ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

توبہ ، صرف توبہ – بتول فروری ۲۰۲۲

یہ واقعہ 1947 سے پہلے کا ہے ۔میری پیاری امی جان ممتاز اختر صاحبہ کے ننھیالی گائوں میں واقعہ وقوع پذیر ہؤا ۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔
کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہر چیز سے نوازتا ہے اور نواز تا ہی چلا جاتا ہے ۔ جس طرح کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ غریبی بے کسی بے چارگی میں آزماتا ہے ۔ اس طرح کچھ لوگوں کودولت ، اقتدار اور دنیا کی نعمتیں دے کر بھی آزماتا ہے کہیں وہ صبر آزماتا ہے ۔ کہیں وہ شکر اور دولت یقیناایک آزمائش ہے اگر دولت گمراہی کے دروازے کھولتی ہے انسان کواللہ سے غافل کرتی ہے اس کورعونت تکبر میں مبتلا کرتی ہے ۔
حالانکہ یہی دولت اگراچھے انسان کے پاس ہو تو فضل کریم بن جاتی ہے ۔ ایسا انسان غریبوں اور دکھی دلوں کا سہارا بن جاتا ہے کتنے گھرانے اس گھر سے فیض یاب ہوتے ہیں کتنے سکول ان کی بخشی ہوئی گرانٹ سے چلتے ہیں ۔ کتنے شفا خانے وہ کھول دیتے ہیں دولت اپنے ہوس کا پیٹ بھرنے کے لیے سنبھال کر نہیں رکھتے وہ مصلح قوم بن کر اٹھتے ہیں ۔ بڑے بڑے ریفارمز کے نام رہتی دنیا تک زندہ رہتے ہیں آنے والی نسلیں انہیں یاد رکھتی ہیں ۔
لیکن وہ عورت جس کا نام میں دانستہ نہیں لکھ رہی اسے اللہ تعالیٰ نے ہر آسائش دے رکھی تھی ۔ اس کے کئی مربعے اراضی، کھیت کھلیان مال مویشی کے علاوہ بہترین سسرال ۔ بہترین پڑھا لکھا خوبصورت شوہر اوردو پیارے پیارے بیٹے ایک نعمت عظیم کے طور پر اس کے آنگن میں کھیل رہے تھے ۔ اس کے باغات پھلوں سے لدے ہوئے تھے اس کے کھیت کھلیان ہرے بھرے تھے ۔ اپنا ٹیوب ویل تھا ۔ مزارع تھے ، گھر میں دس بھینسوں کا دودھ تھا ۔ کچھ دکان پردیا جاتا ، کچھ گھر میں استعمال ہوتا ۔ رزق ہی رزق تھا ۔ اس کا شوہر تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا ۔ ساس اور سسر تھے ۔ جو بہت اللہ لوک قسم کے انسان تھے ۔ ان کی اولادیں یکے بعد دیگر ہوکر انتقال کرتی رہیں ۔ اسی وجہ سے ان کے دل نرم اورمزاج میں خوف خدا اتنا زیادہ تھا کہ کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات نہ کرتے تھے تینوں بیٹیاں شادی شدہ تھیں اور اپنے اپنے گھروں میں خوش اور اپنے بچوں میں مگن تھیں۔ وہ تینوں اس کے شوہر سے بڑی تھیں ۔ اکلوتی بہو کی حیثیت سے حویلی میں اس کی بہت عزت و احترام تھا ۔ پھر اللہ نے اسے دو بیٹوں سے نوازا تھا جو اس وسیع و عریض جائیداد کے وارث تھے ۔ سا س کبھی اپنی بہو کو کسی کام پر تنگ نہ کرتی نہ اس کی مرضی کے خلاف کچھ ہونے دیتی لیکن وہ عورت اپنی تنگ مزاجی اور رعونت کا اکثر و بیشتر مظاہرہ کرتی رہتی ۔ لیکن ساس پردہ پوشی کرتی رہتی وہ کام والی عورتوں بچیوں کو چھوٹی سی غفلت پر اپنے پیر سے کھسہ اتار کر دے مارتی یا ڈنڈے سے دھنائی کر ڈالتی اگر اس کی ٹانگیں دباتے دباتے کسی بچی کو اونگھ بھی آجاتی تو وہ کھینچ کر وہی ٹانگ دے مارتی وہ لڑکی چار پائی سے الٹ کر گرجاتی۔
اس کے دونوں بیٹے اس وقت تک کالجوں میں پہنچ چکے تھے ۔ اس دوران ساس سسر سال کے وقفے سے اللہ کو پیارے ہو گئے اب گھر کی مکمل حکمرانی اس کے ہاتھ میں تھی انہی دنوں اس کا بڑا بیٹا ایک دن ایک ایرانی بلی شہر سے خرید لایا مخملیں بالوں والی اور بہت ستھری خوبصورت ادائوں والی بلی نے اپنی شرارتوں اور ذہانت سے آتے ہی سب کے دل جیت لیے گھر میں ایک بچے کی طر اس کی آئو بھگت شروع ہوگئی تھی ایک تو ایسی بلی کسی نے دیکھی نہ تھی اور پھر ایسی خوبصورت کہ بے ساختہ پیار آجائے اس کا بڑا بیٹا خود اس کے بالوں میں کنگھی کرتا اسے نوکروں کے ساتھ مل کر نہلاتا ۔ اس کی خوراک کی خبر گیری کرتا ۔بلی ’’ جس کا نام ’’ مانو‘‘

تھا وہ بھی اس کے ارد گرد لیلیٰ بنی پھرتی ۔ گودی میں چڑھ کر بیٹھی رہتی۔ اس کے ساتھ سیر پہ جاتی۔ وہ کھیلتا تو آرام سے اس کا کھیل دیکھتی رہتی ۔بیٹا ہاسٹل واپس تو چلا گیا لیکن و ہ ’’بلی ‘‘ کی خیریت معلوم کرنے کے لیے بے چین رہتا ۔ ان دنوں خط ہی ذریعہ معلومات تھے ۔ بیٹا ہر خط میں فرداً فرداً جہاں سب کی خیریت پوچھتا ۔ وہیں اس ’’ بلی ‘‘ کا ذکر ضرور ہوتا ۔ ’’ مانو‘‘ نامی بلی بھی بیٹے کے گھر سے جانے کی اداسی محسوس کرتے ہوئے میائوں میائوں کرتی اسے ڈھونڈا کرتی۔ کیا آئی تھی ، گھر میں ایک مزیدار رونق کا اضافہ ہوگیا تھا نوکر چاکر بلی کی حفاظت کرتے ہوئے اس کی خوبصورت ادائیں دیکھ دیکھ کر اسی کا ذکرکرتے اور خوش ہوتے رہتے ۔شوہر بھی گھر آتا تو پہلے مانو کا پوچھتا ۔ وہ بھی میائوں میائوں کرتی اس کی ٹانگوں سے جسم رگڑنے لگتی یہ سب کچھ اس جاگیر دارنی کو اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔جوں جوں گھر والے اس کے لاڈ اٹھاتے یہ توں توں اس سے چڑنے لگتی۔
’’ پتا نہیں یہ منحوس کہاں سے اٹھا لایا ہے میرا پتر ؟ پوری ریچھ کی ریچھ … کتنی خوراک کھا جاتی ہے ۔ مرن جوگی…‘‘ وہ غصے سے بڑ بڑاتی رہتی لیکن وہ شاید سب کی آنکھوں کا تارا تھی ۔ اس کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھا اس کے لیے آرام دہ بستر تیار کیا گیا تھا اچھی پلیٹیں تھیں ۔ جنہیں نوکر روزانہ دھوتے تھے ۔ اس روز بھی شوہر باہر سے آیا تو اس کے ہاتھ میں بڑے بیٹے کی چٹھی تھی ۔ چودھری نے خط پڑھ کر سنانا شروع کیا تووہ شوق سے سننے بیٹھ گئی اس کا بیٹا ماں سے کتنا اداس ہو گا ۔ وہ مجھے ضرر یاد کرتا ہوگا اسے گھر یاد آتا ہوگا لیکن جب چودھری نے خط پڑھا تو اسے بلی سے مزید نفرت ہو گئی کیونکہ اس کے بیٹے نے خط میں ماں کی خیرت پوچھنے کے بعد ’’ بلی ‘‘ کے بارے میں تاکید لکھی تھی۔
’’اماں … بلی کو یاد سے روزانہ ناشتے میں ابلا ہؤا انڈا دینا … اسے قیمہ ابلا ہؤا دینا… چھیچھڑے نہیں ڈالنے ، اسے دودھ وقت پر دینا ہے … پھر وہ بسکٹ جووہ لایا تھا بلی کو روزانہ شام کوکھلانے ہیں تاکہ اس کی صحت اور بال خراب نہ ہوں … ‘‘
’’ہونہہ منحوس بلی کا ہی ذکر ہے ۔ سارے خط میں ‘‘ میری او رباپ کی خیریت تو ویسے ہی پوچھی ہے غیروں کی طرح وہ منہ پھلا کر اٹھ گئی۔ چودھری اس بات پر ہنس دیا تھا ۔
لیکن اس عورت نے نفرت اور عداوت اس بے زبان کے ساتھ ایسے باندھ لی ۔ جیسے وہ اس کی خوشیاں لوٹنے آئی ہو جتنا ۔ جتنا باپ اور بیٹے اس کی صحت کا خیال رکھتے لاڈ کرتے یہ اتنا ہی چڑتی اور دل میں نفرت کے ابال کو دبائے بیٹھی رہتی ۔
میں اس کے لیے انڈہ ابالوں ؟ اس کے لیے قیمہ ابالوں ؟ اسے چوریاں بنا کر کھلائوں ، میرے پاس کوئی وقت نہیںکہ اس کمینی کانحرہ اٹھاتی پھروں ۔
وہ دل کی پہلے بھی سخی نہیں تھی وہ یہ سمجھ نہ سکی کہ وہ ایرانی بلی عام بلی نہیں تھی ۔ اس کی خوراک سا کی صحت کے لیے ضروری تھی ۔نہ اس نے انڈہ ابالا نہ قیمہ۔ ہاں کبھی کبھار دکھاوے کے یے انڈا بھی ابال لیتی ۔ جب اسے پتا چلتا کہ بیٹا شہر سے آنے والا ہے ۔شوہر اپنی ذمہ داریوں میں مگن تھااور نوکر وہی کام کرتے تھے جس کا حکم ان کی مالکن دیتی تھی ۔ بلی پہلے سے کمزور ہونے لگی اور اس کے بال جسم سے اترنے لگے تھے۔اسے بلی سے مزید نفرت محسوس ہونے لگی تھی۔وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ بلی کم خوراکی کی وجہ سے دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے ۔ حالانکہ ان کے گھر میں اللہ کی ہر نعمت تھی لیکن وہ جان بجھ کر اس کی خوراک میں ڈنڈی مار جاتی۔ نوکر بھی ایک دوسرے پہ کام ڈالنے کی وجہ سے جان ہی نہ سکے کہ بلی دن بدن کمزور کیوں ہوتی جا رہی ہے ؟ جب شوہر بلی کوپچکارتا ۔ اپنے ہاتھ سے چھوٹی چھوٹی بوٹیاں روٹی کے ساتھ لگا کر اس کے سامنے پھینکتا تو وہ لپک کر بھوکوں کی طرح کھانے لگتی۔ تب وہ کہتی:
’’ مرن جوگی چوہے نہیں پکڑتی بس آپ کے ہاتھ سے کھانا کھا لیتی ہے … میم کی بچی ‘‘۔
’’ تم اس کاخیال رکھ رہی ہو نا ! اس بار بیٹا آئے گا تو اسے ڈنگر ڈاکٹر کودکھائیں گے … تاکہ پتا چل سکے اس کے بال کیوں جھڑ رہے ہیں ؟ یہ پہلے کی طرح چاق و چوبند اورصحت مند کیوں نہیں رہی ؟‘‘
اس نے بلی سے ایسی خار رکھ لی جوکم ہی انسان اس پیارے جانورسے رکھتے ہیں ، شاید قدرت اس کاامتحان لے رہی تھی۔ ابھی توایک

اس نے بلی سے ایسی خار رکھ لی جوکم ہی انسان اس پیارے جانورسے رکھتے ہیں ، شاید قدرت اس کاامتحان لے رہی تھی۔ ابھی توایک بلی سے اپنے بیٹے کی محبت اس سے برداشت نہیں ہو پا رہی تھی پتا نہیں آگے چل کر کیا بننے والا تھا وہ چلتے پھرتے بلی کا کان زور سے مروڑ جاتی کبھی سوئی ہوئی بلی کے پیٹ میں زور سے لات مار کر اسے نیچے گرا دیتی بلی بڑ بڑا کر چیائوں چیائوں کرتی اٹھتی اوربستر کے نیچے دبک کربیٹھی رہتی ۔
وہ بلی کو کھلاتے ہوئے ڈنڈی مار رہی تھی وہ تو اپنے نوکروںکوکھانا دیتے ہوئے ڈنڈی مارا کرتی تھی کبھی سالان کسی دن تھوڑا ڈال دیا ۔ کسی دن چپاتی دوکی بجائے ایک کردی حالانکہ ان دنوں نوکرزیادہ تر روٹی کپڑے پر ہی ملتے تھے ۔وہ دل کی تنگی کا شکار تھی ۔ وہ اپنی اترن تک کبھی ان غریبوں کو نہ دیتی وہ کپڑں کے گٹھر بنا کرپچھلی کوٹھری میں رکھی پیٹ میں پھینکتی جاتی اسے اس بات سے غرض نہیں تھی کہ کپڑا پڑے پڑے بوسیدہ ہو جائے گا ۔ یا اسے ’’ کیڑا ‘‘ کھا جائے گا ۔ بس وہ اپنی اترن بھی کسی اور کے بدن پر برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ ساس سسر زندہ تھے تو گھر میں اناج سے زکوٰۃ نکالا کرتے ۔ غریبوں ہاریوں مسجد کے امام صاحب کاحصہ ہوتا لیکن اس نے آہستہ آہستہ ان سب سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اس کے سر کے سائیں کوعلم ہی نہ ہو سکا وہ زمینوں اور پانی کے جھگڑوں میں الجھا ہؤ ا تھا ۔ اسے کتنی بار ضلع کچہری کے چکر لگانے پڑتے تھے ۔ ان کے پانی کی باری میں ایک دوسرا زمیندارہمیشہ ڈنڈی مار جاتا تھا ۔ گھر کی مکمل اجار ہ داری اس کے ہاتھ میں تھی اور وہ اپنے سامنے کسی کو کچھ دینے کے لیے تیار نہ تھی ۔ اتفاق سے اس دن انہیں چند روز کے لیے اپنی نند کے بیٹے کی شادی کے لیے دوسرے گائوں جانا پڑا…اس کے سازشی دماغ نے اسے مشورہ دیا کہ یہ بہترین وقت ہے کہ اس ’’ بلی ‘‘ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جان چھڑا لی جائے ۔ اس کا شوہر خود دروازے کنڈیاں چیک کر رہا تھا ۔ اسی لمحے اس عورت نے چپکے سے مانوبلی کو پچکارا … بسکٹ دکھاتے ہوئے مانو بلی کو پچھلی کوٹھڑی کی طرف بلایا ۔ مانو بلی جونہی اندر گئی اس نے جھٹ سے دروازہ بند کر دیا ۔شوہر ہر کمرے کو چیک کرتا کنڈیاں لگاتا آیا تو اس نے بند کمرے کو دوبارہ چیک کرنا ضروری نہ سمجھا ۔ بیٹے ایک رات قبل ہی شہر سے لوٹے ۔اب شادی کی خوشی میں شاداں و فرحاں تیار ہو کر گھر کے اپنے ٹانگے میں سوار ہو چکے تھے ۔ دوسرے ٹانگے میں ان کے بیگ رکھے گئے تھے … شوہر نے فکر مندی سے اس عورت سے پوچھا ’’ مانو کہیں نظر نہیں آ رہی …‘‘ اس عورت نے تنک کر جواب دیا۔
’’ بلی ہے جانور … کسی درخت پر سوئی پڑی ہو گی … آپ فکر کیوں کرتے ہیں۔ ابھی نیچے اتر آئے گی مہارانی… نوکر خیال رکھ لیں گے اس کا …‘‘
چودھری (شوہر) نوکرکو گھر کی حفاظت اور بلی کی خصوصاً خوراک کے بارے میں نصیحتیں کرنے کے بعد روانہ ہو گئے۔ اپنے بچوں اور شوہر کوبتانے کی خاطر وہ جتنا جھوٹ بول سکتی تھی وہ بول رہی تھی ۔ نوکرانی کو خصوصی تاکید کرنے لگی ۔
’’دیکھو جبراں ہماری مانو سب کی پیاری ہے ۔ دودھ پیالی میں روزانہ تازہ دینا ‘‘۔ نوکرانی سر ہلاتی رہی ۔ یوں وہ لوگ اپنے ٹانگے پردوسرے گائوں روانہ ہوگئے ۔ دوسرے ٹانگے پہ ان کاسامان رکھا تھا … وہاں انہیں دو ہفتے سے زیادہ لگ گئے … واپس آئے تو ٹانگے سے اترتے ہی بچوں نے مانو کو زور زور سے آوازیں دیں … وہ اپنی مانوں سے شدید اداس ہو رہے تھے … ان کا خیال تھا ابھی وہ آکر ان کی ٹانگوں سے لپٹ جائے گی اور گود میں آتے ہی خر خر کرنے لگے گی ۔ لیکن وہاں گھر میں ایک پر اسرار سا سناٹا طاری تھا … نوکر خاموش کھڑے تھے کوئی انہونی شاید ہو چکی تھی … جسے وہ زبان پر لاتے ہوئے بھی ڈر رہے تھے ۔ چودھری نے نوکر کو چابیاں دیں ۔ تالے وغیرہ کھولے گئے پورے گھر میں نامانوس سی بو پھیلی ہوئی تھی ۔
’’ دیکھو یہ کیسی مردار کی بو لگتی ہے … میں ڈیوڑھی میں بیٹھتا ہوں … کوئی چوہا مر گیا ہے شاید … ‘‘
دونوں بیٹے اور چودھری ڈیوڑھی میں چلے گئے تاکہ چودھرائن نوکروں سے کمروں کی صفائی اچھی طرح کروا لے چودھرائن نے نوکرانی کے ہمراہ ’’پسار ‘‘ کا دروازہ کھولا ۔ سامنے وہ خوبصورت بالوں اورچمکدار آنکھوں والی بلی اپنے پنجوں پر سر رکھے رکھے بیٹھے بیٹھے ایسے مر گئی تھی جیسے کھلونا پڑا ہو موت سے جنگ کرتے ہوئے وہ کتنا تڑپی تھی ، اس کی نشانی دیوار پر لگے اس کے کھرونچوں کی شدت سے نمایاں تھی ۔ بلی کو مرے ہوئے غالباً چار یا پانچ دن ہو چکے تھے ۔ اس کے بالوں میں کیڑے مکوڑے رینگنا شروع ہو گئے تھے اس کا شوہر اور بیٹے اس حادثے کی سنگینی سے آگاہ ہوئے تو بیٹوں نے باقاعدہ رونا شروع کر دیا ۔ اس کا شوہر بھی کم افسردہ نہیں تھا ۔ وہ تڑپ کر بولا:

’’ جب میں باربار کہہ رہا تھا اور پوچھ رہا تھا کہ پہلے بلی کو دیکھو … کدھرہے ؟ مجھے بتائو ؟… میں نے ایک ایک کمرہ خود دیکھا تھا ۔ اس پسار میں وہ آج تک کبھی گئی نہیں تھی … تو پھر اس دن کیسے چلی گئی … اور اس پسار کی کنڈی کس نے لگائی تھی ؟‘‘
ایک چھوٹی کام کرنے والی لڑکی جس کی عمر بمشکل آٹھ یانو سال ہو گی اچانک بولی’’ آپا جی نے لگائی تھی … میں اس وقت یہاں سامنے ڈولی میں برتن رکھ رہی تھی۔ آپا جی ( چودھرائن) نے خود بلی کو اندر بلایا اور پھر کنڈی لگا دی ۔میں نے سمجھا بلی کو اندر ہی بند کر کے جانا ہے کہیں کوئی پکڑ کر نہ لے جائے ۔ میں نے سمجھا ۔ بلی کی خوراک پانی اندر ہی ہے‘‘۔
وہ کانپ کانپ کر بات کر رہی تھی ۔ اپنی معصومیت سادگی میں وہ سارا بھانڈا پھوڑ رہی تھی ۔
چودھرائن کی حالت ایسے تھی جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔اسے امید نہیں تھی اس کے جرم کی عینی شاہد اس کے گھر میں ہی چھوٹی نوکرانی ہو گی ۔
بیٹے اور شوہر کی آنکھوں میں آج اس کے لیے کوئی ہمدردی نہیں تھی ۔ شوہر کی آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں ۔
’’ تم نے … تم نے ایسا کیا ؟ … کیوں کیا … ؟ بولو … ایک بے زبان کی جان لے کر تمہیں کیا ملا … کیوں مارا ہے تم نے اسے بھوکا پیاسا ؟ ’’ لے مجھے کیا پتا تھا اندر بلی ہے … میں نے تو بے دھیانی میں کنڈی لگا دی تھی ۔ اس چھوری ( لڑکی) کی باتوں پر نہ جائو اگر یہ اتنی سیانی تھی تو اسے اس وقت آپ کو بتانا چاہیے تھا … مانو بلی کدھر ہے ؟ … اس وقت یہ کیوں نہیں بولی …؟‘‘
وہ لڑکی منمنائی ’’ آپا جی میں اس وقت باہر ’’ مجوں‘‘ کو نہلانے چلی گئی تھی … مجھے خیال ہی نہیں رہا …‘‘
’’ تو بڑی چالاک بن رہی ہے … اپنی بے بے کو ہی بتا دیتی … ہم جلدی آ جاتے ‘‘۔
’’ میرے دماغ میں یہ بات نہیں رہی جی …‘‘
چودھری سر پکڑ کر بیٹھ گیا … بچے بازوئوں میں سر دیے رونے لگے تھے ۔
’’ لے پیو پتر دیکھو … رو ایسے رہے ہیں جیسے ان کی مجیں (بھینسیں )مر گئی ہوں …‘‘
اللہ تعالیٰ کو اس عورت کی اس حرکت پر شاید اتنا غضب او رغصہ تھا کہ چند ماہ نہیں گزرے کہ ایک ایک کر کے اس کی بھینسیں مرنا شروع ہو گئیں۔ چودھری نے بہتر علاج کروایا ۔دوڑ دھوپ کی اور دیکھتے ہی چند ماہ میں ان کا طویلا خالی ہو گیا ۔لوگ ارد گرد گائوں والے بھی چودھری چودھرائن سے ان کی پندرہ بھینسوں کی موت کا افسوس کرنے آئے ۔ و ہ ان عورتوں کو جواس کے پاس آئی بیٹھی تھیں انہیں ٹوٹ کر پڑ گئی ۔
’’ وے دفع ہو جائو ۔ منحوس شکلیں لے کر آگئی ہیں ۔ افسوس کرنے فیر کی ہوگیا ۔ مجاں مریاں نے ہماری گائیاں زندہ ہیں ۔ ہمیں کوئی فکر نہیں اور آجائیں گی مجیں …‘‘
عورتیں اپنا سامنہ لے کر رہ گئیں لیکن شاید وہ اللہ تعالیٰ کی آزمائش سے گزر رہی تھی اللہ تعالیٰ نے اس مغرور عورت کے لیے عذاب کا فیصلہ لکھ دیا تھا ۔
چند ماہ گزرے پتا چلا اس کی گائیاں بھی ایک ایک کر کے کسی بیماری کا نشانہ بنتے مرنے لگی ہیں ۔ اس کا شوہر دیکھ رہا تھا اور محسوس کر رہا تھا اس کی بیوی کسی بھی لمحے اللہ کے خوف سے ڈرتی نہیں ۔ نہ اس کی زبان ڈرتی ہے جواس کے منہ میں آتا ہے بولتی ہے اور وہ عین مین اسی طرح ہو جاتا ہے وہ گائیوں کی موت پہ جب دل گرفتہ اور افسردہ سا اندرآیا تو بیوی کی حیثیت سے دلاسہ دینے کی بجائے وہ پھر زہر اگلتے ہوئے بولی۔
’’ لے چودھری… تو نے تو چودھری ہونے کا نام ہی ڈبو دیا … اب گائیاں مر گئی ہیں توکیا ہؤا؟ کون سا ہمارے گھوڑے مر گئے ہیں ۔ ہمارے گھوڑے ہی لاکھوں کے ہیں … ہمیں کسی طرح کا غم فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں … غم کریں ہمارے دشمن …جلیں ہمارے دشمن…‘‘

شاید وہ وقت جواس عورت کا توبہ کرنے کا تھا وہ اس وقت فرعون کے لشکر میں شامل ہونے جا رہی تھی ایسا لشکر جو پانی کے ایک ریلے میں بہہ گیا تھا اور جب گھوڑے بھی ایک ایک کر کے مرنے لگے تو چودھری ٹھٹکا کانپا اور اللہ کے حضور عاجزی سے جھک گیا اور اس نے آکر اپنی بیوی سے بھی کہا:
’’ چودھرائن تو بھی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ ۔ توبہ استغفار پڑھ۔ کوئی بہت بڑی آزمائش ہے جس کا ہم شکار ہوگئے ہیں ۔ آج ہم دونوں جائے نماز پہ بیٹھ کر گڑ گڑا کر اللہ کے حضور اس کی رحمت طلب کریں گے اور معافی اور توبہ استغفار پڑھیں گے اللہ ہمیں معافی دے دے ہم سے اگر کوئی غلطی ہو گئی ہے یاگستاخی سر زد ہو گئی تو ہم برملا کہتے ہیں ۔
لا الہٰ الا انت سبحانک انی کنت من الظٰلمین‘‘
چودھرین یہ سنتے ہتھے سے اکھڑ گئی ۔
’’ لے میں نے کون سا گناہ کیا ہے جس کی میں معافی مانگوں۔ یہ مال مویشی مرتے رہتے ہیں اور آجاتے ہیں ۔ دنیا سے ابھی مال ڈنگر ختم تونہیں ہو گیا ۔ ہماری زمینیں ختم تو نہیں ہو گئیں تو ختم نہیں ہوگیا ‘‘۔
’’ چپ کر جا چپ کر جا … مالک ناراض ہو گیا تو یہ حویلی رہے گی نہ زمین صرف… توبہ کر … استغفار کر … وہ بڑا رحم کرنے والا ہے ’’بخشنے والا ہے …‘‘
’’ تو بخشوا لے ۔ میری خیر ہے … بڑی زمینیں ہیں میری ‘‘ وہ نخوت سے پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے اس لمحے شاید اس عورت کو اندازہ نہیں تھا چند ماہ بعد اچانک چودھری بیٹھے بٹھائے اللہ کو پیارا ہو گیا ۔ جائیداد بیٹوں کے نام تھی دونوں نے بانٹ لی ۔ ماں کو تھوڑا سا حصہ دیا ۔ بڑے بیٹے نے چند ماہ بعد انگلینڈ جا کر تعلیم حاصل کرنے کی رٹ لگا دی اور اپنے حصے کی زمینیں ایک اور زمیندار کے ہاتھ میںماں کو بتائے بغیر بیچ دیں انگلینڈ کا ویزہ آیا تو بچی کچھی جائیداد بھی بیچ کرچلا گیا ماں کو یہ تسلی دیتے ہوئے کہ جب وہ پڑھ کر واپس آئے گا تو ساری زمینیں دوبارہ خرید لے گا نہ وہ لوٹا نہ ماں کی خبر لینے آیا ۔ ہاں البتہ خط آیا جس میں اس نے انگریز عورت سے شادی کی تصاویر بھیجیں ۔ دوسرے بیٹے نے شہر میں کسی طوائف کے چکر میں پھنس کر چپکے چپکے اپنے حصے کی جائیداد بیچ ڈالی اورخود نشے کی لت میں مبتلا ہو کر گمراہی میں پڑ گیا ۔ اس نے طوائف پر ساری دولت لٹا دی اس نے حویلی کے ایک گوشے میں رہنے کو چھوٹا سا کمرہ دے کر باقی حویلی بھی بیچ دی کہاں وہ کرو فر نوکر چاکر عیش و عشرت ، بھرے ہوئے گودام ،کہاں ایک دم چند سالوں میں عرش سے فرش پر آجانے کا لمحہ چھوٹا دو کمروں کا سائبان ۔ تھوڑی سی رقم دودھ جس کی نہریں بہتی تھیں ۔ اب اسے خرید کر پینا پڑتا تودل اندر سے کٹ کٹ جاتا کھلی آنکھوں زندگی کے نشیب و فراز کے کڑے تیور آج وہ دیکھ رہی تھی زوال کی داستان اس کے چہرے پہ لکھ دی گئی تھی۔
اپنے بڑے بیٹے کو اس نے خط لکھے کہ اسے وہ انگلینڈ بلا لے اس کا جواب آیا تو حوصلہ شکن… وہ ماں کو ساتھ رکھنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا شاید وہ سمجھ رہا تھا ماں چھوٹے بیٹے کے ساتھ حویلی میں اسی عیش و آرام کے ساتھ رہ رہی ہو گی ۔ اسے خبر نہ مل سکی کہ چھوٹا بھائی نشے کی لت میں خوار ہو چکا ہے میکے میں کوئی اس کی مددکرنے کو تیار نہیں تھا ۔والدین وفات پا چکے تھے بھائی بھابھی اپنی زندگیوں میں مگن تھے ۔ ایک دن چھت سے گری تو دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں ۔ علاج پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ہو ہی نہ سکا ۔ ٹانگیں صحیح جڑ ہی نہ سکیں ۔ وہ عورت چند سال ایسے گھسٹ گھسٹ کر زندہ رہی کہ اس کی زبان پر ہر وقت یہ ہی جملے ہوتے ۔
’’ لوگو توبہ کر لو… استغفار کر لو … اسی زندگی میں مجھے دیکھو میری غلطیوں کی سزا دیکھو ۔ میری زبان درازی کی سزا دیکھو … جس جس چیز پر ناز تھا آج وہ میرے پاس نہیں … مجھے حسن پر ناز تھا … آج میں بد صورت ہوں … مجھے دولت پر ناز تھاآج میں غریب ہوں ۔مجھے اپنے شوہر پر ناز تھا ۔ وہ آج مجھے چھوڑ گئے ہیں ۔ مجھے اپنی صحت جوانی پر ناز تھا ۔ آج میں بوڑھی اور بیمار ہوں ۔ لوگو کسی پر ظلم نہ کرنا … کسی بے زبان پر بھی ظلم نہ کرنا ۔ تو بہ کر لو … توبہ … جتنی جلدی ہو سکے … توبہ کر لو …

’’ لوگو توبہ کر لو… استغفار کر لو … اسی زندگی میں مجھے دیکھو میری غلطیوں کی سزا دیکھو ۔ میری زبان درازی کی سزا دیکھو … جس جس چیز پر ناز تھا آج وہ میرے پاس نہیں … مجھے حسن پر ناز تھا … آج میں بد صورت ہوں … مجھے دولت پر ناز تھاآج میں غریب ہوں ۔مجھے اپنے شوہر پر ناز تھا ۔ وہ آج مجھے چھوڑ گئے ہیں ۔ مجھے اپنی صحت جوانی پر ناز تھا ۔ آج میں بوڑھی اور بیمار ہوں ۔ لوگو کسی پر ظلم نہ کرنا … کسی بے زبان پر بھی ظلم نہ کرنا ۔ تو بہ کر لو … توبہ … جتنی جلدی ہو سکے … توبہ کر لو … رب کو ناراض نہ ہونے دینا ۔ اسے راضی کر لو …‘‘
اس کی پر سوز آواز گائوں کی گلیوں میں آتے جاتے لوگ سنتے اور کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ استغفار پڑھنے لگتے ۔ وہ جب تک زندہ رہی نشانِ عبرت بنی رہی ۔ وہ خود بھی اللہ سے معافیاں طلب کرتی رہی ۔’’ معاف کر دے مجھے معاف کر دے مولا … توبہ کرتی ہوں …‘‘
بے شک اللہ بہت معاف کرنے والا ہے (اپنی غلطی پر اکڑنے اور مزید غلطیاں کرتے چلے جانے کو اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں کرتے ) اللہ تعالیٰ ہم سب کومعافی اور توبہ کی توفیق بخشے اور جھوٹی انا اور غرو ر سے بچائے کیونکہ بڑائی ۔ صرف اللہ کو زیبا ہے ۔
ارشاد ِ ربانی ہوتا ہے ۔
وَھُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْن(الشوریٰ۲۵)
’’ اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی خطائوں کو معاف فرماتا ہے ۔ وہ سب جانتا ہے جو تم کرتے ہو ‘‘۔
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x