۲۰۲۱ بتول اگستبُتانِ رنگ و خون - بتول اگست ۲۰۲۱

بُتانِ رنگ و خون – بتول اگست ۲۰۲۱

وہ کہانی جو جافنا کے ساحلوں سے پھوٹتی ہے اور نیو یارک سے ہوکرکولمبو میںڈوبتی ہوئی ہمارے وطن کابہت سا عکس دکھا جاتی ہے

 

پَل کے ہزارویں حصے میں بھی لاریف ہادی اس بات کاتصور تک نہیںکرسکتا تھا کہ اس کا بیٹا’’ لبریشن ٹائیگرز آف تامل‘‘ جیسی جنگجو اور دہشت گرد تنظیم کے اجلاسوں میں شرکت کرتا ہے ۔تنظیم کے بانی ویلو پلائی پربھاکرن سے عقیدت، اس کے مقاصد سے ہمدردی اور تاملوں پرسِنہا لیوں کی زیادتیوں کے خلاف جافنا کے مضافات میں ہونے والے چھوٹے موٹے جلسے جلوسوں میں کچی پکی تقریریں جھاڑتا ہے۔ حالیہ خود کش حملوں میں مرنے والے چند نوجوانوں سے بھی اس کا یارانہ تھا ۔
اس کی آنکھوںمیں حیرت ہی نہیںتھی وہ شدید کرب سے بھی خوفناک حد تک پھیلی ہوئی تھیں ۔اس کا دل وسوسوں کی آماجگاہ بنا ہؤا تھا۔یہ کیسے ممکن ہے ؟وہ اتنا بے خبر تھا ۔کیا وہ اس پر یقین کرے یا نہ کرے ؟اس کابیس سالہ پانچ فٹ گیارہ انچ لمبی قامت والا بیٹا کب اورکیسے اس جال میں پھنسا اورکیوں پھنسا؟یہ سارے سوال جواب وہ خودسے کیے چلا جاتا تھا ۔
ڈاکٹر حسب اللہ نے آہستگی سے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔ وہ اس کے اندر کے اتار چڑھائو سے بخوبی واقف تھے ۔سمجھ رہے تھے کہ وہ کِن اذیت ناک کیفیات سے گزررہاہے ۔
یہ سری لنکا کے خوبصورت شمالی ساحلی شہر جافنا Jaffnaکی خوبصورت سی صبح تھی۔پیر اڈینیا Paradeniyaیونیورسٹی سے ڈاکٹر حسب اللہ کل یہاں آئے تھے ۔وہ کاروبار کے سلسلے میں رتنا پور گیا ہؤا تھا ۔رات کو واپس آیا تو انور سبحانی نے بتایا کہ صبح مسجد میں نماز کے بعد ڈاکٹر صاحب کا لیکچر ہے ۔لاریف ہادی کی خوشی کی انتہا نہ تھی ۔ڈاکٹر حسب اللہ مسلمانوں کی سری لنکن تنظیم کے بانی اراکین میں سے ایک تھے ۔پارے کی طرح متحرک یہ شخصیت سری لنکا کے مسلمانوں کے لیے امید اور حوصلے کا پیغام تھی۔
جافنا کی پچاس فیصد مسلمان آبادی کاروباری لحاظ سے خاصی مضبوط تھی ۔ڈاکٹر حسب اللہ کا دوتین ماہ بعد یہاں کا چکر ضرور لگتا تھا۔ مقامی مسلمان ان کی آمد کے منتظر رہتے ۔سری لنکا کے شمالی علاقوں میں تامل ٹائیگرزکی سرگرمیاں بہت بڑھ چکی تھیں۔مسلمان کمیونٹی ان کی سرگرمیوں سے خاصی پریشان بھی تھی۔
’’ڈاکٹر صاحب!‘‘لاریف ہادی کی آوازجیسے غم سے بوجھل تھی۔
’’کہیں کوئی غلط فہمی تو نہیں ہوئی۔میرا بیٹا… یقین نہیں آتا ‘‘ آواز جیسے ٹوٹ پھوٹ رہی تھی۔
’’گھبرائو نہیں!حوصلے سے کام لو ۔صورت حال کو بُرد باری سے سنبھالو ۔میری معلومات غلط نہیں اورہاں دیکھو سختی کی ضرورت نہیں۔جوان خون ہے بپھر جائے گا ۔آرام اور دلداری سے باز پُرس کرو‘‘۔
اس وقت ان دونوں کے ساتھ مسلم رائٹس آرگنائزیشن کے انیس احمد بھی تھے ۔
ہادی جب گھر جانے کے لیے کھڑا ہؤا تو اسے محسوس ہؤا تھا جیسے اس کی ریڑھ کی ہڈی تڑاقہ کھا گئی ہو۔پتا نہیں کیسے وہ مسجد سے باہر نکلا اور گھر آیا ۔ بیوی نے اُڑی اُڑی رنگت دیکھ کر پوچھا۔
’’خیریت تو ہے ؟‘‘
’’ہاں بس ایسے ہی ذرا دل گھبرا رہا ہے ‘‘۔
آنگن کے کونے میں گولڈن ناریل کا ڈھیر لگا پڑا تھا ۔ اس نے تیز دھار کے گنڈا سے سے اس کااُوپر والا حصہ کاٹا اورکمرے میں آئی جہاں ہادی لیٹا ہؤا تھا ۔
بیوی کے ہاتھوں میں پکڑا گولڈن ناریل اوراس کے چہرے پر چھائے تفکر نے اسے اٹھا کربٹھا دیا ۔
دھیرے دھیرے گھونٹ گھونٹ ڈاب پیتے ہوئے اس نے اپنے

اندر کی تلخی کو کم کرنا چاہا پر اسے محسوس ہورہا تھا جیسے کہیں آگ لگی ہے ۔پھر دفعتاً اس نے بیوی کا ہاتھ پکڑ کر اسے پاس بٹھا لیا اور بولا۔
’’لاطف کہاں ہے؟‘‘
’’گھر میں تو نہیں ،کہیں باہر گیا ہے ‘‘۔
’’ابھی نوبجے ہیں اور باہر بھی چلا گیا ہے ۔تمہیں بتا کر نہیں گیا ‘‘۔
بیوی کو ہادی کے یوں بات کرنے پر قدرے حیرت سی ہوئی ۔یہ کوئی نئی بات تو نہیں ، وہ تو ہمیشہ سے صبح سویرے باہر نکل جاتا تھا۔کبھی رات گئے گھر آتا ۔ابھی گریجوایشن سائنس فائنل کا تو اسٹوڈنٹ تھا۔
ایک لمحے کے لیے ہادی کاجی چاہا کہ وہ بیوی کو اپنی پریشانی اور تفکر سے آگاہ کر دے۔اپنا دکھ اورکرب اس سے شیئر کرے ۔ مگر وہ رک گیا ۔اس نے دل میں اپنے آپ سے کہا ۔
’’اِس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔عورت ذات یونہی خوف زدہ ہوجائے گی ‘‘۔
ہادی کا فشنگ کا کاروبارتھا ۔جافنا میںاس کی اچھی ساکھ تھی ۔اپنی دولانچیں اور دوفیریاں تھیں۔ اس کے کارندے مچھلی Kankesantura سے آگے ہندوستان کے ساحلی شہروں تک لے جاتے تھے ۔
سائیکل رکشا پربیٹھ کر وہ اپنے دفتر آگیا جومورروڈ پر تھا ۔ جونہی وہ سائیکل رکشا سے اترا دفتر کے چھوٹے سے دروازے کے سامنے لاطف کھڑا تھا ۔ بیٹے کو دیکھتے ہی اس پر غصہ ، رنج اور یاسیت کے ملے جلے جذبات کا حملہ سا ہؤا پرخود کو سنبھالتے ہوئے اس نے بیٹے کو اندر آنے کااشارہ کیا ۔لاطف باپ کے پیچھے پیچھے کمرے میں آگیا ۔ بید کی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس نے کسی قدر حیرت سے باپ کو دیکھا جو پریشان نظر آرہا تھا ۔
ہادی نے گہری نظروں سے بیٹے کو دیکھا اور مدھم آواز میں کہا ۔
’’لاطف میں نے زندگی اور کاروباری معاملات میں ہمیشہ سچ بولنے اور سچ برتنے کو ترجیح دی ۔جھوٹ، غلط بیانی اورمنافقت کبھی میرے کسی معاملے کی بنیاد نہیں رہے ۔وہ اصول جو میرے رہے اور ہیں انہی پر میں تمہیں بھی گامزن دیکھناچاہتا ہوں۔آج میں جو تم سے پوچھوں گا تم مجھے سچ سچ بتائو گے ۔
لاطف حیران تھا،اس کے باپ نے کبھی لمبی چوڑی باتیں تمہیدی انداز میں نہیں کی تھیں ،وہ ہمیشہ سے مختصر بات کرنے کا عادی تھا ۔ اس کا دل دھڑکا اور اس نے خود سے کہا یہ کیا کہناچاہتے ہیں ؟ پھر وہ حوصلے سے بولا ۔
’’آپ جوپوچھنا چاہتے ہیں پوچھیں ۔آپ کو بھی پتا ہے کہ میں صاف اور کھری بات کرنے کا عادی ہوں‘‘۔
’’تامل ٹائیگرز سے تمہارا کیا تعلق ہے ؟‘‘
ہادی نے اپنی آنکھیں اس کے چہرے پر گاڑ دیں۔
لاطف کارنگ بدلا ۔شاید وہ ذہنی طور پر اس سوال کے لیے تیار نہیں تھا۔
’’تعلق‘‘اس نے زیر لب کہا اور پھر کسی قدر جرأت مندانہ انداز میں بولا ۔
’’میں بس ان کے اجلاسوں میں کبھی کبھار شریک ہو جاتا ہوں ۔ جس کا ز کیلیے وہ جدوجہد کررہے ہیں میں اسے درست سمجھتا ہوں‘‘۔
ہادی کاچہرہ بیٹے کی بات پرتپ اٹھا ۔وہ غصے سے چیخا ۔
’’شرم آنی چاہئے تمہیں ان کے کاز سے ہمدردی کرتے ہوئے ۔ بے گناہ معصوم لوگوںکو قتل کرتے ہیں ، بھرے مجمعوں میں بم پھینکتے اور انسانوں کا قتل و غارت کرتے ہیں ۔ انسانی جانیں ان کے نزدیک کیڑے مکوڑوںسے زیادہ اہم نہیں …‘‘پل بھر کے لیے وہ رُکا۔اس کی آواز بھر ارہی تھی جب اس نے بات دوبارہ شروع کی ۔
’’ہمارے جافنا کے میئر ایلفر ڈدور پایہ کا کیا قصور تھا؟صرف یہ کہ وہ سنہالیوں مسلمانوں اور عیسائیوں سبھوں کا ہمدرد، اُنہیں مل جل کر امن و آشتی سے رہنے کی تلقین کرنے والا ایک مہذب اور شریف النفس انسان تھا جو انہیں ہضم نہیں ہورہا تھا ‘‘
’’مگر وہ آزادی چاہتے ہیں ‘‘۔لاطف نے باپ کی بات کاٹ دی ۔
بھونچکا سا ہوکر اس نے بیٹے کی اس بات کو سنا اس کا جی چاہا اپنا سر پیٹ لے یہ اس کابیٹا کیسی لا یعنی بات کررہا تھا۔

’’کس سے آزادی؟ سنہالیوں سے جو انتہائی شریف لوگ ہیں ۔ عیسائیوں سے جو ملک کا بیس فیصد ہیں ۔مسلمانوں سے جو آبادی کا دس فیصد ہیں ۔تامل ہندو لوگوں سے جو وہ خود ہیں ۔شرپسندوں کی یہ قوم انڈیا کے ہاتھوں بکی ہوئی ہے ۔ انڈیا جسے اپنے ہمسائیوں کے معاملات میں دخل اندازی کا بے حد شوق ہے ۔ جو چھوٹے ہمسایہ ملکوں کو چین سے رہنے نہیں دیتا ۔جس کابڑا مقصد سری لنکا کے شمالی حصے کو اپنے جنوبی حصے سے ملانا ہے۔ آج جن کے ہاتھوں ناچ رہے ہو کل یہ تم مسلمانوں کاسب سے پہلے صفایا کریں گے ‘‘۔
’’آپ طیش میں مت آئیے۔ جذباتی ہونے کی بھی ضرورت نہیں ۔ دلیل سے بات کریں ۔ احتجاج اور ہتھیار کبھی بھی بغیر وجہ کے نہیں اٹھائے جاتے ۔ ان کے پس منظر میں معاشروں کے اندر پلنے والی محرومیاں ، نا انصافیاں ،ایک طبقے کی دوسرے طبقے پر فوقیت ، غلبہ اور احساس برتری جیسے جذبات و احساسات کا کار فرما ہونا ہوتا ہے ۔ زیادتی اور برتری کی پہلی اینٹ 1954ء میں اس دن رکھ دی گئی تھی جب پارلیمنٹ میں سنہالیوں کی اکثریت نے سنہالی زبان کو سرکاری زبان قرار دے دیا تھا۔
تامل لوگ کتنے غریب تھے اور ہیں ۔ کتنے دھتکارے ہوئے ہیں ۔ سری لنکا کی کسی ایک حکومت کا نام لے دیں جس نے انہیں ان کے حقوق دئیے ہوں ۔ اقتدار کو تو سنہالیوں نے اپنی جدی جاگیر بنا لیا ہے۔ اب وہ کھڑے ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے ہتھیار اٹھا لیے ہیں ۔ علیحدگی اور خود مختاری کی باتیں کرنے لگے ہیں تو انہیں مصیبت پڑ گئی ہے ۔ اب بھگتیں ‘‘۔
ہادی کا جی توچاہا تھا ایک زنا ٹے کا تھپڑ اس کے رخسار پر مارے اور کہے ’’حرامزادے تاملوں اور ان کے حقوق کے لیے جذبات کی اتنی اُگل اُچھل …کبھی اپنی کمیونٹی کا بھی سوچتے ہو‘‘۔
پرکمال ضبط سے خود پر قابو پاتے ہوئے دھیمی اور رسان بھری آواز میں بولا ۔
’’لاطف تم ابھی ناسمجھ ہو۔ ان کی چالوں اورریشہ دوانیوں کو نہیںجانتے ‘‘۔
وہ کھڑا ہوگیااورباہر کی طرف جانےکے لیے دروازے کی جانب بڑھتے ہوئے اِک ذرا رُکا اور بولا ۔
’’اب میں اتنا بھی بچہ اور ناسمجھ نہیں ‘‘۔
کمرہ خالی تھا اور ہادی کو یوں محسوس ہؤا تھا جیسے اس کے وجود میں سے کسی نے زندگی کی ساری حرارت کشید کرلی ہے ۔ جیسے وہ پتھر کا ہوگیا ہو، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے سامنے بظاہر کہیں خلائوں میں گھورتا ہؤا ۔دیر تک وہ اس کیفیت میں رہا پھر اپنے بیٹے کے بے شمار رُوپ اس کی آنکھوں کے سامنے ابھرے ۔ اس کا بڑا بیٹا جس کے وجود سے اس کی بے شمار توقعات وابستہ تھیں ۔بہت سارے خواب جن کی تعبیریں اس کی زندگی کا ماحصل تھیں ۔
بازی کیسے اُلٹ گئی ؟ بیٹے نے ریل کی پٹڑی کے کانٹے کی طرح راستہ کیسے بدل لیا ؟اس کی تربیت میں کہاں کمی رہی ؟
جے جے ویرا سنگھ اس کے سامنے آکھڑا ہؤا۔ ویر ا سنگھ گوتامل تھا مگر بڑا صلح پسند اور امن و آشتی سے محبت کرنے والا انسان ۔ اس کابیٹا بھی تحریک کارکن بن گیا تھا ۔ بڑا جوشیلاجوان تھا۔مرکزی حکومت کے وزیر صنعت کا ’’مینار ‘‘ میں بڑا اہم دورہ تھا ۔ بم دھماکے کے لیے اس کو چنا گیا ۔ سازش بروقت ناکام ہوگئی ۔ ویر ا سنگھ کابیٹا پکڑا گیا ۔ سائنائیڈ کا کیپسول جو اس کے گلے میں بندھا ہؤا تھا اس نے فی الفور وہ کھا کر زندگی کارشتہ اپنے ہاتھوں سے ختم کردیا ۔
ایک لمبی آہ اس کے سینے سے نکلی ۔ جذبات سے لبریز یہ بالی عمر جس میں ہوش کی بجائے جوش غالب ہوتا ہے ، اسے جس طرف چاہے موڑ لیا جائے۔
پھروہ اُٹھا ،اپنے بے دم سے وجود کو گھسیٹا اور دفتر سے ملحقہ چھوٹے سے کمرے میں جہاں وہ بالعموم دوپہر کا کھاناکھاکرتھوڑی دیر لیٹتا تھا داخل ہؤا ۔ جونہی وہ چٹائی پر بیٹھا ،اس کا ضبط جواب دے گیا ۔ اس کے اندر کا دکھ آنسوئوں کی صورت باہر آنے لگا ۔ وہ روتا رہا ۔ اپنے چہرے کو اس پانی میں نہلاتا رہا پھرلیٹ گیا ۔ پتا نہیں کب اسے اُونگھ سی آگئی ۔
جب وہ اس کیفیت سے نکلا ،ظہر کاوقت تھا اس نے نماز پڑھی ، آج اس کے سجدوں میں جو تڑپ تھی اس نے اس کی آنکھوں کو بار بار بھگو دیا ۔

دُعا کے لیے جب ہاتھ اٹھائے تو اشک بار آنکھیں بند تھیں اوروہ خدا سے مخاطب تھا۔بہت دیر تک وہ ہتھیلیاں پھیلائے جامد و ساکت حالت میں بیٹھا رہا ۔
پھر جیسے اس گھٹا ٹوپ اندھیر ے میں روشنی کی ایک ننھی منی سی کرن جھلملائی ۔مایوسی کی وہ انتہا جس پر وہ اس وقت پہنچا ہؤا تھا…دل گرفتگی جس میں وہ الجھا ہؤا تھا قدرے کم ہوئیں ۔ جیسے کسی گھٹن زدہ ماحول میں تازہ ہوا کاجھونکا میسر آجائے کچھ ایسی ہی اس کی کیفیت تھی ۔ وہ اٹھا اور گھر آیا ۔ بیوی نے اس کا اُترا ہؤا چہرہ دیکھ کر پوچھا۔
’’کچھ بتائو تو سہی ،میں صبح سے دیکھ رہی ہوں پریشان نظر آرہے ہو‘‘۔
بغیر کچھ کہے وہ چٹائی پر بیٹھا پھر بولا۔’’تم کھانا لائو‘‘۔
اس نے اُبلے چاولوں کی قاب رکھی ۔ مٹی کی چھوٹی سی ہنڈیا میں پول سمبل (کوکونٹ کی بھجیا) تھی ۔ دوسری ہنڈیا میں ناریل کے دودھ میں پکائی گئی مچھلی اور سبزی کی کڑھی تھی ۔ دونوں ڈشیں اس نے ہادی کے سامنے سجا دیں ۔ پانی کاجگ اور گلاس رکھا اور خود بھی پاس بیٹھ گئی۔
ہادی چپ چاپ کھانا کھاتا رہا ، جب کھا چکا اورشُکر الحمدُللہ کے الفاظ ادا کیے تو بیوی نے ایک بار پھر کہا۔
’’کوئی کام کاج کی پریشانی ہے کیا؟تمہاری کیا بُری عادت ہے کہ تم کچھ کہتے نہیں ‘‘۔
ہادی نے خاموش نظروں سے اسے دیکھا اور چند لمحے دیکھتے رہنے کے بعد کہا۔’’تمہیں اگر کسی بات کی سمجھ نہیں تو بحث مت کیا کرو۔کوئی ایسا مسئلہ نہیں ‘‘۔
بیوی نے برتن سمیٹے اور خاموشی سے اٹھ گئی۔
ہادی کاچھوٹا بھائی پندرہ سال سے امریکا کی ریاست نیویارک میں مقیم تھا۔ سات آٹھ سالوں سے اس کے مالی حالات بہت اچھے ہوگئے تھے۔ پہلے چند سال تو دھکے ہی کھاتارہا تھا پر اب چند پیٹرول پمپوں اور ایک بڑے سٹور کامالک ہوگیا تھا۔ ہادی کی امید کی کرن اس کا یہ چھوٹا بھائی ہی تھا جس کے پاس وہ بیٹے کو فی الفور بھیج دینا چاہتا تھا۔ لیٹنے کے بجائے اس نے اسی وقت بھائی کو تفصیلی خط لکھ کر اپنی پریشانی سے آگاہ کیا۔ اپنا سارا درد کاغذ کے صفحوں پر اتاردینے سے وہ ہلکا ہوگیا تھا۔
خط بند کرنے کے بعد اس نے لباس تبدیل کیا ۔ بیوی سے کہا کہ وہ پونرین جارہا ہے ۔ کل واپسی ہوگی۔
بیوی صبح سے ہی اس کی متغیر صورت پر پریشان سی ضرور تھی پر وہ کچھ بھید کھول نہیں رہا تھا۔ دوسرے شہروں میں جانا تو یوں بھی اس کامعمول تھا۔ جافنا کی نسبت پونرین بڑا شہر تھا۔ڈاک کا انتظام یہاں زیادہ بہتر تھا ۔ یوں تو اس کا دل اس خط کو کولمبو جاکر پوسٹ کرنے کو چاہ رہا تھا تاکہ جتنی جلدی ہوسکے اسے پتہ چلے کہ اس کا بھائی اسے اس مشکل سے نکالنےکے لیےفی الفور کون سا قدم اٹھانے کو ترجیح دے گا۔
بس میں کیا بیٹھا جیسے خیالوں کے گھوڑے پر سوار ہوگیا ۔ وہ وقت جب اس کا بھائی ماہ روف بیس سال کی عمر میں امریکا گیا ،اس وقت ان کے مالی حالات بہت ابتر تھے ۔ ترکی سے جرمنی، وہاں سے انگلینڈ وہاں سے امریکہ، ڈیڑھ سال کے عرصے نے اس کے پیروں میں جیسے پہیے لگا دئیے تھے ۔ جگہ جگہ کا پانی پیتے اور محنت مزدوریاں کرتے کرتے وہ ایک ایسے ملک میں داخل ہؤا جس نے شروع میں اسے رگیدا اورپھر آسائشوں کے دروازے اس پر کھول دیے ۔ ماہ روف بہت سعادت مند لڑکا ثابت ہؤا ۔ جب وہ دھکے کھاتا تھا تب بھی وہ بھائی کو کچھ نہ کچھ بھیجتا رہتا ۔ اُس کی اس مدد نے لاریف ہادی کو بہت سہارا دیا ۔ اس کا کاروبار دھیرے دھیرے بہتر ہوتا چلا گیا ۔
ماہ روف نے شادی بھی سری لنکن لڑکی سے کی جوکولمبو میں کھاتی پیتی مسلم کمیونٹی سے تھی ۔ خُدا نے بچے بھی دئیے ، ایک لڑکی اور دولڑکے۔ چند سال قبل وہ مع بیوی بچوں کے آیا تھا۔ امریکہ میں رہتے ہوئے بھی وہ سب اپنے مذہبی طور طریقوں کی پابندی کرنے میں پیش پیش تھے۔ دس سالہ زہرت نماز کی پابند تھی ۔ لڑکے بھی اسی انداز میں تربیت یافتہ تھے اور یہ چیزیں ہادی کیلیے بہت طمانیت بخش تھیں ۔
شام ڈھل رہی تھی جب وہ پونرین پہنچا ۔ خط پوسٹ کیا ۔ ماہ روف کی طرف سے جب تک اس کے خط کاجواب نہ آگیا اس وقت تک ہادی

نے کسی سے اس بابت کوئی بات نہ کی ۔جونہی خط اسے ملا جس میں ماہ روف نے لاطف کو فی الفور بھجوانے کا لکھا تھا، ساری ہدایات درج تھیں ، کولمبو جائو ، فلاں سے ملو فلاں کو میرا حوالہ دو، کون کون سے کاغذات درکار ہیں ،کہاں کہاں سے ملیں گے وغیرہ وغیرہ اس دن ہادی نے پہلی بار بیوی کے سامنے زبان کھولی پر صرف اس حد تک کہ وہ لاطف کو امریکہ بھیج رہا ہے ۔
’’پر کیوں ؟‘‘ بیوی کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ جیسے پھٹ پڑی’’ امریکہ تو وہ جائے جس کے پاس یہاں کام نہ ہو تمہارے تو اپنے کاروبار کو بیٹے کی شرکت اور ساتھ کی ضرورت ہے ۔ تم کیوں اپنے ہاتھ کاٹ کر ٹُنڈ ا ہونا چاہتے ہو ۔ لاکھ تمہارے ملازم وفا دار اور ایمان دار ہیں پر اپنے خون کی بات ہی اور ہے ۔جونگرانی وہ کرسکتا ہے کوئی دوسرا کیسے اس معیار پر اترے گا ‘‘۔
ہادی اسے کچھ بتانا نہیں چاہتا تھا ۔ وہ سب معاملات راز دارانہ انداز میں آگے بڑھانا چاہتا تھا۔ یہ تنظیم اتنی خطر ناک تھی کہ کسی بھی ساتھی کے ادھر اُدھر ہونے کی صورت میں انتہا پر جاسکتی تھی ۔تنظیم میں اس کی حیثیت کیا تھی یہ وہ نہیں جانتا تھا۔
بیوی لاکھ سر پٹختی رہی ، اس نے منہ پر قفل لگائے رکھا ، لاطف سے جب بات ہوئی پہلے تو اس نے مخالفت کی ۔ جوان خون میں جو سرکشی اورجوشیلا پن تھا اس کی تسکین تنظیم میںشمولیت سے بہت عمدہ طریق سے ہونے لگی تھی۔ ہادی نے سمجھ داری سے صورت حال کو سنبھالا ۔ امریکہ کے بارے میں ممکنہ حد تک سبز باغ اسے دکھائے پھر اسے ساتھ لے کرکولمبو جانے کے لیے گاڑی میں سوار ہوگیا۔ نوے کی دہائی میں سری لنکا کے مقامی باشندوں کا امریکہ جانے کا کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔
کولمبو کی مسلم کمیونٹی نے بھی ہادی کی پوری مدد کی اور یوں پندرہ دن کی بھاگ دوڑ کے بعد جس شام اس نے بیٹے کو جہاز میں سوار کرایا اس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ رہے تھے ۔
جہاز میں بیٹھے لاطف کے احساسات عجیب سے تھے ۔ بیک وقت وہ دو متضاد کیفیات کا شکار ہورہا تھا۔ اس کی زندگی کے گزشتہ دو سال جس سنسنی خیزی ، ہنگامہ پروری اور تھرل سے دو چار ہوئے تھے اس نے اُسے زندگی گزارنے کا ایک نیا مفہوم دیا تھا ۔پہلی بار اس کا کلاس فیلو اور گہرا دوست اجیت جو نسلاً تامل تھا اُسے کینڈی روڈ پر ایک بڑی عمارت کے تہ خانے میں ہونے والے اجلاس میںلے کر گیا ۔ جتنی بھی تقریریں ہوئیں وہ سب ظلم و استبداد کے خلاف تھیں۔ سرمایہ داروںاوروزیروں امیروں کے خلاف تھیں جو غریب کو زندگی گزارنے نہیں دیتے اور اُسے کیڑے مکوڑے کی طرح پیس کر رکھ دیتے ہیں ۔ بظاہر تو کچھ ایسا نہیں تھا ۔ اُسے وہاں جانا اچھالگا پھر وہ اکثر ان کی میٹنگزمیںشریک ہونے لگا۔ ان کے کاز اورسرگرمیوںکو سراہنے لگا مگر کسی کے سامنے نہیں اپنے دل میں ، اپنے اندر ۔ تنظیم کے بارے میں سنہالی بدھ اور مسلمان اچھی رائے نہیں رکھتے تھے ۔ آغاز میں تنظیم تاملوں کے حقوق کی بات کرتی تھی ۔ مقبولیت کے ساتھ ساتھ تشدد کے راستے اپنانے لگی ۔ تامل ریاست کامطالبہ ہونے لگا ’’را‘‘سے تعلق جوڑ لیا اور مدراس کے تامل ناڈوں سے مل کر ایک دہشت پسند تنظیم بن بیٹھی۔
پہلی بار جب وہ ان کے ہیڈ کوارٹر ’’مولائی ٹیوو‘‘ Mullaitvuاُجیت کے ساتھ گیا، گھر میں تو اُس نے دوستوں کے ساتھ مولائی ٹیوو جانے کا کہا تھا، تو کسی کو شک بھی نہ ہؤا ۔ ہادی تو یوں بھی اِن دنوںانورادھا پور گیا ہؤا تھا۔
سری لنکا کے شمال اور شمال مشرقی ساحلوں کے ساتھ ساتھ جافنا سے لے کر Killinochchi,Nallurاور ٹرانکو مالی Trincomaleeتک گھنے جنگلوں میں اُ ن کی زیر زمین پناہ گاہیں ، اسلحہ خانے اور تربیت گاہیں تھیں۔ اُجیت نے اُسے بتایا تھا کہ یہاں ائیر پورٹ بھی ہیں ۔ حد درجہ پُر اسرار کسی جاسوسی کہانی کی طرح پھیلا ہؤا اس کا لمبا چوڑا نیٹ ورک۔اُجیت کے ساتھ وہ عام جگہوں پر ہی گیا ۔ تاہم فضامیں ایک دہشت کا احساس پایا جاتا تھا۔
کلنوچی میں نوجوانوں کوخود کش حملوںکے لیے تیار کیا جاتا تھا۔ مولائی ٹیوو میں سیرکرتے ہوئے اجیت اسے خاص کمرے میں لے گیا ۔ یہاں عورتیں بھی تھیں یہیں لاطف نے اُس خوبصورت اور پُر کشش لڑکی

کی تصویریں دیکھیں جس نے ابھی چند دن پہلے مدراس میں وزیر اعلیٰ کی آمد پر بم دھماکہ کیا تھا۔لاطف کی میل ملاقات صرف سطحی لوگوں سے ہی ہوئی تھی ۔ پارٹی کے خاص لوگوں کے بارے میں اُجیت بھی نہیں جانتا تھا۔
لاطف کچھ خوف زدہ بھی تھا مگراندر سے وہ ایسی زندگی کو سراہ بھی رہا تھا۔ ہر جنگجو کے گلے میں سائنا ئیڈ کا کیپسول بندھا ہوتا ہے ۔ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں یہ کیپسول اس کی حفاظت کا آخری سہارا ہے جسے فی الفور کھاکر وہ مر سکتا تھا۔ گرفتار ہونے کے بجائے موت ان جوانوں کی ترجیح ہوتی ہے۔ یہ سب اجیت نے اُسے بتایا تھا۔
اس پُر اسرار اور خوفناک دُنیا سے واپسی پر لاطف چند دن گُم صُم رہا پھر وہ ان کے اجلاسوں میں جانے لگا پر ابھی باقاعدہ رکن بننے کی راہ تک اس کی آزمائشوں کا سلسلہ شروع ہونے ہی والا تھا جب قسمت نے اُسے جہاز میں بٹھا دیا اور اب وہ ایک ایسی دُنیا کی طرف رواں دواں تھا جس کے قصے اور داستانیں وہ ہر دوسرے روز سنتا تھا ۔
جہاز نیو یارک کے جان ایف کینیڈی ائیر پورٹ پر لینڈنگ کے لیے پر تول رہا تھا۔ کھڑکی کے شیشے سے چپکی اس کی آنکھیں نیچے رنگ اورروشنیوں کا ایک سیلاب دیکھ رہی تھیں ۔ بہت سے مرحلوں سے گزر کر وہ باہر آیا جہاں اُس کے چچا اورچچی اُسے لینے اور اس کے استقبال کے لیے موجود تھے ۔ چچا نے اُسے اپنے سینے سے لگایا اور اپنی سنہالی زبان میں اُس کے سفر کے خیریت سے گزرنے کے بارے میں پوچھا۔ ہراساں سے لاطف نے مادری زبان کے ساتھ ہی اپنی بشاشت لوٹتی محسوس کی ۔ چچی نے پیار کیا اور اُس کے والدین اور بہن بھائیوں کا پوچھا۔
چند لمحوں بعد گاڑی گھر کی طرف بھاگی جارہی تھی ۔ رات دن کی طرح جو ان اور روشن تھی۔ اُس کے چچا کا گھر ’’برانکس‘‘ میں تھا ۔ یہ ایک پندرہ منزلہ بلڈنگ کاچوتھا فلور تھا۔ بڑا خوبصورت اورسجا ہؤا ۔ چچا کے بچے سورہے تھے ۔ چچی نے کھانے پینے کا پوچھا پراُس نے بتایاکہ جہاز میں اتنی ٹھونسا ٹھونسی ہوتی رہی کہ اب قطعاًگنجائش نہیں اورجب وہ سونے کے لیےاپنے کمرے میں گیا تو تھوڑی دیر تک وہ قدرت کے اِس عجیب و غریب فیصلے پر حیران ہوتا رہا پھر نیند کی وادیوں میں اُتر گیا ۔
چچا کے بچوں سے ناشتے پر ملاقات ہوئی ۔ اتوار تھا سبھی گھر میں تھے ۔ لڑکے تو خوب ہنسوڑ اور گھُلنے ملنے والے بچے تھے ۔ اُسے دیکھ اور مل کر خوش بھی بہت ہوئے پر زہرت چچا کی اکلوتی تیرہ سالہ بیٹی پینٹ قمیض پر اسکا رف پہنے ہوئے تھی ۔ خوش طبع ضرور تھی پرتھوڑا سا لیے دئیے والی بھی محسوس ہوئی ۔
اگلے چند دن اس نے نیو یارک سٹی کی سیر کی ۔ کبھی چچا کے بیٹوں کے ساتھ اور کبھی اکیلے ۔ نیو یارک کے سب علاقوں میں اسے مین ہٹن سب سے زیادہ اچھا لگا ۔ یہاں آسمان کوچھوتی ہوئی عمارات ،سنیما ، تھیٹر ، بینک ، دفتر اور کمرشل پلازوں کی بھرمار نظر آئی ۔ پندرہ بیس دن اُس نے یہی کام کیا ۔ چچا نے بھی اُسے کھلی چھٹی دی کہ وہ ماحول کے ساتھ رچ بس جائے اور ہوم سکنس کا شکار نہ ہو ۔ پھر وہ اپنے چچا کے پیٹرول پمپ اور گیس اسٹیشن پر کام کرنے لگا ۔کسٹمرز کو ڈیل کرنے میں اس کی سمجھ داری ، محنت اورذمے داری نے چچا کو متاثر کیا ۔ شام کی کلاسز میں اس نے پڑھائی کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ۔ رات گئے وہ گھر جاتا ۔ اپنا کھانا گرم کرتا ، کھاتا او رسو جاتا۔
ایک دن شام کی کلاس نہیں ہوئی ۔ وہ جلد گھر آگیا ۔ لیونگ روم میں بڑے صوفے پر زہرت نیم دراز کچھ پڑھنے میں محو تھی ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اس نے زہرت کو نظر بھر کرکسی قدر تنقیدی انداز میںدیکھا ۔ عام سری لنکن لڑکیوں کے برعکس اُس کے نقوش بہت دلکش تھے ۔ چنبیلی جیسا رنگ بڑی ملاحت لیے ہوئے تھا۔ اُ س کے بال سیاہ اور لمبے تھے جو اُس وقت اُس کے سینے پر بکھرے ہوئے تھے ۔ وہ پڑھنے میں اتنی محو تھی کہ اسے احساس ہی نہیں ہؤاکہ کوئی اسے یوں دیکھ رہا ہے ۔ زیادہ دیر تک کھڑے رہنا اُسے خود بھی اچھا نہیں لگا ۔ اُس نے ہلکی سی چاپ پیداکی جس پرزہرت نے چونک کرنگاہیں اُٹھا کر اُسے دیکھا۔
’’آج تو آپ جلدی آگئے ہیں ‘‘۔زہرت نے رسالہ قریبی تپائی پر رکھتے ہوئے اپنی اُلٹی پلٹی نشست سیدھی کی ۔

’’دراصل آج کلاسز نہیں ہوئیں۔ پر سب لوگ کہاں ہیں ؟‘‘اُس نے اپنے گردو پیش کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔
’’ممی اور ڈیڈی ہنی سنی کے ساتھ مسز راجر کے گھر گئے ہیں ۔ وہ شاید اپنا گھر سیل کرنا چاہتی ہیں ۔ آپ کھانا توکھائیں گے نا پر لاطف بھائی میں ذرا مغرب کی نماز پڑھ لوں‘‘
زہرت کی خوبصورت آنکھیں کلاک کو دیکھ رہی تھیں اور زبان اس سے مخاطب تھی۔
اُس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ قریبی ریک پر پڑے رسالوں میں سے ہاتھ بڑھا کراس نے ایک رسالہ اٹھا لیا اور اس کی ورق گردانی کرنے لگا۔
اُسے تو یہ سمجھ نہیں آتا تھاکہ اس مادر پدر آزاد معاشرے میں اُس کا چچاکیوں اتنا رجعت پسند ہے۔
چچا چچی اور یہ زہرت اس ماحول میں کتنے اجنبی سے لگتے ہیں۔
وہ اپنے ماحول سے خاصا مختلف بچہ تھا بچپن ہی سے کسی حد تک من مانی کرنے والا کچھ باغی سا ۔ہادی جب بھی اس پرنماز کے لیے سختی کرتاوہ چٹائی پر کھڑا ہوجاتا تھا۔اُٹھک بیٹھک بھی کرتا ، پر اگر موڈ نہ ہوتا تو کچھ نہ پڑھتا ۔ کبھی کبھار باپ کے پُوچھنے پرغلط بیانی بھی کر جاتا ۔ ماں کے سامنے تو وہ بول بھی پڑتا ۔
’’آخرآپ لٹھ لے کر ایک ہی بات کے پیچھے کیوں پڑ جاتے ہیں ؟پڑھ لوں گا نماز اوررکھ لوں گا روزے ۔ایک ہی کام رہ گیا ہے آپ لوگوں کا‘‘۔ ماں جو اباً بولتی اورکوسنے بھی دیتی۔
اس کھلے ڈُلے ماحول کو اُس نے بے حد پسند کیا تھا۔
زہرت نے کھانا میزپرلگا کر اسے آواز دے ڈالی اور جب وہ کرسی گھسیٹ کراس پر بیٹھا تو میز پر سجے ڈونگے میں سالن دیکھ کر اُس کی آنکھیںچمک اُٹھیں اوروہ سر شار سے لہجے میں بولا۔
’’ارے یہ ڈوسا کس نے پکایا ہے ؟‘‘
’’مما اور میں نے‘‘ زہرت نے مختصر اً کہا۔
اس کی ماں اپنے علاقے کی یہ خاص ڈش بہت چاہت سے بنایا کرتی تھی۔ جب بھی یہ پکتا وہ تڑپ تڑپ کر کھاتا۔
’’زہرت یہ بہت عمدگی سے پکایا ہے ۔ میری ماں سے بھی اچھا‘‘ وہ کھاتا رہا اور باتیں کرتا رہا۔
وہ کام کرتا رہا ، پڑھتا رہا پھر اس نے کمپیوٹر انجینئرنگ کے لیے صبح کی کلاسز جوائن کرلیں اورشام کو کام کرنے لگا ۔ اپنے مستقبل ، اپنی تعلیم اور اپنے کیریئر کے لیے بہت کریزی تھا اور سیر سپاٹوں اورلڑکیوں کے ساتھ دوستیاں کرنے میں بھی ماہر تھا۔ پر اس کے ساتھ وہ بہت ذہین اورسُوجھ بُوجھ والا لڑکابھی تھا۔ نہ کبھی چچا کو شکایت کاموقع دیا اور نہ کبھی کوئی ایسی صورت پیدا کی جو اُس کے لیے پریشانی اور مصیبت کا باعث بنتی ۔ ایشیائی لوگوں کے ساتھ آئے دن جوکچھ ہوتا وہ اس کی آنکھیں کھولنے کو کافی تھا۔
چھ سال وہ اپنے چچا کے ساتھ رہا۔ اپنی ذہانت ، ذمے دارانہ رویے ، کام اور پڑھائی کے ساتھ لگن جیسی اچھی خوبیوں کے باعث وہ اپنے چچا اورچچی کو متاثر کرنے اور اُن کی خصوصی محبت حاصل کرنے میں بہت کامیاب رہا اور جب اس نے انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرلی اور اچھی کمپنیوں میں اپلائی کردیا اور شکاگو کی ایک بڑی کمپنی میں انٹر ویو بھی دے آیا تو اسے یقین نہیں تھا کہ وہ اسے ایشیائی ہونے کے باوجود اِس بہترین پوسٹ کے لیے سلیکٹ کرلیں گے ، پر کمپنی کا جو بورڈ انٹرویو کے لیے بیٹھا تھا انہوں نے اس کے سانولے وجود میں ایک زرخیز اور تخلیقی ذہن کا اندازہ لگالیا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ جب خوشی سے بھر پور لہجے میں اس نے یہ خبر اپنے چچا کو سنائی توجہاں اسے اس کی ذات پر فخر محسوس ہؤا وہیں تھوڑا سا اس کے چلے جانے کی صورت میں رنج بھی ہؤا۔زہرت کے لیے وہ ایسے ہی ہیرا سے لڑکے کا خواہش مند تھا۔ شروع میں اس کا خیال تھا کہ وہ شاید زہرت میں دلچسپی لے پروہ تو ہمیشہ کام سے کام رکھتا ۔
اپنے بھائی سے وہ یہ بات کر بیٹھا تھا ۔بھائی نے لاطف کو لمبا چوڑا خط بھی لکھا تھا کہ بھلا اس کے لیے زہرت سے اچھی کون سی لڑکی ہو سکتی ہے ؟خط پڑھ کر اس نے چند لمحوں کے لیے سوچا اور پھر اسے ڈسٹ بن میں ڈال کر اپنے آپ سے کہا ۔

’’کمال ہے ذرا دیکھو تو ان کی سوچوں کو ۔ ٹھیک ہے زہرت اچھی لڑکی ہے مگر اتنی مذہبی لڑکی سے میرا گزارہ بہت مشکل ہے ۔
اس نے باپ کو خط لکھ دیا کہ وہ فی الحال شادی جیسے کسی موضوع پر کوئی بات یا سوچ بچار کے لیےتیار نہیں ۔ اسے ابھی آگے بڑھنا ہے ۔ وہ اپنی ذاتی کمپنی بنانے میں کوشاں ہے اور اپنی محنت کے بل بوتے پر اسے یقین ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہو گا۔
ہادی دل سے چاہتا تھا کہ بیٹا کسی طرح اس رشتے پر راضی ہو جائے ۔ وہ بھائی کا احسان مند تھا ، پر لاطف کی دو ٹوک تحریر اور فون پر دو ٹوک گفتگو نے اس پر واضح کردیا کہ وہ اس پر راضی نہیں ۔ یوں اپنے طور پر وہ کبھی کبھی اسے ضرور لکھ دیتا ۔
زہرت جب سری لنکا گئی تو تایا تائی سے بھی ملی ۔ہادی اس کے انداز و اطواردیکھ کر دنگ ہی تو رہ گیا۔ پہلے ایک دوبار جب آئی تو بچی تھی لیکن اب جوان ہوچکی تھی ۔ کس قدر مہذب ، ادب آداب والی شائستہ سی لڑکی ۔ ہادی کا کلیجہ منہ کو آنے لگا۔ جب وہ گھر آیا تو اس نے بیٹے کو لمبا چوڑا خط بھی لکھ دیا کہ ایسی لڑکیاں نصیب والوں کو ملتی ہیں۔ زہرت کا ساتھ اس کی زندگی کو جنت بنا سکتا ہے۔
لاطف یہ خط پڑھ کر بہت ہنسا ۔ سگریٹ سلگا کراس نے کش لیا اور اپنے والد کو تصور میں لا کربولا۔
’’میرے پیارے ڈیڈی آپ کس جّنت جہنّْم کے چکر میں پڑ گئے ہیں ؟ جنت لے کر کیا کرنی ہے ،میرے جیسے آدمی کے لیے دوزخ ہی ٹھیک ہے‘‘۔
چند دنوں بعدایک دن اس کے چچا کا فون آیا۔
’’بھئی لاطف تم نیو یارک کا چکر لگا لو ۔ زہرت سری لنکا سے آئی ہے ،تمہارے امی ابو نے کچھ چیزیں بھیجی ہیں تمہار ے لیے ۔ ہمیں مل بھی جائو اورانہیں لے بھی جائو‘‘
وہ جس دن نیویارک آیا ، آسمان بادلوں سے بھرا ہؤا تھا اور ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ زہرت گھر پر نہیں تھی ۔ چچا بھی نہیں تھے۔ چچی نے محبت سے استقبال کیا اور اس کے بہت کم آنے کا گلہ کیا۔
’’اب شکا گو کو تویوں لگتاہے جیسے تم نے لاس اینجلس بنا لیا ہے۔ کتنا عرصہ ہوگیا ہے تمہیںآئے ‘‘۔
’’ارے چچی مصروفیت ، کام کام کام میں اب اپنا کام بھی تو سیٹ کررہا ہوں ۔ہاں یہ زہرت کدھر ہے ؟‘‘
’’یونیورسٹی میں کوئی سیمینار تھا ۔ بس آتی ہی ہوگی ‘‘۔
کوئی گھٹنے بعد اس نے زہرت کو اندر آتے دیکھا۔ پرٹی وی لائونچ میں جہاں وہ بیٹھا تھا وہاں آنے کے بجائے وہ اُوپر چلی گئی ۔ باہر پھوار پڑ رہی تھی ۔ عین ممکن ہے بھیگ گئی ہو اور چینج چاہتی ہو ۔ اس نے سوچا۔
اورواقعی یہی بات تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ سُرخ اور سیاہ پھولوں والی میکسی پہنے اندر آئی ۔ میکسی پر ہلکے شوخ پھولوں کی طرح اس کا چہرہ بھی کھلا ہؤا تھا۔ کس قدر بشاشت تھی اُس کے لہجے میں جب اس نے ماں کو چائے کی ٹرالی گھسیٹتے دیکھا۔
’’ارے واہ کتنی طلب تھی اس وقت چائے کی ‘‘۔لاطف اس کی لمبی چوٹی کوکمر پر جھولتے دیکھ رہا تھا سیاہ اسکارف کی ناٹ اس کے گلے میں تھی اب وہ لاطف کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’تو آپ اپنی چیزیں لینے آئے ہیں ۔ویسے تونہ آنے کی قسم کھا لی ہے ‘‘۔
لاطف ہنسا اور بولا۔
’’ یہ تمہیں سری لنکا جانے کی کیا ہڑک اٹھی ‘‘۔ اسے اپنے باپ کے اصرار بھرے خطوط یاد آئے تھے۔
’’کمال ہے ، ہڑک کیوں نہ اٹھے وطن ہے ہمارا ۔ سارے رشتے تو وہیں سے جُڑے ہوئے ہیں ۔ دراصل جینی بھی چاہ رہی تھی ۔ تمہیں تومعلوم ہی ہے ۔ سیاحت اس کی ہابی ہے‘‘۔
جینی ان لوگوں کے ہمسائے میں رہتی تھی ۔سیر سپاٹوں کی دلدادہ۔ نئی دنیائیں دیکھنے کی شوقین ۔ لاطف اسے تب سے جانتا تھا جب وہ یہاں رہتا تھا ۔
’’میں نے توبہتیراز ور مارا تھا کہ مت جائو ۔ سیاحوں کیلیے ابھی حالات ساز گار نہیں ۔ پر تم تو جانتے ہی ہو وہ کیسی نڈر اور جیالی لڑکی ہے ۔

تنک کر بولی تھی، لو،مجھے ڈراتی ہو ؟ ایک سری لنکا کیا دنیا بھر میںدہشت گردی کی لہر رقص کررہی ہے اب اس ڈر سے کہیں جانا چھوڑ دیں‘‘۔
’’کیا حالات ہیں اب؟‘‘
’’کمزور ملکوں کے حالات کاکیا کہنا ؟ بڑے ہمسایہ ملک نگل لینا چاہتے ہیںانہیں ۔ اب کوئی پوچھے انڈیا سے کہ ذرا سی چنگاری تھی اسے ہوا ہی نہ دو، ہوا بھی دی اور تیل بھی چھڑکا، بھڑکایا اور اب فوجیں اسے بجھانے کو اتار دیں ۔ عالمی منظر نامے کے رنگا رنگ تماشے‘‘
’’ویسے ایک بات !‘‘
زہرت نے چائے کا کپ ماں کے ہاتھوں سے پکڑا ، چھوٹا سا سِپ لیا اور بات کو جاری رکھا۔
’’سری لنکن اگر کہتے ہیں کہ A Land Like No Otherتویہ غلط نہیں ۔چھوٹے تھے تو ایک دفعہ گئے تب اتنا شعور نہیں تھا پر اب تو حسن فطرت دیکھ کر دنگ رہ گئی ۔ سچی بات ہے سری لنکا کا قدیم تہذیبی ورثہ دیکھ کر مجھے تو فخر محسوس ہؤا ۔ جینی تو میوزیم میں زیورات کا سیل دیکھ کر گنگ رہ گئی تھی ‘‘۔
’’پرکچھ انسانوں کا بھی بتائو کہ وہ کیسے لگے؟‘‘
لاطف ہنسا، اس کے لہجے میں شوخی تھی اور کسی قدر طنز بھی ۔
’’اوپر والے کی تخلیق پر میں کون ہوتی ہوں رائے دینے والی۔ ویسے وہ اگر صورتاً اچھے نہیں لیکن سیرتاً تو کمال ہیں۔ ایسے محبت کرنے والے کہیں دیکھے ہیں تم نے ‘‘
’’کہاںکہاں گئیں، کون کون سی جگہیں دیکھیں ؟‘‘
’’کینڈی ، سیگریا ،نویرا علیا، آدم پیک ، انور ادھا پور ، جافنااور راستوںمیں پڑنے والے سب چھوٹے بڑے شہر ‘‘۔
’’مائی گاڈ تم آدم پیک گئیں!‘‘ لاطف کے لہجے میں حد درجہ حیرت تھی۔
تبھی زہرت لاطف کو کھانے کے لیے اٹھنے کا کہتے ہوئے بولی۔
’’مماڈیڈی کے ساتھ بہت ملکوں کو دیکھنے کا اتفاق ہؤا۔ نمازکے لیے ڈیڈی کے ساتھ اٹھنے کے بعد ہم دونوں تو پھر کبھی نہیں سوتے تھے ، گھومنے پھرنے ہی نکلتے ، سچی بات ہے ایسی نشیلی صبحیں دیکھنے کو ملتیں کہ لطف آجاتا۔ لیکن سری لنکا کی صبحوں کا جواب نہیں ‘‘۔
’’خیر یہ بات بھی درست نہیں ۔ اسکنڈے نیو ین ممالک کی صبحیں شامیں اپنے اندرحسن کے خزانے رکھتی ہیں۔ یہ چونکہ ہمارا وطن ہے اس لیے اس کے ساتھ ایک جذباتی وابستگی بھی ہے جو اس کی ہر چیز کو خوبصورت بنا دیتی ہے‘‘۔
’’پر چند باتوں نے مجھے اس بار شدید متاثر کیا ہے۔ سچی بات ہے میں تو اس پر سنجیدگی سے کام کرنے کو پلان کررہی ہوں‘‘۔
’’مثلاً‘‘ لاطف نے حیرت سے زہرت کودیکھا۔
’’سفر کے دوران میں نے جب بھی نماز کی ادائیگی کے لیے راستے میں نظر آنے والی کسی مسجد کا رخ کیا مجھے مسجد کے اندر نمازکی ادائیگی سے روکا گیا ۔ یہ تنگ نظری مجھے بہت کھَلی ۔ چند ے کا مطالبہ بھی کئی جگہ ہؤا۔ میرے اس احتجاج پر کہ میں تو ان مقدس جگہوں پر سجدہ دینا چاہتی ہوں جہاں ہر روزپانچ بار مختلف پیشانیاں اپنی عبودیت کے اظہار کے لیے جھکتی ہیں، پرمیری یہ بات ان کی کھوپڑیوں میں گھستی ہی نہ تھی ملحقہ کسی چھوٹے سے کمرے میں دھکیلنے کی کوشش کرتے تھے تاکہ پردے کااہتمام رہے ۔ روشن خیالی ، وسعت نگاہی ، ذہنی اُفق کی بلندی اور مذہبی روح کو سمجھنےکے لیے ان کی اعلیٰ تعلیم کااہتمام از حد ضروری ہے ۔دوسری بات جس نے مجھے شدید تکلیف دی وہ مسلمان بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے لا پروائی تھی۔ ملک میں موجود تینوں فرقے ہندو ، عیسائی اور بدھ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بہت کریزی ہیں۔چند ایسی تنظیمیں جو مسلمانوں کی بہبود کے لیے کام کررہی ہیں میری ان سے ملاقات ہوئی اور یہ نکات میں نے وہاں اٹھائے ۔انہوں نے بھی اعتراف کیا کہ واقعی اس میدان میںسری لنکن مسلمان پیچھے ہیں ۔ میں تو انشاء اللہ اب اس پر کام کرنے والی ہوں‘‘۔
‘‘مسلمانوں کی انتہا پسندی لبرل ازم اور سیکولر سوچ سے نارمل ہوسکتی ہے۔ ترقی کے لیے سیکولر ہیومنسٹ ہونا بے حد ضروری ہے‘‘۔

لاطف نے کھانے کی میز پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
‘‘سکیولر کیوں؟ مسلمان اپنے مذہب کی روح کو سمجھیں‘‘۔
بحث شاید طول پکڑ جاتی جب زہرت کی ماں نے دخل اندازی کرتے ہوئے کہا کہ بس بہت باتیں ہوگئیں اب کھاناکھائو۔
لاطف کھانے میں مصروف تھا جب زہرت نے یہ کہا۔
’’مجھے تو اپنے مسلمان ہونے پرفخر ہے اور میرا مذہب میری پہچان ہے‘‘۔لاطف کے چہرے کے زاویے بگڑے تھے۔ کھانے کے عمل نے اس ناگواری کو چھپا لیا تھا وگرنہ تو اس کے تاثرات بہت نمایاں ہوتے تاہم پھر بھی وہ کہے بغیر نہ رہ سکا۔
’’مسلمان تودنیا بھر میں رسوائے زمانہ ہیں۔ شرم آتی ہے خود کو مسلمان کہنے پر۔ دہشت گردی میں بڑا نام پیدا کررہے ہیں‘‘۔
زہرت تلملائی اور پھٹ سے بولی ۔
’’تمہاری محبوب تنظیم لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام نے توخیر سے سبھوں کو مات دے دی ہے۔ ایسی جیالی نکلی، ایسے تخلیقی جنگی معرکے مارے کہ خود کش حملوں کی نئی تکنیک ایجاد کر ڈالی۔ دنیا بھر سے اپنی انفرادیت منوالی ‘‘۔
چوٹ تو گہری تھی تاہم ہنستے ہوئے بولا۔ ’’تاریخ کی درستی بہت ضروری ہے ۔ خودکش حملے تاملوں کی ایجاد نہیں خیر سے زاروں کے ستائے ہوئے ماٹھے غریب روسیوںکے جذبات کااظہار تھے‘‘۔
شاید دونوں میں تلخی پھر بڑھ جاتی ۔زہرت کی ماں نے کہا ۔
’’تم لوگ کن باتوں میںاُلجھ گئے ہو۔کھانے کو زہر کررہے ہو‘‘۔
انہوںنے ہلکی پھلکی سی ڈانٹ کے ساتھ موضوع بدلوا دیا ۔
لاطف کو شاید یہ اعتراف کرنے میں اپنی سبکی محسوس ہوئی تھی کہ اس کا اب تامل ٹائیگرز سے کیا واسطہ اور ناطہ ۔ انٹر نیٹ سے کبھی کبھار کی حاصل کردہ معلومات اس کے لیے کچھ اتنی دل خوش کن نہ تھیں۔ تنظیم کے بانی رکن ویلو پلائی پر بھاکر ن کے بارے میں جانکاری کارخ بھی کچھ اتنا اچھا نہ تھا۔ وہ مذہبی گھرانے کا پروردہ تامل ہندو لڑکا جس کا باپ اسے بڑا افسر دیکھنے کا خواہشمند تھا ۔ بڑا پڑھا کوتھا تو دوسری طرف تخلیقی و تخریبی ذہن کا مالک بھی تھا۔ اس کا نیٹ ورک، دنیا بھر میںاس کے رابطے ،غیر قانونی منشیات ، مختلف کمپنیوں میںغیر قانونی سرگرمیوں ، غیر قانونی تارکین وطن کی منتقلی اور سمگلنگ جیسے قبیح دھندے تنظیم کی آمدنی کے ذرائع تھے ۔ اس نے پلٹ کر کبھی اپنے اس ماضی میں جانے یا جھانکنے کی خواہش نہیں کی تھی جس کے لیے وہ اپنے باپ سے الجھا تھا۔
لاطف اگر محنتی تھا تو قسمت کا دھنی بھی تھا۔شکا گو آنا اس کے لیے بہت بابرکت ثابت ہؤا تھا ۔ اپنی منزل کی طرف وہ سرعت سے بڑھ رہا تھا ۔ پیسے عہدے مرتبے اورخوشحالی نے اس کی شخصیت کو نکھاردیا تھا۔
سانولا سلونا کمزور سا لڑکا جوتا ڑ جیسا نظر آتا تھا اب ایک دلکش نوجوان کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ بہت سی لڑکیوں سے اس کی دوستی تھی ۔ شادی کی اسے قطعی جلدی نہ تھی ۔یہ کام کہیں اس کے مستقبل بعید کے کسی شیڈول میں تھا۔ زہرت کسی بھی طرح ردکیے جانے والی لڑکی نہیں تھی ۔حد درجہ دلکش اور پسندیدہ اطوار کی حامل ہونے کے باوجود وہ ہر بار اسے بیک ورڈ کہتے ہوئے اپنے دل میں رد کرتا تھا۔جب وہ واپس شکاگوآرہا تھا اس نے زہرت کے بارے میں اپنے آپ سے کہا تھا۔
’’اُف میرے خدا کس قدر جنونی ہے یہ ‘‘۔
تھوڑا سا وقت اور آگے بڑھ گیا تھا۔ اس نے اورکامیابیاں حاصل کیں ۔ چچا سے بس کبھی کبھار فون پر ہی بات ہوتی ۔ زہرت کے بارے میں چچا سے ہی سننے میںآیا کہ اس نے ایک این جی او بنائی ہے ۔ سری لنکا میں وہ تعلیم پر بہت کام کررہی ہے۔
یہ سال 1990ء اور مہینہ اکتوبر تھا۔
وہ کسی میٹنگ کے سلسلے میں نیو یارک آیا ہؤا تھا ۔ نیو یارک بارشوں کے پانیوں سے دُھل دُھلا کر نکھرا ہؤا تھا ۔ گاڑی کوئینز بولیوارڈ پر بھاگتی ہوئی جانسن ہوٹل کی طرف جارہی تھی ۔ مین ہٹن کا یہ علاقہ اسے بہت پسند تھا ۔ سہ پہر سونے میں گزاری اور شام کو وہ سیر سپاٹے کے لیے نکل آیا۔

پہلے اس نے چچا کے گھر جانے کا سوچا ۔ پھر اس خیال کوجھٹکتے ہوئے وہ خود سے بولا۔
’’ہٹائو یار ، وہاں جاکر بور ہونے سے بہتر ہے فورٹی سیکنڈ سٹریٹ چلوں اورشام بھی اچھی گزاروں اور کچھ خریداری بھی کروں۔جرابوں اور چند ٹائیوں کی ضرورت ہے ‘‘۔
گھومتے گھومتے وہ ٹائمز اسکوائر آگیا درمیان کی گول سی بلڈنگ پر زیپر چل رہی تھی۔ ساری دُنیا کی اہم تازہ خبریں ایک پٹی کی صورت میں چمک دار حروف میں سامنے آرہی تھیں۔ اس کا تو قطعاً کوئی ارادہ نہیں تھا ان خبروں کو دیکھنے کا پر جانے کیسے نظر اٹھ گئی اورجو اٹھی تو اٹھی رہ گئی ۔ کسی سنگی بت کی طرح وہ جہاں کھڑا تھا کھڑا رہ گیا ۔ ٹائمزاسکوائر ، اس میںگھومتے پھر تے لوگ سب جیسے اوجھل ہوگئے ۔ صرف ایک چیختی چنگھاڑتی خبر تھی جس نے اس کی آنکھوں کو، اس کے اعضا اور اس کے وجود کو ساکت کردیا تھا۔
‘‘سری لنکا کے شمالی علاقوں کے اہم شہروں اور قصبوں سے تامل ٹائیگرز اوراس کی ذیلی تنظیم بلیک ٹائیگرز کے مسلح فوجی دستوں نے سنگینوںاور بندوقوں کی نوک پران علاقوں کے مسلمانوں کے گھروں پر قبضہ کر کے انہیں باہر نکال پھینکا ہے ۔ سری لنکا کے ان شہروںمیں ابتر صورت کے پیش نظر امن وامان کی حالت سخت مخدوش ہے‘‘۔
سائیں سائیں کرتے کان ، دھڑ دھڑ کرتا اس کا دل اور زیپر پر رقصاں اس کی نگاہیں سب جیسے اس خبر کی صداقت سے انکاری تھے بھلا یہ کیسے ممکن ہے۔ پر وہی خبر اب پھر سامنے تھی اور اسے بتا رہی تھی کہ اس نے جوکچھ دیکھا وہ اس پر یقین کرے۔
پھر جیسے وہ پاگلوں کی طرح بھاگا۔ اسے یہ بھی نہ خیال آیا کہ فون پر وہ اپنے چچا سے بات کرے۔ اس نے ٹیکسی پکڑی اور برانکس کاکہہ کر نیم دراز ہوگیا اس کے دل و دما غ میں جیسے آندھیوں کے جھکڑ تھے ۔ جافنا ، مینار ، کلونچی ، وییا نیا اور مولا ٹاوی کے مسلمانوں کو وہ اچھی ًطرح جانتا تھا ۔ امن پسند صلح جوقسم کے یہ لوگ جو کبھی کسی جھگڑے میں ملوث نہیں ہوئے ، ہمیشہ اپنے کام سے کام اور اپنی کمیونٹی کی فلاح وبہبود میں خود کو مصروف رکھتے تھے ۔
وہ تاملوں اورسنہالیوں کے درمیان کبھی کبھار کے جھگڑوں میں ہمیشہ اس گروپ کا ساتھ دیتے جو انصاف پر ہوتا ۔
وہ چچا کے ہاں پہنچا گھر لاک تھا۔ یہ لوگ کہاں گئے ہیں؟ اس نے گہرے دکھ سے سوچا۔
چچا کے پٹرول پمپ فون کرنے پر ان کے منیجر سے پتا چلا کہ چچا کی ساری فیملی آسٹریلیا گئی ہوئی ہے ۔ واپسی پر ان کا ارادہ سری لنکا ہو کر آنے کا بھی ہے۔
اس نے جافنا فون کیا ۔ کوئی جواب نہیں تھا۔ اس کا باپ ، اس کے بھائی بہن اس کی ماں کہاں ہوںگے؟ زندہ بھی ہیں یا نہیں پھر اس نے کولمبو چچا کے سسرال فون کیا ۔چچا کے سالے کی بیوی نے بتایا۔
’’ابھی تو کچھ پتا نہیں ۔ سری لنکن فوج نے ایکشن تولے لیا ہے پر ابھی حالات بہت مخدوش ہیں۔ مسلمانوں پربڑا کڑا وقت ہے ۔ ان دہشت گردوں نے تو انہیںاتنی بھی مہلت نہیں دی کہ وہ اپنا کوئی سامان بھی اٹھا سکتے ‘‘۔
وہ شکا گو واپس آگیا ۔ وہ سری لنکا جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا ، ان چند دنوں میں جب وہ اپنے بزنس معاملات اوردیگر امور کو اپنی عدم موجودگی میں نمٹانے کے بندوبست میں مصروف تھا ۔اس نے کتنی بار سوچا ، کتنی بار اس تلخ احساس نے اس کو کچو کے لگائے کہ یہ وہی تامل ٹائیگرز لبریشن ہے جسے وہ حق پر سمجھا تھا جس کے کاز سے اسے ہمدردی تھی جسے وہ ممبر بن کر اپنی خدمات سونپنا چاہتا تھا۔وہ کیسا احمق تھا؟ کس قدر بے وقوف اور گھا مڑتھا ۔
وہ بس نام کا مسلمان تھا۔ پر اس حادثے نے اسے اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔اس کی مسلمانیت جیسے جوش کھا کر تڑپی تھی ۔ اس کا باپ کتنی صحیح بات کہا کرتا تھا ۔ یہ ہنود و یہود کبھی مسلمانوںکے دوست نہیں ہوسکتے۔

ان دنوں وہ کس اذیت سے دوچار تھا اس کااندازہ صرف اسے ہی تھا اس کی سیکولر، کمیونسٹ سوچوں کے چیتھڑے اڑ گئے تھے۔بین الاقوامی میڈیا پراس کی صرف ایک خبر تھی۔ کتنے گھر سے بے گھر ہوئے، کتنے معصوم اور بے گناہ مارے گئے کچھ علم نہ تھا۔ اس کھلی جارحیت پر کہیں احتجاج نہیں تھا۔جانے سے ایک دن پہلے اس نے کولمبو فون کیااس کے چچا چچی سب مع زہرت کے وہاں آچکے تھے اورکولمبو میں اپنے گھر میں مقیم تھے ۔ اس کے والدین اور بہن بھائی سب اس کے چچا کے پاس تھے ۔ دو دن پہلے اس کے چچا انہیںکینڈی کے کیمپ سے لائے تھے ۔ زہرت ان دنوں کیمپوں میں امدادی پارٹیوں کے ساتھ دن رات کام کررہی تھی ۔یہ بات اس کے والد نے اسے فون پر بتائی تھی۔
اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے بات کر کے اسے قلبی سکون تو ضرور ملا تھا ، پر جیسے وہ اندر سے جل رہا تھا۔ اتنا بڑا ظلم ٖ! کیوں اورکس لیے ؟
رات کے تین بجے وہ بند رانائیکے انٹر نیشنل ائیر پورٹ پراترا تو اس کی آنکھوں میںآنسو آگئے تھے ۔دس سال بعد اس نے اپنے وطن کی سرزمین پر پائوں رکھا تھا۔ یورپ کے ائیر پورٹوں کے مقابلے میں کس قدر چھوٹا اور چمکتی دمکتی شان و شوکت سے عاری ائیر پورٹ تھا۔
میجسٹک سٹی میں چچا کا خریدا ہؤا خوب صورت گھر جو ابھی خاموشی کے سناٹے میں ڈوبا ہؤا تھا ،اس کے اندر پائوں دھرنے کے ساتھ ہی جاگ اٹھا تھا دکھ ، کرب اور اذیت کے وہ مشترکہ محسوسات جن سے وہ سب اپنی اپنی جگہ دوچار ہوئے تھے، مل بیٹھنے اور باتیں کرنے سے قدرے سکون پذیر ہوئے ۔
’’آخر ایسا کیوں ہؤا؟‘‘ اس نے اپنے باپ سے سوال کیا۔
’’مسلمان طبقے کا با اثر ہونا انہیں کھَلتا تھا ۔انہیں وسطی حصوں میں دھکیل کر وہ پورے لنکا میں ایک اشتعال انگیز صورت حال پیدا کر کے مسلمانوں کو بقیہ فرقوں سے لڑانا چاہتے تھے تاکہ انہیں بالکل بے اثر کیا جاسکے‘‘۔
ہلکے سے ناشتے کے بعد وہ سو گیا تھا ۔ رات کے کھانے پر ماں نے اسے اٹھایا۔ وہ جب گہری نیند اور اس کی مد ہوشی سے قدرے باہر ہؤا تواسے زہرت کی آواز سنائی دی تھی۔
اور ایسا پہلی بار ہؤا کہ اس آواز کے سنتے ہی اسے اپنی دھڑکنوں میں ارتعاش سا محسوس ہؤا ۔ چند لمحے وہ ساکت لیٹا اسے سنتا رہا ۔ وہ کسی کیمپ کا حال سنا رہی تھی ۔وہ اٹھا ، واش روم میں جاکر اس نے منہ ہاتھ دھویا اورپھر باہر آیا ۔ کاہی رنگ کی ساڑھی میں وہ صوفے پر بیٹھی باتیں کررہی تھی۔
سفر کی تھکاوٹ کا ہلکا ساعکس اس کے چہرے پر تھا پر لہجے میں تیزی اور گفتگو میںزور تھا۔اسے دیکھ کر مسکرائی ۔ یقینایہ ایسی ہی مسکراہٹ تھی جیسی وہ ہمیشہ سے اسے دیکھ کر اپنے ہونٹوں پر بکھیرا کرتی تھی۔مگر لاطف کی نظریں آج وہ نہیں تھیں جو پہلے ہؤا کرتی تھیں ۔ زہرت نے نقشے کے ذریعے ان تمام مقامات کی نشاندہی کی جہاں جہاں مسلمانوں کے کیمپ لگے ہوئے تھے ۔ اسے تقریباً ہر کیمپ کی حالت کاعلم تھا کہ کہاں کس کس چیز کی ضرورت ہے۔ اس بھاگ دوڑ میں کولمبو کی پوری مسلم کمیونٹی سر گرم عمل تھی۔
گھر کے بقیہ لوگ توسونے کے لیے اپنے کمروں میںچلے گئے تھے ۔ لاطف کی ماں نے اسے زہرت کے ساتھ باتیں کرتے دیکھ کر وہاں بیٹھنا مناسب نہ سمجھا اور اٹھ گئی ۔
دفعتاً باتیں کرتے کرتے لاطف نے کہا ۔
’’زہرت میں بھی اس مشن میں تمہارے ساتھ شامل ہونا چاہتاہوں‘‘۔
حیرت زدہ سی زہرت نے اسے دیکھا۔
’’ہوش میں توہونا‘‘۔
وہ مسکرایا ۔زہرت کا حیرت زدہ ہونا اسے سمجھ میں آتا تھا۔ وہ اس کے خیالات سے بخوبی آگاہ تھی۔
’’بالکل ہوش میں ہوں اور بقائمی ہوش و حواس تمہارے مشن میں ایک ادنیٰ کارکن کے طور پر کام کرنے کا خواہش مند ہوں‘‘۔
’’پر لاطف میں تو اپنے مشن کو دنیا بھر میںہر اس جگہ لے جانا

چاہتی ہوں جہاں مسلمان مظلوم ہیں ۔سری لنکا میرے والدین کاوطن ہے ۔ اس کے ہم پر حقوق ہیں ۔پرمجھے وطنیت کی سطح سے اوپر اٹھ کر کام کرنا ہے ۔ رنگ اورنسل کی سطح سے بالا تر ہو کر ‘‘۔
’’میں اور میرے سب وسائل تمہارے ساتھ وہاں تک چلیں گے جہاں تک تم ہمیں لے جانا چاہو گی ، زہرت!‘‘ لاطف کا لہجہ گلو گیر سا تھا۔’’زہرت ‘‘ کہہ کر وہ کچھ دیر خاموش رہا پھر بڑی بوجھل آواز میں بولا۔
’’میں نے تو اپنے دل کے دروازے تم پر بند رکھے ۔ حالانکہ تم میںاندر جانے اور وہاں رہنے کی ساری خوبیاں موجود تھیں ، پر میں تو خود کو ہی بھلائے بیٹھا تھا‘‘۔
اس نے زہرت کا ہاتھ اپنے بھاری ہاتھوں میں تھاما اور بولا ۔
’’میں معافی چاہتا ہوں زہرت‘‘۔
زہرت کی آنکھوںمیں شبنم اتر آئی تھی۔
اپنے باپ کی طرح لاطف اس کی بھی پسند تھا ، پر اس نے کبھی اس پسندیدگی کاہلکا سا اظہار کرنا بھی پسند نہ کیا ۔ اس کا ہاتھ لاطف کے ہاتھوں میں تھا۔
’’ہم تو اپنے دشمن آپ بن بیٹھے ہیں۔ وہ آفاقی پیغام جو ہماری اساس ہے ، اس کی روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے انکاری ہیں۔ رنگوں ، نسلوں ، فرقوں ،گروہوںمیں بٹے ہوئے ، اپنے مرکز سے بھٹکے ہوئے ، معجزوں کی توقعات میں زندہ ، عمل سے عاری لاشے ہیں‘‘ وہ سر جھکائے بول رہا تھا۔
’’لاطف تم نے مجھے اپنا آپ دیا ہے ،میں بہت خوش ہوں ۔ آئو چھوٹا سا دیا جلائیں اور اسے ان دیوں میں شامل کریں جو کہیں کہیں جل رہے ہیں ۔شاید یہ ایک قافلہ بن جائے اور شاید کہیں کوئی صلاح الدین ایوبی اس قافلے کی مہارا پنے ہاتھ میں تھام لے‘‘۔
٭…٭…٭

 

 

 

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here