ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

بتول میگزین – بتول جنوری ۲۰۲۲

میری نانی امی
حفصہ سعید
میری نانی جان، ’’صدیقہ‘‘ میری امی ہی تھیں کیونکہ میں نے ان کی گود میں ہی آنکھ کھولی اور پرورش پائی۔
نانا جان محمد عمر کی وفات کے بعد جب نانی امی کا جوان اکلوتا بیٹا ’’محمد فاروق عمر‘‘ اچانک حادثے میں خالقِ حقیقی سے جا ملا تو یہ صدمہ انہوں نے بہت حوصلے اور صبر سے برداشت کیا، کہا کرتی تھیں!
’’اللہ تعالی کی امانت تھی اسی کے پاس چلی گئی‘‘۔
دنیا سے جانے والے تو اپنے مقرر وقت پہ جانے پہ مجبور ہیں مگر پیچھے رہنے والے اکیلے رہ جاتے ہیں۔ نانا جان کی وفات اور پھر فاروق ماموں کی وفات نے انہیں تنہا کر دیا تھا۔ اب میری امی ہی ان کی واحد اولاد تھیں تو اپنی تنہائی کو دور کرنے کے لیے نانی امی نے مجھے گود لے لیا تھا۔
میں نے نانی کو محنتی، سلیقہ مند، صابر اور شاکر پایا۔ وہ اپنے نام کی طرح ایک سچے عقیدے والی حقوق اللہ اور رشتے داریوں کو پورے ذوق وشوق سے نبھانے والی تھیں۔
وہ خوش بخت تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نیکیوں کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائی۔وہ بڑھاپے کی شدت میں بھی اپنے کام خود کرتی تھیں بلکہ جب بیٹی یا کسی نواسی کے گھر جاتیں تو ان کے بہت سے کام سنوار دیتی تھیں۔ کوئی چیز ضائع نہ ہونے دیتی تھیں۔ اور اپنے کام خود کرنے کی تلقین کرتی تھیں۔ اورکہتی تھیں کہ:
’’ چم نئی پیارا ہوندا، کم پیارا ہوندا‘‘
اسی لیے لڑکیوں کو کسی نہ کسی کام میں لگائے رکھتی تھیں۔ آخری عمر میں بھی اپنے کھانے کے برتن خود ہی دھو کر رکھتی تھیں۔ اپنی جائے نماز سنبھالنا، وضو کرنا، کوشش کرتیں کہ کسی کو تکلیف نہ دیں۔
صحت کے دنوں میں گھر کے وہ کام بھی کر لیتی تھیں جو مردوں کا کام سمجھے جاتے ہیں۔ چار پائیاں خود بن لیتیں، کمرے کی سفیدی تک خود کرتی رہی ہیں۔
صحت مند رہنے کی تلقین کرتیں اور کہا کرتی تھیں کہ بیماری اور خوراک میں مقابلہ ہوتا ہے اگر خوراک و غذا کا خیال رکھیں تو بیماری ہار جاتی ہے۔ اچھی خوراک سے غافل ہو جائیں تو بیماری جیت جاتی ہے۔
خود دیکھنے میں دھان پان سی تھیں لیکن ہمت اور طاقت جوانوں جیسی تھی۔ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتیں۔ مرغیاں، بکریاں پالی ہوئی تھیں اور دودھ دہی، انڈے وغیرہ سے محلے کے غریبوں کا ضرور حصہ نکالتی تھیں۔ مختلف چیزیں بنا کر انہیں بھیجتیں۔ سردیوں کے مخصوص پکوان بناتیں۔
میری نماز پہ بہت توجہ رکھتیں۔ خود ساتھ پڑھواتیں۔ اور غلطیوں کی اصلاح کر دیتیں۔
رمضان المبارک میں روزانہ تسبیح نماز پڑھتیں۔ پچانوے سال کی عمر پائی اور دو سال پہلے تک پورے روزے رکھے۔ مستقل تہجد گزار تھیں اور رات کے پچھلے پہر لمبی مناجات اور دعائیں ان کے لیے بہترین عبادت تھی۔ دیر تک قرآن پاک کی تلاوت کرتی رہتی تھیں۔ اجتماعات، درس قرآن میں شوق سے شریک ہوتیں۔کشمیر کی آزادی کے لئے فکر مند رہتی تھیں اور خصوصی دعائیں کرتی تھیں۔

جس دن وفات پائی مسلسل تین گھنٹے تک کلمہ شہادت کا ورد کرتی رہیں اور جب روح جسم سے آزاد ہوئی تو کسی کو خبر تک نہ ہوئی، نہ کوئی آواز نہ آخری ہچکی….انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ان کی یاد سے دل کبھی غافل نہیں ہؤا، ہر وقت کسی نہ کسی تعلق سے یاد آجاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے درجات بلند کرے اور ہمیں ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے آمین۔
٭ ٭ ٭
زمین فریادی ہے
اسما صدیقہ۔ کراچی
تاریخ سرکشوں کے بھیانک انجام سے بھری ہوئی ہے۔خالق سے سرکشی کرنے والا فرعون نیل کی موجوں میں ڈوب کر فنا ہؤا۔ایک اور خدائی دعویدار نمرود ایک مچھر کے ناک میں جانے سے جہنم واصل ہوا اور دولت پہ اکڑتا قارون جو خلقت کو ایک ٹکا دینے کا روادار نہیں تھا زمین میں ایسا دھنسا کہ اب تک دھنس رہا ہے معاذاللہ۔
نہ جا اس کے تحمل پرکہ بے ڈھب ہے گرفت اس کی
ڈر اس کی دیرگیری سے کہ ہےسخت انتقام اس کا
انسان طاقت کے نشے میں اپنی نوع کے کمزور افراد اور اقوام کو دہشت زدہ کرتا گیا غلام بنا کر عرصہِ حیات تنگ کرنا جیسے اس کی فتح ہو۔ تباہی اور موت جس کا حاصل رہی،دولت طاقت اور حکومت نے زمین پہ انسانوں کو انسانوں کا خدا بنادیا مگر بے رحم درندگی کے ساتھ ۔ خدا تو ارحم الراحمین ہے ۔
بہرحال پیسے سے دوا خریدی جاسکتی ہے شفا نہیں اور ابھی تک تو دوا تک دریافت نہ ہوسکی ۔اب ویکسین کا چرچا ہؤا بھی تو بے یقینی کے ساتھ۔کیا بات ہے نا وہ کہ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔
مگرہم اتنا ضرور جانتے ہیںزمین اپنے باسیوں کے لیے ہیرے موتی اور سونا اگلتی رہی سبزہ اناج اور پھل پیدا کرتی رہی اور اس سے فائدے حاصل کرنے والے اسے بنجر بنانے کے لیے ظلم اور تشدد کا بازار گرم کرتے رہے
اب مگر لگتا ہے کہ زمین احتجاج کررہی ہے خدا سے فریاد ایک ماں جو سب کو پالے مگر اس کے طاقتور بیٹے اس کو جہنم بنا چھوڑیں ۔
زمین ایسے بوجھ کب تک اٹھائے گی ایسی احسان فراموشی پہ کب تک چپ سادھے رکھے گی کہ اس کو اجاڑا کر بنجر مریخ پہ کمند ڈالنے میں اپنی دولت اپنے وسائل خرچ کررہے ہیں ۔وہ وہاں کیا تلاش کررہے ہیں کیا پائیں گے؟کیوں نہیں رک کر سوچتے ؟کیوں نہیں اپنی توانائی حیات انسانی کو بچانے اسے بنانے پہ صرف کرتے ؟آدم کشی کیوں نہیں جرم قرار دی جاتی؟
یہ زمین کا سوال ہے۔وہ زمین جو انسان کا جائےقرار ہے ۔ماں دھرتی ہے، اس کا جسم لہو لہو ہے جھلس رہا ہے!
خزانوں سے بھرپور زمین کے یہ فخر صرف انسان کے ہی لیے تو ہیں۔ وہ باسیوں سے کہہ رہی ہے کہ بس انسان بچالو…. اندر کے انسان سے باہر کے سارے انسان تک…. کہ اصل اثاثہ تو ماں کے لیے اس کے بیٹے ہیں ۔چاند اور مریخ کے لاحاصل خواب آنکھوں سے دور کردو یہ عذاب ہیں سراب سے عذاب….ستاروں کو دیکھنے والو! زمین کو دیکھو اس کے دکھ تمھارے اپنے ہیں تباہی ایک ہے ۔کوئی خلائی مخلوق زمین کے لیے نہیں ہے کوئی آسمانی مخلوق بھی نہیں اترے گی اس کے لیے تو صرف آدم اور اس کی نسل خدا نے پیدا کی ہے ۔
زمین سراپا فریادی ہے ۔انسانوں کو باہم درندوں کی طرح چیرتے پھاڑتے دیکھ کر روپیہ کتنی بڑی طاقت کیوں نہ لگے زمین کے دکھ اس کے بیٹے ہی بانٹ سکتے ہیں امن علم نافع باہمی تعاون اور دردمندی کی دولت سے۔یہی دولت انسان کو عطا کی گئی ہے اسی میں انسان کی بقاء ہے۔
٭ ٭ ٭

 

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x