ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ایک ہنگامی ادبی مجلس – بتول فروری ۲۰۲۳

ادبی مجلس اور ہنگامی…. جی بالکل !
ایسے جھٹ پٹ خیال آیا بلکہ یوں کہیں کہ ہم جیسوں کی رال ٹپکی کہ قانتہ باجی ہوں اور ان کو سنا نہ جائے، نہ نہ یہ نا ممکن…. تو بس پھر ہنگامی بنیادوں پر اس مجلس کا انعقاد ہؤا اور یہ انعقاد مزہ دوبالا کر گیا کہ قانتہ باجی نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔ اللہ ان کے ایمان، قلم اور زندگی میں بہت برکات عطا فرمائے آمین۔
ہؤا کچھ یوں کہ جماعت اسلامی حلقہ خواتین گوجرہ کے زیر اہتمام دو روزہ تربیت گاہ کے پہلے دن(26 نومبر) کے پروگرام کا اختتام شام چھ بجے اعادہ، احتساب اور دعا کے ساتھ ہوا۔ سب بہنیں پروگرام کے بعد ملنے ملانے لگیں ۔چونکہ یہ اقامتی تربیت گاہ تھی تو رکنے والی ایک بہن شکیلہ زین صاحبہ نے مجھے خاص طور پر بتایا کہ ہم ان شاءاللہ آٹھ بجے قانتہ باجی کے ساتھ ادبی نشست رکھ رہے ہیں ۔ مجھے اور ایک ساتھی بہن کو آٹھ بجے تک ہی گھروں سے رخصت ملی تھی سو ہماری بےچینی سوا تھی کہ جونہی ہم جائیں گے اور ادھر ایسی خوبصورت محفل….بے چینی کو زبان دی اور شکیلہ بہن سے درخواست کی کہ یہ نشست ابھی رکھ لی جائے سوا چھے بجے تو ہم بھی شامل ہوجا ئیں گے۔ ان کا اصرار کہ آپ لوگ جا ہی کیوں رہے ہو؟ اقامتی تربیت گاہ ہے رات ٹھہرو ورنہ سزا بھگتو۔ ابھی یہ بحث مباحثہ چل ہی رہا تھا کہ قانتہ باجی آ گئیں۔ انہیں ہماری حالت پہ رحم آ گیا اور ادبی نشست آٹھ کی بجائے ایک گھنٹہ پہلے منعقد کرنے کی اناؤنسمنٹ کروا دی گئی تاکہ جانے والوں میں سے جو اس کا شوق رکھتا ہو وہ بروقت فیصلہ کر لے۔بس پھر بہت سی شرکاء نے فوراً گھروں میں فون کیے اور مزید ڈیڑھ گھنٹہ رکنے کی اجازت لی ۔
چونکہ فیصلہ اچانک ہؤا اور اب وقت بھی کم تھا لیکن آفرین ہے شکیلہ زین اور ان کا ساتھ دینے والی خدیجہ اکیڈمی کی طالبات پر کہ پندرہ منٹ میں سٹیج کی کایا ہی پلٹ کر رکھ دی۔ اب سٹیج پر فرشی نشست لگائی گئی اور سٹیج کے چاروں طرف چراغوں کی قطار، ہال کی بتیاں گل کر دی گئیں اور شرکاء سٹیج کے قریب ایسے بیٹھے جیسے شمع کے گرد پروانے ۔ سٹیج کی ذمہ داری قانتہ باجی نے راقمہ کے سپرد کی جس کو میں نے ان کے دیے گئے نکات کے ساتھ نبھانے کی حتی المقدور کوشش کی ۔ مجھ جیسی نو آموز کو زندگی میں پہلی بار سٹیج سیکرٹری بننے کی جرأت قانتہ باجی کے دست شفقت کی بنا پر ہوئی ۔ ادب کی زندگیوں میں اہمیت اور خاص طور پر مثبت ادبی تخلیقات کی افادیت پر چند ابتدائی کلمات کے بعد راقمہ نے شرکاء بہنوں کے صبر کو مزید آزمائش سے بچاتے ہوئے قانتہ باجی سے درخواست کی کہ وہ اس پر مزید روشنی ڈالیں ۔
بہت ہی کم وقت میں مدلل انداز میں محترمہ قانتہ رابعہ نے بتایا کہ عرب چونکہ اپنے زبان وبیان پر بہت فخر کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کا معجزہ عطا فرمایا جو ہدایت و رہنمائی کا واحد ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ زبان و ادب اور فصاحت و بلاغت کا حسین شاہکار بھی ہے ۔انہوں نےادب کی افادیت اور معاشرے میں اس کے مثبت اثرات پر بڑی پُر مغز گفتگو کی۔پھرمحترمہ راشدہ قمر کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی تاکہ وہ اپنی تاثراتی تحریر’’داستان دل کی‘‘حاضرین کے آگے پیش کریں ۔راشدہ قمر کی اس تحریر کا باعث یہ احساس بنا کہ ان کی حج کی درخواست قبول ہونے کے بعد کرونا کے باعث حج و عمرہ پر پابندی لگ گئی اور وہ بیت اللہ اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری سے محروم رہ گئیں۔ راشدہ کی تحریر نے سب کے دلوں کو گداز کر دیا۔ اس شعر کے ذریعے راشدہ نے اپنی کیفیت بیان کی۔

میں وہ محروم عنایات ہوں جس نے تجھ سے
ملنا چاہا تو بچھڑنے کی وبا پھوٹ پڑی
اس کے بعد قانتہ باجی کو دعوت دی گئی کہ وہ شرکاء محفل کی سماعتوں میں رس گھولیں۔ انہوں نے اپنا تازہ اور غیر مطبوعہ افسانہ سنایا ۔ شادی کے سالوں بعد منتوں اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ خواب میں ملنے والی بشارتوں کے بعد ملنے والی اولاد نرینہ جو زندگی کے اٹھارویں سال تک ایک لمحے کو بھی والدین کے لیے شرمندگی کا باعث نہ بنی ہو بلکہ اپنی خوش اخلاقی اور سعادتمندی و فرمانبرداری کی بدولت گھر اور باہر سب کی آنکھوں کا تارا بنی رہی ہو جب یکدم فکروں میں ڈوبی اور خلاؤں میں تکتی رہنے لگی کہ نہ اپنا ہوش نہ والدین کی فکر تو ایسے میں والدین کی تڑپ کیا ہوتی اللہ اللہ۔ افسانے کا اختتام میں صیغہ راز میں رکھ رہی ہوں کہ وہ کیا آگ تھی جو اس صالح اور فرمانبردار نوجوان کو لمحہ لمحہ جلا رہی تھی ، تاکہ قانتہ باجی کے قارئین کا مزہ کرکرا نہ ہو۔
دم سادھے ،افسانے کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ بہتے ہوئے شرکاء محفل نے جیسے ہی اختتامی پیرا گراف سنا تو آنکھوں کی نمی کو پلکوں کے بند توڑ کر گالوں پر بہہ جانے سے نہ روک پائے ۔ شرکائے محفل سے کہا گیا کہ جو بہن بھی کچھ سنانا چاہے محفل کی مناسبت سے تو ضرور آگے آئیں ۔ محترمہ شمیم نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی لکھی نظم شرکاء کی سماعتوں کی نظر کرنا چاہتی ہیں جس کا عنوان تھا’’ماں‘‘۔
وہ ماں ہے
جس نے محبتوں کا لطافتوں کالبادہ اوڑھے
مجھے بقا کا مقام بخشا دوام بخشا
شرکا محفل کے خوشگوار تاثرات اور شکیلہ زین کی دعا کے ساتھ یہ خوبصورت ہنگامی ادبی مجلس اختتام پذیر ہوئی ۔
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x