان بٹ صاحب ،ڈاکٹر عبدالرحمن شہاب صاحب ،عمیرخان صاحب ،اعجاز احمدچودھری صاحب ،شہید ڈاکٹر فیض (مرحوم )، ڈاکٹر بابر امین صاحب، امیرالعظیم صاحب ، ڈاکٹر افتخار چوہدری صاحب ،ڈاکٹر زبیر قریشی صاحب ، سعید سلیمی (مرحوم) ،عظیم چودھری صاحب اور انجینئر محمدظفر صاحب۔
میرے قریبی دوستوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ بے شمار دوست جو قابل ذکر ہیں مگر طوالت کے باعث سب کے نام تحریر نہیںکرسکتا۔ میں تمام دوستوں اور اُن کے گھر والوں کاشکرگزار ہوں جنھوںنے مجھ پر بہت احسانات کیے اور میری زندگی سنوارنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ انھیں اجرعظیم سے نوازے ،آمین۔اچھا دوست خدا کے قریب کرتا ہے ۔ زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے اور خاص طور پر بُری صحبتوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ میرے تمام دوستوں میں یہ ساری خوبیاں موجود تھیں الحمدللہ۔
چند گھرانوںکا ذکر کرنا یہاں بہت ضروری سمجھتاہوں ، جن میں اردو بازار کے تاجر میاں عبدالحمید صاحب ،سنت نگر کے جناب شجاعت علی عباسی صاحب ،کرشن نگر کے جناب فضل عظیم صاحب ،شاہ جمال کے اعجاز احمدچودھری صاحب ،ماڈل ٹائون سے تنویرالحسن زبیری صاحب ،ان کے پورے گھرانوں نے مجھے اپنی اولاد جیسی ،بھائی جیسی اور بیٹے جیسی محبت دی ۔
رزق حلال کی تلاش

ماسٹرز کرنے کے بعد میں داؤد ہرکولیس میں ملازمت کے لیے گیا۔ انٹرویو کے دوران انھوںنے مجھ سے تنخواہ کاپوچھا تو میرا جواب تھا کہ میں کام سیکھنا چاہتاہوں، کام سیکھ لوں گاتو تنخواہ بھی دے دیجیے گا۔ چنانچہ وہاں پر پرچیز آفیسر کے طور پر میری ملازمت طے ہوگئی۔ میں نے صرف ملازمت نہیں کی بلکہ دن رات محنت کی ۔ صبح سات بجے سے لے کر رات نو بجے تک میں پلانٹ پرہوتا،خوب محنت کرتا۔ میں نے اپنی زندگی کے ساڑھے تیرہ سال وہاں پرچیز ڈیپارٹمنٹ میں گزارے، انچارج بنا، پرچیزمینیجر بنا،ملازمت کے دوران میں بھی اللہ نے میری حفاظت کی اورمیں نے حلال کھایا اور گھر میں کھلایا، حرام کاکوئی لقمہ جان کر حلق میں نہیں اُتارا۔ یہ سب میرے رب کاکرم تھا، الحمدللہ۔
گھر بسانے کی تجویز
ہم چاروں دوستوں کی نشست اب بھی رات کو دیرتک کے لیے جاری رہتی ،اُن دوستوں نے مجھے شادی کامشورہ دیا اور راضی کرلیا۔ شادی سلیمانی صاحب کے بڑے بھائی کے ہاں جہانیاں میں طے ہو رہی تھی۔ حفیظ صاحب،ان کی اہلیہ ، طیب گلزار صاحب ،ان کی اہلیہ اور سلیمانی صاحب نے جہانیاں کا رخ کیا اور واپسی پر مجھے اطلاع دی کہ ہم نے تمہاری شادی طے کردی ہے۔ مزے کی بات لڑکی کے والد جہانیاں میں موجود نہ تھے عمرہ کی ادائیگی کے سلسلے میں سعودی عرب گئے ہوئے تھے۔ وہیں سے انھوںنے سلیمانی صاحب سے فون پر بات کی اور رشتہ طے کردیا ۔ یہ ان کا اپنے بھائی پر اعتماد تھایا اس دینی جماعت پر جس کے توسط سے میرے دوست وہاں گئے تھے۔
شادی طے ہوچکی تھی مگر انتظامات کس نے کرنے تھے ،میں تو ہاسٹل میں رہائش پذیر تھا۔ دوستوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ نصیر بھائی کی شادی ہو رہی ہے۔ سب دوستوں نے اس مرحلہ سے نبرد آزماہونے کے لیے اپنے اپنے مشورے دیے مگر سب خیالی پلاؤ تھے۔ شادی کی تیاری کے سلسلے میں مشاورت جاری تھی۔ میرے عزیز دوست اعجاز احمدچودھری صاحب اور ان کے گھرانے کی خواہش تھی کہ شادی کا سارا فنکشن میں اُن کے گھر میں کروں۔ وہ اچھرہ شاہ جمال علاقہ کے چودھری تھے ،وسیع و عریض گھر میں رہائش پذیر تھے۔گھر کا لان ہی بہت بڑا نہ تھا اُن کے والدین کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا دل بھی دیاتھا۔ اعجاز بھائی کے والدین مجھ سے اپنی اولاد جیسی محبت کرتے تھے۔ اُن کی والدہ میں ہمیشہ مجھے اپنی والدہ کی جھلک نظر آتی تھی، شاید اُن سے شکل بھی ملتی جلتی تھی ۔ میری بری کا سامان انھوںنے بنایاتھا۔ جو بھی گولڈ مجھے توفیق ہوسکی اور ضروری سامان جس کا مجھے علم نہ تھا، سب انھوںنے مجھے تیار کرکے دیا۔ وہ ایک بے سہارا، بے گھر کا گھر بسانے جارہی تھیں۔ وہ ایک ماں کی جگہ پر تھیں، انھیں میری ذہنی کیفیت کااندازہ تھا۔
خیر شادی کاانتظام کہاں کروں ؟یہ میرے لیے ایک درد سر بنا ہؤاتھا۔ وجہ یہ تھی کہ میں کسی کے گھر میں رہنے کے آداب سے ناواقف تھا۔ اتنے بڑے گھر میں رہنامیر ے بس کی بات نہ تھی۔ اعجاز بھائی کہتے تھے کہ دوتین ماہ ساتھ رہ لو بعد میں اپنے گھر چلے جانا ۔ اُن لوگوں کی شفقت اور محبت مجھے بے بس کیے ہوئے تھی۔ ایک طرف ہر قسم کی آسانی ہر آسائش میسر تھی، شادی کی تمام تقریبات دھوم دھام سے ہونی تھیں۔ لیکن دوسری طرف اللہ نے میرے ذہن میں ایک بات ڈال دی کہ ہاتھ پاؤں اپنی حیثیت کے مطابق پھیلانے چاہئیں، بندہ ہمیشہ اپنی حیثیت اور اوقات کے مطابق فیصلہ کرے تو زیادہ بہتر ہے۔چنانچہ میں نے اعجاز بھائی اور ان کے والدین کو اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا ۔ انہیں بالکل خوشی نہ ہوئی جیسے اُن سے نیکی کا نادر موقع چھن گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ اعجاز بھائی کے والدین کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ،آمین۔
بہرحال ایک مرحلہ طے ہؤا کہ شادی مجھے اپنے گھر میں کرناتھی۔
اسلام پورہ میں جناب امیرالعظیم صاحب کی ہمسائیگی میں چار کمروں کا ایک پرانا گھر کرائے پر لیا۔ یہ ایک نابینامیاں صاحب کاگھر تھا، انھوںنے بہت شفقت اور محبت سے گھر ہمارے حوالے کیاتھا۔ دوستوں سے مشورہ کرکے گھر کا ضروری سامان، جس میں ۶ چمچ ،۶ پلیٹیں ، ۶ گلاس،کچھ سٹیل کے برتن ،ایک دیگچیوں کا سیٹ لیا، گویا گھر کا پورا سامان خرید لیا تاکہ بیگم کو کوئی پریشانی نہ ہو۔
ایک اکیلے کی بارات

صبح بارات کے لیے جانا تھا ۔ رات کو بہت سے دوست اوران کے اہل خانہ میرے گھر آئے ۔ میں اس وقت ماں باپ کو یاد کرکے رو رہاتھا۔ دوست سمجھانے لگے کہ شادی کی رات کون روتاہے۔ میں نے کہاکہ یہ میرے بس کی بات نہیںہے۔
صبح سویرے اللہ کانام لے کر بارات جہانیاں کے لیے چل پڑی ۔ خواتین کے لیے ایک بڑی کوسٹر کاانتظام کیاگیاتھا۔ باقی دوستوں میں تقریباً ڈھائی سو کے قریب میرے جمعیت کے ساتھی تھے۔ میاں چنوں جا کر جہانیاں کے لیے تیاری کی ۔ حفیظ صاحب جناح کیپ پہنے ہوئے تھے ۔ جناب طیب صاحب سہرا پڑھ رہے تھے اور جناب ڈاکٹر محمود عالم صاحب میرا چہرہ رگڑ رگڑ کر صاف کررہے تھے۔
ہم لوگ تیاری کرکے بر وقت جہانیاں پہنچے ۔ ہمارا پرتپاک استقبال کیاگیا۔ سفر کی تھکاوٹ تھی ۔ دوستوں کے ساتھ مل کر وہاں صوفوں پر ہی تھوڑا آرام کیا۔ ماحول بہت پُرسکون تھا کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ تھی۔ مسجد حقانی ( جو ان کے اپنے بزرگوں نے بنائی تھی) میں نکاح ہؤا، کھانا کھایا۔ لمبے سفر کی وجہ سے بزرگوں نے واپسی کے لیے سفر شروع کرادیا۔ رخصتی کروا کے ہم لوگ لاہور کے لیے روانہ ہوئے اور رات دو بجے کے قریب لاہور واپس پہنچے۔ میری اس وقت حیرانی کی انتہانہ رہی کہ ۲۳اور ۲۴نومبر کی درمیانی شب کافی ٹھنڈا موسم تھا مگرنصف شب میرے دوست امیرالعظیم صاحب کی والدہ اور بہنیں گلی میں دلہن کے استقبال کے لیے موجود تھیں۔ انھوں نے دلہن کا پُرتپاک استقبال کیا اور اندر لے گئیں۔ اگلے دن ولیمہ تھا۔ دوستوں نے بہت گرمجوشی سے شرکت کی بلکہ ان کی بہنوں اور ماؤں پہ مشتمل دو سوکے قریب خواتین بھی شامل ہوئیں۔ شادی مکمل ہوئی مگر پتہ چلا کہ اب جہانیاں بھی جانا ہے۔ میری اہلیہ کے بھائی محترم خالد حمید سلیمانی نے گاڑی چلائی، میرا وہ سفر سوتے ہوئے گزرا۔ اللہ جانے انہوںنے کس مشکل سے گاڑی چلائی ہوگی۔
بنگالی کادیدار
جہانیاں پہنچے، گھر میں داخل ہوئے تو ایک عجیب احساس تھا ۔ سب لوگ میری طرف دیکھ رہے تھے ۔ میں حیران تھاکہ یہ لوگ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں؟ ان کی نظروں میں اپنائیت بھی تھی مگر پھر مجھے سمجھ آئی کہ وہ ایک بنگالی کو دیکھ رہے تھے۔ ہر نظر میں ایک سوال بھی تھا۔ یہ کسی گھریلو تقریب میں میری پہلی شرکت تھی۔ خواتین کی گفتگو میں میرے پلے کچھ نہیں پڑ رہاتھا۔ ان کے گھورنے کا سلسلہ بڑھ رہاتھا۔ بیگم چپ چاپ مزہ لے رہی تھی اور بہنوں اور سہیلیوں سے باتیں کررہی تھی کہ اتنے میں عبدالوحید سلیمانی صاحب مجھے نظر آئے اور میں نے شکر ادا کیا۔وہ میرا سہارا بنے اور مجھے لے کر اپنے بڑے بھائی (میرے سسر) کے کمرے میں آگئے جہاں ان کے ساتھ نثار احمد زاہد صاحب بھی تشریف رکھتے تھے ( جو اَب میرے ماموں سسر تھے)۔ کمرہ بظاہر بہت بڑا نہ تھا مگر ابو کے دل کی طرح بہت گنجائش رکھتاتھا۔ میں نے حکیم عبدالحمید سلیمانی صاحب کو بہت باوقار پایا ۔ سب ان کابہت احترام کررہے تھے۔ بہت سی خواتین بھی انھیں مبارک باد دینے کے لیے آ رہی تھیں اوروہ سب سے انتہائی احترام اور محبت سے پیش آ رہے تھے۔
میرے سسر عبدالحمید صاحب ( مرحوم) ایک مشہور اور قابل طبیب تھے۔ ۲۰ سال کی عمر میں ہی حکمت کی تعلیم حاصل کرکے اپنے والد محترم حکیم عبداللہ سلیمانی صاحب (مرحوم) کے ساتھ مطب پر بیٹھتے تھے۔ حکیم عبداللہ صاحب ( مرحوم )(روہڑی والے) انڈیا کے شہر ضلع حصار سے تعلق رکھتے تھے اور وہاں کے معروف حکیم تھے۔ اردو ڈائجسٹ کے مدیر الطاف حسن قریشی صاحب نے ایک ملاقات میں بتایا کہ انڈیا کے اس علاقے میں کبھی مسلم ہندو فسادات نہیںہوئے تھے۔ حکیم صاحب کو وہاں کے تمام لوگ مانتے تھے اور اُ ن کی بہت عزت کرتے تھے ۔ حکیم صاحب ضلع حصار اور دیگر کئی اضلاع کے جماعت اسلامی کے امیر بھی تھے۔ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو انھوںنے ہجرت کی اور جہانیاں ضلع خانیوال میں سکونت اختیار کی اور پھر ساری زندگی وہاں مقیم رہے۔
اُن کے بڑے بیٹے کانام عبدالحمید تھا ۔ اُن کی شادی چودھری نذیر احمد صاحب کی بیٹی سے ہوئی جو متحدہ ہندستان میں تحصیل دار تھے اور مولانامودودیؒ مرحوم کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ پاکستان آکر

انھوںنے ملتان میں مستقل سکونت اختیار کی اور وہاں جامعۃ العلوم مسجد اور مدرسہ قائم کیا جوآج بھی قائم ہے۔ میری ساس صاحبہ انتہائی دیندار ،سادہ مزاج اور مہمان نواز خاتون ہیں۔ خلق خدا کی خدمت اُن کی سرشت میں شامل ہے ۔ اب وہ کا فی بزرگ ہوگئی ہیں۔ ہمیشہ اُن کے گھر میں بہت مہمانداری رہی مگر میں نے دیکھاکہ وہ اس مصروفیت سے کبھی گھبرائیں نہیں ۔ اللہ تعالیٰ انھیں صحت اور عافیت کی زندگی عطا فرمائے ،آمین۔
جہانیاں کا سفر میرے لیے انتہائی خوشگوار رہا۔ سب نے بہت آؤ بھگت کی۔ بہت زیادہ پیار اور عزت دی ۔ یہ میرا امتحان بھی تھا ،میں فیملی لائف کے طور طریقے اور رہن سہن سے بالکل نا آشناتھا۔ میں نے کوشش کی کہ انجانے میں مجھ سے غلطی نہ ہو جائے ۔ خیر جہانیاں دودن گزار کر واپس لاہور رہنے کے لیے اپنے گھر میں پہنچے ۔ ہمارا چھوٹا سا گھر ہمیں بہت پیاراتھا۔ علاقے کے لوگوں نے ہمیں بہت پیار اور عزت دی ۔ میں صبح ہی مقررہ وقت پر آفس چلا جاتا ۔ امیرالعظیم صاحب کی والدہ محترمہ میری بیوی کا بہت خیال رکھتیں ۔ وہ بہت شفیق خاتون تھیں۔ انھوںنے ہمیں ماں جیسی محبت سے نوازا ۔ اللہ تعالیٰ انھیں غریق رحمت کرے ،آمین۔
مجھے یہ بات بتانے میں خوشی محسوس ہوگی کہ ہم نے ہمیشہ بہت قناعت سے کام لیا۔ ہمیشہ اللہ پر بھروسہ کیا اور اللہ کو مدد گار پایا ۔ حقیقت یہ ہے کہ میری بیگم نے میرے ساتھ بڑا تعاون کیا ۔ میں بنگالی کلچر میں بڑاہؤاتھااور وہ یہاں پنجاب کے کلچر میں پلی بڑھیں۔ یقیناً انھیں میرے ساتھ زندگی گزارنے میںکافی دقت پیش آئی ہوگی۔ فیملی کے لوگوں کے ساتھ رابطہ اور برتاؤ اُن کی ذمہ داری تھی ۔ اسی طرح پڑوسیوں سے میل ملاقات اور ان سے تعلق نبھانا بھی ان ہی کی ذمہ داری تھی۔ ہم جہاں بھی گئے الحمدللہ ہمارا پڑوسیوں سے بہترین میل ملاپ رہا۔ گھر کے سارے کام کاج کے ساتھ قرآن پڑھنے اور پڑھانے کا ہمیشہ اہتمام کرتی رہیں۔ جماعت کے گھرانہ میں پلنے بڑھنے کے اثرات اُن کے اندر موجود تھے۔ الحمدللہ گھر میں قرآن پاک پڑھنے اور پڑھانے سے اللہ کی رحمت برستی ہے ۔ اللہ پاک مصیبتوں سے محفوظ رکھتا ہے ۔ وہ گھر اللہ کی رحمت کے سائے میں رہتاہے، گھر اور گھر والے شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہتے ہیں ۔ قرآن پاک سے جڑے رہنے سے انسان بہت سی برائیوں سے محفوظ رہتاہے اور اللہ تعالیٰ بھی کو تاہیوں سے درگزر فرماتے ہیں۔
والد سے ملاقات
وقت گزرتاگیا اللہ پاک نے ہمیں دو بیٹے اور دو بیٹیوں سے نوازا ۔ بچے سکول جانے کی عمر میں آئے تو ہم لوگ اسلام پورہ سے علامہ اقبال ٹاؤن کریم بلاک میں منتقل ہوگئے۔ سکول بھی قریب تھا، مارکیٹ بھی اور دیگر سہولتیں بھی موجود تھیں۔
خط و کتابت شروع ہونے کے بعد میرا ڈھاکہ میں گھر والوں سے رابطہ استوار ہو گیا تھا۔ میں نے اپنے والد صاحب کو پاکستان آنے کی دعوت دی ۔میری حیرت اور مسرت کی انتہا نہ رہی جب وہ راضی ہو گئے ۔ میں نے انھیں دعوت نامہ اور اوپن ٹکٹ بھیج دیا تاکہ انھیں ویزہ ملنے میں آسانی ہو۔ ساتھ ہی میں نے حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے درخواست دے رکھی تھی جو اللہ کے کرم سے قبول ہوگئی اور میں حج کی تیاری کرنے لگا۔
ادھر والد محترم پاکستان آنے کے لیے اپنے بڑے بیٹے کے پاس ڈھاکہ پہنچ چکے تھے۔ میرے بڑے بھائی جو کہ ریٹائرڈفوجی آفیسر تھے انھوںنے والد صاحب کی اوپن ٹکٹ پر سیٹ کنفرم کروادی ۔ والد محترم مقررہ فلائٹ سے کراچی پہنچے ۔ میں حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد ایک دن پہلے ہی لاہور پہنچا تھا۔وہاں سے کراچی آیا اور سسر محترم کے ساتھ والد صاحب کا کراچی ائیر پورٹ پر استقبال کیا۔
اگلے دن صبح ہم نے لاہور کی فلائٹ لی، اور میں والد محترم کو ائیرپورٹ سے اپنے گھر لایا۔ میرے لیے یہ عجیب لمحات تھے! وہ وقت بھی تھا جب مجھے لگتا تھا کہ میں اپنے والدین اور گھر والوں کی صورت کبھی دوبارہ نہ دیکھ سکوں گا،دوملکوں کے درمیان فاصلوں کے ساتھ ساتھ تلخ ماضی کی خلیج حائل تھی۔ ایک نوعمر لڑکے نے اپنی زندگی کا بہت بڑا فیصلہ خود کیا تھا،گھر بار، اپنوں کو چھوڑ کر اپنے وطن کی طرف ہجرت کی تھی ، گویا

کشتیاں جلادی تھیں۔ اب اللہ نے اپنی رحمت سے ایسا بندوبست کیا کہ میں سالہا سال بعد ایک بار پھرنہ صرف اپنے والدسے مل رہا تھا بلکہ انہیں اپنے کنبے سے ملوا رہا تھا۔
والد محترم میرے گھر آکر بہت مطمئن ہوئے ۔ میرے بچوں کو دیکھنا ان کے لیے نہایت پر مسرت تجربہ تھا۔ بچے بھی داد ا کو دیکھ کر ان سے مل کر بہت خوش تھے۔ گھر میں ایک بزرگ کے آنے سے گھر کی رونقیں بڑھ گئی تھیں۔ میں مقررہ وقت پر آفس سے گھر آتا کیوں کہ ابو انتظار کررہے ہوتے تھے۔ ایک دن ابو نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا اور کہنے لگے کہ میں تمھاری بیگم سے قرآن پاک پڑھنا چاہتاہوں۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی مگر اُن پر ظاہر نہیںہونے دیا ۔میں نے کہا ضرور، آپ مل کر قرآن پڑھ لیا کریں ۔مجھے حیرانی اس لیے ہوئی کہ ابو کو اپنے بچپن سے ہی قرآن پاک باقاعدگی سے پڑھتے دیکھاتھا۔ خیر میں نے اگلے دن بیگم سے بات کی اور صبح دس بجے کا وقت طے ہؤا۔ میں آفس چلا جاتا، بعد میں ابو اور بیگم مقررہ وقت پر قرآن کا مطالعہ کرتے۔
تقریباً ایک ماہ گزرنے کے بعد ابو نے مجھے بلایا اور کہا کہ تم پاس رہو ،بس، مزید کوئی اور بات نہ کی۔ پھر انھوںنے مجھے کہاکہ میں تمھارے سسرال والوں سے ملنا چاہتاہوں۔ اُن کی طرف سے پہلے ہی دعوت آچکی تھی۔ میں نے چاہا کہ انھیں بیگم کے ساتھ بھیج دوں لہٰذا میں نے نثار احمد زاہد صاحب ( ماموں سسر )سے درخواست کی کہ وہ ساتھ چلے جائیں۔ اُن کی مہربانی کہ وہ مان گئے۔ خیر یہ سب لوگ جہانیاں پہنچے، وہاں میرے سسرال والوں نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ خوب آؤ بھگت کی گئی ۔ میرے والد صاحب کو بھی وہ لوگ بہت پسند آئے۔ وہاں اور لوگوں سے بھی ملاقات کی۔ انھیں حقانی مسجد جو ( میرے سسر صاحب کے والد حکیم عبداللہ صاحب نے بنوائی تھی ) بہت پسند آئی ۔ مسجد بہت صاف ستھری اور خوبصورت تھی۔ حکیم صاحب کی وفات کے بعد پھر ان کے بیٹے حکیم عبدالحمید صاحب اور دیگر بھائیوں نے اس کے انتظامات کی نگرانی کی۔ میرے والد صاحب اس بات سے بہت خوش تھے کہ سب لوگ دین سے جڑے ہوئے ہیں۔
دو دن کے بعد جب میں جہانیاں گیا تو وہ مجھ سے بہت اداس تھے۔ مجھے دیکھ کر بہت خوشی کااظہار کیا اور کہاکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اچھے اور دیندار خاندان سے جوڑ دیا ہے، میں اس سے بہت مطمئن ہوگیاہوں۔ جب وہ واپس بنگلہ دیش پہنچے تو وہاں جا کر بھی انھوںنے میری بیگم اور اس کے خاندان کی بہت تعریف کی، یہاں کے لوگوں کی بہت تعریف کی اور خاص طور پریہاں کے لوگوں کی دین سے وابستگی اور مسجد سے تعلق کو بہت پسند کیا۔وہ خود بھی میرے پاس قیام کے دوران کریم بلاک کی مسجد ابوہریرہ میں بہت پابندی سے نماز کی ادائیگی کے لیے جاتے تھے۔
اُن کااطمینان میرے لیے بہت مسرت کی بات تھی۔ ایک باپ اپنے بیٹے کے فیصلے پر خوشی کااظہار کررہاتھا ۔ یہ سب اللہ کی خاص مہربانی اور میرے دوستوں کا خلوص تھا۔ خاص طور پر عبدالوحید صاحب ،عبدالحفیظ احمدصاحب اور طیب گلزار صاحب کی مہربانی جنھوںنے مجھے ایک اچھے خاندان سے جوڑ دیاتھا۔ بچے اپنے دادا سے بہت مانوس ہوچکے تھے اور اسی طرح ابوبھی ان سے بہت قربت محسوس کرتے تھے ۔
ابو کا ڈھاکہ جانے کاوقت بہت قریب آچکاتھا۔ ہم سب بہت اداس تھے ،ابوکا بھی یہی حال تھا مگر واپس تو جاناتھا، ویزے کی مدت ختم ہو رہی تھی۔ وہ واپس ڈھاکہ چلے گئے اور وہاں جا کر وفات تک وہ اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ پاکستان کا تذکرہ بہت محبت سے کرتے رہے ۔
(جاری ہے)
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x