ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

بے مہرکورونا – بتول مارچ ۲۰۲۲

سچ ہی کہتے ہیں کہ جب تک کسی بھی قسم کی آزمائش خود پر نہ پڑے اس وقت تک اس کی شدت یا خوفناکیت کا اندازہ ہونا ممکن نہیں۔ ایسا ہی کچھ میرے ساتھ ہؤا۔ یہ بھی نہیں کہ کوویڈ 19 کی تباہ کاریوں سے میں بالکل ہی بے خبر تھا یا معاشرے میں گھومنے پھرنے والے دیگر افراد کی طرح ان تمام احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا جن کی ہدایات بار بار ذمہ دار محکموں کی جانب سے جاری کی جارہی تھیں، اجتناب کر رہا تھا۔ شاید ہی کبھی ایسا ہؤا ہو کہ میں نے گھر سے باہر ایسی حالت میں قدم باہر رکھا ہو کہ میرے چہرے پر ماسک نہ ہو یا میں بلا ضرورت گھر سے باہر نکلا ہوں۔ نماز پڑھنے کے لیے بھی صرف اور صرف ایسی مساجد میں جایا کرتا تھا جہاں حکومتی ہدایات کے مطابق نماز ادا کی جاتی تھی۔ بازاروں میں تو آناجانا بالکل ہی بند کر دیا تھا۔ محلے میں بھی اگر کسی ایسے اجنبی کو آتا جاتا دیکھتا جس سے شناسائی نہ ہو تو گھر کے اندر لوٹ آتا تھا۔ اکثر افراد کہا کرتے تھے کہ کورونا جیسی بیماری کا شور محض ایک ڈراوا ہے تو میں ان کو پاکستان اور پاکستان سے باہر ہونے والی اموات اور متاثرین کی تعداد بتا کر سمجھایا کرتا تھا کہ کوئی ایک دو ممالک تو جھوٹ بول سکتے ہیں لیکن پوری کی پوری دنیا تو جھوٹی نہیں ہو سکتی اس لیے لا پروائی کی بجائے احتیاط سے کام لیا جائے تو بہتر ہے۔ کچھ کو یہ بات سمجھ میں آجایا کرتی تھی اور کچھ حسب عادت طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ خاموش ہو جایا کرتے تھے۔
جب کورونا کے چرچے عام ہونے لگے تو اکثر افراد، یہاں تک کہ بیشتر ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے بھی اس شک کا اظہار کیا گیا کہ یہ بیماری نہیں کسی ملک کی ایجاد یا شرارت ہے۔ میرے اکثر دوست بھی اسی قسم کے شک کا اظہار کیا کرتے تھے لیکن میں ایک معاملے میں بہت صاف تھا۔ اگر یہ بیماری دنیا کے کسی ایک یا چند ممالک تک محدود ہوتی تو بات کسی حد تک سمجھ میں آنے والی تھی لیکن اچانک پوری دنیا کا بری طرح اس کی لپیٹ میں آجانا اس بات کی جانب واضح اشارہ تھا کہ یہ ایجاد یا شرات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک آزمائش ہے جو پوری دنیا کے انسانوں کے لیے ایک تنبیہہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کا جائزہ لو۔ میرا اس بات پر یقین ہے کہ کورونا کے جراثیم ایجاد نہیں یہ اللہ کی پیدا کردہ ایک مخلوق ہے۔ یہ یقین اس لیے بھی تھا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایجادات کرنے کی صلاحیت تو ضرور دی ہے لیکن تمام تر تخلیقی صلاحیتوں کے باوجود وہ اپنی کسی بھی بنائی (ایجاد کی ہوئی) شے کو زندگی عطا نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لاکھوں اشیا کا موجد ہونے کے باوجود بھی کسی بھی ایجاد میں یہ صلاحیت دینے میںناکام ہے کہ وہ اپنے آپ کو از خود اپنی تعداد کو بڑھانے میں کامیاب ہو سکے جبکہ کورونا کے وائرس اپنی افزائش کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی افزائش کی رفتار بھی بہت برق رفتار ہے۔
یہی وہ نکتہ تھا جس نے مجھے اوروں کی طرح یہ بات کبھی نہیں سوچنے دی کہ یہ وبا کسی ایجاد یا کسی ملک کی شرارت ہو سکتی ہے۔ اتنی صاف سوچ رکھنے والے کے لیے یہ بات ممکن ہی نہیں تھی کہ وہ کسی ایسے احتیاطی پہلو سے پہلو تہی کرے جو ناگہانی آفت میں گھر جانے کا سبب بن جائے۔ قدرت بھی چند اشیا کے ملاپ سے کوئی اور شے جنم دینے لگتی ہے ۔جیسے انسان اگر کھنکھناتی مٹی سے پیدا ہؤا ہے تو جنوں کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ آگ اور گرم لوؤں کے تھپیڑوں سے پیدا کیے گئے ہیں۔ کوئی جسم مردار ہوجائے تو اس میں کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں جو اس جسم کو خاک میں ملانے کے بعد خود بھی رزقِ خاک بن جاتے ہیں۔
غرض ہر جنم لینے والی شے کسی نہ کسی عمل کا رد عمل ہؤا کرتی ہے۔ کچن میں اگر دھوئیں اور برتنوں کی صفائی کا خیال نہ رکھا جائے تو وہاں مچھروں سے بھی چھوٹی اور مچھروں جیسی مخلوق جس کو مقامی زبان میں بھونگے کہا جاتا ہے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور جہاں گندگیوں کے ڈھیر ہوں وہاں بھی ایسے ایسے حشرات جنم لینے لگتے ہیں جن کو کبھی اور کہیں بھی نہ دیکھا گیا ہو۔ یہ بات بھی بڑی فطری ہے کہ دنیا میں ہر عمل کا ایک ردِ عمل ہوتا ہے اور ہر عنصر کے دوسرے عنصر کے ساتھ ملاپ سے کوئی نہ کوئی نئی شے جنم لینے لگتی ہے۔ آکسیجن اور ہائیڈرو جن مل جائے تو پانی وجود میں آجاتا ہے اور اسی طرح مذکورہ گیسوں کا ملاپ جل کر اتنا گرم شعلہ دینے لگتا ہے کہ وہ لوہے کی موٹی سے موٹی چادر کو پگھلا کر رکھ دیتا ہے، توکیا یہ ممکن نہیں کہ دنیا بھر میں دھواں اگلتی ملیں اور کارخانوں سے پھیلنے والی آلودگی کی وجہ سے ’’کورونا‘‘ جیسی مخلوق جنم لے سکے؟نہ جانے ان فضاؤں میں کتنے اقسام کے کیمیائی اجزات پھیلے ہوئے ہیں جس نے نیلے آسمان کی نیلاہٹ کو گنجلا کر رکھ دیا ہے اور فضا کو اس قدرآ لودہ بنا دیا ہے کہ انسانی زندگی دن بدن گہناتی جا رہی ہے۔ کورونا کے سلسلے میں میرا ذاتی تجزیہ تو یہی ہے کہ انسانوں کے اپنے ہاتھوں پھیلائی یہ فضائی آلودگی آنے والے دنوں میں کورونا جیسی بلاؤں کو متعارف کراتی رہے گی یہاں تک کہ انسان ایک دن اپنی فطری زندگی کی جانب لوٹنے پر مجبور ہو جائے گا۔
ایک وقت وہ بھی آیا جب کراچی شہر اس آفت ناگہانی کی لپیٹ میں بہت بری طرح آیا ہؤا تھا۔ کچرے اور گندگیوں کے ڈھیر اس وبا کے پھیلاؤ کو اور بھی مہمیز دے رہے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لعنت سے بچایا ہؤا تھا۔ جس وقت یہ وبا اپنی بلندی کو چھو رہی تھی ان ہی دنوں ہمارا قیام شہر کے بیچوں بیچ سے اٹھ کر کراچی سے کوئی 30 کلومیٹر دور بسائی جانے والی ایک نئی دنیا ’’بحریہ ٹاؤن‘‘ میں ہو گیا۔ ایک تو نہایت کھلی اور وسیع و عریض جگہ اور دوئم یہ کہ ہر ’’پری سینٹ‘‘ یعنی سیکٹر میں کل تعمیر ہونے والے مکانات میں سے فقط 10 فیصد کے قریب تعمیر شدہ اور اس میں بھی بصد مشکل 5 فیصد آباد تھے۔ اس لحاظ سے یہ آبادی ماحول اور فضائی آلودگی سے کراچی شہر کی فضا کے مقابلے میں یقیناً بالکل ہی مختلف تھی۔
اس خوشگوار تبدیلی نے مجھے اتنا لا پرواکردیا کہ میں وہ تمام احتیاطی تدابیر جن کو کراچی شہر کے بیچوں بیچ نہایت پابندی سے کیا کرتا تھا، چھوڑ بیٹھا۔ نہایت گنجان آبادی سے نکل کر ایک بہت ہی کم آباد بستی میں رہنا ہؤا تو سانس بھی نہایت فراخ دلی سے لینا شروع کردیے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دن بخار نے آ لیا۔ بخار کی نوعیت تو بہت معمولی رہی لیکن ہر آنے والا دن جسم کو پھوڑا بناتا گیا۔ شدید درد اور دکھن کے ساتھ ساتھ کمزوری میں بہت برق رفتاری کے ساتھ اضافہ ہونے لگا تو بحریہ ٹاؤن ہی کے ہسپتال کا رخ کیا۔ انھوں نے کورونا کا رپٹ ٹسٹ کیا اور اطمینان دلایا کہ آپ کو صرف بخار ہے کورونا نہیں، یہ کہہ کر انھوں نے گھر بھیج دیا لیکن گھر میں ایک دن گزار کر ایک بار پھر ہسپتال جانا پڑا۔ پھر وہی ریپڈ ٹسٹ اور وہی رپورٹ کہ آپ کو معمولی نوعیت کا بخار ہے۔ میری کمزوری جب حد سے بڑھی تو میں نے گھبرا کر پرفیوم کااسپرے بالکل اپنی ناک کے اندر کر ڈالا مگر خوشبو کا احساس تک نہ پاکر بیٹے سے کہا کہ بحریہ والے لاکھ اطمینان دلاتے رہیں لیکن مجھے سو فیصد یقین ہے کہ میں کورونا کی شدید ترین لپیٹ میں آ چکا ہوں لہٰذا بنا تاخیر مجھے ہسپتال لے جایا جائے۔
جونہی مجھے ہسپتال لے جایا گیا انھوں نے مجھے شیشے کے کمرے میں منتقل کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی اور یہ بھی کہا کہ آپ لوگوں نے آنے میں بے شک کافی دیر کردی لیکن پھر بھی پانی ابھی سر سے نیچے ہی ہے۔ فوراً ہائی پریشر آکسیجن پر رکھا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہر آنے والے دن کے ساتھ پریشر کم سے کم کیا جانے لگا۔
14 دن تک مجھے بستر سے پاؤں تک نہیں لٹکانے دیا گیا۔ کھانے پینے سے لے کر ہر کام بیڈ پر ہی ہوتا رہا۔ 15ویں دن جب مجھے ڈسچارج کیا گیا تو عالم یہ تھا کہ میں دو قدم بھی خود سے نہیں چل سکتا تھا۔ آکسیجن کا مستقل انتظام رکھنے کی ہدایت تھی اور چلنے پھرنے، کہیں آنے جانے یہاں تک کہ گھر میں ہر کسی کے آنے جانے تک کی پابندی کی ہدایات تھیں۔ جو شخص روز فجر کی نماز کے بعد 5 کلو میٹر باقاعدگی سے چلا پھرتا تھا وہ پانچ قدم چلنے سے بھی معذور ہوجائے، اس کے لیے یہ بات کتنے صدمے کا سبب ہوگی، اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جو خدا نخواستہ مجھ جیسے حالات سے گزرا ہو۔ ایک ماہ تک تو یہ عالم رہا کہ میں چند قدم بھی چلتا تو سانس بہت بری طرح اکھڑنے لگتا اور آکسیجن لیو ل نیچے آجایا کرتا تھا جس کی وجہ سے مجھے فوراً آکسیجن لینی پڑتی۔ کئی ماہ بعد جاکے معمولاتِ زندگی بحال ہوئے۔ اب اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میرے پھیپھڑوں کی کار کردگی بحال ہو چکی ہے اور میں اپنی معمول کی چہل قدمی پر لوٹ آیا ہوں۔
یہ بات بھی نہیں کہ میں حکومتی ہدایات کے مطابق اپنے آپ کو ویکسی نیٹڈ کرانے کا قائل نہیں تھا۔ ہوا یہ کہ تمام سینٹروں کا یہ عالم تھا کہ ہزاروں افراد کا ہجوم اور کئی کئی گھنٹوں کا انتظار ایسا کرنے میں مانع رہا۔ میں اور میری اہلیہ تین مرتبہ ان سینٹروں پر گئے لیکن ہجوم اور انتظار کی زحمت نے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔ ممکن ہے کہ کورونا کی ویکسین لگ جانے سے میں اس عذاب کا شکار نہ ہوتا یا اس کا حملہ اتنا جان لیوا نہ ہوتا لیکن شاید جو بات ہونے والی ہوتی ہے وہ ہو کر ہی رہتی ہے البتہ اسباب خود بخود ایسے ضرور پیدا جاتے ہیں جو بہانہ بن جایا کرتے ہیں۔
لکھنے لکھانے کا شوق تو کم عمری سے ہی تھا لیکن روزگار کی نوعیت میرے شوق اور ذوق، دونوں سے بالکل مختلف تھی۔ پڑھائی کے دوران بھی بزرگوں کے پوچھنے پر کہ بڑے ہوکر کیا بننے اور کرنے کا ارادہ ہے تو میرا جواب یہی ہوتا کہ صحافت کی جانب میرا میلان طبع زیادہ ہے۔ ضروری نہیں کہ انسان جو تمنا کرے وہ پوری بھی ہو۔ شومئی قسمت کہ حالات نے صرف اور صرف پیٹ تک ہی محدود رکھا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ بہت اچھی ملازمت ملی اور میں نہ صرف اپنے پیٹ کی پرورش نہایت خوش اسلوبی کرتا رہا بلکہ میرے ساتھ جن جن کے پیٹ لگے رہے وہ سب پوری طرح مطمئن اور توانا ہی رہے۔ پیٹ بے شک خالی رہے یا بھرا ہؤا، شوق اور ذوق کا گلا گھونٹنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ لکھنے لکھانے اور کہنے کہلانے کا سلسلہ سست روی کے ساتھ ہی سہی، جاری رہا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اسی ذوق اور شوق نے دل و دماغ میں ایک مرتبہ پھر سے ہلچل برپا کی۔ ہلچل کا تموج مجھے ’’اخبار نو‘‘ تک لے گیا اور یوں میں کراچی سے نکلنے والے ایک روزنامے کا سب ایڈیٹر بنا دیا گیا۔ اخبار جوائن کرنے سے پہلے میرا اپنا خیال یہ تھا کہ اخبارات کے دفاتر کا ماحول بہت زیادہ ادبی ہوتا ہوگا۔ لکھنے اور بولنے والے عام انسانوں سے بہت زیادہ مختلف اور شائستہ ہوتے ہوں گے اور ان کا انداز تکلم نہایت دھیما اور شستہ ہوتا ہوگا لیکن جو کچھ وہاں دیکھا اور سنا وہ تمام تر نہ صرف توقع کے برعکس تھا بالکل اگر میں یہ کہو ںکہ وہی سب کچھ تھا جو ہمارے معاشرے کا خاصہ ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ وہاں ہر فرد کو ہر فرد سے بڑا پایا۔ یہ ایک ایسا مسلسل رویہ تھا جس نے مجھے اس ماحول سے باہر نکل آنے پر مجبور کر دیا۔
یہ آخری پیرا گراف بتول سے وابستہ لکھاریوں کے لیے بھی خاص ہے۔ امید ہے کہ چمن بتول کے خوش الحانِ چمن اس جانب توجہ دے کر اس بات کا ثبوت فراہم کریں گے کہ ہم رسالے کے ناتے ایک برادری کی صورت ہیں اور برادری کے ہر فرد کی خیر خیریت سے ہمیں بخوبی آگاہ رہنا چاہیے۔
٭ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ بیماری کی وجہ سے آپ کی غیر حاضری ہم سب کو محسوس ہوئی ۔یقینا ہمارے قارئین بھی متفق ہوں گے ۔ ادارہ کی جانب سے نیک خواہشات ( مدیرہ)

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x