ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

بزرگی-بتول اپریل ۲۰۲۱

’’آپی!تم نے سینڈوچز پلیٹ میں غلط طریقے سے رکھے ہیں۔ یہ دیکھو اس تصویر میں کتنے اچھے لگ رہے ہیں۔تمہیں ذرا ڈیکوریشن نہیں آتی‘‘۔
مشعل کا منہ بسور کر آپی کے ساتھ’’تم‘‘ کہنا اس کی نٹ کھٹ شخصیت کا حصہ تھا۔
’’مشعل!یہ چھری کیسے رکھی ہے تم نے؟ خالہ مہ پارہ کی باتیں بھول گئیں جو اسی بات پر سنی تھیں تم نے اس دن؟‘‘
’’ہاں ہاں یاد ہے۔خواہ مخواہ نحوست ہوتی ہے….ہنہہ!‘‘
’’مگر ٹھیک بات ہے کہ خطرناک بھی تو ہے اس طرح رکھنا۔اگر لگ جائے پلیٹ اٹھانے والے کے تو….‘‘
مصباح نے ناصحانہ انداز میں چھوٹی بہن کو سمجھانا ضروری سمجھا۔
’’مصباح….مشعل کیا کر رہی ہو؟ تم دونوں کیا آپس میں ہی لگی رہو گی؟ مصباح !تم نے دھلے ہوئے میز پوش ابھی تک نہیں بچھائےاور مشعل! تمہیں موبائل سے فرصت ہوتو ذرا گیلری میں آجاؤ۔نرسری سیٹ کراؤ میرے ساتھ‘‘۔
کاموں کے انبار کے درمیان مشعل کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کر نازیہ کے لہجے میں تنبیہ اور ناگواری نمایاں تھی۔دونوں بہنیں اپنی بحث چھوڑ کر ماں کے ساتھ جت گئیں ،اس تجسس کے ساتھ کہ مہمان داری تو گھر میں ہوتی ہی رہتی ہے،آج کیا خاص بات ہے کہ امی صبح سے لگی ہوئی ہیں اور ان کا اطمینان ہی نہیں ہورہا۔آخر نازیہ نے جب کپڑے بدلنے کا عندیہ دیا تو یہ عقدہ کھلا :
’’تم دونوں آج وہ نیلے جوڑے پہن لو کام دانی والے۔اور اچھی طرح تیار ہو کر سلیقے سے سر پر دوپٹہ رکھنا مہمانوں کے سامنے‘‘۔
’’مگر امی میں بھی؟اور پھر وہی…..میں اور آپی شوپیس بن کر کسی کے سامنے جائیں‘‘۔
مشعل جو مصباح سے دو سال چھوٹی تھی۔اس نے منہ بنا کر کہا۔
’’مشعل!‘‘
نازیہ نے بیٹی کو آنکھیں دکھائیں تو وہ خاموش ہوگئی۔ان دونوں کی اطلاع کے لیے اتنا کافی تھا کہ آج خالہ مہ جبین اور مہ پارہ تشریف لارہی ہیں ان سے ملنے۔
٭ ٭ ٭
مہ جبیں اور ماہ پارہ دو جڑواں بہنیں تھیں۔لیکن ہمشکل ہونے کے علاوہ دونوں کی عادات مزاج اور طور اطوار میں کوئی قدر مشترک نہ تھی۔ دونوں بہنیں والدین کے سایہ عاطفت میں پلی بڑھیں۔آگے پیچھے شادی ہوئی، اللہ نے اولاد بھی ساتھ ساتھ پہلوٹی کے بیٹوں کی صورت میں دی۔سوئے اتفاق دونوں کے ہاں ہی کوئی بیٹی نہ تھی۔ ایک ہی علاقے کے مکین ہونے کے ناطے نازیہ کے گھرانے کی ان دونوں سے پرانی شناسائی تھی۔ مہ جبیں اور مہ پارہ سے ملنے نازیہ اکثر جاتیں اور مصباح اور مشعل کو ساتھ لے جاتیں….دونوں بہنوں کو خالہ مہ جبیں سے ملنے کا بہت ہی اشتیاق رہتا لیکن خالہ مہ پارہ سے دور دور رہنا ہی اچھا لگتا۔ مصباح سوچتی کہ خالہ مہ جبین کی شخصیت میں کچھ خاص ہے کہ ان صحبت میں بیٹھ کر عجیب میٹھی میٹھی نانی دادی والی شفقت اور خوشبو ملتی ہے….اور وہ خود بھی تو کتنی عجیب باتیں کرتیں۔ خاص طور پر ان کی دعائیں۔آدھی تو سر کے اوپر سے ہی گزر جاتی تھیں!
’’مولا ہمیں اپنے سوا کسی کا محتاج نہ کرنا۔بڑھاپے کے کبر سے بچانا،مولا خیر والی برزگی دینا‘‘۔
’’خیر والی بزرگی‘‘ کی دعا پر مصباح اور مشعل سرگوشی کرتیں :
’’لو! خالہ مہ جبیں اللہ میاں سے بڑھاپا بھی خود ہی مانگ رہی ہیں! یہ کیا بات ہوئی بھلا۔بوڑھا ہوکر کون اچھا لگتا ہے۔ان کو بزرگ بننے کا کتنا شوق ہے۔اتنے پیارے سیاہ بال،یہ موٹی چوٹی! سب کے سب سفید ہوجائیں گے‘‘۔
دل ہی دل میں جی بھر کر دونوں افسوس کرتیں مگر پھر ان کی میٹھی باتوں کے سحر میں کھو جاتیں۔ان کو لگتا کہ اگر ان کی دادی یا نانی حیات ہوتیں تو ایسی ہی ہوتیں۔مگر خالہ مہ پارہ کے لیے کبھی بھی دونوں نے کوئی نقشہ کھینچنے کی کوشش نہ کی۔ نازیہ اوپر نیچے کی منزلوں میں رہائش پذیر دونوں بہنوں سے مل کر واپس آتیں،مگر مصباح اور مشعل کی کوشش ہوتی کہ خالہ مہ پارہ سے مل کر چپکے سے سٹک لیں۔مگر یہ بھی آسان نہ تھا۔ان کی بڑی بڑی کالی آنکھیں انگارہ ہوکر انہیں گھورتیں اور اس قدر سنجیدگی و متانت کا سامنا بھی کرنا پڑتا مع ماں کی ڈانٹ کے۔مشعل برا فروختہ ہوکر اکثر کہتی:
’’جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے،مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کبھی انہوں نے ہمیں کبھی مسکرا کر دیکھا ہو، گلے لگایا یا سر پر ہاتھ پھیرا ہو‘‘۔
٭ ٭ ٭
خالہ مہ پارہ اور خالہ مہ جبیں سے ملاقات کے بعد گھر میں دونوں میاں بیوی نازیہ اور اقبال سرگوشی کے ساتھ سر جوڑے گفتگو کرتے نظر آتے۔آخر ایک دن انہوں نے دونوں بیٹیوں سے رشتے کے متعلق جواب مانگا۔دونوں بہنیں دونوں ہی بچیوں کو اپنی بہو بنانے کے لیے بے تاب تھیں۔چٹ منگنی پٹ بیاہ والا حساب ہؤا اور مشعل اور مصباح پیا دیس سدھار گئیں۔
مشعل کا رشتہ مہ پارہ کے ہاں طے کرتے ہوئے نازیہ اور اقبال بہت تذبذب کا شکار نظر آتے تھے۔مگر ان کے بیٹے خالد کے اچھے اخلاق و کردار اور خاندانی شرافت دیکھ کر انکار نہ کرسکے۔پھر اگر ایک بہن کو اقرار اور دوسری کو انکار کرتے تو کتنی سبکی ہوتی خود مہ پارہ کی۔ پھر تاریخ طے ہونے پر وہ مصر تھیں کہ رخصتی ایک ہی دن نہ ہوگی کہ ایک ساتھ دونوں بیٹیوں کی رخصتی ان کے نزدیک بدشگونی تھی۔یوں ان کی ضد کے باعث ایک دن کے فرق سے مشعل اور مصباح اپنے گھر کی ہوگئیں۔ رخصتی کے وقت ان کا سخت گیر اور سرد لہجہ نازیہ کے ساتھ ساتھ مصباح کے دل کو بھی سہما رہا تھا۔
’’ اللہ! میری بہن کو سکھی رکھنا‘‘۔
مصباح کے دل سے مشعل کے لیے اندیشوں کے ساتھ ڈھیروں دعائیں نکلیں۔عاطف نیک فطرت اور ٹھنڈے مزاج کا لڑکا تھا۔مصباح کو اپنے گھر میں مطابقت پیدا کرنے میں پاپڑ نہیں بیلنے پڑے۔اور خالہ مہ جبیں کی ہر دم شفقت اور منہ بھر بھر کر دعاؤں سے ہی گویا اس کا جی کھل اٹھتا۔کبھی پوچھتیں:
’’تمہیں کھانے میں کیا پسند ہے؟کبھی اپنی پسند کی چیز بھی پکایا کرو‘‘۔
’’اچھا سنو! آج فلاں تقریب میں جاتے میں کون سے کپڑے پہنوں؟ ‘‘
کبھی کہتیں’’ اپنی سہیلیوں کو بلا کر بیٹھک کرلو‘‘۔
کبھی گھر میں دعوت کے اختتام پر ان کا یہ کہنا مصباح کی تھکن اتار دیتا۔
’’تم تھک گئی ہو گی نا۔آج مہمانداری بہت تھی۔جاؤ آرام کرلو‘‘۔
عاطف گھر ہوتا تو کہتیں۔
’’عاطف کے پاس جا کر بیٹھو۔اسے وقت دیا کرو‘‘۔ ان کی شفقت اور مہربانی پر اس کا دل تشکر سے بھر جاتا۔
٭ ٭ ٭
وقت کیسے پر لگا کے اڑتا ہے ۔آج دونوں کی شادی کو تین ماہ گزر بھی گئے۔
’’مصباح! آج مہ پارہ نے اپنی طرف بلایا ہے رات کے کھانے پر۔مگر شام تک چلتے ہیں۔ذرا تم مشعل کا ہاتھ بٹالو گی۔میں مہ پارہ کے پاس بیٹھ جاؤں گی‘‘۔
’’جی امی ٹھیک ہے ‘‘مصباح خوشی سے بولی اور اپنے اور ان کے کپڑے استری کرنے چل دی۔
مہ پارہ نے بیٹے کی شادی سے ایک ماہ قبل گھر تبدیل کرلیا تھا۔علاقہ وہی مگر پیدل چلنے کی مسافت پر ہی تھا۔یوں ساس اور بہو ٹہلتے ہوئے سر شام جا پہنچیں۔مصباح فوراً بہن کے پاس لپک کر چلی گئی۔کچن میں جتی مشعل تو وہ لگ ہی نہیں رہی تھی۔یہ دونوں بہنوں کی تین ماہ میں تیسری ملاقات تھی۔ماں کے گھر بھی وہ رہنے کے لیے نہ آتی۔نٹ کھٹ اور شوخ مشعل تو کہیں کھو گئی تھی۔بس ایک احساس ذمہ داری تھا جو اس کی شخصیت پر غالب تھا۔
’’مشعل !اب بس بھی کرو‘‘۔مصباح نے سلاد پتے پلیٹ میں سجاتے ہوئے اس سے کہا۔
’’بس یہ چاول دم پہ چھوڑ دوں پھر چلتے ہیں باہر‘‘۔
ابھی وہ باہر آکر بیٹھی ہی تھیں کہ خالہ مہ پارہ کی خشمگیں نگاہوں نے گھیر لیا۔مشعل ہکلا کر خود وضاحت دینے لگی۔
’’ امی کھانا تیار ہے۔بس چاول دم پر ہیں‘‘۔
’’ہوں‘‘
انہوں نے سر ہلانے پر اکتفا کیا۔ان کی سرد مہری صاف نظر آرہی تھی جسے چھپانے کی ناکام کوشش تھی۔
’’ارے مہ پارہ! یہ پردے تو بہت ہی جچ رہے ہیں۔بہت خوب صورت رنگ اور ڈیزائن ہے‘‘۔
مہ جبیں نے بر وقت موضوع بدلا۔
’’اور چادر بھی اتنی ہم رنگ ہے! بھئی واہ واہ! اب تم گاؤ تکیے کے غلاف بھی اسی کے جیسے بنوالو نا!‘‘مصباح کی ساس نے مشورہ بھی دے دیا۔
’’جی خالہ مہ جبین! میں آپ کو دکھاتی ہوں۔بہت زبردست میچنگ کا کپڑا لائی ہوں‘‘۔
مشعل ان کی بات سن کر جوش سے اٹھی اور کمرے میں بنی الماری سے جلدی سے ایک کپڑا نکال لائی۔
’’اب بس اس کے لیے فیتہ لینا ہے۔پھر غلاف سی کر بدل دوں گی‘‘۔
وہ رسان سے بتانے لگی۔یکایک اس کی نظر مہ پارہ پر پڑی جن کے چہرے پر واضح ناگواری کے تاثرات تھے۔وہ بولیں کچھ نہیں مگر ان کی آنکھوں میں جو گرمی تھی وہ سب ہی بخوبی محسوس کر رہے تھے۔اور مشعل تو جیسے ان آنکھوں سے پگھل ہی رہی تھی۔اس کا خوشی سے گلنار چہرہ یکایک کمھلا گیا۔
اتنے میں بیل بجی۔ عاطف اورخالد ساتھ ساتھ ہی آگئے تھے۔دونوں بہوئیں کھانا لگانے فٹافٹ کچن میں چلی گئیں۔
’’کھانا بہت اچھا بنایا ہے تم نے جیتی رہو! سدا سہاگن رہو! ‘‘
مہ پارہ اٹھ کر غسل خانے گئیں تو مہ جبیں نے مشعل سے کہا۔اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعائیں دینے لگیں۔
مشعل مصباح اور مہ جبین دونوں ہی سے نظریں چرا رہی تھی۔اس کی کیفیت دیکھ کر بہن کا دل بھی اتاؤلا ہواجارہا تھا۔لیکن اپنی کیفیت کے اظہار کے نتیجے میں شاید اس کے لیے مزید مشکلات کھڑی ہوتیں۔مشعل نے سرگوشی میں مصباح سے صرف اتنا کہا:
’’ یہ صرف ٹریلر ہے مصباح!اصل بے عزتی تو تم لوگوں کے جانے کے بعد ہوگی!تم بس میرے لیے بہت دعا کیا کرو‘‘۔
اور مصباح کو یوں لگا جیسے اس کا انگ انگ اپنی بہن کی خوشیوں کے لیے دعائیں کرنے لگا ہو۔
خالہ مہ پارہ سے الوداعی کلمات کہہ کر مصباح گھر والوں کے ساتھ اپنے گھر آگئی۔اس کا دل بہت عجیب سا ہورہا تھا۔
’’کیا بات ہے؟ بہت چپ چپ ہو؟ ‘‘
عاطف نے پوچھا لیکن وہ ٹال گئی۔کچن سے پانی لے کر پلٹ رہی تھی تو ساس کو تخت پر بیٹھا دیکھا۔انہوں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔مصباح اس وقت ان کے سامنے نہیں بیٹھنا چاہتی تھی۔مبادا وہ اپنی بہن اور اس کی بہن کے متعلق اس کے احساسات کو بھانپ لیں اور ان کے درمیان کسی بد مزگی کو جگہ ملے۔مصباح نظریں چرائی بیٹھی تھی۔
’’پانی لیں گی؟ ‘‘
اس نے ان کی خاموشی اور گہری نظروں سے گھبرا کر پوچھا۔
’’نہیں بیٹا!‘‘
مہ جبیں مختصر جواب دے کر پھر چپ ہوگئیں۔
اسے اب الجھن ہورہی تھی۔یکایک مہ جبیں اٹھ کر مصباح کےقریب آگئیں۔اور محبت سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔مصباح کا ضبط ٹوٹ گیا اور جذبات کا جوار بھاٹا آنکھوں کے راستے بہہ نکلا۔انہوں نے اس کو گلے سے لگا لیا۔پانی پی کر وہ کچھ بہتر ہوئی تو اس سے کہنے لگیں:
’’سنو مصباح! تم اپنے لیے کیا دعا مانگتی ہو؟‘‘
وہ ان کے بے موقع سوال پر انہیں حیرت سے دیکھنے لگی۔
’’خیر وبرکت ،عافیت،دنیا و آخرت کی نعمتیں۔سب مانگتی ہوں۔ امی!‘‘
’’ اللہ سے خیر والی بزرگی بھی مانگا کرو۔بڑی عمر کے زعم سے پناہ مانگا کرو۔بس! بہت بڑا فتنہ ہے! دل کا فتنہ !عقل،سمجھداری،شعور،تجربہ ہر چیز کو گھن کی طرح کھا لیتا ہے یہ۔ پھر زندگی میں نہ برکت نہ رحمت نہ شفقت ۔تہی دامن کردیتا ہے انسان کو!‘‘
اور مصباح سوچنے لگی کہ جس خیر والی بزرگی کی دعا کو بچپنے میں وہ دونوں مذاق سمجھتی رہیں،اس کے معانی آج آشکار ہوئے ہیں۔اس نے اپنے رونگٹے کھڑے ہوتےمحسوس کیے اور جھرجھری لی۔
’’اللہ! مجھے اور میری بہن کو خیر والی بزرگی دینا‘‘اس کے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی۔
٭ ٭ ٭
خالہ مہ پارہ کے میاں کے انتقال کو دو سال ہوگئے تھے۔اب ان کو ایک ہی دھن سوار تھی کہ اپنے چھوٹے بیٹے حارث کے لیے بھی دلہن لے آئیں۔اور مصباح نے اس بات کا تذکرہ جب سے سنا تو یہی سوچ رہی تھی کہ مشعل کے امتحان معلوم نہیں دیورانی کے آنے کے بعد کچھ کم ہوں گے یا اور ہی بڑھ جائیں گے۔اس کے یہاں تو ایسا کوئی منظر نہیں تھا۔وہ مہ جبیں کی اکلوتی بہو تھی۔ مہ پارہ اپنی بہن سے بھی گاہے بگاہے لڑکیوں کے لیے مشورے کرتی رہتیں۔یہ علیحدہ بات تھی کہ انہیں مشورہ راس نہ آتا تھا۔ان کا معیار بہت ’’بلند و بانگ‘‘ تھا….. ناک،نقشہ،رنگ و روپ ، جسامت،سلیقہ،گھر بار،معیار زندگی، خاندان….. اور معیارات کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست۔جس پر کوئی بھی لڑکی پوری نہ اتر رہی تھی۔یکایک ایک شام مہ پارہ کے ہاں سب کی زندگی میں جیسے بھونچال آگیا۔
شام ڈھلے دروازے کی گھنٹی بجی۔یکے بعد دیگرے گھنٹیاں بجنے پر مہ پارہ تلملاتی ہوئی اٹھیں اور دروازے کی طرف جاتے ہوئے ذرا بلند آواز سے کہنے لگیں:
’’مجال ہے جو کسی کو بڑھاپے کا خیال ہو،مشعل کہاں ہو،ایک دروازہ نہیں کھولا جاتا تم سے‘‘۔
مشعل واش روم سے نکلتے ہی برق رفتاری سے آگے بڑھی لیکن جب تک خالہ مہ پارہ پہنچ کر دروازہ کھول چکی تھیں۔
اور سامنے اپنے بیٹے حارث کو اس کے ساتھ ایک سجی سنوری جوان لڑکی کو دیکھ کر ہق دق رہ گئیں۔یکایک انہیں چکر سا محسوس ہؤا۔مشعل بھی ہونق کھڑی تھی۔اس نے ساس کو سہارا دے کر بٹھا دیا اور پانی لے آئی۔
’’امی! یہ میری دلہن ہے روحینہ!‘‘
اس نے دلہن کو اشارہ کیا تو وہ سلام کرنے آگے بڑھنے لگی۔مگر مہ پارہ نے وہیں اسے روک دیا۔
’’آؤ ۔میں تمہیں کمرے میں لے چلوں‘‘۔
حارث نے ماحول کی درشتی دیکھتے ہوئے کہا۔پلٹ کر آیا تو ماں قہر بار نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتیں وہ خود ہی کہنے لگا:
’’امی ! میں نے آپ کی لاکھ خوشامد کی کہ آپ عزت سے اس کی اور میری شادی کرادیں،باقاعدہ رشتہ لے کر جائیں۔لیکن آپ نے میری ایک نہیں مانی۔میں نے اپنی کلاس فیلو سے کوئی کورٹ میرج نہیں کی۔نکاح کرکے اس کے گھر سے رخصت کرا کے لایا ہوں۔اب یہ آپ کی بہو ہے اور یہاں چند دن کی مہمان ہے۔میں اور روحینہ اگلے ماہ دبئ شفٹ ہوجائیں گے۔ اس گھٹن زدہ ماحول میں نہ خود رہ سکتا ہوں نہ اسے رکھوں گا۔خالد بھائی کا حشر میرے سامنے ہے‘‘۔
وہ دو ٹوک بولتا چلا گیا۔ مہ پارہ جو پتھر کی طرح بت بنی اسے دیکھ رہی تھیں،دبئ جانے کی بات پر تڑپ اٹھیں اور اس کے ہاتھ پکڑلیے۔
’’حارث! تم اپنی ماں کو چھوڑ کر جاؤگے؟‘‘
خالہ مہ پارہ کی آنکھوں میں اذیت کی انتہا تھی۔مگر حارث نے نظریں چرا لیں اور اپنے ہاتھ آہستگی سے چھڑا کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
مشعل اپنی جگہ پر جامد کھڑی تھی ۔بہت ہمت کرکے آگے بڑھی کہ مہ پارہ کی کوئی تشفی کرسکے،مگر ان کے گریز پا انداز سے واپس ہوگئی۔ان کی حالت قابل رحم تھی۔خلاء میں گھورتی ہوئی خاموش اور ساکن جسم میں کیسے طوفاں اٹھ رہے تھے،وہ ان کو دیکھ کر اندازہ کرسکتی تھی۔
٭٭٭
حارث اور روحینہ کے جانے کے بعد تو خالہ مہ پارہ کی شخصیت یکسر بدل کر رہ گئ۔وہ جنہیں اپنی ابرو کے اشارے کے خلاف بھی کچھ پسند نہ تھا،زندگی میں آنے والی اس عجیب تبدیلی سے خاموش ہوکر رہ گئی تھیں۔نہ کھانے پینے میں دلچسپی،نہ پہننے اوڑھنے میں۔
مشعل اسی طرح ان کے آگے پیچھے پھرتی اور خیال رکھتی مگر وہ اب غصے کے اظہار سے بھی عاری ہوگئی تھیں۔مشعل اور خالد اپنے بچوں کو دادی کے آس پاس رکھتے کہ ان کا دل بہلا رہے۔مہ جبین ہفتہ دس دن میں ایک بار کبھی چکر لگا لیتیں۔ان کے زخموں کو مندمل کرنے کی کوشش کرتیں۔مگر اولاد کا دیا دکھ کہاں بھرتا ہے۔مہ پارہ ٹھنڈی آہ بھرتیں۔کبھی سوچ میں پڑ جاتیں :
’’اگر میں حارث کی بات مان لیتی تو آج میرے آنگن میں وہ بھی میرے پاس ہوتا‘‘۔
٭٭٭
’’امی…..ایک خاتون آئی ہیں فہمیدہ نام بتا رہی ہیں‘‘۔
مشعل نے ساس کو آکر اطلاع دی۔’’اچھا؟ یہیں لے آؤ‘‘۔خالہ مہ پارہ نے لیٹے لیٹے مختصراً کہا۔
فہمیدہ اپنے ساز و سامان کے ساتھ آئی تھیں۔خالہ مہ پارہ اور مہ جبیں سے بچپن سے شناسائی تھی۔سکھر کے ایک گاؤں میں رہتی تھیں۔بیٹا کراچی ملازمت کے سلسلے میں آیا تو انہیں ساتھ لے آیا۔ مہ پارہ تو یوں بھی آدم بیزار ہوگئ تھیں ۔سو پہلے پہل زیادہ گرم جوشی نہ دکھائی۔مگر رفتہ رفتہ فہمیدہ کی انہیں عادت ہونے لگی تھی۔عمر کا زیادہ فرق نہیں تھا۔سو کچھ بات چیت کے موضوعات بھی مشترکہ ہوجاتے۔
’’تم بہت خوش قسمت ہو فہمیدہ ! کتنا فرمانبردار بیٹا ہے تمہارا …..ایک میرا حارث! کس طرح چھوڑ کے چلا گیا ماں کو…..‘‘
وہ جو تکلیف میرے سامنے بالکل ظاہر نہ کرتیں ،فہمیدہ کے آگے ان کی زباں پر اکثر آہی جاتی۔
٭٭٭
’’مشعل…..میں یہاں کب تک انتظار میں بیٹھی رہوں گی؟‘‘
خالہ مہ پارہ سبزی کاٹنے کے لیے بیٹھی تھیں۔دو ہی لمحے گزرے کہ انہوں نے آوازیں لگانی شروع کردیں،مشعل نے گود سے بیٹے کو اتارا اور جلدی جلدی دھو کر لے آئی۔وہ فہمیدہ کے سامنے خفت زدہ ہوگئی۔خالہ مہ پارہ کا رویہ مشعل کے ساتھ اب بھی سخت اور تلخ تھا۔البتہ غصے کے اظہار کی شدت اس حادثے کے بعد کچھ کم ہوگئی تھی۔
٭٭٭
’’خالد…..کیا بات ہے؟ آپ پریشان لگ رہے ہیں ؟کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا؟‘‘
مشعل نے شوہر کی بے چینی محسوس کرتے ہوئےکہا۔
’’عجیب مشکل میں پھنس گیا ہوں یار! سمجھ نہیں آتا کہ کیا فیصلہ کیا جائے‘‘
’’مگر مسئلہ کیا ہے ؟ مجھے بتائیں شاید میرے پاس کوئی حل ہو‘‘۔
’’میرا حیدرآباد جاب ٹرانسفر ہوگیا ہے۔ گھر وغیرہ کا انتظام کمپنی کی طرف سے ہے۔مگر ۔مجھے معلوم ہے کہ امی کبھی نہیں مانیں گی یہ گھر چھوڑ کر جانے پر۔کوئی گنجائش نہیں ہے کلیم کی بھی۔بڑا پروجیکٹ ہے۔میں ہٹ جاؤں تو دس لوگ تیار بیٹھے ہوں گے جانے کے لیے۔ویسے بھی اپنے کولیگ سے میں نے اندر کی خبر سنی ہے۔اسٹاف میں پھر چھانٹی ہونے والی ہے۔سو رسک نہیں لیا جاسکتا۔اور ادھر امی کے بغیر جانے کا تو میں نہیں سوچ سکتا! ‘‘مشعل خود پریشان ہوگئی سن کر۔ایک طرف جاب جانے کا امکان،دوسری طرف گھر چھوڑ کر جانا۔بہت دیرگھمبیر خاموشی رہی جس کو مشعل نے اپنے بہت سے جذبات کو دباتے ہوئے توڑا۔
’’خالد…..اگر کچھ ماہ کی بات ہے تو…..میں….. یہاں…..رہ جاؤں گی‘‘
وہ اٹک اٹک کر بولی۔اس کے لہجے کی لرزش اس بات کا ثبوت تھی کہ اس کا دل شریک حیات سے دوری پر خوف زدہ ہی نہیں،رویوں اور ماحول سے بھی شدید خائف ہے۔
’’نہیں،مشعل ! یہ کچھ ماہ کی بات نہیں ہے۔اگر پراجیکٹ کامیاب ہؤا تو ہمیں وہیں اسائن کردیا جائے گا مستقل طور پر۔تم آخر یہاں میرے بغیر کیسے اور کتنا عرصہ رہو گی؟‘‘
خالد بہت اچھی طرح گھر کے ماحول اور اپنی والدہ کے مزاج سے آگاہ تھا۔مشعل کی پیشکش کے باوجود وہ اس پہلو پر قطعاً سوچنے کے لیے آمادہ نہیں تھا۔
’’صرف ایک ہی حل ہے…..کہ امی کو ساتھ چلنے پر قائل کیا جائے‘‘۔گفتگو کے آخر میں خالد نے یہ کہ کر آنکھیں موند لیں۔
٭٭٭
’’امی پلیز سمجھنے کی کوشش کریں۔میں بہت مجبور ہوں۔اس کے علاؤہ کوئی اور راستہ نہیں‘‘۔
تم نے سنا نہیں خالد؟ میں اس گھر کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی۔یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔’’ تمہیں جانا اتنا ہی ضروری ہے تو ٹھیک ہے جاؤ! مشعل اور بچے تو ہوں گے یہاں‘‘۔
’’امی….لیکن بچوں اور مشعل کو تو ساتھ ہی جانا ہوگا۔اسکول ہے اور دوسرے معاملات ہیں۔فیملی کے ساتھ شفٹنگ ہی کرنی پڑے گی۔آپ یہاں کیوں اور کیسے رہیں گی؟ ‘‘
خالد نے زچ ہوکر کہا۔
’’اچھا!! تو یہ کہو نا! تم میاں بیوی کو مجھ سے چھٹکارہ چاہیے۔اب اپنی ماں سے ہی جان چھڑاؤ گے؟ اب تم بھی اس نافرمان حارث کے نقش قدم پہ چلو گے؟یہ دن بھی دیکھنا اپنے نصیب میں تھا۔کیسی اولاد ہے۔اس عمر میں ماں کو اتنی تکلیف دیتی ہے‘‘۔
غم و غصے سے خالہ مہ پارہ کا برا حال تھا۔ آج بہت عرصے بعد گھر میں پرانی خالہ مہ پارہ کی آواز گونجی تھی۔
’’اُف میرے خدا! ‘‘خالد نے تھک کر اپنا سر پکڑ لیا۔
’’میری پیاری ماں! میں کب سے آپ ہی سے چلنے کو کہہ رہا ہوں۔میں چھوڑ کر جانا کیوں چاہوں گا‘‘۔
’’مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ۔نہ ہی تمہاری بیوی کی کوئی ضرورت ہے۔جاؤ میں رہ لوں گی یہاں‘‘۔
’’اور وہ کہاں ہے مشعل؟‘‘پانی کا گلاس لاتی مشعل پر قہر بار نگاہوں کے ساتھ بولیں۔
’’بنو! یہ خوب خدمت کے ڈھکوسلے کیے تم نے!کوئی ضرورت نہیں ہے مجھے تمہاری اور نہ اس کی جو تمہارا غلام ہوگیا ہے‘‘۔
مشعل کو لگا کہ اتنا عرصہ جو اس نے گھر کو گھر بنانے میں گزارا،وہ ساری کوشش تلپٹ ہوگئی۔وہ خالد کے اشارے پر اپنی آنکھوں کی نمی کو چھپاتی کمرے سے نکل گئی۔اگلے کچھ دنوں میں جب خالہ مہ پارہ کا غصہ کچھ کم ہؤا تو انہوں نے خالد کو بلا کر صاف اپنا فیصلہ سنا دیا۔
’’میں یہاں ہی رہوں گی۔میرے خرچے کی رقم بھیج دینا بس۔ فہمیدہ بھی یہاں ہے۔کرائے پر ساتھ والی بلڈنگ میں گھر لے لیا ہے اس نے۔آتی جاتی رہے گی وہ۔اور مہ جبین بھی آجاتی ہے کبھی کبھی۔تم اپنے جانے کی تیاری کرو!‘‘
’’امی….یقین جانیں مشعل تو خود رکنے کے لیے تیار تھی مگر میں نے….‘‘
انہوں نے ہاتھ اٹھا کر چپ رہنے کا عندیہ دے دیا۔اور خالد جانتا تھا کہ یہ حرف آخر ہے۔اس کے بعد اگلی بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
مہینہ پر لگا کر اڑ گیا۔سازوسامان سمیٹنے اور پیک کرنے میں مشعل کو یہ دکھ منانے کا موقع بھی نہ ملا کہ وہ اسی گھر میں بیاہ کر آئی اور اسے ہر چیز سے یہاں تک کہ پودوں سے بھی گہری وابستگی ہوگئی تھی۔پھر خالہ مہ پارہ کی خشمگیں نگاہیں۔ان سے بچنا مشکل ترین کام تھا۔
روانگی کے وقت خالد کی حالت خود عجیب تھی،اسے ماں کو بڑھاپے میں اکیلے چھوڑ کے جانا ہرگز گوارا نہ تھا،مگر دوسری ملازمت کا ملنا آج کل کہاں آسان تھا۔ وہ روہانسا ہوکر ماں کے آگے کھڑے سر جھکائے کھڑا تھا کہ وہ دست شفقت رکھ کر رخصت کریں۔مگر خالہ مہ پارہ اپنے غم و غصے کی فولادی دیوار توڑنا نہ چاہتی تھیں مبادا کسی جھروکے سے کوئی ان کے اندر جھانک لے۔
’’میں ان شاءاللہ پندرہ دن ،مہینے میں چکر لگا لیا کروں گا۔ اللہ حافظ‘‘۔
خالد یہ کہہ کر فوراً اٹھ گیا کہ فرط جذبات پر قابو پانا مشکل تھا اور مشعل بھی انہیں سلام کرتی ہوئی باہر نکل آئی۔
٭ ٭ ٭
’’امی……کل آپ گھر پر نہیں تھیں نا تو سلائی والی کرن آئی تھیں۔ان کے محلے کا ماحول خراب ہے۔اپنی بیٹی ہادیہ کو کام پر لگانا چاہتی ہیں۔دن رات کے لیے مگر مردوں والے گھر میں لگوانا نہیں چاہتی۔میں نے ان سے کہا کہ آپ سے پوچھ کر بتاؤں گی ان کو‘‘۔
مصباح پالک کی گڈی جوڑتے ہوئے ساس سے مخاطب ہوئی۔
ارے ہاں مصباح،اچھا یاد دلایا۔پہلے بھی آئی تھی وہ اس سلسلے میں۔ میں سوچ رہی ہوں کہ مہ پارہ کے ہاں لگوادوں گی اسے……کوئی گھر میں ہو تو کم ازکم ڈھارس تو رہتی ہے۔
’’اس عمر میں تو سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے انسان کو جذباتی سہارے کی۔پھر اٹھک بیٹھک کے لیے بھی مستقل کوئی چاہیے‘‘۔
مہ جبیں بہن کے لیے بہت فکر مند تھیں۔
’’مگر امی، آپ ان سے دوبارہ بات کرکے انہیں آمادہ تو کرنے کی کوشش کریں کہ وہ خالد بھائی کے پاس حیدرآباد چلی جائیں۔اپنے تو اپنے ہوتے ہیں۔ان سے زیادہ خیال کون رکھ سکتا ہے‘‘۔
مصباح نے بہت ہمت کرکے کہا۔یہ تلخ حقیقت جانتے ہوئے کہ مشعل کی زندگی میں وہ تلخیاں دوبارہ پیدا ہوجائیں گی جن میں وہ گھلتی رہی ہے۔
’’بات کر کے دیکھوں گی لیکن مانے گی نہیں بیٹا! میں نے تو یہاں آکر رہنے کے لیے بہتیرا کہا لیکن جب وہ فیصلہ کرلے تو اس پر قائم رہتی ہے‘‘۔مہ جبین نے ٹھنڈی سانس بھری۔
٭ ٭ ٭
شام سے بادل اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔سورج ڈھل گیا تو ٹھنڈ جوبن پر آگئی۔ہوا کے تیز جھکڑ جب بند کھڑکیوں اور دروازوں سے ٹکراتے تو عجیب نامانوس آواز پیدا ہوتی۔خاموش فضا میں وحشت ناک ارتعاش پیدا ہورہا تھا۔
’’اُف توبہ! اب کے کس قدر ٹھنڈ پڑی ہے!! معلوم ہورہا ہے ہڈیوں میں گھس رہی ہے‘‘۔
مہ پارہ بمشکل قدم اٹھاتی کھڑکی تک پہنچیں اور ہلکی سی کھلی ہوئی جھری کو بند کردیا۔پیچھے پلٹیں تو ہادیہ کو مخصوص جگہ پر سوتا دیکھا۔
حد ہوگئی! ادھر عشاء کی اذانیں ہوئیں اور ادھر یہ لڑکی آنکھیں موند لیتی ہے۔اب کے اس کی ماں آئے گی تو کہوں گی کہ سمجھائے اسے۔
’’اتنی بڑی بڑی سرد راتیںاور یہ ابھی سے منہ لپیٹ لیتی ہے۔نہ بندہ بات کرے نہ کام بتائے‘‘۔
مہ جبیں جز بز ہوتی جائے نماز بچھانے لگیں۔نماز سے فارغ ہوئیں تو موبائل فون کی گھنٹی نے متوجہ کیا۔
’’ہیلو….ہاں وعلیکم السلام فہمیدہ،بھئی اب کے تو ہفتہ بھر گزر گیا تم آئیں نہیں؟‘‘ انہوں نے فوراً شکوہ کیا۔
’’بس مہ پارہ،طبیعت ٹھیک نہیں اور سردی تو دیکھو کیسی ہورہی ہے‘‘۔
’’ارے بھئی۔تمہیں تو اس سے زیادہ ٹھنڈ کی عادت ہے۔آخر پنجاب کے پڑوس سے آئی ہو۔یہ تو اب کے کڑاکے کی سردی ہوئی ہے یہاں۔ورنہ کراچی میں اتنی سردی کہاں؟تمہیں تو ہمارا احوال پوچھنا چاہیے تھا‘‘حسب معمول انہوں نے پھر گلہ کیا۔
’’اصل میں مجھے ڈینگی ہوگیا ہے۔ٹیسٹ وغیرہ کرائے تھے۔ بخار اتر نہیں رہا تھا۔اب تو بہت آرام کرنے کا کہا ہے ڈاکٹر نے۔دو ہفتے تو سمجھو کمزوری رہے گی‘‘۔
’’چلو پھر ….آرام کرو،دوا لو….کہو تو ہادیہ کو بھیج دوں کل ۔ تمہارا خیال کرلے گی‘‘۔
’’ارے نہیں مہ پارہ۔تم خود بھی تو اکیلی ہو۔دن تو گزار لیتی ہوں کسی نا کسی طرح ۔شام تک سبحان آجاتا ہے تو بے فکری ہوجاتی ہے۔ میرے بچے کو اللّٰہ دونوں جہاں میں کامیاب کرے۔یخنی،جوس پابندی سے دیتا ہے۔میری تو طبیعت اس کو دیکھ کر اچھی ہوجاتی ہے۔طبیعت سنبھل جائے تو دلہن ڈھونڈوں گی اس کے لیے اب۔ان شاءاللہ‘‘
’’اچھا۔پھر آنا طبیعت ٹھیک ہوجائے تو….میں انتظار کروں گی۔خدا حافظ‘‘۔
مہ پارہ نے فہمیدہ کے مزید کچھ کہنے سے پہلے ہی فون بند کردیا اور پلنگ پر دراز ہو کر لحاف اپنے اوپر ڈال لیا۔سردی کا موسم انہیں بچپن سے ہی پسند نہ تھا۔عجیب سا سناٹا اور ماحول….مان کا ذہن فہمیدہ کی باتوں میں ہی الجھا ہؤا تھا۔
’’کس قدر بے چینی ہے آج‘‘
انہوں نے کروٹ بدلتے ہوئے سوچا۔دُکھتے ہوئے جوڑ اب رات کو آرام نہ لینے دیتے تھے۔اچانک انہیں اس درد میں اپنے گھٹنوں پر کسی کا لمس محسوس ہؤا۔ہڑبڑا کر کروٹ لی اور نظریں جما کر دیکھنے لگیں۔
’’خالد تم؟؟….‘‘
کمرے میں جلتے بلب کی مدہم روشنی میں بھی وہ بیٹے کا چہرہ دیکھ سکتی تھیں۔
’’تم کب آئے؟‘‘
فرط مسرت سے وہ اٹھ کر بیٹھنے لگیں۔
’’کیا ہؤا؟باجی ؟کچھ چاہیے آپ کو؟‘‘
ہادیہ آنکھیں ملتی ہوئی ان کے پاس آئی۔
’’وہ خالد آیا نا….بیٹا….میرا درد….‘‘
ان کے منہ سے بے ربط الفاظ نکل رہے تھے۔
’’خالد کون؟ آپ کے درد ہورہا ہے کیا،دوا دے دوں؟بتادیں کونسی دوں؟‘‘ہادیہ نے پوچھا۔
’’نہیں بس پانی لا دو۔نیم گرم۔ تھرماس میں سے ملا کردینا‘‘۔
مہ پارہ نے شکستہ دلی سے آنکھیں موند لیں۔
٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x