ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ایک کمرے میں دنیا – بتول نومبر ۲۰۲۱

بات بات پر لڑائی اور تلخ مزاجی نے گھر کے ماحول کو میدان جنگ بنا دیا تھا ۔عیشہ ابھی تک نہیں سمجھ پائی تھی کہ گھر کے کس فرد کا موڈ کس بات پر خراب ہو سکتا ہے۔درگزر کرنے پر آئیں تو جلی ہوئی شرٹ، ٹوٹے بٹن ،تیز نمک، جلی روٹی بھی معاف۔پکڑنے پر آئیں تو دروازے پر دو مرتبہ گھنٹی کیوں بجنے دی ،پہلی مرتبہ ہی دروازہ کیوں نہ کھولا پر پچیس پچیس منٹ تند و تیز جملے ، طعن و تشنیع اور کچوکے مار مار کر ہی بندہ پھڑکا دو ۔
تعریف کرنے پر آئیں گے تو پھیکی دال پر بہو کو پانچ سو روپیہ انعام میں دے دیں گے اور نہ کرنی ہو تو شاہی دال ،مرغ مسلم بھی ایسے چپ چپاتے کھا کر اٹھ جائیں گے جیسے مریض پھیکا سیٹھا کھانا کھاتا ہے۔بولنے پر آئیں تو درودیوار سے بھی بولنے کی آوازیں سنائی دیں اور چپ شاہ کا روزہ رکھیں تو برتنوں کی کھنک بھی بے معنی ۔
اور بچے تو بچے ہوتے ہیں ،چچازاد تایا زاد اور اکثر تو پھپھو زاد بھی ادھر ہی پائے جاتے!
لڑائی بھڑائی کہاں نہیں ہوتی ؟ انور صاحب کے ہاں بھی ہوتی تھی خود ہی لڑ تے اور خود ہی صلح صفائی میں سب سے آگے ہوتے ۔مگر عیشہ پر بہت برا اثر پڑتا ۔وہ ساری زندگی سویڈن کے ایک قصبہ میں رہی اور پاکستان جب بھی آنا ہوتا دو چار ہفتوں کے لئے آتی۔ ماں باپ بہن بھائیوں کے ساتھ آتی اور مہمان بن کرآتی۔ اسی مہمانی کے لطف اٹھاتے واپس بھی چلی جاتی۔دنیا کی ہر سہولت ہوتے ہوئے اس کے لیے سویڈن کا وہ پر امن خوبصورت قصبہ آئیڈیل نہیں تھا بلکہ اسے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی علاقے کا وہ حصہ جنت ارضی لگتا جہاں خوشیاں تھیں قہقہے تھے اور چلبلی کزنز تھیں۔دنیا جہاں سے مزے کے پکوان وہیں بنتے تھے ……اس کی حسرت تھی وہ آئندہ زندگی وہیں گزارے تو اس کے لیے قسمت نے یہ آسان کردیا وہ اپنے چھوٹے چچا کے سب سے بڑے بیٹے کی دلہن بن کر سویڈن کو الوداع کہہ کر وسطی پنجاب کے قصبہ میں آگئی۔
شادی کے فوری بعد ہی اس کو دونوں آنکھوں سے وہ کچھ نظر آنے لگاجو شادی سے پہلے کبھی نظر نہیں آیا تھا ۔مسرتوں پر مسائل غالب آئے اور اس کے یہاں رہنے کی تعبیر بہت خوفناک تھی ۔بچے بھی اوپر تلے کے تین ہو گئے ……جب بھی اسے اپنے سویڈن اور پنجاب کے معمولات میں فرق کا گراف تلخیوں کی صورت میں ملتا وہ ڈپریشن میں چلی جاتی ۔اگر باشعور اور وفادار نہ ہوتی تو کب کی واپس جا چکی ہوتی لیکن اپنے حصے کا پرچہ تو حل اسی نے کرنا تھا۔موبائل فون ہاتھ میں لیتی تو دل کی بھڑاس نکلنے کا سبب بن جاتا مگر مصیبت یہ تھی کہ موبائل فون اس کے ہاتھ میں دیکھتے ہی تینوں بچوں کو دورہ پڑتا کہ یہ کسی نہ کسی طرح ان کے ہاتھ میں آ جائے اور جب وہ موبائل فون انہیں دے دیتی تو دو گھنٹے سکون سے گزر جاتے ۔آہستہ آہستہ دورانیہ بڑھتا گیا اور دو سے چار گھنٹوں تک پہنچ گیا ۔
وہ خود بھی بھائی سے نیا موبائل فون منگوا کر فیس بک ،انسٹا گرام،ٹویٹر اور خدا جانے کون کون سی الا بلا کو گلے لگا چکی تھی ۔اس سے بیرونی مسائل میں تو خاطر خواہ کمی ہوئی تھی مگر بچوں کی طرف سے خبریں اچھی نہیں تھیں۔ایک نرسری میں تھا اور دوسرا پہلی کلاس میں۔سال چھ ماہ میں ان کی تعلیمی کارکردگی صفر تھی۔ ہاں جو فون اور سوشل میڈیا ان بچوں کو سکھا رہا تھا وہ بہت حیران کن تھا۔بچے ماردھاڑ میں سب سے آگے تھے ،گیمز ان کی بڑی مصروفیت تھی جس میں مگن ہو کر انہیں کھانا پینا تو کیا ہر کام بھول جاتا ۔کارٹون کے ذریعے سے بھی زیادہ تر تو منفی اثرات ہی مرتب ہوتے……جب بچوں کا امتحان شروع ہوا اس نے ڈیٹ شیٹ دیکھی تو چودہ طبق روشن ہوئے ۔چار پانچ دن میں سب پرچوں کی تیاری ناممکن کام تھا۔ اللہ کا نام لے کے اس نے کتاب اور بچوں کو ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیامگر بچوں کا ذہن پڑھائی میں صاف سلیٹ کی مانند تھا۔بچے کچھ پڑھنے پر آمادہ نہیں ہو رہے تھے ۔طرح طرح کے لالچ ،انعامات نے بھی انہیں پڑھائی کے لیے یکسو نہیں کیا ۔
اس کے بعد ہر کلاس میں پہلی پوزیشن لینے والی عیشہ کے دونوں

بچے اپنے امتحانات میں شاندار طریقے سے ناکام ہوگئے۔دونوں ہی فیل تھے اور صدمہ اس بات کا کہ دونوں کو اپنے فیل ہونے کا احساس نہیں تھا ۔ساس سسر ، دیور جیٹھ ،نندیں ان سب کی آل اولاد اور ان کے ذریعے پیدا ہونے والے مسائل سب پس منظر میں چلے گئے۔پیش منظر ایک ہی تھا ۔ان پڑھ ،جاہل اور نالائق ……جن کی ساری ذہانت چستی اور محنت بس موبائل فون پر ہی خرچ ہوجاتی ۔تب پہلی مرتبہ عیشہ کو پتہ چلا یہ سسرالی مسائل تو روز ازل سے ہیں ہر ایک کی قسمت میں لکھے ہیں لیکن ہر ایک کے مسائل کی نوعیت جدا ہےاور وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی کم ہوجائیں گے ۔کچھ رشتے جدا ہوں گے کچھ نئے بنیں گے مگر سب سے بڑا مسئلہ تو اولاد کی تربیت کا ہے۔اگر بچپن میں ہی اپنی نہ رہی تو پچپن میں کیسے اپنی ہوگی ۔زندگی میں انہیں شعور اور خوف خدا نہ دیا تو قبر میں پڑے والدین کو وہ کیا دیں گے؟
بس یہ چند لمحے تھے جو عیشہ کی زندگی میں مشکل ترین تھے ۔ پھر فیصلہ کا وقت بھی آگیا ۔عیشہ نے اگلے سال کے امتحان میں عیشہ کے دونوں نہیں تینوں بچوں کو ٹرافی لاتے اور لال ٹماٹر جیسے چہروں کے ساتھ پہلی پوزیشن کی خبر لیے گھر میں داخل ہوتے دیکھا تو سجدہ میں گر گئی……بہت لمبا سجدہ ……شکرانے کا اور اعتراف کا ۔
مشکل تھا شروع میں یہ سال لیکن اللہ نے مدد کی ……اس نے تو بس ایک کام کیا تھا اپنی زندگی میں …… گھر کے کام کاج سے فراغت کے بعد اپنی توجہ اپنی صلاحیتیں اپنی محنت اور لگن ساری کی ساری اس کمرے میں صرف کردی جہاں اس کے بچے تھے۔ اور جہاں وہ بیاہ کر داخل ہوئی تھی اس میں بس رات گزارنے کے لیے جاتی تھی ۔ اپنی ساری مصروفیات جن کا تعلق بس دل لگی سے تھا ختم کردیں۔بچوں کو پڑھانا ، ان سے تعلق مضبوط کرنا بھی ایک آرٹ ہے اس بات کا بھی اسے اس ایک سال میں علمہؤا۔
بڑا بیٹا بہت اچھا خطاط بن سکتا ہے اس کا اندازہ اسے بڑے بیٹے کی خوش خطی اور اس میں دلچسپی دیکھ کر ہؤا۔بہترین ہینڈ رائٹنگ پر اسے سکول والوں نے سٹیج پر بلا کر خصوصی انعام دیا تھا۔
دوسرا بیٹا بہترین مصور بن سکتا تھا اس نے اسے ماہر مصور کی زیر نگرانی رکھا اور سکول کی پرنسپل کے آفس میں اس کے ہاتھ کی بنی قدرتی منظر کی تصویر لٹک رہی تھی۔
سب سے چھوٹا بیٹا بہت خوب صورت آواز کا مالک تھا ۔قریبی مسجد کے قاری صاحب گھنٹے بھر کے لیے آتے اور اس کی پیاری آواز کو دنیا کی سب سے پیاری کتاب کے لیے مزید نکھارتے……ضلعی سطح پر ہونے والے نعتیہ مقابلے میں اس کے چار سالہ بیٹے کو نعت پڑھنے اور پہلا انعام حاصل کرنے کا شرف ملا ۔لیکن اس کی آواز کے سحر میں سب مدہوش تھے ۔کون سا ٹیچر یا مقابلے کا منتظم تھا جس نے اسے گود میں اٹھاکر پیار نہ کیا ہو !
گھر میں مسئلے مسائل چلتے ہی رہتے تھے لیکن عیشہ نے ان سے بڑے مسئلے پر توجہ رکھی اور زندگی کا ڈھنگ سیکھ لیا ۔ لوگ بھی وہی تھے گھر بھی وہی تھا طور طریقے بھی وہی تھے ۔بس عیشہ نے کسی ماہر کی طرح اصل مرض کو پہچاننے کے بعد نبض پر ہاتھ رکھا اور بہترین معالج ثابت ہوئی۔ یہ نہیں تھا کہ بچے موبائل فون ہاتھ میں نہیں لیتے تھے یا تنگ نہیں کرتے تھے یا انہوں نے بچپنا کہیں چار سو کلومیٹر دور پھینک کر سنجیدگی اور بردباری کی چادر اوڑھ لی تھی ……ہرگز نہیں !! سب کچھ وہی تھا دن بھی ویسے ہی طلوع ہوتا شب بھی دبے پاؤں پہلےکی طرح آتی ہاں اس نے پڑھائی کے دوران ساری سرگرمیوں کو کھڈے لائن لگا دیا تھا……موبائل بچے لیتے تھے مگر گھنٹے بھر کے لیے کیونکہ اب موبائل فون سے کئی گنا زیادہ دلچسپی سے وقت گزارنے کاسبب پیدا کرنے والی عیشہ نے اپنے آپ کو وقف کر دیا تھا ۔جو وقت وہ سوشل میڈیا کو دیتی تھی وہ وقت اب بچوں کو دے رہی تھی اور اس کے لیے وہ اپنے رب کے بعد صرف اپنی ماں کی شکر گزار تھی جس نے بہت پیار سے بس ایک فقرہ اس کے کانوں میں منتقل کیا تھا کہ ابھی بھی وقت ہے عیشہ بیٹے بچوں کو اپنا عادی بنالو یا موبائل فون کا مگر یہ یاد رکھنا اگر وہ موبائل فون کے عادی ہوگئے تو زندگی کے کسی موڑ پر انہیں تمہاری ضرورت محسوس نہیں ہوگی جو یہ سکھائے گا وہی سیکھیں گے جو دکھائے گا وہی دیکھیں گے۔کام مشکل ہے مگر ان کی زندگیاں سنور جائیں گی۔یہ بھی ایک مرض ہے جس کا علاج صرف اور صرف تم کر سکتی ہو۔
آخر دنیا میں کوئی بھی مرض لاعلاج تو نہیں ہے ناں !
٭ ٭ ٭

 

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x