ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

میری نایاب وکمیاب باجی رافت – بتول مئی ۲۰۲۳

آج صبح اخبار پڑھتے ہوئے میری نظریں ایک تصویر پرجم کر رہ گئیں۔دو ماہرین آثارِ قدیمہ اپنے ہاتھوں میں کچھ ہڈیاں تھامے ہوئے تھے جنہیں وہ بڑے فخر سے دکھا رہے تھے ۔تصویرکے نیچے تفصیل دی گئی تھی کہ ان حضرات نے فلاں علاقے سے صدیوں پرانے ڈائینو سار کی ہڈیاں ڈھونڈ نکالی ہیں۔ میںنے دل ہی دل میںانہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’صاحبو ! اتنی بوسیدہ اور بے جان ہڈیاں تلاش کر کے بھلا آپ نے کیا کمال کیا ہے ۔ کبھی مجھ سے پوچھا ہوتا تومیں آپکو اپنی جیتی جاگتی ، زندہ، متحرک دریافت دکھاتی ۔ ایک ایسی ہستی جس کے رہن سہن اور جس کی سوچوں اور خیالات کا تعلق قدیم زمانے سے ہے۔ جن کو دیکھ کر ہمیشہ مجھے یہ خیال آتا ہے کہ وہ غالباًکوئی انسان نما خلائی مخلوق ہیں ۔ شاید کبھی کوئی خلائی طشتری راستہ بھول کر بھٹکتی ہوئی انسانی دنیا کی طرف آنکلی اور پھر نیچے اترتی اترتی زمین پر ٹک گئی ۔اس میں سے ایک مخلوق نکل کر ہماری دنیا میں آباد ہو گئی ۔ اسی مخلوق کا نام ہے ، میری نایاب و کمیاب باجی رافت۔‘‘
میں ساتویں جماعت کی طالبہ تھی، جب میرے والد کا تبادلہ لاہور ہو گیا اور ہم لاہور آکرباجی رافت کے گھر کے قریب آباد ہو گئے۔باجی رافت چونکہ امی کی کزن ہیں اس لیے امی نے مجھے نادر شاہی حکم دیا کہ روزانہ شام کو عصر کے وقت رافت کے گھر جاکر اس سے قرآن وحدیث کا سبق پڑھا کرو۔ امی کا حکم سن کر مجھے دل ہی دل میں کوفت ہوئی کہ اب صبح اسکول جایا کروں گی اور شام کو باجی رافت کے مدرسے پر حاضری دیا کروں گی ، گویا ایک معصوم نٹ کھٹ بچی کا بچپن نہ ہؤا ، کسی فوجی کی نوکری ہوگئی ۔ لیکن امی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے سوا چارہ نہ تھا ، اس لیے میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
دوسرے دن شام کو میں بجھے دل سے باجی رافت کے ہاں چلی گئی ۔وہ ایک کشادہ لکڑی کی چوکی پر بیٹھی تھیں ۔انکے قریب میری ہم عمر دو اور لڑکیاں بیٹھی تھیں۔ صحن میں چند بچے کھیل رہے تھے۔ میں نے اپنا تعارف کروایا اورچوکی کے ایک کونے میں بیٹھ گئی ۔ باجی نے میرے نئے اسکول ، میری سہیلیوں اور میرے بہن بھائیوں کے بارے میں پوچھا اور بہت جلد ہم یوں بے تکلف ہو گئے جسے برسوں کی شناسائی تھی۔ باجی اگرچہ عمر میں مجھ سے بڑی تھیں لیکن نہ جانے کیوں وہ مجھے اپنی ہم عمر نظر آئیں۔ شاید ان کی سادگی ، بھولپن اورمعصومیت نے ان کی عمر پر پردہ ڈال رکھا تھا۔
باجی سے مل کر میری جھجک دور ہو گئی اور میں روزانہ بصد شوق انکے پاس جانے لگی ۔ کچھ دیرباجی مجھے پڑھاتیں اور اسکے بعد ہم گھنٹوں غیر نصابی گپ شپ کرتے اور صحن میں کھیلتے ہوئے بچوں کو دلچسپی سے دیکھتے رہتے ۔ اسی دوران مغرب کا وقت ہو جاتا ۔ ہم دونوں نماز پڑھتے ۔ اکثر میں رات کا کھانا باجی کے ساتھ کھایاکرتی تھی جوابلے ہوئے چاول اور آلو گوشت کے شوربے پرمشتمل ہوتاتھا۔
اب بھی جب میرا دل چاہتا ہے ، میں باجی سے ملنے انکے گھر چلی جاتی ہوں ۔ انکے گھر میں بناوٹ ، تضع ، تکلف اورریا کاری کا نام و نشان نہیں ۔ باجی کے گھر میں داخل ہوتے ہی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرا رابطہ باہر کی دنیا سے منقطع ہوگیا ہے اور میں زمانۂ قدیم کی کسی دنیا میں پہنچ گئی ہوں جیسے سمندر کے تلاطم خیز سفر کے بعد میرا جہاز کسی جزیرے پرلنگر انداز ہو گیا ہے جہاں پانی کا اتار چڑھائو ہے نہ طوفانی لہریں، کوئی گرداب ہے نہ بھنور باد سموم ہے نہ دکھ اور غم کا ہجوم۔
باجی کے گھر کا دروازہ ہر قسم کے مہمانو ں کے لیے ہمیشہ کھلا رہتاہے ۔وہ خندہ پیشانی سے ہر مہمان کاگویا یہ کہہ کر استقبال کرتی ہیں کہ جوآئے ، آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں۔
وہ ہر آنے والے کو اس گرمجوشی سے خوش آمدید کہتی ہیںکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ نہ جانے کب سے اسی کی راہ دیکھ رہی تھیں۔ پھر وہ ہمہ تن گوش ہو جاتی ہیں اور پوری توجہ اور ہمدردی سے لوگوں کے مسائل سن کر حتی المقدوردامے،درمے ،سخنے ان کی مدد کرتی ہیں۔ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کیطرف سے کی گئی مدد کا چرچا نہ ہو بلکہ جسکی مدد کی گئی ہے وہ بھی اسے جلد ازجلد بھول جائے ۔
باجی کی کل کائنات ان کا گھر ہے ۔ گھر سے باہر کی دنیا انکے لیے نو گو ایریا ہے ۔ وہ اپنے گھر میں ایسے خوش رہتی ہیں جیسے مچھلی پانی میں ۔شاذو نادر اگر کبھی کسی اشد ضرورت کے لیے انکو گھر سے باہرنکلنا پڑے تو یہ صدمہ ان کی جان ناتواں کے لیے کچھ کم نہیں ہوتا۔
جب کبھی میں ان کو باہر کی دنیا کی کوئی خبر سناتی تو وہ حیرت سے آنکھیں پھیلا کر اور منہ کھول کر رہ جاتیں ۔مثلاً اگر میں انہیں کہتی کہ
’’باجی ! آج میں اسکول سے واپس آرہی تھی کہ راستے میں میں نے دیکھا کہ دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے‘‘
وہ حیران ہو جاتیں
’’توبہ ! توبہ ! کیوں جھگڑ رہے تھے ؟بھلا زندگی میں جھگڑا کس وجہ سے ہوتا ہے ‘‘؟
مجھ سے اس سوال کا جواب نہیں بن پاتا تھا۔ میںکہہ دیتی
’’ان کی مرضی‘‘
میرا جواب سن کر وہ مزید حیران ہو جاتیں۔
’’یعنی جھگڑنے کی مرضی …تو بہ توبہ ! میری توبہ ۔ بھلا کوئی انسان کیوںجھگڑنا چاہے گا ؟‘‘
پھر وہ چند لمحے سوچ کر کہتیں۔
’’بس سارا چکر شیطان کا ہے ۔ وہ انسان کو انسان سے دور کرتا ہے اور ان کے درمیان فساد کا بیج بوتا ہے ‘‘۔
باجی سارا ملبہ شیطان پر ڈال کر دونوں انسانوں کو بری الذمہ قرار دے دیتیں ۔
ایک دن میں ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھی ۔ انہوںنے اپنا منہ میرے کان کے قریب کر کے سر گوشی کے انداز میں مجھ سے پوچھا ۔
’’اگر کبھی مجھے کسی ضروری کام کے سلسلہ میں اپنی کسی سہیلی کے گھر جانا پڑے تو کیا تم میرے ساتھ چلو گی ؟‘‘
میرے لیے یہ خبر انتہائی حیران کن تھی۔ بہر حال میں نے فوراً جواب دیا ۔
’’کیوں نہیں ضرور چلوں گی۔‘‘
وہ کہنے لگیں۔
’’ذرا سوچ کر بتائو کیونکہ ہمیں ٹیکسی پر جانا پڑے گا ۔‘‘
میں نے کہا
’’ٹیکسی کیا چیز ہے اگر جہاز سے جانا پڑا تو بھی چلوں گی ۔‘‘
حسب ِ معمول وہ حیران ہو گئیں ۔ کہنے لگیں
’’اسکا مطلب ہے کہ تم بالکل خوفزدہ نہیںہو‘‘۔
میں نے سینہ پھیلاتے ہوئے کہا ۔
’’خوف کھائیں میرے دشمن ۔ میں کسی سے نہیں ڈرتی‘‘۔
باجی نے حیرت اور رشک سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
’’تم توبہت بہادر ہو۔‘‘
ان کا حیرت زدہ اورمرعوب چہرہ دیکھ کر مارے فخر کے میری باچھیں کھل گئیں۔ میں نے پوچھا ۔
’’لیکن جانا کہاں ہے ‘‘۔
باجی نے میرے سوال کو نظر انداز کردیا اور کتاب کھول کر مجھے پڑھانا شروع کردیا۔
پانچ چھ دن معمول کے مطابق گزر گئے ۔ اس کے بعد ایک دن باجی نے ٹیکسی منگوائی اور اسکی ڈگی میں چاول ، چینی ، آٹا ، گھی ، دالیں ، چائے کی پتی اور دودھ وغیرہ رکھوایا ۔میں نے پوچھا
’’یہ خشک راشن کیوںٹیکسی میں رکھا جارہا ہے ‘‘؟
انہوں نے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔
’’بس چپ چاپ دیکھتی جائو‘‘۔
پھر انہوں نے برقعہ اوڑھا اور مجھے لے کرٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئیں ۔انہوں نے کاغذکا ایک ٹکڑا ڈرائیور کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔
’’ہمیں رحمان پورے میں اس احاطے کے پاس جانا ہے ‘‘
مجھ سے صبر نہیں ہورہا تھا۔ میں نے بے تابی سے پوچھا
’’ہم کہاں جارہے ہیں ؟‘‘
انہوں نے آہستہ سے کہا
’’بس چپ چاپ دیکھتی جائو ۔‘‘
مجھے الجھن ہونے لگی ۔ ذہن میں مختلف سوال اٹھنے لگے ۔
’’ہم کہاں جارہے ہیں‘‘
’’یہ کیسا خفیہ اور پر اسرار مشن ہے ؟‘‘
’’آخر اس سفر کی غرض و غایت کیا ہے ؟‘‘
’’باجی اور میں ہم دونوں بالکل عام سے بندے ہیں پھر میرے ساتھ حضرت ِ موسیٰ والا سلوک کیوں روا رکھا جارہاہے ؟‘‘
’’وہ کیوں حضرت خضر کا سارویہ اپنا رہی ہیں ؟‘‘
’’میرے بار بارپوچھنے کے باوجود وہ میرے کسی سوال کا تسلی بخش جواب کیوںنہیں دے رہیں ؟‘‘
’’اب کس سے سوال کروں ؟کس سے پوچھوں ؟‘‘
؎اب کسے رہنما کرے کوئی۔
گاڑی کچے پکے ، ٹیڑھے میڑھے ، اونچے نیچے ناہموار راستوں پر چل رہی تھی اور ہم سب ایک پر اسرارمنزل کی جانب محوِ سفر تھے ۔ نہ جانے باجی ہمیں صحرا نور دی کیلیے لے کر جارہی تھیں یا خلا نور دی کیلیے ۔ ویسے بھی باجی کو اس دنیا سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ شاید اب وہ چاند پر آباد ہونا چاہ رہی تھیںاور وہاں زندگی بسر کرنے کیلیے انہوں نے راشن کا ذخیرہ ساتھ لے لیا تھا ۔اس خیال کے آتے ہی مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے ہم سب خلا باز تھے اور وہ کوئی عام گاڑی نہیں تھی بلکہ تیزرفتار راکٹ تھا جو خلا کی طرف اڑان بھرنے کے لیے زمین پردوڑ رہا تھا۔
تو بس چند لمحے اور… پھر وہ اڑا کہ اڑا ۔
لیکن میرے انتظار اورخواہش کے باوجود وہ اڑنہ سکا بلکہ تنگ سی گلی میں واقع ایک کچے احاطے کے باہر کھڑا ہوگیا۔
’’اوہو! شاید کوئی فنی خرابی آڑے آگئی ہے ‘‘ میں نے سوچا ۔
لیکن بہت جلد مجھے سمجھ آگئی کہ ہم باجی کی منزل ِ مقصود پرپہنچ گئے ہیں ۔باجی گاڑی سے نکل کر احاطے کے اندر داخل ہو گئیں ۔ میں بھی انکے پیچھے پیچھے ہولی ۔ احاطے میں ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے کئی کمرے بنے ہوئے تھے ہم ان میں سے ایک کمرے میں داخل ہو گئے ۔ اس کمرے کی دنیا کچھ عجیب سی تھی ۔ اس کی دیواریں سیلن زدہ تھیں۔ جا بجا دیواروں سے چونا اکھڑا ہؤا تھا۔ کمرے میں نیم تاریکی اور اداسی چھائی ہوئی تھی۔ اس میں کئی بچے تھے ۔ کسی کی ناک بہہ رہی تھی ، کسی کے کپڑے پھڑے تھے، کوئی پائوں سے ننگا تھا ، کوئی مسلسل روں روں ، ریں ریںکر رہا تھا ، کوئی حیرت سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ہمیں دیکھ رہا تھا۔ کمرے کے ایک کونے میں ایک پیڑھی پر ایک عورت بیٹھی کسی کپڑے پر کڑھائی کررہی تھی ۔ باجی کو دیکھتے ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور باجی سے بغل گیر ہو گئی۔
پھر گاڑی سے راشن نکال کر اس کمرے میں رکھ دیا گیا۔ باجی اس عورت کو حمیدہ کہہ کر پکار رہی تھیں۔ ان کی آپس میں گفتگو سے مجھے معلوم ہؤا کہ حمیدہ پانچویں جماعت میں باجی کی ہم جماعت تھی ۔ پھر اس نے اسکول چھوڑ دیا اور کچھ عرصے کے بعد اس کی شادی ہو گئی ۔ اسکا خاوند محنت مزدوری کر کے گھر چلا رہا تھا کہ اسے ٹی بی ہو گئی ۔ باجی کو خبر ہوئی تو وہ باقاعدگی سے ہر ماہ حمیدہ کو راشن اور خرچے کے کچھ پیسے دینے لگیں ۔
حمیدہ باجی کے سامنے بچھی جاتی تھی اور سراپا شکر گزار تھی ۔ وہ بار بار ان کا شکریہ ادا کررہی تھی لیکن باجی یوں خاموش تھیں جیسے وہ کچھ کہنے کیلیے موزوں الفاظ کی تلاش میں ہوں ۔ میرا دل چا ہ رہا تھا کہ باجی سے کہوں کہ اسکے شکریہ کے جواب میں یہ کہہ کر بات ختم کردیں ۔
’’تمہارے آڑے وقت میں بھلا میں کیو نکر تمہارے کام نہ آتی ۔ انسان ہی انسان کے کام آتا ہے ۔ کوشش کروں گی کہ آئندہ بھی تمہارا ہاتھ بٹاتی رہوں ۔‘‘
لیکن باجی کی توجہ میری طرف نہیں تھی اس لیے میں خاموش رہی ۔چند لمحوں بعد وہ بہت عاجزی سے کہنے لگیں۔
’’دیکھو حمیدہ !یقین کرو کہ میں نے تمہارے لیے کچھ نہیں کیا ۔ یہ سارے انتظامات اللہ کے ہوتے ہیں ۔ تم شکریہ ادا کرنا چاہتی ہو تو میرا نہ کرو بلکہ اس ذات کا کرو جو تمام تر تعریف اورشکر کی حقدار ہے ۔‘‘ میں نے دل میں سوچا۔
’’لوجی ! یہ بھی خوب رہی ۔ باجی نے اپنے کیے کرائے پر خود ہی پانی پھیر کر سارا کریڈٹ اللہ میاں کو دے دیا ہے اور خود بری الذمہ ہو گئی ہیں۔ حالانکہ دوسرے کے منہ سے اپنی تعریف سن کر خوش ہونے کا نادر موقع قدرت کی طرف سے کبھی کبھار ہی ملتا ہے لیکن باجی کو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر خوش ہونا بھی نہیں آیا۔‘‘
باجی کو کبھی میں نے عمدہ لباس اور عمدہ جوتا پہنے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی صحیح سائز کا جوتا پہنے ہوئے دیکھا ہے ۔ وہ ہمیشہ ربڑ کی عام سی چپل پہنتی ہیں اور یہ چپل عام طور پر ان کے پائوں سے دو انچ بڑی ہوتی ہے ۔شروع شروع میں مارے تکلف کے میں ان سے پوچھ نہیں سکی کہ ماپ سے بڑا جوتا پہننے میں کیا راز ہے ؟ میں نے سوچا شاید اس سے صحت پر مثبت اثر پڑتا ہو یا شاید باجی کو صحیح سائز کے جوتے سے تنگی کا احساس ہوتاہو یا شاید اس سے چال چلن اچھا رہتا ہؤا یا شاید اس کی وجہ سے اعصابی نظام مستفید ہوتا ہو۔ بالآخر ایک دن میں نے باجی سے جملہ سوالات پوچھ ڈالے میرے سوال سن کر حسب ِ معمول وہ بہت حیران ہوئیں کہ اتنی سادہ سی بات بھلا میری سمجھ میں کیوںنہ آئی ۔ پھر کہنے لگیں۔
’’دراصل میں کبھی بازارنہیںجاتی ۔ بوقت ضرورت امجد صاحب (باجی کے میاں ) میرے لیے بازار سے جوتا لے آتے ہیں او ر وہ احتیاطاً بڑا جوتا لے کر آتے ہیں کہ چھوٹا نہ پڑے۔‘‘
محلے کے بچے روزانہ عصر سے مغرب کے دوران ان سے قرآن پڑھنے کیلیے آتے ہیں ۔باجی کے گھر داخل ہوتے ہی بچوںکا نظام انہضام تیز تر ہو جاتا ہے اور انہیںبھوک ستانے لگتی ہے ۔چنانچہ پڑھائی شروع کرنے سے پہلے ہی ایک باریک اور منحنی آواز بھرتی ہے۔
’’باجی !بھوک لگی ہے ‘‘۔
باجی فوراً اٹھ کر بچے کو توس پر جیم لگا کر دے دیتی ہیں ۔ اب باقی بچے باری باری بھوک کی صدا دیتے ہیں اور باجی سب کی تواضع اسی طرح کرتی ہیں میں کہتی ہوں۔
’’باجی !یہ بچے خاک پڑھیں گے ۔ یہ تو پکنک منانے آئے ہیں ۔ پڑھنے والوں کے بھلا یہ تیور ہوتے ہیں۔‘‘
باجی مجھے ٹوک دیتی ہیں۔
’’نہ بھئی… میرے شاگردوں کو ایسا نہ کہو۔ یہ قرآن کی محبت لے کر آئے ہیں ۔اگر ان کو بھوک لگتی ہے تو کیا ہؤا۔ سب بچوں کو پڑھائی کے دوران ایسے ہی بھوک لگتی ہے۔‘‘
آج سے کئی سال پہلے کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ جب میں باجی سے ملنے ان کے ہاں گئی تو ان کے پاس بیٹھے بیٹھے نہ جانے کیوںمجھے خیال آیا کہ اس گھر کا سامان اتنا مختصر ہے کہ یہاں ڈریسنگ ٹیبل بھی نہیں ۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے باجی سے پوچھ ہی لیا۔
’’باجی ! کیا آپکو ڈریسنگ ٹیبل کے بغیر دقت نہیں ہوتی؟‘‘
حسبِ عادت انہوں نے حیرت سے پوچھا
’’دقت کیسی‘‘؟
میں نے کہا
’’مثلاً اگر آپ نے بالوں میں کنگھی کرنی ہو تو آپ کیا کرتی ہیں ‘‘؟انہوں نے مسکراتے ہوئے صحن کے کونے میںرکھی ہوئی واشنگ مشین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’میں لمحہ بھرکیلیے سٹین لیس سٹیل کی چم چم کرتی واشنگ مشین کے سامنے کھڑی ہوکر مانگ نکال لیتی ہوں اور بس میرا کام بن جاتا ہے ‘‘۔
باجی کے اس نئے انکشاف نے مجھے لا جواب کردیا میں نے سوچا کہ اس واشنگ مشین کے بنانے والوں کو بھی کبھی یہ خیال نہیں آیا ہوگا کہ ایک دن ان کی مشین نہ صرف یہ کہ کپڑے دھوئے گی بلکہ آئینے کا کام بھی دے گی اسے کہتے ہیں ، آم کے آم گٹھلیوں کے دام ۔
باجی کے گھر میں دو چیزیں قابل ذکر ہیں ۔ ایک تو لکڑی کی بہت پرانی بڑی سی چوکی ہے جسکا حلیہ دیکھ کر یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ باجی کی پیدائش سے پہلے معرض وجود میں آئی تھی۔ اسکے اوپر ایک وسیع وعریض بستر بچھا ہؤا ہے اور ایک طرف تین چار تکیے رکھے ہیں۔باجی اس پر بیٹھتی ہیں ، نماز کے اوقات میں اسی پر جائے نماز بچھا کر نماز پڑھتی ہیں ،اسی پر کھانا کھاتی ہیں ، اسی پر اپنے مہمانوں کوبٹھا کربات چیت کرتی ہیں اور رات کو اسی پر سو جاتی ہیں ۔یعنی باجی کی زندگی کا تقریباً ۸۵ فیصد وقت اسی چوکی پر گزرتا ہے ۔ان کے پاس اگر دو تین جوڑے کپڑوں کے ، ایک عدد ربڑ کی چپل ایک جائے نماز ، ایک تکیہ ، کھانے پینے کا سادہ انتظام اور یہ چوکی ان کے تصرف میں ہو تو ان کی زندگی بخوبی وبخوشی بسر ہوسکتی ہے لیکن سب کچھ ہونے کے باوجود اگر یہ چوکی ان کے پاس نہ ہو تو نہ جانے ان کی زندگی کیونکر بسر ہو گی ! باجی اور لکڑی کی یہ چوکی لازم و ملزوم ہیں ۔ میں جب کبھی ان کو خواب میں دیکھتی ہوں تو وہ مجھے اسی چوکی پر بیٹھی نظر آتی ہیں اور پھر جب میں ان کے گھر جاتی ہوں تو میرا یہ خواب ہمیشہ سچا ثابت ہوجاتا ہے ۔
باجی کے گھر کی دوسری اہم چیز وہ دیگچی ہے جو ہر وقت نرم گرم بگھارے ہوئے چاولوں سے بھری پڑی رہتی ہے ۔اسے دیکھ کر مجھے اپنے بچپن کی پڑھی ہوئی وہ کہانی یاد آجاتی ہے جس میں ایک ننھی معصوم سی لڑکی بھوک سے بیتاب ہوکر جنگل کی طرف نکل جاتی ہے ،وہاں اسے جادو کا ایک ایسا برتن مل جاتا ہے جس میں سے بوقت ِ ضرورت پکاپکایا خوش ذائقہ دلیہ نکلنے لگتا ہے ۔ لڑکی اور اسکے گھر والے خوب مزے لے لے کر دلیہ کھاتے ہیں حتیٰ کہ انکے ہمسائے اور رشتہ داربھی اس ضیافت میں شامل ہو جاتے ہیں، سب کے سب سیر شکم ہو جاتے ہیں لیکن برتن کا پیٹ پھر بھی مزیدار دلیے سے جوں کا توں بھرا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ لڑکی برتن کو مزید دلیہ اگلنے سے روک دیتی ہے۔ پھر جب کبھی وہ بھوک محسوس کرتی ہے تو برتن کو دلیہ اگلنے کا حکم دے کر اسے کھا کر پیٹ کی بھوک بجھا لیتی ہے اور برتن تا حکمِ ثانی دلیہ اگلتا چلا جاتا ہے ۔
بچپن میں یہ کہانی پڑھ کر مجھے اس بیوقوف لڑکی کی معصومیت پر ہنسی آتی تھی ۔ میں سوچا کرتی تھی کہ اگر کبھی ایسا برتن میرے ہاتھ لگ گیا تو میں اسے کبھی بھی دلیہ اگلنے کا حکم نہیں دوں گی کیونکہ دلیہ تو نحیف و نزار مریضوں کی غذا ٹھہرا۔ننھے بچوں کو تو کھٹی میٹھی ٹافیاں ، چاکلیٹ،کھوئے کی برفی ، بوندی کے لڈو، گرماگرم سموسے ،چٹ پٹے پیٹھی کے لڈو، رنگ دار برف کے گولے اور ٹھنڈی ٹھنڈی آئس کریم چاہئے ۔غرض میں نے محبوب و مطلوب و مقصود اشیاء کی فہرست بنا رکھی تھی لیکن شو مئی قسمت کہ وہ برتن کبھی میرے ہاتھ نہ آیا۔
بچپن کے دائرے سے نکل کر یہ خواہش بھی میرے دل سے نکل گئی اور میں اس کہانی کو فراموش کر بیٹھی ۔سالہا سال کے بعد جب میری باجی سے ملاقات ہوئی تو انکے باورچی خانے میں نرم نرم بگھارے ہوئے چاولوں کی دیگچی کو دیکھ کر مجھے پھر سے یہ کہانی یاد آنے لگی۔
ان کے گھر کا یہ معمول ہے کہ صبح ناشتے سے فراغت ہوتے ہی دیگچی میں بگھارے ہوئے نمکین چاول پکا دیئے جاتے ہیں ۔ ہر مہمان کو وقت ،بے وقت اصرار کر کے چاول کھلائے جاتے ہیں اور دیگچی خالی ہونے کا نام نہیں لیتی ۔ یہ دیگچی میرے لیے معمہ بن کر رہ گئی ہے۔
مجھے اپنے اوپر بھی حیرت ہوتی ہے کہ اکثر میں اپنے گھر سے کھانا کھا کر باجی سے ملنے کیلیے ان کے ہاں جاتی ہوں۔ لیکن ان کے گھر میں داخل ہوتے ہی مجھے پھر سے بھوک کا احساس ہونے لگتا ہے اور چاولوں کی بھینی بھینی خوشبو بے اختیار میرے قدموں کا رخ باورچی خانے کی طرف پھیر دیتی ہے ۔ شاید اس لیے کہ بقول شخصے روزانہ چاول پکانے اور بار با کھانے سے ہی صحیح کشمیری النسل ہونے کا سراغ ملتا ہے ۔
بہر حال باجی کے گھر کے اندر جاتے ہی میری کایا پلٹ جاتی ہے اور میں کہانی والی ننھی لڑکی کی سی ہو جاتی ہوں۔ میں باجی کو دیکھ کر عجلت سے انہیں سلام کر کے تیزی سے ان کے باورچی خانے میں اسی طرح داخل ہوتی ہوں جیسے وہ لڑکی کھانے کی تلاش میں جنگل کے اندر گھس گئی تھی۔ میری نظر فوراً گوہر مقصود کو پالیتی ہے اور میں ایک پلیٹ لے کر اس میں گرما گرم چاول ڈال کر واپس باجی کے کمرے میں جاکر ان کے برابر لکڑی کی چوکی پر بیٹھ کر مزے لے لے کر چاول کھاتی ہوں ۔ اس دوران باجی مادرِ مہر بان کی طرح ایک ٹک مجھے دیکھ دیکھ کر مسکراتی چلی جاتی ہیں ۔کھانے سے فراغت پاکرمیں باجی سے مخاطب ہوتی ہوں ’’ہاں جی باجی ! اب سنائیں آپ کا کیا حال ہے ؟‘‘
جواب میں باجی لمبی آہ بھر کر کہتی ہیں۔
’’میرے حال کو چھوڑو۔ بس مانی کی طبیعت نا ساز ہے بیچاری رات بھربے چین رہی ۔ ایک پل کے لیے اس کی آنکھ لگتی ہی تھی کہ مارے تکلیف کے جاگ اٹھتی ۔میرا خیال ہے کہ بلو کو بھی ماں کی تکلیف کا احساس ہے ۔ اسی لیے وہ بھی ساری شرارتیں اوردھما چو کڑی بھول کر چپ چاپ اداس بیٹھا ہے ۔ اللہ کرے کہ میری مانی بے چاری ٹھیک ہو جائے ۔‘‘
باجی بہت درد مندی اور خلوص دل سے مانی کے لیے دعا کرتی ہیں۔
اسی دوران ایک گہرے سیاہ رنگ کی بلی چھلانگ لگا کر چوکی پر چڑھ جاتی ہے اورباجی کے پائوں پر اپنا منہ رگڑنے لگتی ہے ۔ باجی کے چہرے پر مامتا کا رنگ چھا جاتا ہے ۔ وہ پیار سے اسکی پشت پر ہاتھ پھیرنے لگتی ہیں اور اس سے مخاطب ہوکر کہتی ہیں۔
’’بس میری مانی بس۔ چند ہی دنوں کی بات ہے کہ تو بالکل ٹھیک ہو جائے گی ۔‘‘لکڑی کی چوکی کے پاس ہی ایک پرانی کرسی رکھی ہوئی ہے ۔بلو صاحب اس کرسی کے نیچے براجمان ہیں اور اپنی روشن اور چمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ باجی کو دیکھ رہے ہیں ۔بلوپر نظر پڑتے ہی باجی اپنی مدد گار محمودہ کو آواز دے کر اسے بلو کے لیے دودھ لانے کا کہتی ہیں۔محمودہ ایک کٹوری میں دودھ لاکر بلو کے سامنے رکھ دیتی ہے اور وہ ایک ہی سانس میں دودھ پی کر کٹوری خالی کر دیتا ہے ۔ باجی اسے دیکھ کر کہتی ہیں۔
’’ہائے بیچارہ !اپنی ماں کی بیماری کی وجہ سے کس قدر اداس ہے ۔اسی لیے تو اس نے بے دلی سے دودھ پیا ہے ۔‘‘
میں باجی سے اختلاف کرتے ہوئے کہتی ہوں۔
’’باجی !بلو کے قریب سے احساس نام کی کوئی چیز گزری ہی نہیں اسی لیے تو اس نے جھٹ پٹ کٹوری خالی کر دی ہے ۔آپ کی مامتا تو صرف تب تسکین پائے گی جب بلو حضور ایک من دودھ کی کڑاہی ایک گھونٹ میں صفا چٹ کر جائے گا ۔‘‘
باجی میری بات سے اتفاق نہیں کرتیں اور مسلسل بلوکی درد مندی پراصرارکیے جاتی ہیں ۔ اس دوران وہ اسکے پر سکون اور پر رونق چہرے کودیکھ دیکھ کر خوامخواہ دکھی ہو تی چلی جاتی ہیں۔
باجی کو پریشان حال دکھ کر میرا دل چاہتا ہے کہ میں اس نگوڑمارے ، نکھٹو بلو کو بوری میں بند کر کے کسی صحرا میں چھوڑ دوں تاکہ اسکے نام نہاد دکھ کی وجہ سے باجی کو جو پریشانی لاحق ہے ، وہ دور ہو جائے ، لیکن میں اپنی اس خواہش کو اس وجہ سے عملی جامہ نہیں پہنا سکتی کہ اگر وہ باجی کی آنکھوں سے اوجھل ہؤا تو ان کی پریشانی دوچند ہو جائے گی ۔
اس موقع پر میں دانت پیس کر بلو کو گھورتے ہوئے دل ہی دل میں اسے کہتی ہوں۔
’’او بلو کے بچے ! اگر تمہیں باجی کی پشت پناہی حاصل نہ ہوتی تو تم کب کے میرے ہتھے چڑھ چکے ہوتے اور پھر یقینا
؎’’تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوتی داستانوں میں
میرے تیور دیکھ کر بلو میرا ماضی الضمیر بھانپ جاتا ہے ۔اسکے چہرے پرسنجیدگی چھا جاتی ہے اور وہ مجھے اس انداز سے دیکھنے لگتا ہے گویا بزبانِ حال کہہ رہا ہو ۔
’’واہ بھئی واہ ! یہ بھی خوب رہی ۔ یعنی میرے ہی گھر میں ، میری ہی بلی اور مجھے ہی میائوں ۔اری او سسی اے …بے خبرے! اچھی طرح سن لے کہ میں اس پر سکون جزیرے کا ایک بے حد معزز اور پرامن شہری ہوں ۔ میں اس گھر کا باوقار اور با اخلاق باشندہ ہوں۔ اس وقت بھی آدابِ میزبانی میرے منہ اور پنجوں کے آڑے آرہے ہیں ورنہ
؎ چھوٹا سا میں لڑکا ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑے
بلو کا مافی الضمیر جان کر میں اس کے حسن اخلاق اور صبر و ضبط کی قائل ہو جاتی ہوں اور نظریں جھکا کر اپنا رخ باجی کی طرف پھیر لیتی ہوں ۔ لیکن بلو کی یقین دہانی کے باوجود میں بے چین ہو جاتی ہوں کہ نہ جانے کب وہ آداب ِ میزبانی کی زنجیر کو توڑ کر آزاد ہو جائے اور پھر … یہ خیال آتے ہی مجھے کوئی ضروری کام یاد آجاتا ہے اور میں باجی کو خدا حافظ کہہ کر لوٹ جاتی ہوں ۔
باجی کی زندگی کی ضروریات اورخواہشیں بے حد قلیل ہیں ۔اس لحاظ سے ان کا دل گویا ایک ایسی بنجر و بے آب زمین کی مانند ہے جس میں شاید خواہشوں کے پودے پنپ ہی نہیںسکتے ،نئے نئے کپڑوں کی تمنا نہ زیورات کا شوق ، گھرکی تزئین و آرائش کی آرزو نہ دنیا کے تماشوں سے دلچسپی ، مال کی ہوس نہ جاہ و حشم کی طلب ، ستائش کی خواہش نہ تنقید کی پروا ، انتقام کی آگ نہ دوسروں کے ساتھ مقابلہ بازی کی دوڑ ، اختیار کا شوق نہ اقتدار کی چاہت ، کسی سے شکوہ نہ شکایت، غرور کا شائبہ نہ ریا کاری کی آمیزش۔
اسی لیے تو میں کہتی ہوں کہ باجی ! آپ میں ’’انسانیت ‘‘نام کی کوئی چیز نہیں !!( بتول نومبر 2010ء)
٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x